فہد بن عبدالعزیز آل سعود

فہد بن عبد العزیز آل سعود سعودی عرب کے فرمانروا۔ امریکا کے اہم اتحادی اور ہم نوا۔ 1975 میں ولی عہد بننے سے پہلے سعودی عرب کے وزیر تعلیم رہے۔ 1982 میں اپنے بھائی شاہ خالد کی وفات کے بعد سعودی کے بادشاہ مقرر ہوئے۔ خلیج کی جنگ میں عراق کے خلاف امریکا کے اہم اتحادی رہے۔ اور اپنی سرزمین پر امریکی فوج کو اڈے بنانے اور فوج رکھنے کی اجازت دی۔1997شاہ فہد نے دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے بعد خود کو روزمرہ کے حکومتی معاملات سے علاحدہ کر لیا اور اختیارات اپنے سوتیلے بھائی ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کو منتقل کر دیے تھے۔

فہد بن عبدالعزیز آل سعود
Fahd bin Abdulaziz Al Saud
فهد بن عبدالعزيز آلسعود
شاہ سعودی عرب
خادم الحرمین الشریفین
وزیر اعظم سعودی عرب
Fahd bin Abdul Aziz.jpg
شاہ سعودی عرب
خادم الحرمین الشریفین
معیاد عہدہ13 جون 1982 – 1 اگست 2005
پیشروخالد بن عبدالعزیز آل سعود
جانشینعبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود
ریجنٹعبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود
(21 فروری 1996 – 1 اگست 2005)
نسلفیصل بن فہد
خالد بن فہد
محمد بن فہد
سعود بن فہد
سلطان بن فہد
عبدالعزیز بن فہد
خاندانآل سعود
والدعبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود
والدہحصہ بنت احمد السدیری
پیدائش1921

ریاض، سلطنت نجد
وفات1 اگست 2005(2005-80-01) (عمر  84 سال)

شاہ فیصل ہسپتال، ریاض
تدفین2 اگست 2005
مقبرہ العود، ریاض
مذہباسلام

2005ء میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات کے بعد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز ملک کے نئے بادشاہ بن گئے اور وزیر دفاع پرنس سلطان کو ولی عہد مقرر کیا گیا ۔

آپ نے جلالة الملك بدل كر خادمين الحرمين الشريفين كا لقب پسند کیا آپ سے پہلے تمام سربراہان المملكت كو جلالة الملك پكارا جاتا تها۔