قاسم بن حسن (7 شعبان 47 ہجری /2 اکتوبر 667 عیسوی – 10 محر 61 ہجری /10 اکتوبر 680 عیسوی)یہ قول ہند و پاک میں مشہور ہے البتہ تاریخی اعتبار سے ثابت نہیں ، حسن ابن علی اور جناب رملہ کے بیٹے اور علی بن ابی طالب و فاطمہ زہرا کے پوتے تھے۔

قاسم بن حسن
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 667ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 اکتوبر 680ء (12–13 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کربلا   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن روضۂ امام حسين   ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت امویہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد حسن ابن علی   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
فاطمہ بنت حسن ،  حسین بن حسن بن علی ،  ابو بکر بن حسن بن علی ،  حسن المثنیٰ ،  زید بن حسن ،  عبد الله بن حسن   ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں سانحۂ کربلا   ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شہزادہ قاسم کی ولادت کے بارے میں دقیق دن معلوم نہیں البتہ بعض نے 5 ماہ رمضان المبارک کو ذکر کیا ہے ۔

نام اور نسب

ترمیم

نام:القاسم بن الحسن بن علي بن أبي طالب الهاشمي القرشي

آپ کا مکمل نسب اس طرح ہے:

قاسم بن حسن بن علي بن أبي طالب بن عبد المطلب بن هاشم(ہاشم) بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فہر بن مالك بن قریش بن كنانہ بن خزيمہ بن مدركہ بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان.

بچپن

ترمیم

آپ امام حسن ابن علی کی شہادت سے 3 سال پہلے مدینہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت زینب بنت علی کے بیٹوں عون بن عبد اللہ بن جعفر اور محمد بن عبد اللہ بن جعفر کی طرح جنگی تربیت اپنے چچا عباس بن علی اور اپنے چچازاد بھائی علی اکبر سے لی ۔[1]

کربلا کا سفر

ترمیم

جب امام حسن 680ء (60ھ) میں مدینہ چھوڑنے کی تیاری کی ، حضرت قاسم کی ماں ام فروہ نے امام حسین سے کہا کہ وہ ، انھیں اور قاسم کو اپنے ساتھ لے جائیں۔[2]

کربلا میں

ترمیم

عاشورہ کی رات

ترمیم

حضرت قاسم نے امام حسین سے پوچھا:کیا میں بھی شہیدوں میں سے ہوں گا؟ حسین ابن علی نے پوچھا :تم موت کو کیسے دیکھتے ہو؟ قاسم نے جواب دیا:چچا جان، موت میرے لیے شہد سے میٹھی ہے۔[3]

میدان جنگ میں

ترمیم

عربوں کی جنگ میں رجز پڑھنے کی رسم مطابق آپ نے یہ رجز پڑھا :

إن تُنكِرونی فَأَنَا فَرعُ الحَسَن سِبطُ النَّبِیِّ المُصطَفى وَالمُؤتَمَن
هذا حُسَینٌ كَالأَسیرِ المُرتَهَن بَینَ اُناسٍ لا سُقوا صَوبَ المُزَن


نشناسیدم اگر شاخ درخت حسن ام ها پور پیغمبر بگزیدهٔ زنهاربدارا
این حسین است گروگان اسیری است میان مردمانی که ز باران ننوشاند خدایا


آپ کے چھوٹے سے بدن پر 35 وار لگے .[4]

واقعہ کربلا

ترمیم

آپ نہایت جری تھے۔ واقعہ کربلا میں ارزق شامی جیسے نامی گرامی پہلوان کو میدان کربلا میں قتل کیا ۔ اور جب دشمنوں سے زیر نہ ہوئے تو سب نے اچانک چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کیا  اور عمیر بن نفیل ازدی کے وار سے گھائل ہوئے ۔ گھوڑے سے گرنے کے بعد زندہ ہی پامال  سُم اسپاں ہو گئے اور شہید ہوئے۔[5][2] اس وقت ان کی عمر صرف 14 سال تھی۔[6]


زیارت ناحیہ مقدسہ

ترمیم

زیارت ناحیہ مقدسہ میں آپ پر اس طرح سلام کہا گیا ہے ۔ السَّلامُ عَلَى القاسِمِ بنِ الحَسَنِ بنِ عَلِیٍّ، المَضروبِ عَلى هامَتِهِ، المَسلوبِ لامَتُهُ، حینَ نادَى الحُسَینَ عَمَّهُ، فَجَلا عَلَیهِ عَمُّهُ كَالصَّقرِ، وهُوَ یَفحَصُ بِرِجلَیهِ التُّرابَ وَ الحُسَینُ یَقولُ : «بُعداً لِقَومٍ قَتَلوكَ ! و مَن خَصمُهُم یَومَ القِیامَةِ جَدُّكَ و أبوكَ[7]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. Zaynab Abbas (23 September 2004)۔ "Hazrat Qasim (as) – coolness of Imam Hassan (as)'s heart"۔ Jafariyanews۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 نومبر 2015 
  2. ^ ا ب http://hubeali.co.uk/articles/Masomeen/Hazrat-Shahzada-Qasim-Ibn-e-Hassan-asws.pdf
  3. Bashir A. Datoo (2006)۔ Perspectives on Islamic Faith and History: A Collection of Analytical Essays۔ TTQ, INC.۔ صفحہ: 89۔ ISBN 978-1-879402-17-1 [مردہ ربط]
  4. Mahmoud M. Ayoub (1 جنوری 1978)۔ Redemptive Suffering in Islam: A Study of the Devotional Aspects of Ashura in Twelver Shi'ism۔ Walter de Gruyter۔ صفحہ: 117۔ ISBN 978-3-11-080331-0۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 01 اکتوبر 2017 
  5. Ibn El-Neil (1 نومبر 2008)۔ The Truth About Islam۔ Strategic Book Publishing۔ صفحہ: 208۔ ISBN 978-1-60693-259-9۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 01 اکتوبر 2017 
  6. زیارت ناحیهٔ مقدسه