مرکزی مینیو کھولیں
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت زیر نظر مضمون شاہی سلسلہ کے بارے میں ہے۔ برطانوی راج کی نوابی ریاست کے لیے ریاست اندور دیکھیے۔

ہولکر شاہی سلسلہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والا ہندو مرہٹوں کا ایک شاہی خانوادہ تھا۔[1][2][3] ہولکروں نے وسطی ہندوستان کی ریاست اندور پر سنہ 1818ء تک مرہٹہ راجا اور پھر مہاراجا کے خطاب کے ساتھ مرہٹہ سلطنت کے خود مختار رکن کی حیثیت سے حکمرانی کی۔ بعد ازاں ان کی مملکت برطانوی ہند کی زیر نگین ایک نوابی ریاست بن گئی۔

مہاراجا اندور اندور
سابقہ بادشاہت
Holkar Maharaja of Indore.jpg
ریاست اندور کا نشان
Indore Rajwada.jpg
راج واڑہ، ہولکر خاندان کا شاہی محل، اندور۔
اولین بادشاہ/ملکہ Malhar Rao Holkar I
آخری بادشاہ/ملکہ Yashwantrao Holkar II
سرکاری رہائش گاہ راج واڑہ، اندور
بادشاہت کا آغاز 2 نومبر 1731
بادشاہت کا آختتام 26 جون 1948

اس شاہی سلسلے کے بانی ملہار راؤ ہولکر تھے جو سنہ 1721ء میں مرہٹہ سلطنت کے پیشواؤں کی خدمت میں پہنچے اور جلد ہی صوبہ دار کے منصب پر فائز ہو گئے۔ اس شاہی سلسلے کا نام اس کے بانی کے نام پر رکھا گیا، اس کے حکمرانوں کو عموماً ہولکر مہاراجا کہا جاتا تھا۔

تاریخترميم

ہولکروں کا دعویٰ ہے کہ وہ میواڑ کے مہارانا کے خانوادہ شاہی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے علامتی نشان میں سورج کی موجودگی ان کے سوریہ ونش کی نسل سے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔[4]

پیشوا باجی راؤ کی خدمت میں حاضر باش مرہٹہ سردار ملہار راؤ ہولکر (1694ء – 1766ء) نے اندور میں اس شاہی سلسلہ کی بنیاد رکھی۔ 1720ء کی دہائی ميں وہ مالوہ کے علاقے میں مرہٹہ افواج کے سالار تھے، سنہ 1733ء میں پیشوا نے انہیں اندور کے مضافات میں نو پرگنہ زمین بخشی۔ اس وقت کمپیل کے نندلال منڈلوئی کا قائم کردہ اندور موجود تھا۔ سنہ 1734ء میں ملہار راؤ نے ملہار گنج کے نام سے ایک پڑاؤ بنایا۔ سنہ 1747ء میں انہوں نے اپنے شاہی محل رجواڑہ کی تعمیر شروع کی۔ اپنی وفات تک انہوں نے مالوہ کے بڑے حصے پر حکمرانی کی، ان کا شمار مرہٹہ اتحاد کے پانچ خود مختار حکمرانوں میں ہوتا تھا۔

ملہار راؤ کے بعد ان کی بہو اہلیابائی ہولکر (1767ء – 1795ء) ان کی جانشین ہوئیں۔ وہ مہاراشٹر کے ایک گاؤں چونڈی میں پیدا ہوئی تھی۔ اہلیابائی نے اپنی سلطنت کا پایہ تخت اندور کے جنوب میں نرمدا ندی کے کنارے واقع مہیشور میں منتقل کر لیا تھا۔ رانی اہلیابائی مہیشور اور اندور میں ہندو مندروں کی تعمیر کے لیے مشہور تھیں۔ نیز اپنے حدود سلطنت سے باہر گجرات کے دوارکا سے لے کر گنگا کے کنارے واقع وارانسی میں کاشی وشوناتھ مندر تعمیر کی۔

رانی اہلیابائی کے بعد ان کا لے پالک بیٹا تکوجی راؤ ہولکر تخت نشین ہوا۔ تکوجی راؤ اہلیابائی کے عہد حکومت میں کماندار رہا تھا۔

حواشیترميم

  1. John Stewart Bowman ed. Columbia Chronologies of Asian History and Culture.
  2. A.R. Kulkarni, Studies in history of the Deccan.
  3. Dale Hoiberg؛ Indu Ramchandani (1 جنوری 2000)۔ Students' Britannica India: I to M (Iblis to Mira Bai)۔ Encyclopaedia Britannica (India)۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ 2017۔
  4. P. K. Sethi؛ S. K. Bhatt؛ R. Holkar۔ A Study of Holkar State Coinage۔ Indore: Bhatt۔ صفحات cxiv–cxvi۔

حوالہ جاتترميم

  • Sethi, P.K., S.K. Bhatt and R. Holkar (1976). A Study of Holkar State Coinage, Indore: The Academy of Indian Numismatics and Sigillography.
  • Somerset Playne (compiler), R. V. Solomon, J. W. Bond, Arnold Wright (1922). Indian States: A Biographical, Historical, and Administrative Survey, London: Foreign and Colonial Compiling and Publishing Co., 1922 (also Asian Educational Services, 2006, ISBN 81-206-1965-X, 9788120619654, 835 pages

بیرونی روابطترميم