ہاشمی شاہی سلسلہ (انگریزی: Hashemites) ((عربی: الهاشميون)‏) یا خاندان ہاشم (انگریزی: House of Hashim) اردن کا شاہی سلسلہ ہے۔ یہ خاندان مملکت سوریہ (1920ء)، مملکت حجاز (1916ء–1925ء) اور مملکت عراق (1921ء–1958ء) کا بھی شاہی خاندان تھا۔

خاندان ہاشم
House of Hashim
الهاشميون
Hashemites
Coat of Arms of Jordan.svg
Coat of arms of Jordan
ملکمملکت حجاز (موجودہ دور میں سعودی عرب)، مملکت سوریہ، مملکت عراق، اردن
ابتداعرب
اصل گھراناDhawu Awn, a branch of بنو قتادہ، of Banu Hasan، of بنو ہاشم، قریش
قیام
  • 1916 حجاز میں
  • 1920 شام میں
  • 1921 عراق اور اردن میں
بانیحسین ابن علی (شریف مکہ)
آخری حکمران
تخت یا سے معزولی
موجودہ سربراہ
خطاب

شجرہ نسبترميم

ماخذ:[1][2]

پاک و ہند میں ہاشمیترميم

ہاشمی حضرت ہاشمؑ کی اولاد سے ہیں جو رسول کریم ص کے پڑدادا تھے ۔ پاک و ہند میں ہاشمی موجود ہیں جن میں فاطمی (جن کو سید کہا جاتا ہے ) غیر فاطمی علوی ، عقیلی ، جعفری (اولاد جعفر طیار) حارثی اور عباسی وغیرہ لیکن پاک و ہند میں اکثر ناموں کے ساتھ ہاشمی لکھنے والے کذاب ہیں یا پھر حقیقت سے لا علم ہیں ۔۔۔ ایک سروے کے مطابق پاک و ہند میں زیادہ تر ہاشمی لکھنے والے حضرت بہائوالدین زکریا ملتانی رح کی اولاد ہیں جو خود ہاشمی نہیں قریشی تھے ۔

شیخ الاسلام حضرت شیخ بہائوالدین زکریا ملتانی الاسدی القریشی ایک بلند پایہ عالم و عارف تھے ۔آپ کے اجداد مکہ مکرمہ سے چلے اور خوارزم سے ہوتے ہوئے ہند پہنچے ۔ آپ کی قدیم خاندانی روایت کے مطابق آپ قریشی الاسدی تھے۔ آپ کا شجرہ نسب صحابی رسول ص حضرت ھبار ؓ بن اسود سے ملتا ہے جو حضرت خدیجہ رض کے چچا مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصیٰ کے پوتے تھے ۔ اور اسی نسبت سے اس خاندان کو قریشی الاسدی کہا جاتا ہے ۔ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رح آپ کے ہمعصر اور مقرب خاص تھے ۔انہوں نے بھی آپ کو قریشی الاسدی ہی کہا اور آپ کے فرزند شیخ صدرالدین عارف کی قلمی بیاض کے حوالہ سے آپ کا شجرہ نسب اپنے ملفوظات میں اس طرح بیان فرمایا ۔ "حضرت شیخ الاسلام شیخ بہائوالدین زکریا بہاءالحق بن شیخ محمد غوث بن شیخ جلال الدین بن شیخ علی قاضی بن شمس الدین بن عبداللہ بن حسین بن المطرف بن خزیمہ محمد بن حازم بن محمد بن المطرف بن عبدالرحیم بن عبدالرحمن بن ھبار بن اسود بن عبدالمطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی ٰ " از خلاصة العارفین ص 5

اسی طرح تاریخ فرشتہ کے مولف نے شیخ عین الدین بیجاپوری رح کی کتاب تزکرہ اولیائے ہند کے حوالہ سے فرمایا ۔ " شیخ بہائوالدین زکریا از اولاد مہیار (ھبار ) بن اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصیٰ است و ھبار اسلام آوردہ بود ۔ برادران او و زمعہ ،عمرو و عقیل با حالت کفر در جنگ بدر بقتل رسیدند ۔و سودہ کہ در زمان پیغمبر ص بود و دختر زمعہ است " (شیخ بہائوالدین زکریا مہیار (ھبار) بن اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ کی اولاد سے تھے ۔ جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا مگر ان کے بھائی زمعہ ، عمرو اور عقیل کفر کی حالت میں جنگ بدر میں قتل ہو گئے تھے ۔اور سودہ رض جو پیغمبر ص کے زمانہ میں تھی وہ زمعہ کی بیٹی تھی )

