اردو لغت بورڈ

علمی و ادبی ادارہ

اردو لغت بورڈ پاکستان کا ایک علمی و ادبی ادارہ ہے جو قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، حکومت پاکستان کے ماتحت کام کرتا ہے، جس کا مقصد اوکسفرڈ ڈکشنری کی طرز پر اردو زبان کی جامع لغت کی تدوین و اشاعت ہے۔

اردو لغت بورڈ
Urdu Dictionary Board
Urdu Lugat Board Logo.png
اردو لغت بورڈ
مخففUDB
قسمعلمی و ادبی ادارہ
نصب العینجامع اردو لغت کی تدوین و اشاعت
صدر دفاترST-18/A، گلشن اقبال بلاک-5، نزد پوسٹ آفس، کراچی
مقام
باضابطہ زبان
اردو
مدیر اعلیٰ
عقیل عباس جعفری
اشاعتاردو لغت (22 جلدیں)
منبع تنظیمیں
قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، حکومت پاکستان
ویب سائٹhttp://www.udb.gov.pk

قیام / اغراض و مقاصدترميم

14 جون، 1958ء کو وزارت تعلیم، حکومت پاکستان کی ایک قرارداد کے ذریعے اوکسفرڈ ڈکشنری کی طرز پر اردو زبان کی ایک جامع لغت تاریخی اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیار کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کیے جانے کا اعلان ہوا جس کانام اردو ترقی بورڈ رکھا گیا۔ اس ادارے کے پہلے صدر ڈاکٹر ممتاز حسن (سابق سیکریٹری وزارتِ مالیات، حکومت پاکستان /سابق نگراں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان)، پہلی نائب صدر ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ، پہلے اعزازی مدیر اعلیٰ بابائے اردو مولوی عبدالحق، پہلے اعزازی معتمد عبدالحفیظ کاردار مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ اراکین میں جوش ملیح آبادی، پیر حسام الدین راشدی، شان الحق حقی، ڈاکٹر سید عبد اللہ، ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی، ڈاکٹر محمد شبیر اللہ اور رازق الخیری جیسی معتبر و معروف شخصیات شامل تھیں۔ 27 مارچ، 1982ء کو اردو ترقی بورڈ کا نام بدل کر اردو لغت بورڈ رکھ دیا گیا۔[1]

سربراہانترميم

اس ادارے کے صدور اور مدیران اعلیٰ میں بابائے اردو مولوی عبدالحق، ڈاکٹر ابو للیث صدیقی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ڈاکٹر جمیل جالبی، جمیل الدین عالی،ڈاکٹر حنیف فوق، پروفیسر سحر انصاری،ڈاکٹر یونس حسنی، ڈاکٹر رؤف پاریکھ اور فہمیدہ ریاض جیسے اکابرین علم و ادب شامل رہے[1]۔ اردو لغت بورڈ کے موجودہ سربراہ معروف محقق اور شاعر عقیل عباس جعفری ہیں۔[2]

مطبوعاتترميم

اردو لغتِ کبیرترميم

اردو لغت بورڈ کی تیار کی جانے والی اردو لغتِ کبیر کا نام اردو لغت (تاریخی اصول پر) ہے اس کی پہلی جلد 1977ء میں شائع ہوئی اور 22 بائیسویں اور آخری جلد 2010ء میں شائع ہوئی۔ یہ لغت 220,000 الفاظ اور 20,000 صفحات کی حامل ہے۔[3]

سہ ماہی اردو نامہترميم

سہ ماہی اردو نامہ اردو لغت بورڈ کا جاری کردہ مجلہ جو شان الحق حقی کی زیرِ ادارت میں ہے۔ اس کا پہلا شمارہ اگست 1960ء کو شائع ہوا۔ یہ مجلہ مسلسل سترہ سال یعنی 1977ء تک جاری رہا اور اس کے کل 54 شمارے شائع ہوئے۔[4] حال ہی میں موجودہ مدیر اعلیٰ اردو لغت بورڈ عقیل عباس جعفری کی کوششوں سے اس مجلہ کی 40 سال کی طویل مدت کے بعد اشاعت نو کا آغاز ہوا ہے اور خصوصی شمارہ 55 (شان الحق حقی) کے نام سے شائع ہو گیا ہے۔

مسقبل کے منصوبےترميم

  • یک جلدی یا مختصر لغت پر کام کرنا۔
  • شائع شدہ لغت پر نظر ثانی کرنا۔

مندرجہ بالا منصوبوں کے علاوہ اردو لغت بورڈ دو لسانی لغات بنانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے جس میں اردو-جرمن، اردو-فرانسیسی، اردو-ترکی، اردو-چینی ڈکشنریاں شامل ہیں۔ ادارہ موجودہ اردو لغت کو اور قدیم کتابوں اور قلمی مسودوں کو انٹرنیٹ پر ڈالنے کے منصوبوں پر کام ک رہا ہے۔[5]

اردو لغت بورڈ کے سربراہ عقیل عباس جعفری کہتے ہیں کہ اردو ڈکشنری بورڈ اس وقت کئی اور منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔ ان میں سرِ فہرست اردو کی پہلی صوتی لغت کی تیاری ہے۔ اس انوکھی لغت میں نہ صرف الفاظ کا تلفظ بلکہ ان کے معانی بھی سنے جا سکیں گے۔

اس کے علاوہ اردو لغت بورڈ دو جلدوں پر مبنی مختصر لغت بھی تیار کر رہا ہے، جب کہ ایک اور منصوبے کے تحت اردو لغت کی تیاری کی کام آنے والی سینکڑوں کتابوں کو بھی آن لائن کیا جائے گا۔[6]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب ص 149، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
  2. روزنامہ دی نیشن کراچی، 10 دسمبر 2016ء
  3. اردو ماہرین کے آخری الفاظ، ارشد شاہین، روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون، کراچی، 18 جولائی 2010ء
  4. "اردو لغت بورڈ کراچی کی ادبی خدمات، عابدہ ہما، ششماہی تحقیقی مجلہ تحقیق، جلد 16، 2008ء، جامعہ سندھ جامشورو". 18 جولا‎ئی 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 اپریل 2016. 
  5. ایک جائزہ، اردو لغت بورڈ ویب، پاکستان
  6. اردو لغتِ کبیر اب آن لائن اور موبائل پر، ظفر سید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بیرونی روابطترميم