شہزادہ جہانگیر (پیدائش: 9 دسمبر 1531ء– وفات: 27 نومبر 1553ء) سلطنت عثمانیہ کے دسویں سلطان سلیمان اعظم اور خرم سلطان کا چھوٹا بیٹا تھا۔

شہزادہ جہانگیر
معلومات شخصیت
پیدائش 9 دسمبر 1531ء[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
توپ قاپی محل،  استنبول[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 نومبر 1553ء (22 سال)[3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حلب  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن شہزادہ مسجد  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد سلیمان اعظم  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ خرم سلطان  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان عثمانی خاندان  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانح ترمیم

شہزادہ جہانگیر کی پیدائش 9 دسمبر 1531ء کو توپ کاپی محل، قسطنطنیہ میں ہوئی۔ وہ سلطان سلیمان اعظم کی چھٹی اولاد تھا۔

وفات ترمیم

6 اکتوبر 1553ء کو شہزادہ مصطفیٰ کو پھانسی دی گئی تو یہ غم کی خبر جہانگیر تک پہنچی۔ جہانگیر شہزادہ مصطفیٰ کی موت کے باعث غم میں علیل ہوتا گیا اور محض 22 سال کی عمر میں 27 نومبر 1553ء کو انتقال کرگیا۔

مزید دیکھیے ترمیم

حوالہ جات ترمیم

  1. ^ ا ب https://archive.org/details/the-imperial-harem-women-and-sovereignty-in-the-ottoman-empire-1993-pdf — اخذ شدہ بتاریخ: 29 جنوری 2023 — صفحہ: 60 — شائع شدہ از: 1993 — ISBN 0-19-507673-7
  2. ^ ا ب مختصر مصنف نام: Galina Yermolenko — عنوان : Roxolana: "The Greatest Empresse of the East — شائع شدہ از: اپریل 2005
  3. مختصر مصنف نام: Esin Atıl — عنوان : Esin Atıl — صفحہ: 221 — شائع شدہ از: 1986 — ISBN 978-0-89468-088-5
  4. مختصر مصنف نام: ATA-USA — عنوان : Bulletin of the Assembly of Turkish American Associations — صفحہ: 36 — شائع شدہ از: 1986
  5. مختصر مصنف نام: John Freely — عنوان : Inside the Seraglio: Private Lives of the Sultans in Istanbul — صفحہ: 62 — شائع شدہ از: 1999 — ISBN 978-0-670-87839-0