مرکزی مینیو کھولیں
ودیاپتی
Statue of Maha Kavi Kokil Vidyapati.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1352  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدھوبانی، بھارت  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1448 (95–96 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جناکپردھم  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان میتھلی زبان، سنسکرت  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ودیاپتی (1350ء–1440ء) المعروف مہاکوی ودیاپتی، میتھلی گوکل ودیاپتی میتھلی اور سنسکرت شاعر، ادیب اور کئی زبانوں کے جان کار تھے۔[1]

ودیاپتی سنسکرت و میتھلی ادب تک ہی محدود نہ تھے ان کی دیگر مشرقی زبانوں میں بھی خدمات ہیں۔[1]

ابتدائی زندگیترميم

ان کی پیدائش ضلع دربھنگہ کے گاؤں بسفی (موجودہ ضلع مدھوبانی)[2] میں ہوئی۔[3] وہ ایک میتھل النسل گنپتی ٹھاکر کے بیٹے تھے۔ ودیاپتی کے اسم کا معنی عالم ہے۔

ان کی ٹھیک تاریخِ پیدائش میں تذبذب ہے کیونکہ ان کی اپنی تخلیقات میں موجود معلومات میں تضاد پایا گیا ہے۔[4] ان کے والد، تیرہٹ کے راجا رائے گنیشور کے دربار میں پروہت تھے، [4] ان کے اکثر بزرگ درباری تھے، جیسے ان کے پر دادا دیوآدتیہ ٹھاکر، بادشاہ ہری سنگھ دیو کے دربار میں جنگ و امن کے وزیر تھے۔ ودیاپتی نے بذات خود شمالی بہار کے مختلف راجاؤں کے دربار میں شاعر کے طور پر کام کیا۔[4] تاریخ سے معلوم ہے کہ ودیاپتی کی دو بیویاں، تین بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔

ادبی سفرترميم

ودیاپتی ہی ایک ایسے شاعر ہیں جن کو ہندی میتھلی و بنگالی ان تینوں زبانوں کے بولنے والے مساوی طور پر اپنا مانتے تھے، ساتھ ہی ان کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کی تصنیفات سنسکرت، پراکرت اور میتھلی زبانوں میں ملتی ہیں۔[4] ان کے کاموں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مغنی، وزیر، شاعر اور دھرم شاستری تھے۔ علم تاریخ کے عالم اور مضمون نگار و مقالہ نویس بھی تھے اور ان سب کاموں میں یکساں قابلیت رکھتے تھے۔

میتھلی میں بہت سے گیت اور منی منجری ناٹک لکھے ہیں جن میں عام طور پر سنسکرت، پراکرت اور میتھلی ان تینوں زبانوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ اسکے سوائے اس عظیم شاعر نے شری مد بھاگوت کا چربہ اتارا تھا۔ ادبیاتی نقطہ نظر سے "پرش پریکشا" بڑے معرکے کی تصنیف ہے جو اخلاقی تعلیم کے لیے لکھی گئی تھی۔ پنج تنتر اور ہت اپدیش کے مانند اس میں بہت سی کہانیاں ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ پرش پریکشا میں کہانیاں ذہنی، اخلاقی اور معاشرتی مختلف سطح کے انسانوں کی ہیں نہ کہ حیوانات کی۔ ودیاپتی کے مذہب کے متعلق لوگوں کے مختلف خیالات ہیں۔ کچھ لوگ اس کو وشنو کہتے ہیں تو چند اس کو شیو سمجھتے ہیں۔ اس مضمون پر بہت کچھ لکھا گیا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان میں فرقہ واری کٹرپن نہیں تھا۔ انہوں نے وشنو، شکتی، شیو، گنگا، گنیش وغیرہ کی عبادت کے متعلق نظمیں لکھی ہیں۔ اگر کہیں رادھا کرشن کی بھگتی کی بات ظاہر ہوتی ہے تو دوسری جگہ شیو بھگتی کا تذکرہ بھی بڑی قابلیت سے کیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان فرقہ واری جھگڑوں سے بند تر ایک کرم یوگی تھے۔ ودیاپتی کا شمار جدید ہندوستانی زبانوں میں بہت بڑے شاعروں میں کیا جاتا ہے۔ کئی ایک نقطہ نظر سے ان کی تصانیف اعلیٰ معیار کی سمجھی جاتی ہیں۔ ان کا مقابلہ راماین کے مصنف جئے دیو سے کیا جا سکتا ہے اگرچہ ان کی اپنی الگ خصوصیات موجود ہیں۔

ان کی سب سے زیادہ شہرت میتھلی میں لکھے ہوئے بھجنوں کے ذریعہ ہوئی ہے۔ یہ بھجن تعداد میں کتنے ہیں ان کا شمار اب تک نہیں ہو سکا ہے۔ ان کے بھجنوں کا مجموعہ جو آج تک شائع ہوا ہے ان کے متعلق یہ تصفیہ نہیں ہوا کہ ان ہی کے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قدیم ویشنو بھجنوں کے مجموعہ میں دوسرے شاعروں کے بھجن کو بھی ودیا پتی کے نام سے شائع کیا جا رہا ہے اور خود ان کی نظموں کے معنی مختلف طور پر لیے جا رہے ہیں۔ مشرق شمالی ہندوستان کے کئی شاعروں نے ودیاپتی کی نظموں سے خیالات اخذ کیے ہیں اور جدید زمانہ میں بھی ان کی میتھلی نظموں سے خیالات ادھار لیے جاتے ہیں۔

تصنیفاتترميم

پراکرت اور سنسکرت میں ان کی مشہور تخلیقات یہ ہیں:

سنسکرت

پرش پریکشا، درگابھگتی ترنگنی، شیودردسواسار، پری کرما، وبھارگ سار وغیرہ۔

پراکرت

منی منجری نالگا، کیرتی لتا، کیرتی پتاکا وغیرہ

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب Pankaj Jha (20 نومبر 2018)۔ A Political History of Literature: Vidyapati and the Fifteenth Century۔ OUP India۔ صفحہ 2۔ آئی ایس بی این 978-0-19-909535-3۔
  2. Birth place of Vidyapati نسخہ محفوظہ 18 August 2015 در وے بیک مشین
  3. Bisfi.in Website نسخہ محفوظہ 2 May 2014 در وے بیک مشین
  4. ^ ا ب پ ت Pankaj Jha (20 نومبر 2018)۔ A Political History of Literature: Vidyapati and the Fifteenth Century۔ OUP India۔ صفحہ 4-7۔ آئی ایس بی این 978-0-19-909535-3۔

کتابیاتترميم