مرکزی مینیو کھولیں
سکینہ بنت حسین
باب صغیر جہاں سکینہ بنت حسین مدفون ہیں۔[1]
باب صغیر جہاں سکینہ بنت حسین مدفون ہیں۔[1]

معلومات شخصیت
پیدائش 7 نومبر 676  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 نومبر 680 (4 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دمشق  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن باب صغیر  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر ش  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد حسین ابن علی  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ رباب بنت امرؤ القیس  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں سانحۂ کربلا  ویکی ڈیٹا پر لڑائی (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سکینہ بنت حسین (پیدائش: 7 نومبر 676ء— وفات: 12 نومبر 680ء) یا رقیہ بنت حسین امام حسین بن علی کی بیٹی تھیں۔[2][3][4] سکینہ کے والد گرامی سردار کربلا حسین ہیں۔ جناب سکینہ کے والدہ گرامی امرا القیس کی بیٹی رباب تھیں۔ 56ھ میں جناب سکینہ متولد ہوئیں جو حسین کی بڑی عزیز اور چہیتی بیٹی تھیں۔[5]

ابن اسحاق ہمدانی اپنی کتاب مقتل الاسلام میں رقم طراز ہیں کہ:

جناب سکینہ بنت الحسین علیہ السلام بروز عید مباہلہ بتاریخ 24 ذوالحجہ 56ھ (بروز جمعہ بمطابق 7 نومبر 676ء) کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں اور جس وقت آپ اپنی مادرگرامی رباب علیہ السلام کے ہمراہ کربلا کے سفر پر روانہ ہوئیں اس وقت آپ کی عمر 3 سال 7 ماہ 4 یوم تھی اور آپ کے بھائی شہزادہ علی اصغر علیہ السلام 18 دن کے تھے۔[6]

بعض کی روایت کے مطابق جناب سکینہ علیہ السلام کی ولادت 20 رجب 57ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔ لیکن معتبر روایت یہی ہے کہ آپ 24 ذوالحجہ کو متولد ہوئیں۔[7]

طالع مبارک: آپ علیہ السلام کا طالع مبارک "عقرب" ہے۔

مناجات امام حسین در نماز شبترميم

اے پروردگار! مجھے ایک ایسی بیٹی عطا کر جس سے میں بہت زیادہ محبت کروں اور وہ بھی مجھ سے بہت زہادہ محبت کرے، وہ میرے سینے پر سوئے اور اس کی قرابت سے مجھے سکون ملے۔[8]

سکینہ اور شہادت علی اکبرترميم

جب آپ کے بھائی علی اکبر شہید ہوئے تو امام حسین غم ذدہ خیمہ میں آئے، سکینہ آئیں اور آپ سے بھائی کی خبر معلوم کی امام حسین نے بیٹی کو بھائی کی شہادت کی خبر دی، سکینہ نالہ کناں خیمہ سے باہر نکلنا چاہتی ہیں امام حسین نے فرمایا: سکینہ صبر کرو اور خیمہ سے باہر نہ نکلو، سکینہ نے عرض کیا بابا: وہ کیسے صبر کرے جس کا جوان بھائی مر گیا ہو[9]

سکینہ اور شہادت عباسترميم

جب عباس و حبیب بن مظاہر شہید ہو گئے تو امام حسین کے چہرہ پر اضمحلال کے آثار نمایاں ہو گئے تھے، اندوہ و غم کے بار کی وجہ سے بیٹھ کر رونے لگے۔[10] سکینہ آئیں اور پوچھا: میرے چچا کہاں؟ امام حسین نے فرمایا: شہید ہو گئے، زینب سلام اللہ علیہا نے فریاد کی وا اخاہ! وعباساہ! حرم کی عورتوں میں کہرام بپا ہو گیا، امام حسین نے بھی گریہ کیا اور فرمایا: واضیعتنا بعدک و انقطاع ظہراہ[11]، [12]

حسین بن علی کی رخصت اور سکینہترميم

رخصت کے لیے امام حسین خیام میں آئے اور فرمایا: (ياسُكَيْنَة! يا فاطِمَةُ! يازَينَبُ! يآُمَّ كُلْثُومِ! عَلَيْكُنَّ مِنِّي السَّلامُ!) سکینہ نے رو کر کہا: بابا! کیا مرنے کو جاتے ہیں۔ امام حسین نے فرمایا : کیسے نہ جاؤں کہ اب کوئی یاور و مددگار نہیں ہے۔ سکینہ نے کہا: بابا: ہمیں ہمارے جد کے حرم میں واپس پہونچا دیجیئے۔ امام حسین نے فرمایا: اگر پرندہ قطار کو چھوڑ دیتا تو آرام کر لیتا۔ آپ کی یہ باتیں سن کر حرم میں نالہ و شیون کی آوازیں بلند ہونے لگیں، امام حسین نے انھیں تسلی دی اور ام کلثوم سے مخاطب ہو کر فرمایا: بہن میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہوش نہ کھونا۔ اسی وقت سکینہ نالہ کناں امام حسین کے پاس آئیں، سکینہ سے امام حسین کو بہت محبت تھی، سینہ سے لگایا اور آنسو صاف کر کے فرمایا:، اے سکینہ میری شہادت کے بعد تمہیں بہت زیادہ رونا پڑے گا اشک حسرت سے بہت زیادہ نہ تڑپاؤ، میرے جیتے جی نہ روؤ اور جب شہید ہو جاؤں تو میرے سوگ میں بیٹھنا۔[13]

سکینہ اور لاش حسینترميم

سکینہ بنت الحسین اپنے بابا کے جسد منور سے لپٹ گئیں، سوختہ جگر نے اس طرح بین کیے کہ حاضرین سر پیٹ کر اس قدر روئے کہ بے ہوش ہو گئے، حضرت سکینہ فرماتی ہیں میں نے اپنے بابا کو یہ کہتے ہوئے سنا، "میرے شیعو جب تم ٹھنڈا پانی پینا تو میری پیاس کو یاد کر لینا یا کسی مسافر شہید کی مصیبت سننا تو میرے اوپر آنسو بہانا" سکینہ کو باپ کی لاش سے کوئی جدا نہ کر سکا، دشمن کی فوج میں سے کچھ سپاہیوں نے زبردستی حسین کی لاش سے جدا کیا۔[14][15]

سکینہ اور دربار یزیدترميم

ایک شامی نے سکینہ بنت الحسین کی طرف اشارہ کر کے یزید سے کہا: یہ کنیز مجھے بخش دیجیئے۔

یہ سن کر سکینہ لرز گئیں اپنی پھوپھی زینب سلام اللہ علیہا سے لپٹ گئیں اور کہا:

اے پھوپھی جان! یتیم ہوئی اب کنیزی کی نوبت ہے۔[16]

زینب سلام اللہ علیہا نے شامی کو مخاطب کر کے فرمایا:

تمہارے اور یزید کے اندر یہ طاقت نہیں ہے کہ اس بچی کو کنیزی میں لے سکو۔ یزید نے زینب سلام اللہ علیہا سے کہا:

خدا کی قسم میں اسے کنیزی میں لے سکتا ہوں۔

زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:

خدا کی قسم خدا نے تجھے اتنی طاقت و تسلط ہر گز نہیں دیا ہے مگر یہ کہ تو اسلام سے پھر کر دوسرا دین اختیار کر لے۔

یزید کو غصہ آ گیا کہنے لگا مجھ سے یہ انداز تخاطب؟

تمہارے باپ اور بھائی دین سے خارج ہو گئے۔

زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا: تو نے، تیرے باپ اور تیرے دادا نےخدا، میرے باپ اور بھائی کا دین اختیار کیا ہے اگر مسلمان ہو تو۔

یزید نے کہا: اے دشمن خدا جھوٹ کہتی ہو۔

زینب سلام اللہ علیہا نے فرمیا: بظاہر تو امیر و بادشاہ ہے اور گالیاں دیتا ہے اور اقتدار و تسلط کی وجہ سے فحش بکتا ہے۔

یہاں گویا یزید کو شرم آ گئی اور وہ خاموش ہو گیا۔

سید کی روایت میں آیا ہے کہ شامی نے پوچھا: یہ کیس کی بیٹی ہے؟

یزید نے کہا: سکینہ بنت الحسین ہے اور یہ زینب بنت علی بن ابی طالب ہے۔

شامی نے کہا: حسین، فاطمہ و علی کے بیٹے!

یزید نے کہا ہاں!

شامی نے کہا: اے یزید خدا تیرے اوپر لعنت کرے تو خاندان رسول کو قتل کرتا ہے اور ان کی اولاد کو اسیر کرتا ہے، خدا کی قسم میں تو انہیں روم کے اسیر سمجھتا تھا۔

یزید نے شامی سے کہا: خدا کی قسم میں تجھے بھی ان سے ملحق کرو گا اور اس کی گردن زنی کا حکم دے دیا۔[16]

تاریخ شہادتترميم

جناب سکینہ کی تاریخ شہادت 13 صفر 61ھ بروز پیر بمطابق 12 نومبر 680ء ہے۔[17]

جناب سکینہ کی طول حیات اور عقد کی رد میں جواباتترميم

امام حسین علیہ السلام کی ایک صابزادی کا قید خانہ شام میں انتقال کرنا اسی طرح مشہور ہے جس طرح تین دن کی پیاس، بہتر (72) نفوس کی قربانی، اہل حرم کی اسیری، کوفہ اور دمشق کے قید خانہ میں ایک مدت تک قید رہنا۔ چنانچہ زندان شام کی روایت کے حسب ذیل ناقل ہیں۔

صاحب کنز العباد

2۔ ملاحسین واعظ کاشفی المتوفی (910ھ)

فخرالدین بن طریح نجفی المتوفی 1085ھ

ابن عصفور علیہ الرحمہ

نظم الاحزان

سید محمد مہدی بن محمد جعفر موسوی

ملا حسین یزدی

ملا محمد تقی برغانی المتوفی 1264ھ

محمد ابراہیم بن محمد اسماعیل اصفہانی الذی کان حیالی الی 1270ھ

10۔ الحاج سید اسماعیل حسینی یزدی الذی کان حیالی الی 1282ھ

11۔ جوہری مؤلف طوفان البکاء

12۔ نوروز علی بن الحاج محمد باقر البسطامی

13۔ منشی کنورسین مؤلف ریاض الشہدا طبع 1291ھ

14۔ محمد حسین بن محمد علی بن الحاج محمد بیگ بن آقا علی کماچی

15۔ علامہ محمد باقر بن عبد الکریم دہدشتی اصفہانی نجفی

شام میں شہادت کی روایت میں دختر کا نام کیوں نہیں؟ترميم

چونکہ اس روایت میں صاحبزادی کا نام درج نہیں ہے اس لیے احتمالات اور ذاتی رائے کی گنجائش پیدا ہوٰٰئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ بنی امیہ کا وہ شجرہ خبیثہ جڑیں پکڑ رہا تھا جس کے سایہ میں معاذاللہ جناب سکینہ سلام اللہ علیہا دو دو یا تین تین عقد شہرت دیے جا رہے تھے۔ اور غیر شیعہ مؤلف ابوالفرج علی بن الحسین بن محمد اصفہانی بغدادی نے جو آخری خلیفہ بن امیہ مروان کا چشم و چراغ تھا۔ جناب سکینہ بنت الحسین کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اور اس کا دلی مقصد تھا کہ سکینہ سلام اللہ علیہا کی زندگی کربلا کے بعد ثابت کر کے (معاذاللہ) ان کی طرف خلاف حقیقت اور خلاف شان باتوں کی نسبت دی جائے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اس مؤلف نے 356ھ میں انتقال کیا اور اس کو اہل سنت اپنے زمانے میں (اکزب الناس) "سب سے زیادہ جھوٹا" کہتے آئے ہیں اور وہ شرمناک واقعات اس دشمن تہذیب نے اپنی کتاب آغانی میں درج کیے ہیں۔ جو عقل سلیم قبول نہیں کرتی۔ اس کتاب میں عرب کے گویوں کا تزکرہ ہے۔ اس پر آشوب دور میں اگر سنی حق نواز جھنگوی یا شیعہ کے قلم سے اس صاحبزادی کے نام کا ظہار ہوتا تو وہ روایت کتابوں میں کب رہ سکتی تھی اور سکینہ کی وفات کا اعلان کیونکر باقی رہتا ( یعنی اس دشمن کا مقصد یہ تھا کہ کوئی بھی جناب سکینہ سلام اللہ علیہا کی زندان میں شہادت کا قائل نہ رہے اور آپ کی طول حیات کے قائل ہو جائیں اور پھر جب طول حیات کے قائل ہو جائیں گے تو یقینا پھر ان کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جو کچھ کتاب آغانی میں ہے وہ سب کچھ (معاذاللہ) صحیح ہے)۔

