محمد الیاس کاندھلوی کی قائم کردہ ایک اسلامی اصلاحی تحریک جو 1926ء میں قائم کی گئی۔ بنیادی طور پر فقہ حنفی کے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ برصغیر پاک و ہند کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں بھی سرگرم ہے۔

2009 Malaysian Tablighi Ijtema.jpg
ملائیشیا میں 2009ء میں تبلیغی اجتماع کا ایک منظر
بانی
محمد الیاس کاندھلوی
اہم آبادی والے علاقے
 بنگلادیش
 پاکستان
 بھارت
 مملکت متحدہ
 انڈونیشیا
 ملائیشیا
 سنگاپور
 جنوبی افریقا
 سری لنکا
 ترکیہ
 یمن
 کرغیزستان
 روس
 صومالیہ
 نائجیریا
 ریاستہائے متحدہ
 کینیڈا
 میکسیکو
 چین ( ہانگ کانگ)
 فرانس
 جرمنی
 تنزانیہ
 برازیل
 فلپائن
 ویسٹ انڈیز
 قطر
 اردن
 موریتانیہ
 المغرب
 الجزائر
 آذربائیجان
مذاہب
سنی اسلام
کتابیں
قرآن، حدیث، [[[فضائل اعمال]]۔
زبانیں
مذہبی: عربی
بنگلہ دیش میں: بنگالی
بھارت میں: اردو
پاکستان میں: اردو

تبلیغی جماعت کے اصول

تبلیغی جماعت کے اصول:
(انھیں چھ باتیں، چھ صفات اور چھ نمبر بھی کہا جاتا ہے)

  1. ایمان
  2. نماز
  3. علم و ذکر
  4. اکرام مسلم
  5. اخلاص نیت
  6. دعوت و تبلیغ
اور لایعنی امور سے اجتناب۔

جماعت

جماعت اس تحریک کی ایک مخصوص اصطلاح ہے جو اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کئی افراد ایک مخصوص مدّت کے لیے دین سیکھنے اور سکھانے کی خاطر کسی گروہ کی شکل میں کسی جگہ کا سفر کرتے ہیں۔ ان کے دورے کی مدّت تین دن، چالیس دن، چار ماہ اور ایک سال تک ہو سکتی ہے۔ یہ افراد اس دوران علاقے کی مسجد میں قیام کرتے ہیں۔

گشت

کسی بھی جگہ کے دورے میں اپنے قیام کے دوران یہ افراد گروہ کی شکل میں علاقے کا دورہ کرتے اور عام افراد خصوصاً دکان دار حضرات کو دین سیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے مسجد میں مدعو کیا کرتے ہیں۔ اس عمل کو جماعت کی اصطلاح میں 'گشت' کہا جاتا ہے۔

تعلیم

عموماً چاشت کے وقت اور ظہر کی نماز کے بعد مسجد میں تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد ایک کونے میں مرتکز ہوجاتے ہیں اور کو‎ئی ایک فرد فضا‎ئل اعمال کا مناسب آواز میں مطالعہ کرتا ہے تاہم اس امر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ نماز و تلاوت میں مشغول افراد کے انہماک میں خلل نہ پڑے۔

فضائل اعمال کی تعلیم کا مقصد: اس كتاب کے تعلیم کے مندرجہ ذیل مقاصد ہیں۔ 1۔ فضائل سن سن کر اعمال کا شوق پیدا ہو جائے۔ 2۔ علم اور عمل میں جوڑ پیدا ہو جائے۔ 3۔ مال سے ہٹ کر اعمال پر یقین بن جائے۔ 4۔ سب کے دل قرآن و حدیث سے اثر لینے والے بن جائیں۔

فضا‎ئل اعمال

تبلیغی جماعت میں قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اعمال کے فضائل سے متعلق ایک کتاب کا مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ اس مجموعہ کو بھی کتابی شکل میں مرتب کیا گیا ہے جو فضائل اعمال کے نام سے موسوم ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ جماعتوں میں چلتے ہوئے اور مقامی مسجد میں تسلسل سے کرایا جاتا ہے۔ اور اس كى علاوہ منتخب احادیث مؤلف محمد يوسف كاندھلوی صاحب كا بھی مطالعہ كيا جاتا ہے۔

سالانہ عالمی اجتماعات

رائے ونڈ اجتماع

عام طور پر اکتوبر کے مہینے میں لاہور کے قریب رائے ونڈ مرکز میں تین روزہ سالانہ اجتماع کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ اس موقع پر یہاں ایک عارضی شہر آباد ہو جاتا ہے۔

بنگلہ دیش اجتماع

یہ بھی عام طور پر سال کے آخر میں منعقد ہوتا ہے۔ یہ مختلف شہروں میں کئی دنوں تک جاری رہتا ہے۔ اس اجتماع میں پورا بنگلہ دیش امڈ پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس اجتماع کو صرف ڈھاکہ میں انعقاد کی بجائے بنگلہ دیش کے کئی شہروں میں منعقد کیا جاتا ہے۔ کچھ سال قبل یہ صرف ڈھاکہ میں ہی منعقد ہوتا تھا۔

بھوپال اجتماع

یہ بھی سال کے آخر ماہ دسمبر میں منعقد ہوتا ہے جس میں ہند و بیرون ہند سے لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ یہ اجتماع کئی سال قبل بھوپال کی مشہور مسجد تاج المساجد میں منعقد ہوتا تھا لیکن جگہ ناکافی ہونے کی بنا پر اسے شہر کے مضافات میں واقع ایٹ کھیڑی نامی جگہ میں منتقل کر دیا گیا۔ اب اس اجتماع کا انعقاد تسلسل کے ساتھ اسی جگہ ہوتا ہے۔

مراکز تبلیغی جماعت

بھارت

بنگلہ والی مسجد تبلیغی جماعت کا اولین مرکز ہے۔ یہ مسجد دہلی میں بستی نظام الدین اولیاء میں واقع ہے۔

پاکستان

رائے ونڈ

پاکستان میں تبلیغی جماعت کا مرکز یہیں واقع ہے۔

مدنی مسجد

کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں واقع مدنی مسجد کراچی میں تبلیغی جماعت کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں ہر جمعرات کو بعد نماز مغرب کراچی کی سطح پر اجتماع ہوتا ہے جس میں اہلسنت کے جید علمائے کرام وعظ کرتے ہیں۔ عوام کی ایک کثیر تعداد اس محفل میں شریک ہوتی ہے۔

وہ شہر جہاں مراکز قائم ہیں

سکھر، شکارپور، حیدرآباد، کوہاٹ، مردان، ہری پور، راولپنڈی، میرپور، گلگت، تورورسک، لکی مروت، لاہور، گجرانوالہ، چنیوٹ، فیصل آباد، ملتان، کوئٹہ [حوالہ درکار]

امارت

تبلیغی جماعت میں کئی دہائیوں سے نظام امارت موجود ھے ۔ امیر کو میوات کے افراد حضرت جی کہا کرتے تھے، پھر یہی لقب امیر تبلیغی جماعت کے لیے چل پڑا۔ اس میں چار امرا (حضرت جی) ہوئے ہیں:

  1. محمد الیاس کاندھلوی
  2. محمد یوسف کاندھلوی
  3. انعام الحسن کاندھلوی
  4. محمد سعد کاندھلوی

شورائی نظام اور امارت کا نظام

انعام الحسن کاندھلوی کی وفات (1995ء) کے بعد دس افراد پر مشتمل لوگ طے ھوۓ کہ جو امیر کا فیصلہ کریں ۔ مگر یہ فیصلہ نہ ھو سکا اور دس میں سے نو وفات پا گئے اب صورت حال یہ ھے کہ پاکستان راۓ ونڈ مرکز اور ان سے متصل لوگوں نے شورائ نظام ترتیب دیا ھوا ھے اور انڈیا نظام الدین مرکز سے متصل لوگ اسی پرانے امارت کے نظام پر چل رھے ھیں ۔

بیرونی روابط

حوالہ جات