ان کی اولاد اسی نسب پر فخر کرتی رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بھی تبدیلی آنا شروع ہو گئ ۔ ان میں سے بعض نے دنیاوی عزت و شہرت کی خاطر اپنے آپ کو ہاشمی اسدی لکھنا شروع کر دیا ۔اور ایک شجرہ بھی گھڑ لیا گیا ۔جو اسد بن ہاشم سے ملتا ہے ۔ جناب اسد حضرت علی ؑ  کے نانا تھے۔ لیکن یہی شجرہ ان کے کذاب ہونے کی گواہی بن گیا ۔ وہ اس لیے کہ حضرت اسد بن ہاشم کی نسل نہ چلنے پر تمام نسابین کا اتفاق ہے ۔  جیسا کہ ابن قتبیہ نے المعارف میں لکھا              لیس فی الارض ھاشمی الا من ولد عبد المطلب   یعنی روئے زمین پر اولاد عبدالمطلب کے علاوہ کوئ ھاشمی نہی ۔ اور ابن حزم جمھرة الانساب العرب صفحہ 7 پر فرماتے ہیں ۔   فولد ہاشم بن عبدمناف  شیبة وھو عبدالمطلب وفیہ المعمور والشرف ولم یبق لھاشم عقب الامن عبدالمطلب فقط ۔۔  اور فرمایا  وکان لھاشم ایضاً  من الولد نضلة ، و ابو صیفی ، و اسد بنوھاشم بن عبد مناف انقرضت اعقابھم ۔ (نضلہ ،ابوصیفی اور اسد پسران ھاشم بن عبد مناف کی نسل ختم ہو گئی )  افسوس  ہے جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ھاشمی لکھنا شروع کیا تھا آج ان میں سے اکثر  ناموں کے ساتھ سید بھی لکھ رہے ہیں ۔ اور بعض نے تو ہاشمی قریشی والی نسبت بھی ترک کر کے کھلم کھلا  گیلانی اور بخاری لکھنا شروع کر دیا ہے ۔ اللہ ان کو ہدایت دے 

[3]

مزید دیکھیںترميم

ہاشم بن عبد مناف
(eponymous ancestor)
عبد المطلب
ابو طالب بن عبد المطلبعبد اللہ بن عبد المطلب
محمد بن عبد اللہ
(اسلام میں انبیاء اور رسول)
علی بن ابی طالب
(1st Imam)
فاطمہ زہرا
حسن ابن علی
(2nd Imam)
Hasan Al-Mu'thanna
Abdullah
Musa Al-Djawn
Abdullah
Musa
Muhammad
Abdullah
Ali
Suleiman
Hussein
Issa
Abd Al-Karim
Muta'in
Idris
Qatada
(شریف مکہ)
Ali
Hassan
(شریف مکہ)
Abu Numayy I
(شریف مکہ)
Rumaythah
(شریف مکہ)
'Ajlan
(شریف مکہ)
Hassan
(شریف مکہ)
Barakat I
(شریف مکہ)
Muhammad
(شریف مکہ)
Barakat II
(شریف مکہ)
Abu Numayy II
(شریف مکہ)
Hassan
(شریف مکہ)
Abdullah
(شریف مکہ)
Hussein
Abdullah
Muhsin
Auon, Ra'i Al-Hadala
Abdul Mu'een
Muhammad
(شریف مکہ)
Ali
  حسین ابن علی (شریف مکہ)
(شریف مکہ مملکت حجاز)
  علی بن حسین حجازی
(مملکت حجاز)
  عبداللہ اول بن حسین
(فہرست شاہان اردن)
  فیصل بن حسین
(مملکت سوریہ مملکت عراق)
Zeid
(pretender to Iraq)
عبد الالہ بن علی
(مملکت عراق)
  طلال بن عبداللہ
(فہرست شاہان اردن)
  غازی بن فیصل
(مملکت عراق)
Ra'ad
(pretender to Iraq)
  شاہ حسین بن طلال
(فہرست شاہان اردن)
  فیصل دوم
(مملکت عراق)
Zeid
  عبد اللہ دوم
(فہرست شاہان اردن)
حسین بن عبد اللہ دوم
(Crown Prince of Jordan)

حوالہ جاتترميم

  1. Kamal Salibi (15 December 1998). The Modern History of Jordan. I. B. Tauris. اخذ شدہ بتاریخ 07 فروری 2018. 
  2. "Hashemite Ancestry". alhussein.gov. 1 January 2014. اخذ شدہ بتاریخ 08 فروری 2018. 
  3. _________ سید محسن رضا کاظمی الحمیدی سیدانوالہ ضلع جہلم