دختر سہ سالہ کا نام کیا تھا؟ترميم

اصل روایت میں نام نہ ہونے سے کچھ اہل قلم اسی رویہ پر اکتفا کیا جو پہلے راوی نے اختیار اور نام کی تحقیق پر توجہ نہ کی اور ذاتی رائے کو استعمال کیا۔ انہوں نے یہ ذاتی رائے کا سلسلہ شروع کیا اور زینب، زبیدہ، رقیہ اور فاطمہ جو جس کی سمجھ میں آئے وہ نام تجویز کیے۔ علامہ محمد حسین بن عبداللہ شہرابی ارجستانی علیہ الرحمہ نے اس صاحبزادی کا نام زبیدہ قرار دیا ہے۔[18]

لامہ سید محمد مہدی ابن محمد جعفر موسوی نے اپنے عربی مقتل میں زندان شام کی روایت سے فاطمہ بنت الحسین کو مراد لیا ہے ان کی عبارت یہ ہے۔

الروضہ الرابعة والاربعون من رياض المصائب فىذكر وفات فاطمه بنت الحسين فى شام.[19]

کنزالمصائب کے مؤلف نے اپنی کتاب کی بائیسویں مجلس میں اہل بیت حرم کے شام میں پہنچنے کے سلسلے میں اس دختر کو رقیہ خاتون کے نام سے یاد کیا ہے۔[20]

ملا حسین یزدی ایک دوسرے عالم جلیل نے نے بھی اسی کو کسی قدر ترمیم کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔[21]

محقق خیبر حاج سید اسماعیل حسینی کردی اردکا نے بھی مجالس الواعظین کی مجلس بست و چہارم میں اس صاحبزادی کا نام رقیہ قرار دیا ہے۔ فاضل بسطامی نے بھی زندان شام میں دختر امام علیہ السلام کے انتقال کو رقیہ کے نام سے یاد کیا ہے۔

رقیہ علیہ السلام وہ صاحبزادی ہیں جن پر رخصت آخر کے وقت امام علیہ السلام کا خصوصی سلام وارد ہے۔ اور پھر دربار یزید میں شمر نے اشارہ کر کے بتایا ہے اور نوحہ جناب زینب سلام اللہ علیہا میں ہے

اخی بنتک الاخری رقیه ضمھا۔[22]

علما اور اس مقاتل کے اس اختلاف کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل روایت تو اپنی جگہ باقی ہے جس میں محقق کی نظر میں بمقام زندان جس دختر کے انتقال کے قرائن پائے گئے اس نے اپنی رائے کے موافق اس کو اختیار کیا۔

زندان شام میں وفات سکینہ علیہ السلام کے کون لوگ قائل ہیں؟ترميم

مقاتل کے مرقومہ بلا اختلاف کو سامنے رکھ کر کچھ ایسے افراد بھی نظر آئے جنہوں نے ان میں کسی قول کو ترجیح نہ دی اور وہ حضرت سکینہ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہو گئے۔

1۔ مقتل ابن عصفور علیہ الرحمہ

2۔ زادالعاقبت

3۔ نظم الاحزان

یہ کتابیں اس مقصد کے اظہار کے لیے بہت نمایاں ہیں۔ اور زادالعاقبت غالباً سید علی اظہر کربلائی کی بہت ہی قدیم کتاب ہے جو خلاصة المصائب کا ماخذ اور مصدر ہے اور ابن عصفور کی مداح میں جو ان سے بھی مقدم تھے۔ رجال میں اچھے الفاظ پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ عین البکاء یہ مقتل اخبار ضعیفہ سے خالی ہے، محمد حسین بن محمد علی بن الحاج محمد بیگ ابن آقا علی نقی کہماچی نے اپنی کتاب اخبار ماتم کی مجلس 43، صفحہ 1014 طبع رام پور میں بھی زندان شام کی روایت کو ذمہ دارانہ الفاظ میں نقل کیا ہے۔

زندان شام خبر انتقال کا ماخذترميم

جن اہل قلم نے قید خانہ شام میں ایک دختر کی رحلت تسلیم کی ہے ان میں پہلا ترجمان ملا حسین بن علی کاشفی المعروف بالواعظ البہیقی السبزواری ہیں۔ دوسرا واقعہ نگار شیخ فخرالدین طریح نجفی علیہ الرحمہ ہیں موصوف کے الفاظ یہ ہیں۔

كانت لمولانا الحسين عليه السلام بنت عمرها ثلث سنين فعظم ذللك واسرو حشت لابيها

"ہمارے مولا امام حسین علیہ السلام کی ایک صاحبزادی تھی جن کی عمر تین برس تھی۔ ان پر مصیبت زندان بہت ہی سخت ثابت ہوئی اور وہ باپ کو یاد کر کے گھبراتی تھی۔"

پہلی عبارت اس مؤلف کی ہے جس کو عام طور پر اہل سنت اپنے فرقہ کا ایک جلیل القدر فرد سمجھتے ہیں اور کاشفی کا انتقال 910ھ میں ہوا۔ اور دوسری عبارت ایک شیعہ مجتہد کی ہے جس کی وفات 1085ھ میں ہوئی۔ عصر حاضر میں جو مقتل باقی ہیں ان میں سے زیادہ سے زیادہ قدیم حوالہ انھیں دو کتابوں کا دستیاب ہو سکتا ہے اور ان دو کتابوں کے مصادر آج سے 500 برس پہلے کا لٹریچر ہیں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کنز العباد جس سے روایت وفات سکینہ علیہ السلام ماخوذ ہے۔ کاشفی سے قریب العہد تھا یا اس کو زیادہ زمانہ گزرا تھا۔ لیکن سنی شیعہ ہر دو مصنفین کا اس صاحبزادی کے نام کو ظاہر نہ کرنا بتاتا ہے کہ راوی ترجمانی میں آزاد نہ تھا۔

اس خیال میں قوت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم حالات سکینہ علیہ السلام کے پہلے ناقل ابوالفرج اصفہانی کی وفات 356ھ میں پاتے ہیں۔ اس کا زمانہ کاشفی اور طریحی سے بہت پہلے تھا۔ لہذا جو فضا ابو الفرج نے مکدر کر دی تھی اس میں کسی راوی کا یہ اعلان کہ سکینہ علیہ السلام نے قید خانہ شام میں انتقال کیا نا ممکن تھا اور اس اکثریت میں کون اس آواز کو سنتا اور زندان شام کی روایت کو صفحہ قرطاس پر کہاں رہنے دی جاتی۔ آج ابو الفرج کی موت کو 1000 برس گزر چکے ہیں اور اس کی وکالت کرنے والے برابر پیدا ہو رہے ہیں جو صاحب آغانی سے قریب العہد تھے ان کے سامنے اور زیادہ یہ ماحول تھا اس لیے واقعہ کربلا بیان کرنے والوں کے لیے بجز اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ بغیر نام ظاہر کیے ہوئے مصیبت کو محفوظ کر دیں اور تعین کا بار مستقبل کی نسلوں پر چھوڑ دیں۔

چنانچہ علامہ محمد باقر بن عبد الکریم دہدشتی بہبانی نجفی نے بغیر نام کے زندان شام کی روایت کو صفحہ نمبر 384 میں پیش کیا ہے۔شہید ثالث رحمة اللہ علیہ اور مولانا محمد تقی برغانی نے بھی نام کی صراحت نہیں فرمائی۔ مجالس علویہ زبان اردو کا ایک باوقار مقتل بھی اسی راہ کا سالک ہے۔[23]

الزامات کے جواباتترميم

جناب سکینہ علیہ السلام جب وقت رخصت اپنے بابا کے سامنے رو رہی تھی تو امام علیہ السلام نے بیٹی سے نظم میں گفتگو کی اور طول حزن کی پیشن گوئی کی۔

سیطول بعدی یا سکینہ۔۔۔

اس گفتگو میں امام حسین علیہ السلام ایسے صادق نے جناب سکینہ علیہ السلام کو خیر النساء "بہترین نسا عالم" کا خطاب دیا ہے۔ اب کس کی طاقت ہے جو سکینہ علیہ السلام کے دامن عصمت کو داغدار کرے۔ باپ کے لاشے مبارک پر جناب سکینہ علیہ السلام سے امام علیہ السلام کا آخری کلام۔ اس کے بعد راہ کوفہ و سکینہ علیہ السلام، منزل حمص و سکینہ علیہ السلام اور دربار یزید و سکینہ علیہ السلام وہ عنوانات ہیں جن سے جناب سکینہ علیہ السلام حسینی مقصد میں شرکت اور امام علیہ السلام سے محبت "محیر العقول صبر و شکیب" "قوانین اسلام کی پابندی" کے قدم قدم پر ثبوت ملتے ہیں۔ اور قید خانہ کی غم آفریں منزل پر پہنچ کر خود سکینہ علیہ السلام کی زبان سے زندان میں "نماز شب" پڑھنا[24] اور یزید سے خواب بیان کرنا تمام مقاتل میں موجود ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر باب مصیبت ختم ہو جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ مصائب و آلام کا ایک ترجمان تھا جو دفعتاً خاموش ہو گیا اور یزید مظالم کے دوہرانے میں ایک قلم تھا جو یکایک رک گیا، ایک مسلسل گفتگو تھی جو قطع ہو کر خاموشی سے بدل گئی۔ اس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ بظاہر سکینہ علیہ السلام زندان شام کو اپنی ابدی خوابگاہ بنا چکی تھی اس لیے پھر ان کے واقعات کا فقدان۔ اور کسی ذمہ دار قلم سے، نہ رہائی کے وقت ان کا کوئی ذکر ہے نہ مدینہ پہنچنے میں کوئی تذکرہ ہے نہ سوگواری کا کچھ پتا ہے یہ خاموشی خالی از علت نہیں ہے۔[25]

جناب سکینہ علیہ السلام اور بیان احادیثترميم

ابو الفرج نے جناب سکینہ علیہ السلام اور ان کی بہن فاطمہ کا سال وفات ایک ہی لکھا ہے یعنی دونوں بہنوں نے 117ھ میں وفات پائی۔ اب جناب فاطمہ علیہ السلام بنت الحسین علیہ السلام سے فریقین کے راویوں نے تو کثرت سے علوم اہل بیت نقل کیا یہاں تک کہ علما نے پور سند تیار کر لیا۔ فرقہ امامیہ عشریہ کی علم احادیث میں چاروں کتابیں

کافی

استبصار

من لا یحضر الفقیہ

تہذیب الاسلام

وغیرہ میں کوئی ایک روایت بھی سکینہ علیہ السلام سے نہیں ہے اور روایت کا نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ قید خانہ شام میں ان کا انتقال ہو چکا تھا۔[26]

جناب سکینہ علیہ السلام کی طرف مصعب بن زبیر کا غلط انتسابترميم

قید خانہ شام میں انتقال کی روایات پھر طفولیت میں عبادت کا ذوق واضح کر چکا ہے کہ سکینہ علیہ السلام تاہلی زندگی کے لائق نہ تھیں۔ واقعات کربلا پر خبر رکھنے والا انسان فیصلہ کر سکتا ہے جناب سکینہ علیہ السلام کی زندگی مصیبتوں میں گزری باپ کی یاد نے ان کا کام تمام کر دیا تھا۔ اگر بالفرض جناب سکینہ علیہ السلام واقعہ کربلا کے بعد زندہ بھی ہوتیں تو معاذاللہ ایسے شخص سے وہ کیونکر عقد کرتیں کہ جو ان کے خون کا انتقام لینے والے مختار رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا اور جس کے دل میں ان کے قتل کی قرارداد تھی اس کا بھی ایک تاریخی ثبوت ملاحظہ ہو۔

