محمد منظور نعمانی (1905ء - 1997ء) بھارت کے ایک نامور مسلم عالم اور مصنف تھے۔ دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے، دار العلوم ندوۃ العلماء سے خاص تعلق تھا اور وہاں درس بھی دیتے تھے۔

منظور نعمانی
معلومات شخصیت
پیدائش 15 دسمبر 1905  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سنبھل  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5 مئی 1997 (92 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

1927ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ ہوئے، وہاں حدیث کی تعلیم انور شاہ کشمیری سے حاصل کی۔ سید ابو الحسن علی ندوی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، دار العلوم ندوۃ العلماء میں تقریباً چار تک حدیث کی تدریس بھی انجام دی۔ اسی طرح سید ابو الاعلیٰ مودودی سے بھی قریبی تعلقات تھے، 1941ء میں جماعت اسلامی کی تاسیس میں موجود تھے اور ابو الاعلیٰ مودودی کے امیر منتخب ہونے کے بعد دوسرے نمبر پر یہی نائب امیر منتخب ہوئے، تاہم 1942ء میں مودودی صاحب سے کچھ اختلافات کے بعد جماعت اسلامی سے الگ ہو گئے۔ اس کے بعد محمد الیاس کاندھلوی اور ان کی تبلیغی جماعت سے وابستہ ہو گئے۔ دار العلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے، علاوہ ازیں رابطہ عالم اسلامی کے ارکان بھی تھے۔

سوانحترميم

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

منظور نعمانی 18 شوال 1323ھ مطابق 15 دسمبر 1905ء میں سنبھل، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔[1][2] ان کے والد "صوفی محمد حسین" ایک دولتمند تاجر اور زمیندار تھے۔[3] نعمانی صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کے مدرسہ سراج العلوم ہلالی سرائے سنبھل میں حاصل کی۔[4] اس کے بعد دار العلوم مئو، اعظم گڑھ میں داخلہ لیا، وہاں عربی کی تعلیم حاصل کی۔ پھر وہاں سے دار العلوم دیوبند گئے، وہاں دو سال میں فضیلت تک کی تعلیم مکمل کی اور 1345ھ / 1927ء میں اعلی امتیازی نمبرات سے دورۂ حدیث میں کامیابی حاصل کی۔[1][2] ان کے مشہور اساتذہ میں سے انور شاہ کشمیری، مفتی عزیز الرحمن اور سراج احمد راشدی ہیں۔[3]

تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے تین سال امروہہ کے مدرسہ چلیہ میں پڑھایا، اس کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء میں ابو الحسن علی ندوی کی خواہش اور اصرار پر چار سال تک حدیث کی تدریس انجام دی۔[1][2]

الفرقانترميم

1353ھ / 1934ء میں انھوں نے بریلی ایک ماہنامہ "الفرقان" جاری کیا، آغاز میں یہ رسالہ ایک علمی رسالہ تھا، لیکن 1942ء کے بعد یہ ایک مسلکی اور مذہبی رسالہ بن گیا۔[1]

جماعت اسلامی میںترميم

منظور نعمانی کے ابو الاعلیٰ مودودی سے اچھے تعلقات تھے، وہ جماعت اسلامی کے بانیوں میں سے تھے، وہ 1941ء کی تاسیسی مجلس کے سات ارکان میں سے تھے، جس میں سے ابو الاعلیٰ مودودی کو امیر جماعت اور منظور نعمانی کو نائب امیر منتخب کیا گیا تھا۔ بلکہ چھ ماہ کے بعد 1942ء مینث وہ جماعت کے مرکز دار الاسلام پٹھان کوٹ بھی منتقل ہو گئے تھے اور وہاں سکونت اختیار کر لی تھی، انھیں دار الاسلام کا پہلا محتسب بھی بنایا گیا تھا۔ لیکن مودودی صاحب سے کچھ اختلافات کی بنا پر انھوں نے شعبان 1361ھ / اگست 1942ء میں جماعت اسلامی سے استعفی دے دیا اور اپنے گھر سنبھل چلے گئے۔ انھوں نے جماعت اسلامی اور مودودی صاحب سے تعلقات اور اختلافات کو اپنی کتاب "مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف" میں لکھا ہے۔

جماعت اسلامی سے علیحدگی کے بعد وہ اور ابو الحسن علی ندوی، تبلیغی جماعت اور اس کے بانی محمد الیاس کاندھلوی سے وابستہ ہو گئے۔ منظور نعمانی نے ان کے ملفوظات کو جمع کر کے ایک کتاب بھی لکھی۔[5]

1943ء میں انھیں دار العلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کا رکن بنایا گیا، اس کے بعد وہ مسلسل اس کی عاملہ کے اجلاس میں شریک ہوتے تھے۔[1][2]

وفاتترميم

اخیر میں وہ اہل خانہ کے ساتھ لکھنؤ مقیم ہو گئے تھے، الفرقان بھی لکھنؤ سے شائع ہوتا تھا اور ہوتا ہے۔ ان وفات لکھنؤ ہی میں 4 یا 5 مئی 1997ء کو ہوئی۔[3][6]

تصنیفاتترميم

  • معارف الحدیث
  • اسلام کیا ہے (1952ء)
  • دین و شریعت (1958ء)
  • قرآن آپ سے کیا کہتا ہے
  • کلمہ طیبہ کی حقیقت
  • نماز کی حقیقت
  • آپ حج کیسے کریں
  • برکات رمضان
  • تحقیق مسئلہ ایصال ثواب
  • تصوف کیا ہے
  • تذکرہ امام ربانی (1959ء)
  • ملفوظات مولانا محمد الیاس (1950ء)
  • بوارق الغیب
  • حضرت شاہ اسماعیل شہید پر معاندین کے الزامات (1957ء)
  • خاکسار تحریک
  • قرآن علم کی روشنی میں
  • اسلام اور کفر کے حدود
  • قادیانی کیوں مسلمان نہیں
  • سیف یمانی
  • مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف
  • شیخ محمد بن عبد الوہاب کے خلاف پروپیگنڈہ اور ہندوستان کے علمائے حق پر اس کے اثرات
  • ایرانی انقلاب، امام خمینی اور شیعیت (1984ء)

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت ٹ Syed Mehboob Rizwi (1981). History of the Dar al-Ulum Deoband. Volume 2. ترجمہ بذریعہ Prof. Murtaz Husain F. Quraishi. Idara-e Ihtemam, دار العلوم دیوبند, India. 
  2. ^ ا ب پ ت "صاحب کتاب کا مختصر تعارف / Ṣāḥib-i kitāb kā muk͟htaṣar ta‘ārif". In Muḥammad Manzoor Nomānī (2006). Futūḥāt-i Nomānīyah فتوحات نعمانیہ (بزبان Urdu). Lahore: Anjumān Irshādul Muslimīn. صفحات 876–880. 
  3. ^ ا ب پ Ghufrān al-Ḥaqq al-Swātī (September 2010). "نبذة من حياة الشيخ العلامة محمد منظور أحمد النعماني رحمه الله / Nubdhah min ḥayat ash-shaykh al-'allāmah Muḥammad Manzoor an-Nomānī raḥimahu'llāh". Al-Farooq Arabic (بزبان عربی). Karachi: Idārat al-Fārūq. 25 ستمبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2020. 
  4. "Alumni". Madrasa Sirajul Uloom Sambhal. 
  5. Nomani، Muhammad Manzoor. "Preface". Malfoozat: Discourses of Moulana Ilyas. South Africa: Madrasah Arabia Islamia Azaadville. 
  6. Data India. New Delhi: Press Institute of India: 361. 1997. Mohd Manzoor Nomani, Muslim scholar, died in Lucknow on May 4. He was 92.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت)