میر برکت علی خان

حیدر آباد کا نظام

میر برکت علی خان مکرم جاہ آصف جاہ ہشتم ، صدیقی بےآفندی ، آصف جاہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 1967ء میں اس کے دادا کی وفات پر نظام حیدرآباد کا لقب برائے نام ملا۔[1]

میر برکت علی خان
مدعی تاج و تخت
پیدائ‏ش6 اکتوبر 1934ء (عمر 86 سال)
Hilafet Palace, نیس، فرانسیسی جمہوریہ سوم
القابمیر برکت علی خان
تاجریاست حیدرآباد
مدعیت از24 فروری 1967-تا حال
(Titular نظام حیدرآباد)
موقوفی بادشاہت1948
آخری بادشاہMir نواب میر عثمان علی خان
تعلق داریGrandson
شاہی خانداننظام حیدرآباد
والداعظم جاہ
والدہخدیجہ خیریہ عائشہ در شہوار، Imperial Princess of the Ottoman Empire
شریک حیاتPrincess Esra Birgin
(1959–1974; divorced)
Aysha Simmons
(1979–1989; widowed)
Manolya Onur
(1992–1997; divorced)
Jameela Boularous (co-wife)
(since 1992)
Princess Orchedi (co-wife)
(since 1994)
بچےPrince Azmet Jah
Sahibzadi Shehkyar
Alexander Azam Khan
Mohammod Umar Khan (deceased)
Nilufer
Zairin
قبل ازاںنواب میر عثمان علی خان

ذاتی زندگیترميم

 
1934ء میں مکرم جاہ اپنی والدہ عثمانی شہزادی درشہوار کی آغوش میں۔

پس منظرترميم

مکرم جاہ ، اعظم جاہ کا بیٹا تھا اور میر عثمان علی خان کاوارث تھا جو ریاست حیدرآباد کا آخری حکمران تھا۔ اس کی شادی شہزادی در شہوار سے ہوئی جو  آخری عثمانی خلیفہ عبد الماجد دوم کی بیٹی تھی۔[2] جاہ نے  دی ڈون اسکول سے تعلیم حاصل کی اور اس  کے  بعد ہارورڈ انگلستان میں پیٹر ہاؤس کیمبرج، لندن اسکول آف اکنامکس اور سینڈ ہرٹس میں تعلیم حاصل کی۔[3][4] جاہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کا دوست تھا۔ 2010ء میں جاہ نے بیان دیا کہ نہرو اسے اپنا ذاتی سفیر یا مسلم ملک میں بھارتی سفیر بنانا چاہتا تھا۔[5]

حیدرآباد میں اس کے دو بڑے محلات  چو محلہ اور فلک نما  کو دوبارہ سیٹ کیا گیا اور عوام کے کھول دیا گیا اور نظام دور کا عجائب گھر اور بعد میں ایک لگژری ہوٹل میں تبدیل کر دیا۔ سال 2010 میں تاج فالکونما ہوٹل کا افتتاح ہوا اور تاج گروپ  دس سال کی بحالی پر  لیز پر دیا گیا۔[6]

اپنے والد کی طرح، مکرم 1980ء  کی دہائی تک بھارت کا سب سے امیر  ترین انسان تھا۔ تاہم 1990ء کی دہائی میں اس کے آبائی اثاثوں میں سے زیادہ تر  حکومت بھارت کی طرف سے زبردستی تحویل میں لے لیے گئے اور کچھ طلاق کے معاملات پر ضبط کر لیے گئے۔ اس کا تخمینہ ایک بلین ڈالر سے کچھ زیادہ ہی ہے۔[7][8]

شادیاںترميم

مکرم جاہ 1999ء میں ترکی شہزادی (پیدائش 1936ء) اسریٰ برگن سے  1959ء  میں شادی کی۔[1][9] جاہ حیدرآباد محل شیپ اسٹیشن آسٹریلیا سے واپسی کے لیے چھوڑا اور اپنی بیوی کو طلاق دے دی جو جانا نہیں چاہتی تھی۔[10] 1979ء میں ایک سابق ہوائی میزبان اور بی بی سی میں کام کرتی تھی جس کا نام ہیلن سائمون (پیدائش 1949ء- وفات 1989ء ) تھا۔[11] اس نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام عائشہ رکھ لیا۔ اس کی موت کے بعد اس نے منولیا اونور ( پیدائش 1954ء ) سے شادی کی جو 1992ء میں سابقہ مس ترکی تھی اور اس سے شادی کی۔ پانچ سال بعد 1997ء میں اس کو طلاق دے دی۔[10][11][12]

محلاتترميم

اُن کے زیر ملکیتی محلات

مزید دیکھےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب Zubrzycki، John (2006)، The Last Nizam: An Indian Prince in the Australian Outback، Pan Macmillan Australia Pty, Limited، ISBN 1-4050-3722-9 
  2. "Princess Durru Shehvar passes away"، The Hindu، 2006-02-09 
  3. Singh، Kishore (2007-03-30)، "India's wealthiest man the country forgot"، Business Standard 
  4. "Nehru had big plans for me, says Mukarram Jah"، The Times of India، 2010-03-14، مورخہ 2013-12-20 کو اصل سے آرکائیو شدہ، اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-28 
  5. Taj Falaknuma Palace, Hyderabad – Opening فروری 2010، فروری 2010، مورخہ 22 مارچ 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ  نامعلوم پیرامیٹر |deadurl= ignored (معاونت); Check date values in: |date=, |archive-date= (معاونت)
  6. Natwest Bank account freeze
  7. Costliest divorce in India
  8. Guruswamy، Mohan (مئی 2008). "Books: The Last Nizam by John Zubrzycki. Picador India, Delhi, 2006.". City of Hope: a symposium on Hyderabad and its syncretic culture. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 دسمبر 2008. 
  9. ^ ا ب Dalrymple، William (2007-12-08)، "The lost world"، Guardian 
  10. ^ ا ب "Turkish Beauty Fights for Justice"، Times of India، 2006-03-21، مورخہ 20 جنوری 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ  نامعلوم پیرامیٹر |deadurl= ignored (معاونت); Check date values in: |archive-date= (معاونت)
  11. Shrivastava، Namita A (2006-03-19)، "Princess diaries"، Times of India 
  12. Buyers، Christopher. "The Asaf Jahi Dynasty: Genealogy". The Royal Ark. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2010. 
  13. Buyers، Christopher. "The Imperial House of Osman: Genealogy". The Royal Ark. 15 جون 2006 میں اصل سے آرکائیو شدہ.