غر الدین علامہ ابو الحسن علی بن ابی الکرم محمد بن محمد بن عبد الکریم بن عبد الواحد شیبائی معروف بابن اثیر جذری مصعب بن زبیر کے آخری حال میں لکھتے ہیں:

ثم التفت عروہ المغیرہ بن شعبه فاستد ناہ فقال له اخبرنی عن الحسین بن علی کیف صنع یا متناعه عن النزول علی حکم ابن زیاد و عزمه علی الحرب فا خبرہ فقال:

الا ان لی بالطف من ال ھاشم

تاسوا فسنوا الکرم التاسیا

اگر معاذاللہ سکینہ علیہ السلام بنت الحسین علیہ السلام مصعب کے عقد میں ہوتیں تو مصعب واقعہ کربلا کو ان سے پوچھتا یا عروہ بن مغیرہ سے؟ اس سے بہتر دلیل عقلی ابطال عقد پر اور کیا ہو سکتی ہے؟ اس تاریخی فیصلے کے بعد یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دنیائے اسلام میں سکینہ نامی عورتیں کثرت سے تھیں۔ دختر امام سے پہلے بھی اور بعد بھی کتنی عورتیں سکینہ نامی گزری ہیں۔ سکینہ بنت ابی وقاص، سکینہ کنیز امام زین العابدین اور سکینہ بنت خالد بن مصعب وغیرہ تھیں۔ اگر مصعب بن زبیر کے عقد میں کوئی عورت سکینہ نامی تھی تو کیا ضروری ہے کہ وہ دختر امام ہی ہو؟[27]

مزار در شام گواہ اسیری اہل بیت علیہ السلامترميم

جناب سکینہ علیہ السلام جس قید خانہ میں قید ہوئیں اس کی مثال کہیں نہیں ملتی اسی قید خانہ میں اپنے بابا کو روتے روتے جاں دے دی۔ جس طرح جناب عباس کا مزار فرات کے کنارے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو یہاں شہید کیا گیا اس حالت میں کہ آپ پانی سے بھرا مشکیزہ معصوم بچوں کے پاس لے کے جا رہے تھے۔ جس طرح حضرت حر علیہ السلام کا الگ روضہ آپ کی اپنی غلطی سے توبہ کے بعد اپنی جان امام علیہ السلام کے قدموں میں نچھاور کرنے کی گواہی دے رہا ہے۔ اسی طرح شام میں جناب سکینہ علیہ السلام کی قبر اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اہل بیت کو اتنی ذلتوں اور مصیبتوں کے بعد شام کے زندان میں قید کیا گیا جہاں اپنے بابا کو روتے روتے جناب سکینہ علیہ السلام نے جان دے دی۔

ابو الفرج نے جناب سکینہ علیہ السلام کی مدینہ میں دفن کی خبر اور مصنوعی روایات پیش کر کے جناب سکینہ علیہ السلام کی زندگی کو بعد کربلا ثابت کرنے کی کوشش کی اس نے بعد کربلا حیات سکینہ علیہ السلام کو لکھا اور کچھ مصنوعی روایات کو جناب سکینہ علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا تا کہ طول حیات ثابت ہو جائے۔ جیسے جناب سکینہ علیہ السلام کا گھر شعرا کی محفل رہتا تھا، آپ نے بار بار بیوگی کے بعد عقد کیے(معاذاللہ)اور بھی شرمناک روایات لکھیں جس سے حسینیت کو متزلزل کر دیا۔ وہ جھوٹا اور کذاب ہے روایت میں ملتا ہے کہ وہ مرنے سے پہلے پاگل ہو گیا تھا۔ جناب سکینہ علیہ السلام کی قبر شام میں موجود ہے اور یہ درایت ہے نہ کہ روایت۔ شام میں جو بھی لوگ جاتے ہیں بڑی آسانی سے جناب سکینہ علیہ السلام کی قبر مبارک انھیں مل جاتی ہے اور ڈھونڈنے کی بھی نوبت نہیں آتی۔ اور آج کے دور میں تو جناب سکینہ علیہ السلام کی قبر کے اوپر شاندار روضہ مبارک اور گنبد و مینار بھی تعمیر کیا گیا ہے۔[28]

صاحب قاموس سے دو دو باتیںترميم

آغا سید مہدی لکھنوی لکھتے ہیں کہ ابو الفرج اصفہانی نے جس داستان کی بنیاد قائم کی تھی اس کو ان کے ہمنوا سنی عالم ہر زمانے میں سراہتے رہے ہیں۔ اور یہ زبردست کوشش بنی امیہ کی، بعض ناواقف شیعہ اہل قلم کی لیے بھی مغالطہ ثابت ہوئی اور یہ افسانہ ناسخ التواریخ کے صفحات میں بھی پہنچے۔ سپہر کاشانی کی کوئی بلند حیثیت نہیں ہے جو وہ فرقہ شیعہ پر حجت ہو نہ وہ مقتدین میں ہیں۔ ان کی غفلت کے تاریخ مذکورہ میں اور کتنے نمونے ہیں جو صاحبان بصیرت پر مخفی نہیں ہیں۔ دشمن اہلبیت کی ہوشیاری کا یہ نمونہ ہے کہ "قاموس" لغت کی کتاب ہے اس کا مذہبی چھیڑ چھاڑ سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر خاندان رسالت کی تحقیر میں وہ اس قدر بھی آمادہ اور تیار ہیں کہ لغت میں بھی اپنے جذبہ کو نہیں چھوڑتے۔ اور یہ خصوصیات عام خواتین عرب کی تھیں ان کو جناب سکینہ علیہ السلام کے لیے تسلیم کرتے ہیں۔

سکینه بنت الحسین بن علی والطرة السکینة منسوبة الیھا

"جناب سکینہ علیہ السلام حسین علیہ السلام فرزند علی علیہ السلام کی دختر ہیں اور "بالوں کا جوڑا" جو مشہور ہے وہ انھیں کا ہے۔"

اس بے ادبی کا جائزہ یوں بھی لیا جا سکتا ہے جس بچی نے کمسنی میں اسیر ہو کر انتقال کیا ہو اس کو اس کا کہاں موقع مل سکتا ہے کہ وہ کسی فیشن موجد ہو اور عام خواتین اس کے جیسے بال بنانے لگی ہوں۔۔ بڑے افسوس کی بات ہے! آل محمد صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی تذلیل میں جو قلم اٹھتا ہے وہ ایک نیا شاخسانہ مسلمانوں کے سامنے لاتا ہے۔ مگر یاد رہے! سچے واقعات شہادت میں ہر فتنہ کی رد موجود ہوتی ہے۔

سید نعمت اللہ جزائری رحمة اللہ علیہ دربار یزید کے حالات میں لکھتے ہیں کہ

ان یزید لعن اللہ اقبل الصبیة التی تسترو حھھا یزندھا وقال من ھذاہ الجاریة قالو ا ھذہ سکینه بنت الحسین

"یزید ایک لڑکی کی طرف متوجہ ہوا جو اپنے ہاتھوں سے منہ چھپائے تھی اور پوچھا کہ یہ کون بچی ہے؟۔ کسی نے کہا یہ سکینہ (علیہ السلام) ہے حسین (علیہ السلام) کی بیٹی۔"

بند دست کو عربی میں زند کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سکینہ علیہ السلام اتنی کمسن تھیں کہ ان کے چہرے کے چھپانے میں دونوں ہاتھ اور کلائیوں کے حصے مل کر کافی ہوئے۔ اگر سکینہ علیہ السلام کے بال چہرہ چھپانے کے لائق ہوتے جیسے کہ تمام بیبیاں بالوں سے منہ چھپائے تھیں تو وہ کبھی ہاتھوں سے منہ نہ چھپاتی۔ معلوم ہوا کہ سکینہ علیہ السلام کے بال اتنے بڑے نہ تھے اور جب بال بڑے نہ تھے تو چوٹی اور جوڑہ کا کوئی تذکرہ نہیں رہتا۔ سکینہ علیہ السلام نے اس سے پہلے انتقال کیا جو بال بڑھنے کی عمر تھی۔[29]

ابوالفرج اصفہانی بہت زیادہ دروغ گو تھاترميم

مؤلف آغانی کو جھوٹا قرار دینے میں صاحبان تحقیق کا اتفاق ہے جس کو ماہرین رجال "انوکھی چیزوں کا مجموعہ" "نوادر کا مخزن" "غلط واقعات کا ذخیرہ" سمجھتے ہیں۔ چنانچہ قاضی شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی المتوفی 852ھ اپنی رجال کبیر میں لکھتے ہیں:

قال الخطیب حدثنی ابو عبد اللہ الحسین بن محمد بن طبا طبا العلوی سمعت ابا محمد الحسن بن الحسین النوبختی یقول کان ابو الفرج الصفہانی اکذب الناس کان یشتر شیاً کثیرا من الصحف ثم یکون روایته کلھا منھا[30]

" خطیب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو عبد اللہ حسین بن محمد بن محمد بن طبا طبا علوی نے بیان کیا ہے کہ میں نے ابو محمد حسن بن حسن نوبختی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابو الفرج اصفہانی کاذب ترین مرد تھا"۔

لہذا ضروری نہیں کہ جو سکینہ مصعب اور عثمان کے پوتے کے نکاح میں تھی وہ (معاذاللہ) سکینہ علیہ السلام بنت الحسین علیہ السلام تھی (نہیں) بلکہ دنیائے اسلام میں سکینہ نامی کئی عورتیں پیدا ہوئیں اور اس کے علاوہ بنی امیہ میں بھی سکینہ نامی عورتیں تھیں۔ جناب سکینہ علیہ السلام کے عقد کا افسانہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح جناب ام کلثوم علیہ السلام بنت فاطمہ علیہ السلام کا عقد عمر بن خطاب سے۔ ایک جیسے نام ہونے کی وجہ سے بھی جناب ام کلثوم علیہ السلام کی شخصیت پر یہ داغ آیا کہ آپ کی شادی عمر سے ہوئی۔ دراصل وہ ام کلثوم ابوبکر اور اسماء بنت عمیس کی بیٹی تھی نہ کہ علی علیہ السلام و فاطمہ علیہ السلام کی۔ جب ابوبکر کی وفات ہو گئی تو اسماء نے جناب امیر علیہ السلام سے عقد کیا اور ان کی بیٹی ام کلثوم اور وہ جناب امیر علیہ السلام کے گھر رہتے تھے اسی بنا پر لوگ یہ سمجھنے لگے کہ جو ام کلثوم عمر کے عقد میں ہے وہ علی علیہ السلام و فاطمہ علیہ السلام کی بیٹی ام کلثوم علیہ السلام(زینب صغریٰ) ہیں۔

جناب سکینہ علیہ السلام کا جوابترميم

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول مشہور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب فرزندان علی علیہ السلام و جعفر علیہ السلام پر نظر ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے لڑکے ہماری لڑکیوں کے لیے اور ہماری لڑکیاں ہمارے لڑکوں کے لیے۔[31]

اس کے علاوہ جناب سکینہ علیہ السلام ان معظمہ علیہ السلام کی پوتی ہیں جن کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ علیہ السلام کا کفو کوئی بھی نہیں ہو سکتا آدم سے لے کر تمام انبیا تک سوائے علی علیہ السلام کے۔ پھر جناب سکینہ علیہ السلام تو اس طاہرہ کا گوشت ، پوست اور خون تھیں ان کا کفو کیونکر ایک ایسا ملعون ہو سکتا ہے جو ان کے شہداء کربلا کے خون کا انتقام لینے والے حضرت مختار رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا اور پھر مصعب کے بعد اور بھی ایسے لوگ تھے جو مصعب ہی کی طرح تھے۔ اپنی دادی محترمہ کی طرح جناب سکینہ علیہ السلام کا بھی کوئی کفو نہیں تھا اگر جناب سکینہ علیہ السلام سن بلوغ تک پہنچ بھی جاتی تو ان کا کفو یقیناً اولاد امام حسن علیہ السلام میں سے ہوتا۔ چنانچہ شامی نے جس وقت ان کو دربار یزید میں اپنی کنیزی کے لیے طلب کیا اور گستاخانہ الفاظ میں کہا

ھب لی ھذه الجاریه من الغنمیة فتکون خادمة عندی

"(یزید) اس بچی کو مجھے دیدے۔ میں مال غنیمت میں سے اسے اپنی کنیز بنانے کے لیے پسند کرتا ہوں۔"

سکینہ علیہ السلام نے ام کلثوم علیہ السلام کی طرف رخ کر کے کہا:

فقالت یا عتماه اترین نسل رسول اللہ یکون ممالیك للاد عیا۔[32]

"اے پھوپھی جان! آپ علیہ السلام دیکھتی ہیں کہ کہیں نسل پیغمبر زنا زادوں کی خدمت گزار ہو سکتی ہے؟"

اس سوالیہ لب و لہجہ نے کردار کی تصویر کھینچ دی اور بتا دیا کہ اولاد علی علیہ السلام جب کنیز نہیں بنائی جا سکتی تو کوئی دشمن اہلبیت اس کو رفیقہ حیات بھی نہیں بنا سکتا۔ ابطال عقد کسی دلیل برہان کی ضرورت نہیں ہے۔ خود شہزادی سکینہ علیہ السلام کا فیصلہ کافی ہے۔

ابو الفرج اصفہانی اور آغانیترميم

کتاب آغانی پر تبصرہ کے ذیل میں علامہ سید علی حیدر صاحب رقمطراز ہیں کہ:

" جن لوگوں نے افتراء پردازوں کی من گھڑت حدیثوں کو بنیاد قرار دے کر خانوادہ علوی کی طرف نا مناسب باتیں منسوب کی ہیں، ان میں ابو الفرج اصفہانی سب سے آگے ہے۔ اسی کی "آغانی" سے عبد الحلیم شرر نے سکینہ علیہ السلام بنت الحسین علیہ السلام کے عنوان سے ایک ناول تحریر لکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں آگ لگا دی تھی۔

ابو الفرج سے یہ بات بعید بھی نہ تھی کہ وہ اپنی کتاب کو ایسی باتوں سے بھر دے اسے نہ تو اس پاکیزہ خانوادہ کی معرفت حاصل تھی اور نہ اسے اولاد علی علیہ السلام کی نفسیات کا علم تھا۔ اگر وہ اس خانوادے کی قدر و قیمت سے کچھ بھی واقف ہوتا تو کبھی بھی وہ ان لغویات کو صحیح سمجھ کر اپنی کتاب میں درج نہ کرتا۔ مگر کیا کیا جائے کہ اموی ہونے کی وجہ سے اس کی فطرت بنی امیہ کی فطرت تھی۔ جس طرح بے حیائی و بے شرمی اس خاندان کی فطرت میں داخل تھی ویسا ہی وہ دوسروں کو سمجھتے تھے۔[33]

پھر تحریر فرماتے ہیں کہ:

"یہ شخص مروانی النسب بھی تھا اور مروانی الفطرت بھی اسی لیے اس نے شاہان اندلس کے لیے جو اس کے خاندانی رشتہ دار تھے، بہت سی کتابیں لکھ کر خفیہ طور پر بڑی بڑی رقمیں انعام و کرام میں حاصل کیں۔

صاحب روضات الجنات لکھتے ہیں کہ:

سر سری نظر رکھنے والا بھی اندازہ کر سکتا ہے کہ اس (آغانی) میں صرف بے ہودہ، گمراہ کن باتیں اور ارباب لہو لعب کے قصص و حکایات ہیں اور علوم اہل بیت علیہ السلام سے بے توجہ رکھنے کے لیے (یہ کتاب) لکھی گئی ہے۔

آغانی کی روایتیں اس کے سلسلہ اسناد کے ساتھ مذکور ہیں اور سلسلہ اسناد کے ساتھ کوئی حدیث بیان کرنا بہت سے لوگوں کو مبتلائے فریب کر دیتا ہے اور لوگ اسے بہت دقیق علم سمجھ لیتے ہیں اور اسی دقیق علم پر بھروسا کر کے بہت سے بحث و تحقیق کرنے والوں نے آغانی کی روایتوں کو قابل یقین سمجھ لیا۔ چنانچہ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور تاریخی حقائق کو بھی مشتبہ کر ڈالا۔ خود ابوالفرج کیسا تھا؟ تو یہ حقیقت ہے کہ وہ انتہائی زیاں کار اور لذائذ و شہوات کا دل دادہ تھا اس کی اس کیفیت کا اثر اس کی کتاب میں بے حد نمایاں ہے۔ پوری کتاب ہنسی دل لگی رندی اور اوباشی کی باتوں سے بھری پڑی ہے۔ شعرا اور کاتبوں کی لغزشوں اور اخلاقی کمزوریوں کو ذکر کرنا اور ان کے دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کر دینا ثبوت ہے کہ حسین و خوشنما باتیں اکٹھا کرنے کی اسے زیادہ فکر نہ تھی۔ اس وضاحت کے بعد کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ ابوالفرج نے جناب سکینہ علیہ السلام بنت الحسین علیہ السلام سے متعلق جتنی بھی باتیں لکھی ہیں وہ محض کذب اور اتہام پر مبنی ہیں۔ کیونکہ اس نے جو روایتیں درج کی ہیں وہ سب کی سب مصعب بن زبیر، اس کا بھتیجہ زبیر بن بکار، ہثیم بن عدی طائی کوفی، صالح بن حسان اور اشعب کی بیان کردہ ہیں جنہوں نے اپنے کینہ و عناد اور قلبی عداوت کی بنا پر انتہائی کوشش یہ کی کہ آل ابوطالب علیہ السلام کی ایسی گھناؤنی تصویر پیش کریں کہ عوام الناس ان سے محبت کی بجائے نفرت پر مجبور ہو جائیں۔۔

علامہ مفید رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

" زبیر بکار حدیث میں قطعی بھروسے کا آدمی نہیں ہے۔"

علامہ مرزبانی لکھتے ہیں کہ زبیر بکار کا اہل بیت علیہ السلام سے برگشتہ ہونا بہت واضح ہے۔

کشف الیقین میں ہے کہ:

یہ زبیر بکار امیر المومنین علیہ السلام اور ان کی اولادوں کا سخت ترین دشمن تھا۔ ہثیم بن عدی کوفی بخاری و نسائی کے نزدیک کذاب ہے اس نے بہت سی منکر حدیثیں روایت کیں ہیں یہ قطعی نا قابل اعتبار اور متردک الحدیث ہے۔[34]

علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کی ایک دختر سکینہ تھی جس کی ماں فاطمہ بنت عبداللہ بن صائب تھیں۔[35] یہ سکینہ بڑی رنگین مزاج تھی ان کا عمر بن ربیعہ کے ساتھ بھی ربط ضبطٰٰ تھا۔ کوئی بعید نہیں کہ آل زبیر اور ان کے ہوا خواہوں نے اپنے خاندان سے اس عیب کو دور کرنے کے لیے ایسی خاتون سے منسوب کر دیا جو بعد میں اس کی ہمنام ہوئیں۔ اور جن کے بزرگوار سے اس خاندان کی دیرینہ عداوت بھی تھی۔ کیونکہ سکینہ بنت الحسین علیہ السلام کے متعلق ابوالفرج نے اپنی کتاب آغانی میں جتنی بھی روایتیں درج کی ہیں وہ سب انھیں زبیر بن بکار، مصعب بن زبیر اور ہثیم بن عدی وغیرہ سے ماخوذ ہیں جن پر بھروسا کرنا اپنی کج فہمی کا ثبوت فراہم کرنا ہے۔

بنت الشاطی کی تحقیقترميم

ڈاکٹر عائشہ بنت الشاطی نے کتاب سکینہ بنت الحسین علیہ السلام میں اس طرف گہری توجہ کی اور ثابت کیا ہے کہ بعض لوگ جو حضرت سکینہ علیہ السلام سے غلط طور پر منسوب ہیں تاریخ میں اس بات کا مغالطہ ہے کہ ایک نام کی بہت سی مستورات ہوتی ہیں۔ جن کی شادیاں ہوئی ہیں۔ جب ایسی باتوں کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ ایسے ملتے جلتے نام کئی ہیں۔ جن پر لوگوں کو دھوکا ہوا ہے کبھی کبھی ایک نام کی دو یا کئی مستورات بھی ہوئی ہیں کہ کسی کا رشتہ کسی دوسرے سے جوڑ دیا گیا اور شدہ شدہ یہ بات سکینہ نام تک پہنچی ہے۔ مثلاً عبد اللہ بن عثمان بن عبداللہ بن حکیم بن حزام کہ دراصل یہ ایک ہی آدمی کا نام ہے لیکن تاریخ نے مشکوک کر کے دو نام بتلا دیے ہیں اور اسی وجہ سے لکھ دیا گیا ہے کہ سکینہ کے دو شوہر تھے جن میں ایک عبدللہ بن عثمان بن عمرو بن حکیم بن حزام تھے۔[36]

ڈاکٹر عائشہ بھی اسی بات کو مانتی ہیں کہ ایک جیسے نام ہونے کی وجہ سے تاریخ میں کافی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ اور شائد دشمنان آل محمد کے لیے ایک اچھا موقع بن گیا اور اسی موقع سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے نا آشنا لوگوں کے ذہنوں پر وہ روایات غالب کر دیں جن کے بارے میں ان ناآشنا لوگوں کو علم تو نہ تھا لیکن ان روایتوں کو اپنی لاعلمی کی وجہ سے مان لیا اور تحقیق کرنے کی زحمت بھی نہیں اٹھائی۔

حوالہ جاتترميم

  1. سکینہ بنت الحسین - ویکی شیعہ
  2. الاصفہانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، تحقیق احمد صقر، بیروت، دارالمعرفہ، بی‌تا، ج4
  3. الاصفہانی، ابوالفرج، الاغانی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، چاپ اول، 1415
  4. ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر-داربیروت، 1965، ج4
  5. تاریخ نسواں، صفحہ 236
  6. تاریخ نسواں صفحہ 239
  7. ستارہء دمشق سیدہ سکینہ بنت الحسین
  8. ستارہء دمشق سیدہ سکینہ بنت الحسین صفحہ 2
  9. الدمعہ الساکبہ جلد 4 صفحہ 332
  10. ابصارالعین صفحہ 3٠
  11. ذریعہ النجاة
  12. مقتل الحسین مقرم صفحہ 27٠
  13. نفس المہموم صفحہ 346
  14. الملہوف صفحہ56
  15. مقتل الحسین مقرم صفحہ
  16. ^ ا ب بحارالانوار جلد45، صفحہ136
  17. ستارہء دمشق سیدہ سکینہ بنت الحسین صفحہ 189
  18. انوار المجالس باب نہم مجلس ہفتم صفحہ 269 طبع نجف اشرف جز دوم 1344ھ
  19. ریاض المصائب، صفحہ407
  20. کنز المصائب، صفحہ 355
  21. انوار الشہادة، صفحہ 153
  22. عبائرالانوار جلد دوم صفحہ 29 مطبع صادق پریس لکھنؤ
  23. سکینہ بنت الحسین علیہ السلام، صفحہ 20، 24 تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ
  24. مقتل ابواسحاق اسفرائنی
  25. سکینہ علیہ السلام بنت الحسین علیہ السلام۔ صفحہ 26، 27
  26. سکینہ علیہ السلام بنت الحسین علیہ السلام، صفحہ 29
  27. سکینہ بنت الحسین علیہ السلام، صفحہ 31،33
  28. سکینہ علیہ السلام بنت الحسین علیہ السلام، صفحہ 211، 212
  29. سکینہ علیہ السلام بنت الحسین علیہ السلام، صفحہ 40، 42
  30. لسان المیزان، جلد 4، صفحہ 222 طبع دائرہ معارف نظامیہ حیدرآباد 1330ھ
  31. من لا یحضر الفقیہ، جلد 3، صفحہ 864
  32. مجالس المتقین، صفحہ 73
  33. مظلوم باپ کی مظلوم بیٹی، صفحہ 12، 14 اور 15
  34. مظلوم باپ کی مظلوم بیٹی، صفحہ 10 بحوالہ لسان المیزان، جلد 6، صفحہ 209
  35. البدایہ والنہایہ، جلد 6، صفحہ 322
  36. موسوعہ آل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صفحہ 831