عبد العزیز اول

سلطنت عثمانیہ کا بتیسواں سلطان اور خلیفہ ٔ اسلام
عبد العزیز اول
Sultan Abdullaziz of the Ottoman Empire.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 9 فروری 1830[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قسطنطنیہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 جون 1876 (46 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قسطنطنیہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن استنبول  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the Ottoman Empire.svg سلطنت عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ حیران دل قادین افندی
ادا دل قادین افندی  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبد المجید ثانی  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمود ثانی  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ پرتیونیال سلطان  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان عثمانی خاندان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان سلطنت عثمانیہ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
25 جون 1861  – 30 مئی 1876 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبد المجید اول 
مراد خامس  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ حاکم، نغمہ ساز  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Order of the Garter UK ribbon.png آرڈر آف گارٹر (1867)
RUS Imperial Order of Saint Andrew ribbon.svg آرڈر آف سینٹ اینڈریو  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Tughra of Abdülaziz.JPG 

عبد العزیز اول (Abdülaziz I) یا عبد العزیز عثمانی (Abdülaziz of the Ottoman Empire) عثمانی ترکی زبان: عبد العزيز) (پیدائش: 9 فروری 1830ء – انتقال: 4 جون 1876ء) سلطنت عثمانیہ کے 32 ویں سلطان تھے جنہوں نے 25 جون 1861ء سے 30 مئی 1876ء تک عنان اقتدار سنبھالی۔ وہ سلطان محمود ثانی کے صاحبزادے تھے اور 1861ء میں اپنے بھائی عبد المجید اول کے بعد تخت سلطانی پر براجمان ہوئے۔

آپ نے بچپن میں روایتی تعلیم حاصل کی۔ جسمانی طور پر آپ بہت قوی تھے اور کشتی میں دیگر پہلوانوں کو پچھاڑنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ موسیقی اور مصوری کے بھی شائق تھے۔ آپ کی تیار کردہ کچھ موسیقی عثمانی دربار کی موسیقی کی لندن اکادمی نے "عثمانی دربار میں یورپی موسیقی" نامی البم میں جمع کر رکھی ہے۔

دور اقتدارترميم

عبد المجید اول کے عہد میں شروع ہونے والی اصلاحات "تنظیمات"کا سلسلہ ان کے عہد میں بھی جاری رہا۔ 1864ء میں نئی ولایتوں (صوبوں) کا قیام عمل میں آیا اور 1868ء میں ایک ریاستی انجمن بھی قائم کی گئی۔ آپ کے دور ہی میں عوامی تعلیم کے نظام کو فرانسیسی طرز پر منظم کیا گیا اور جامعہ استنبول کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔

سلطان عبد العزیز نے بلقان کے صوبوں میں بغاوتوں کے باعث روسی سلطنت سے دوستانہ تعلقات استوار کیے۔

عبد العزیز کے دور حکومت میں سلطنت عثمانیہ کے فرانس اور برطانیہ سے بھی دوستانہ تعلقات قائم ہوئے اور وہ پہلے یورپی سلطان تھے جنہوں نے، 1867ء میں، مغربی یورپ کا دورہ کیا جس میں انگلستان کا دورہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے یہ سفر ایک نجی ریل کار کے ذریعے کیا جو آج بھی استنبول کے “آر ایم کے عجائب گھر” میں محفوظ ہے۔

1875ء میں سلطنت تقریباً دیوالیہ ہو گئی۔ اس کی وجہ جہاں ایک جانب افواج کی جدید خطوط پر تربیت و تنظیم نو تھی وہیں اس میں سلطان کے شاہانہ و پرتعیش طرز زندگی اور عظیم تعمیراتی منصوبہ جات کا بھی ہاتھ تھا۔ علاوہ ازیں 1875ء میں بوسنیا و ہرزیگووینا اور 1875ء میں بلغاریہ میں بغاوتیں ہوئیں۔ اور 11 مئی 1876ء کو دار الخلافہ میں بغاوت کے نتیجے میں 29 اور 30 مئی 1876ء کی درمیانی شب سلطان کو استعفٰی دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ 4 جون کو ان کی لاش محل میں پائی گئی۔ ان کی موت کے حقیقی اسباب معلوم نہیں ہو سکے اور خود کشی یا قتل کو ان کے موت کا سبب سمجھا جاتا ہے۔

کارنامےترميم

عبد العزیز کا سب سے بڑا کارنامہ عثمانی بحریہ کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ 1875ء میں عثمانی بحریہ میں 21 بحری جنگی جہاز اور 173 دیگر جہاز شامل تھے اس لحاظ سے وہ برطانیہ اور فرانس کی بحری افواج کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی بحری فوج تھی۔

ان کے دور میں ہی پہلی مرتبہ بذریعہ ریل سلطنت کے مختلف شہروں میں رابطہ قائم کیا گیا اور اس مقصد کے لیے استنبول میں سرکیجی ریلوے اسٹیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جو آج بھی استنبول میں اسی آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔

ان کے دور میں استنبول میں آثار قدیمہ کا عجائب گھر قائم ہوا۔ ان کے عہد میں ہی 1863ء میں ترکی میں پہلی مرتبہ ڈاک ٹکٹیں شائع کی گئیں اور ترکی نے 1875ء میں یونیورسل پوسٹل یونین میں بانی رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔

حوالہ جاتترميم

  1. https://www.britannica.com/biography/Abdulaziz-Ottoman-sultan
  2. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/abd-ul-asis — بنام: Abd ül-Asis — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
عبد العزیز اول
پیدائش: 9 فروری 1830 وفات: 4 جون 1876
شاہی القاب
ماقبل 
عبد المجید اول
سلطان سلطنت عثمانیہ
25 جون 1861 – 30 مئی 1876
مابعد 
مراد خامس
مناصب سنت
ماقبل 
عبد المجید اول
خلیفہ
25 جون 1861 – 30 مئی 1876
مابعد 
مراد خامس

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب