علم الکائنات میں بگ بینگ (Big Bang) اس کائنات کی پیدائش کے بارے میں پیش کیا جانے والا ایک علمی نظریہ ہے اور کائنات کے آغاز کے لمحے سے متعلق ہے۔ بگ بینگ کا واقعہ آج کے دور سے تقریباً13 ارب 70 کروڑ سال قبل ظہور پزیر ہوا تھا۔ یعنی زمین کی تشکیل بگ بینگ کے تقریباً ساڑھے نو ارب سال بعد ہوئی۔ بگ بینگ دھماکا نہیں تھا۔ بگ بینگ کے وقت کوئی آواز پیدا نہیں ہوئی کیونکہ آواز صرف مادی اشیا میں پی پیدا ہو سکتی ہے۔ بگ بینگ کے وقت مادہ موجود نہیں تھا- مادہ بگ بینگ کے بعد وجود میں آیا۔ بگ بینگ کا یہ نظریہ، قانونِ ہبل کے تحت دور بعید کہکشاؤں کے سرخ تغییر (Red Shift) سے وابستہ ہے۔ جب اس سرخ تغییر کو اصول کائنات (Cosmological Principle) کے ساتھ دیکھا اور پرکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ فضاء یا خلاء، عمومی اضافیت کے فریڈ مان ماڈل کے تحت وسیع ہو رہی ہے یا پھیل رہی ہے۔

کائنات کا خط زمانی جس میں بگ بینگ کے بعد تشکیل کائنات کو دکھایا گیا ہے۔

از روئے قرائن اگر گمان و قیاس کے گھوڑوں کو علمی حساب کتاب کے ساتھ ماضی کی جانب دوڑایا جائے تو ابتک کی معلومات کے مطابق یہ مشاہدے میں آتا ہے کہ یہ کائنات ایک ایسے مقام سے پھیلنا شروع ہوئی ہے کہ جب اس کا تمام کا تمام مادہ اور توانائی ایک انتہائی کثیف اور گرم مقام پر مرکوز تھا۔ مگر اس کثیف اور گرم نقطے سے پہلے کیا تھا؟ اس پر تمام طبیعیات دان متفق نہیں ہیں، اگرچہ یہ ہے کہ عمومی اضافیت، کشش ثقل کی وحدانیت کی پیشگوئی کرتی ہے (دیکھیے شکل)۔ (اس بحث پر انتہائی چیدہ اور اہم تفکرات کو جاننے کے لیے تولد کائنات (Cosmogony) دیکھیے)

بگ بینگ کی اصطلاح؛ وقت کے اس نقطہ کے حوالے سے کہ جب کائنات کے قابل مشاہدہ پھیلاؤ کی ابتدا ہوئی ---- (109 × 13.7) سال قبل (%0.2 ±) ---- (Hubble's Law / ہبل کا قانون) سے لے کر مرکزی تالیف (Nucleosynthesis) کے ذریعے ابدی مادے (Primordial Matter) کی نوعیت کی تشریح تک کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

بگ بینگ کے فوراً بعد کیا ہوا تھا؟

ترمیم
بگ بینگ کے بعد کے ادوار [1]
پلانک کا دور (Planck Epoch)
عظیم وحدت کا دور (Grand Unification Epoch)
افراط کا دور (Inflationary Epoch)
برقی کمزور دور (Electro-weak Epoch)
ابتدائی زمانہ (The Primordial Era)
کوارک کا دور (Quark Epoch)
ثقیلے کا دور (Hadron Epoch)
نحیفے کا دور (Lepton Epoch)
جوہری مرکزے بننے کا دور (Big Bang Nucleosynthesis)
نوریے کا دور (Photon Epoch)
جوہر بننے کا دور (Recombination)
ستارے بننے کا دور (Stelliferous Era)
  • 13 ارب 70 کروڑ سال پہلے بگ بینگ ہوا تھا۔ اس وقت درجہ حرارت اپنی انتہا پر تھا۔
  • اس کے 10E-43 (یعنی اعشاریہ کے بعد 42 صفر اور پھر ایک) ثانیے (seconds) بعد طبیعیات کے قوانین واضح ہونے لگے اور کشش ثقل (Gravity) وجود میں آئی۔
  • بگ بینگ کے 10E-35 (یعنی اعشاریہ کے بعد 34 صفر اور پھر ایک) ثانیے بعد کائنات ایک فٹ بال کے برابر تھی۔ طاقتور نیوکلیائی قوت وجود میں آ چکی تھی۔ کوارک، برقیے (electrons) اور ان کے ضد ذرے بننے لگے تھے۔ اس وقت درجہ حرارت گر کر 10E27 K (یعنی ایک کے بعد 27 صفر) یا ایک ارب ارب ارب ڈگری سینٹی گریڈ ہو چکا تھا۔
  • بگ بینگ کے بعد جب ایک ثانیہ کا دس لاکھواں حصہ گذر گیا تو کوارک آپس میں جڑ کر تعدیلے (neutrons)، اولیے (protons) اور ضد ذرے بنانے لگے۔ اگرچہ ذرے اور ضد ذرے ایک دوسرے کو فنا کرتے رہے لیکن ذروں کی تعداد حاوی ہو گئی۔ اس وقت تک کائنات پھیل کر ہمارے نظام شمسی کے برابر ہو چکی تھی اور درجہ حرارت گر کر دس ہزار ارب ڈگری سینٹی گریڈ ہو چکا تھا۔
  • بگ بینگ کے ایک ثانیہ بعد برق مقناطیسی اور کمزور نیوکلیائی قوت واضح ہونے لگیں اور درجہ حرارت گر کر دس ارب ڈگری سینٹی گریڈ رہ گیا۔
  • تین دقیقے (minutes) بعد تعدیلے (neutrons) اور اولیے (protons) باہم جڑ کر جوہری مرکزے (Nucleus) بنانے لگے جس سے دومصر (deuterium) اور شمصر (helium) کے مرکزے وجود میں آئے اور آزاد تعدیلہ (neutron) ختم ہو گئے۔ اب درجہ حرارت گر کر ایک ارب ڈگری سینٹی گریڈ رہ گیا تھا۔
  • سات لاکھ سال بعد ایٹمی مرکزے اس قابل ہوئے کہ برقیے (electrons) سے مل کر جوہر بنا سکیں۔ جوہر بننے سے نوریے (photons) خارج ہوئے اور کائنات پہلی دفعہ شفاف ہو گئی۔ اب درجہ حرارت 3000 ڈگری کیلون ہو چکا تھا۔[2]
  • ابتدا میں بننے والے ستاروں میں لوہا یا دوسرے بھاری عناصر بالکل موجود نہیں تھے۔
  • ایک ارب سال بعد کہکشائیں (Galaxies) بننے لگیں۔ صرف ہماری کہکشاں میں 200 ارب ستارے ہیں اور ہمارے نزدیک ترین پڑوسی کہکشاں دس لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔
  • اب ستاروں کی درمیانی جگہ کا درجہ حرارت گر کر منفی 270 ڈگری سینٹی گریڈ ہو چکا ہے یعنی صرف 3 ڈگری کیلون۔ کہکشایئں بن چکی ہیں، ستاروں کی کئی نسلیں گذر چکی ہیں۔ لوہے اور نکل سے بھی زیادہ بھاری جوہری مرکزے وجود میں آ چکے ہیں۔ زندگی کی ابتدا ہو چکی ہے۔
  • ہمارا نظام شمسی لگ بھگ ساڑھے چار ارب سال پہلے وجود میں آیا تھا۔ ہماری زمین کی بھی عمر اتنی ہی ہے۔[3]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم