مرکزی مینیو کھولیں

کیمیا

سائنس کی ایک بنیادی شاخ

کیمیا (chemistry) سائنس کی وہ شاخ جو مادے کی ترکیب(composition)، ساخت، خواص اور مادوں کے تعاملات (reactions) سے متعلق ہے۔ اس شعبہ علم میں خاص طور پر جوہروں کے مجموعات ؛ مثلا سالمات اور ان کے تعملات، قلموں (crystals) دھاتوں سے بحث کی جاتی ہے۔ کیمیا میں ان مذکورہ اشیاء کی ساخت اور پھر ان کی نئے مرکبات میں تبدیلیوں کا مطالعہ اور ان کے تفاعل (interaction) کے بارے میں تحقیق شامل ہے۔ اور جیسا کہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب مادے کا بڑے پیمانے (یعنی سالمات اور قلمیں وغیرہ کے پیمانے) پر مطالعہ کیا جائے گا تو جوہر یا ایٹم یعنی باریک پیمانے پر مادے کا مطالعہ بھی لازمی ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ کیمیا میں جوہروں کی ساخت اور ان کے آپس میں تعملات اور روابط کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔

فہرست

تعریفترميم

علم کیمیا وہ علم/سائنس ہے جو موجود مرکبات و عناصر کی ترکیب و تعامل کی تحقیق اور قدرتی و مصنوعی یا ترکیبی مرکبات کے امتزاج کا مطالعہ کرتا ہے۔[1]

سرخیاںترميم

 
ایک جوہر (ایٹم) کا مسانچ ،جو ردرفورڈ نے پیش کیا۔

پہلے زمانے میں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں تمام اشیاءایک از سو (1/100 گندم کے دانہ) کے برابر ایک چھوٹے سے ذرے سے بنے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ترقی کی اور یہ بات ثابت کی کہ دنیا کا سب چھوٹا ذرہ یوں ہوتا ہے کہ اس کے درمیان میں مرکزہ (نیوکلس) ہوتا ہے اور اس میں برقیہ،اولیہ اور تعدیلہ ہوتے ہیں جن میں اولیہ اور تعدیلہ مرکزہ (یعنی نیوکلس) میں ہوتے ہیں اور برقیہ جو منفی (نیگٹیو) چارج رکھتا ہے اس مرکزہ کے ارد گرد گھومتے ہیں یا چکر لگاتے ہیں۔؎

تاریخترميم

ابتدائی تہذیبوں، جیسے کہ بابلی، مصری وغیرہ دھات کاری اور ظروف سازی کے ماہر تھے۔ لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی باقاعدہ نظریہ نہ وضع کیا۔ ابتدائی کیمیائی مفروضہ، ارسطو نے چار عناصر کے نظریہ کی صورت میں پیش کیا جس کے مطابق ہر چيز پانی، ہوا، مٹی اور آگ کے اختلاط سے وجود میں آئی ہے۔ یونانی فلسفیوں کے مطابق ان چار عناصر کے مختلف تناسب سے ایک شے دوسری شے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ شروع میں کیمیا گری، دھاتوں اور عناصر کو سونے میں تبدیل کرنے اور دائمی زندگی کے لیے اکسیر حاصل کرنے جیسے جادوئی اور پراسرار نظریات تک محدود تھی۔

دوری جدولترميم

دوری جدول ایک ایسا جدول ہوتا جس میں تمام طر عطوم یا جوہرات کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس ٹیبل کو ایک خاص اصول کے تحت تشکیل دیا گیا ہے ۔

 

شا خیںترميم

کیمیا کی مندرجہ ذیل شا خیں ہیں:

نامیاتی کیمیاترميم

آرگینک کیمسٹری، کاربن اور ہائیڈروجن کے آب کاربن (hydrocarbons) اور ان سے ماخوذ مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

غیر نامیاتی کیمیاترميم

ان آرگینک کیمسٹری، غیر نامیاتی مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

طبیعی کیمیاترميم

فزیکل کیمسٹری مادے کی ترکیب اور طبیعی خواص کے درمیان تعلق اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ہے۔

تجزیاتی کیمیاترميم

کیمیائی نمونے کے اجزا کی علیحدگی، ان کا تجزیہ اور پہچان اینالیٹیکل کیمسٹری کہلاتا ہے۔

حیاتیاتی کیمیاترميم

کیمیا کی وہ شاخ جو جاندار اجسام میں پائے جانے والے کیمیائی مادوں کی ساخت، ترکیب اور ان کے کیمیائی عمل کے مطالعہ سے متعلق ہے بائیو کیمسٹری کہلاتی ہے۔

نیوکلیائی کیمیاترميم

نیوکلیئر کیمسٹری میں تابکاری، نوکلیائی عملیات اور نوکلیائی خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

صنعتی کیمیاترميم

کیمسٹری کی وہ شاخ جس میں تجارتی پیمانے پر مرکبات بنانے کے طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے، انڈسٹریل کیمسٹری کہلاتی ہے۔

ماحولیاتی کیمیاترميم

انوائرنمنٹل کیمسٹری، حیاتیاتی کیمیائی (biochemical) مظاہر جو قدرتی طور پر زمین پر رونما ہوتے ہیں کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم