مرکزی مینیو کھولیں

فرمان فتح پوری

ماہر لسانیات، محقق، نقاد
فرمان فتح پوری
DrFarmanFatehpuri2.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 26 جنوری 1926  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
فتح پور ضلع،  اتر پردیش،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 اگست 2013 (87 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی
جامعہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
ڈاکٹری مشیر ابواللیث صدیقی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈاکٹورل مشیر (P184) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ماہرِ لسانیات،  ادبی تنقید نگار،  مدیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ کراچی،  اردو لغت بورڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
P literature.svg باب ادب

ڈاکٹر فرمان فتح پوری پاکستان سے تعلق رکھنے والے مصنف، محقق، ماہرِ لسانیات، نقاد، معلم اور مدیر تھے۔ وہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سربراہ اور اردو لغت بورڈ کے مدیر اعلیٰ بھی رہے۔

فہرست

حالات زندگیترميم

ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا حقیقی نام سید دلدار علی تھا۔[2] ان کی پیدائش 26 جنوری 1926ء کوبھارت کی ریاست اترپردیش میں فتح پور میں ہوئی۔

تعلیمترميم

فرمان نے فتح پورسے میٹرک پاس کیا۔ اس کے بعدانہوں نے 1948ء میں الہ آباد سے انٹرمکمل کیا۔ 1950ء میں آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا تھا۔

پاکستان آمدترميم

1950ء میں فرمان فتح پوری ہجرت کر کے کراچی پاکستان آ گئے۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے، ایل ایل بی اور بی ٹی کیا اور پھر 1965ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ملازمتترميم

کراچی یونیورسٹی سے وابستگیترميم

فرمان فتح پوری کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ رہے اور صدر شعبۂ اردو ریٹائر ہوئے۔

اردوڈکشنری بورڈترميم

1985ء میں فرمان فتح پوری اردوڈکشنری بورڈ کے مدیراعلی اورسیکریٹری مقررہوئے۔ ان کی خدمات کی وجہ سے اسی سال حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

سندھ حکومت کے سول سروس بورڈترميم

ڈاکٹرفرمان فتح پوری 1996ء میں سندھ حکومت کے سول سروس بورڈکے رکن بنے۔

ادبی خدماتترميم

جریدہ نگارترميم

فرمان ادبی جریدے نگارکے مدیربھی رہے جس کے بانی نیازفتح پوری تھے ۔

تصانیفترميم

فرمان فتح پوری 60 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ چند معروف تصانیف اس طرح ہیں:

  • اردورباعی
  • تدریس اردو
  • اردوکی مضمون داستان
  • تحقیق وتنقید
  • نیا اورپرانا ادب
  • قمرزمانی بیگم
  • زبان اوراردوزبان
  • اردو کی نعتیہ شاعری
  • اقبال سب کے لیے
  • اردو شعرا کے تذکرے اور تذکرہ نگاری
  • غالب شاعر امروز و فردا
  • ھندی اردو تنازع
  • نیازفتح پوری دیدہ شنیدہ
  • عورت اورفنون لطیفہ [3]

انتقالترميم

فرمان فتح پوری کا انتقال 3 اگست 2013ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کے پس ماندگان میں اہلیہ، چار لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں۔[4]

حوالہ جاتترميم