مرکزی مینیو کھولیں
1983 CPA 5426 (1).png
مسلم سائنس


تعارف

KAMIL-ALSINAAH.PNG

مسلم سائنس سے مراد اس دنیاوی علم (یعنی سائنس) کی ہے جو محمد (ص) کو انسانیت کیلیۓ دیے گئے خالق کے آخری پیغام قرآن ، کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے وجود میں آنے والی تہذیب میں نمودار ہوا اور پروان چڑھا۔ سائنس کا مسلم دنیا میں یہ سفر فی الحقیقت نزول قرآن سے ہی شروع ہو جاتا ہے اور دنیا کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہوئے کوئی آٹھ سو سال کے عرصے پر محیط رہنے کے بعد 15 ہویں صدی کے میان سے اپنے انحطاط کی جانب گامزن ہو جاتا ہے۔ قبل و بعد از نزول قرآن کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاۓ تو قرآن ، جو متعدد بار کائنات کے مظاہر پر غور و خوص کی دعوت دیتا ہے دراصل وہ منبع ثابت ہوتا ہے جس نے مسلم تہذیب کے اذہان کو مشاہدے اور تفکر کی جانب راغب کیا، یہ تفکر ابتداء میں تو مذہبی غلبے کے تحت جاری ہوا اور آٹھویں صدی کی ابتداء ہوتے ہوتے خالص سائنسی انداز اختیار کر گیا۔


منتخب مضمون

طلیطلہ (Toledo) میں ابراھیم ابن سعید الساحلی (1067؟) کا بنایا ہوا ایک اسطرلاب جو اندلس کے ایک عجائب گھر میں موجود ہے۔

اسلامی عہد زریں سے مراد تاریخ (اور بطور خاص مغربی مصنفین کی کتب) میں اس عہد یا زمانے کی لی جاتی ہے جو آٹھویں صدی تا تیرہویں صدی عیسوی تک محیط ہے، جبکہ بعض مورخین وتاریخی ذرائع اسے بندھرویں اور سولہویں صدی تک قائم رکھتے ہیں۔ اسلامی دور عروج یا اسلام کے عہد زریں کو بعض اوقات (بطور خاص مغربی مصنفین کی اصطلاح میں) اسلامی نشاۃ ثانیہ یعنی Islamic renaissance کے نام سے جانا جاتا ہے ؛ اردو میں اسکے ليے ایک اور لفظ عصرِ نہضہ یا عصرالنھضہ بھی اختیار کیا جاتا ہے جو نشاۃ ثانیہ کی نسبت زیادہ بہتر ہے کیونکہ نشاۃ ثانیہ کو النھضہ بھی کہا جاتا ہے جبکہ انگریزی میں اسکے ليے renaissance کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ النھضہ کا لفظ نھض سے ماخوذ ہے اور اسکے معنی قیام کرنا (یعنی اٹھ کھڑا ہونا) ، بیدار ہونا ، ابھرنا وغیرہ کے ہوتے ہیں جو کہ انگریزی کلمہ renaissance میں پاۓ جاتے ہیں۔ فی الحقیقت انگریزی میں یہ لفظ دو الفاظ سے بنا ہے re بمعنی دوبارہ اور nasci بمعنی پیداہونے کے۔ اردو میں استعمال کیا جانے والا لفظ نشاۃ ثانیہ بھی گویا عربی زبان سے ہی آیا ہے مگر اسکے ساتھ ثانی کا لفظ آنے کی وجہ سے بعض اوقات انگریزی زبان سے تراجم اور مغرب میں مروج اصطلاحات کے متبادل کی صورت میں مبالغہ آمیز ہو سکتا ہے ؛ مثال کے طور پر Islamic renaissance مغربی مصنفین کے کتب میں آنے والا ایک ایسا لفظ ہے کہ جسکو نشاۃ ثانیہ بھی کہنا اور ساتھ ساتھ اسلام کا ابتدائی زمانہ بھی کہنا ہوسکتا ہے کہ مذہب اسلام کے بنیادی تصور پر تو درست ہو مگر ایک تاریخی زمانے کے تصور میں مبہم ہو جاتا ہے۔ بعد اس تمہید یا انتباہ کے رقم یہ ہے کہ چونکہ نشاۃ ثانیہ کا لفظ ہی اردو میں زیادہ مستعمل ہے لہذا اس مضمون میں Islamic renaissance کی اصطلاح کے متبادل نھضۃ السلام اور یا اسلامی عصرنہضہ کے ساتھ ساتھ اسلامی نشاۃ ثانیہ بھی کو بھی اسی مفہوم میں درج کیا گیا ہے۔

منتخب تصویر

Alhazen, the Persian.gif

ابو علی حسن بن حسن ابن الہیثم (پیدائش: 965 ء، وفات: 1039 ء) عراق کے تاریخی شہر بصرہ میں پیدا ہوا۔ وہ طبعیات ، ریاضی ، انجنئرنگ ،فلکیات اورادویات کے مایہ ناز محقق تھے۔ 996ء میں وہ فاطمی خلافت مصر کے دربار سے منسلک ہو گیا۔ اس نے دریائے نیل پر اسوان کے قریب تین طرف بند باندھ کر پانی کا ذخیرہ کرنے کی تجویز پیش کی لیکن ناکافی وسائل کی وجہ سے اسے ترک کرنا پڑا۔ اب اسی جگہ مصر کا سب سے بڑا ڈیم یعنی اسوان ڈیم قائم ہے۔


مزید دیکھیے۔۔۔

فہرست مقالات

زمرہ جات

منتخب اقتباس

سہ ابعادی مکعب کا ایک چارابعادی اظہارِ مضاہی۔ ریاضی سائنس کے انتہائی پیچیدہ تصورات کو مختصر اور جامع انداز میں واضع کرنے کا اھم زریعہ ہے۔

سائنس اور ریاضی (mathematics) آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور سائنس کا کوئی شعبہ ایسا نہیں (خواہ اسکا تعلق طبیعیات سے ہو یا علم کیمیاء سے ، حیاتیات سے ہو یا وراثیات سے) جو ریاضی کی مدد کے بغیر چل سکتا ہو۔ جیسا کہ تعارف کے بیان میں ذکر آیا کہ عام طور پر ریاضی کو سائنس کے جس گروہ میں شامل کیا جاتا ہے اسے تشکیلی علوم کہتے ہیں، یہاں یہ بات بھی اھم ہے کہ بعض زرائع ریاضی کو بنیادی یا خالص سائنس میں بھی شمار کرتے ہیں ۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ۔۔۔

  • جس طرح ایک طبیب ایک سائنسدان بھی ہوسکتا ہے بالکل اسی طرح ایک ریاضی داں ، بجا طور پر ایک سائنسدان ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ ان تمام تر اسلوب سائنس کی پیروی کر رہا ہوتا ہے جن کی مدد سے ہی سائنسی نمونے ، تجربی نمونے ، مفروضے اور سائنسی پیشگوئیاں ممکن ہوتی ہیں۔

ویکی منصوبے

آپ اردو ویکیپیڈیا کے منصوبہ مسلم سائنس میں شرکت کرسکتے ہیں۔ جن میں مقالات کی ترتیب، تخلیق، ترمیم اور تحسین شامل ہیں۔ نیز مسلم سائنسدانوں پر جامع مواد کی فراہمی اور ان کی کتب پر جامع تبصرے اور موجودہ دور میں ان کی اہمیت وغیرہ منصوبے زیرغور ہیں۔