جون آف آرک (انگریزی: Joan of Arc، فرانسیسی: Jeanne d'Arc، تلفظ: ژان ڈار) کو جنگ صد سالہ کے لنکاسٹری مرحلے کے دوران میں اہم کردار ادا کرنے کی بنا پر فرانس کی عظیم خاتون سمجھا جاتا ہے۔ جون آف آرک رومن کاتھولک فرقے کی بزرگ تھیں۔ فرانس کے ایک گاؤں ڈومرمی میں ایک کاشتکار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جنگ صد سالہ کے اواخر میں انھیں مقرب فرشتہ، میکائیل، مارگریٹ اور کیتھرین اسکندری نے الہام کے ذریعہ شارل ہفتم کی مدد کرنے اور فرانس کو انگریزوں کے قبضہ سے چھڑانے کی ہدایت دی۔ شارل ہفتم نے انھیں امدادی مشن پر محاصرہ اورلیان بھیجا تھا، ان کے وہاں پہنچنے کے محض نو دن بعد یہ محاصرہ ختم ہو گیا۔ نیز جون کی سربراہی میں فرانسیسیوں کو مزید فتوحات نصیب ہوئیں جن کے نتیجے میں بالآخر فرانس کی دیرینہ رسم یعنی رمس کے مقام پر شارل ہفتم کی تاج پوشی ہوئی۔ اس تقریب نے فرانسیسیوں کی ہمتوں کو بلند کر دیا اور بالآخر انھیں فتح نصیب ہوئی۔ جون نے چونکہ انگریزوں کے خلاف اور فرانس کے حق میں جدوجہد کو "خدائی فریضہ" قرار دیا تھا اس لیے اس کو مقدس ہستی سمجھا جاتا ہے۔ مسیحی دنیا پہلے انھیں جادوگرنی سمجھتی تھی لیکن بعد میں انھیں "مقدسہ" (مسیحی ولیہ) قرار دے دیا۔

مقدسہ جون
تصویرچہ (پندرہویں صدی)[1]
کنواری اور شہید
پیدائش6 جنوری 1412ء[2]
ڈومری، ڈچی آف بار، ریاست فرانس[3]
وفات30 مئی 1431ء (عمر 19 سال)
روان، نورمینڈی
( انگریزی حکومت)
سعادت ابدی18 اپرایل 1909ء, نوٹر ڈیم ڈے پیرس بدست پائیس نہم
قداست16 مئی 1920ء, پطرس باسلیکا، روم بدست بینیڈکٹ پانزدہم
تہوار30 مئی
منسوب خصوصیاتزِرَّہ بَکتَر، جھنڈا، تلوار
سرپرستیفرانس؛ شہداء؛ اسیر؛ فوجی اہلکار؛ وغیرہ

اس فتح کے بعد فرانسیسی حکومت نے پیسوں کے عوض جون پر "نافرمانی اور بدعت" کا الزام لگا کر انھیں انگریزوں کے سپرد کر دیا۔ 30 مئی 1431ء کا دن تھا۔ "رواں" بازار میں ہر طرف لوگ ہی لوگ نظر آ رہے تھے۔ لمبے لمبے لبادوں اور اونچی ٹوپیوں والے نقاب پہنے ہوئے۔ "انکوزیشن" کے جلاد ایک 19 برس کی لڑکی کو گھسیٹتے ہوئے لے کر آ رہے تھے۔ لڑکی کو انھوں نے بازار کے وسط میں موجود ٹکٹکی سے باندھ دیا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک پادری اونچے چبوترے پر کھڑا ہوا اور بلند آواز میں چلایا: "لڑکی جادوگرنی ہے، اسی لیے اس کی روح کو بچانے کے لیے اسے جلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔" لوگ حیران رہ گئے۔ جس لڑکی کو کل تک وہ الوہیت کے مقام پر فائز سمجھتے تھے، آج جادوگرنی بن گئی تھی۔ ٹکٹکی کے اردگرد لکڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ آگ آہستہ آہستہ لڑکی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس نے اپنا منہ آسمان کی طرف کر لیا اور کہنے لگی: "میرا کام مکمل ہو گیا، شکریہ اے خدا۔" اور آگ کے بھیانک شعلوں نے اسے بے رحمی سے نگل لیا۔

جون کی اس سزائے موت کے پندرہ برس بعد سنہ 1456ء میں پوپ کالسٹس سوم نے اس مقدمے کی جانچ کی اجازت دی، جانچ کے بعد عدالت نے انھیں بے قصور تسلیم کیا اور ان پر عائد کردہ تمام الزامات سے انھیں بری اور شہید قرار دیا۔ سولہویں صدی عیسوی میں وہ کاتھولک اتحاد کی علامت بن گئیں اور سنہ 1803ء میں نپولین کے ایک فیصلہ میں جون کو فرانس کی قومی علامت قرار دیا گیا۔ 1909ء میں انھیں سعادت ابدی اور 1920ء قداست سے سرفراز کیا گیا۔ جان فرانس کے نو سرپرست مسیحی مقدسین میں سے ایک ہیں۔

جان کی موت کے بعد ہی سے ان کی شخصیت ادب، نقاشی، خاکہ نگاری اور دیگر ثقافتی فنون میں خاصی مقبول رہی اور بہت سے مشہور مصنفین، فلم سازوں اور نغمہ نگاروں نے ان کی ذات اور شخصیت کو اپنی تخلیق کا موضوع بنایا۔ ان کی یہ مقبولیت آج بھی برقرار ہے اور وہ فلموں، تھیٹر، ٹیلی ویژن، ویڈیو کھیل، موسیقی وغیرہ میں آج بھی زندہ ہیں۔

حالات زندگی

ترمیم

1412ء میں فرانس کے ایک گاؤں ڈومرمی (Domremy) میں ایک کسان کے گھر ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ کسان نہایت اکھڑ اور بد مزاج آدمی تھا۔ وہ بیٹی کی پیدائش پر سخت غصے میں تھا۔ اسے تو بیٹا چاہیے تھا جو بڑا ہو کر کھیتوں میں اس کا ہاتھ بٹاتا۔ اس نے پہلی مرتبہ انتہائی غصے اور ناپسندیدگی سے بچی کی طرف دیکھا تو اس کے تنے ہوئے چہرے پر واضح تبدیلی آگئی۔ بچی کی آنکھوں میں اسے عجیب سی چمک نظر آئی۔ پہلے تو اس کا خیال تھا کہ وہ اس منحوس کا گلا دبا دے لیکن پھر نہ جانے اسے کیا ہوا کہ اس نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ یہی بچی بڑی ہو کر جون آف آرک کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔ اس نے فرانس کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا اور فرانسیسیوں میں آزادی کی روح پیدا کی۔

"جون آف آرک" اگرچہ تعلیم حاصل نہ کر سکی لیکن وہ بڑی حساس اور نیک لڑکی تھی۔ وہ اپنے مذہب پر گہرا یقین رکھتی تھی۔ اس کی والدہ نے اس کے اندر وہ ساری خوبیاں پیدا کر دی تھیں جو اس وقت ایک سچی مسیحی ماں کا فرض سمجھا جاتا تھا۔

انگریزوں کا ستم

ترمیم

یہ وہ زمانہ تھا جب فرانس پر انگریز اپنا قبضہ مضبوط کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ فرانس کا شاہی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ چنانچہ جب انگریزوں نے بچے کھچے فرانس پر حملہ کیا اور فرانسیسیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے تو جان نے دعوی کیا کہ اسے غیب سے آوازیں آئی ہیں کہ اپنے ہم وطنوں کو انگریزوں کے ظلم و ستم سے بچاؤ اور فرانسیسی بادشاہ ڈوفن (Dauphin) کے ہاتھ مضبوط کرو۔

ڈوفن فرانس کے بادشاہ ویلس چارلس کا جانشین تھا اور اس وقت کے رواج کے مطابق اسے بادشاہ بننا تھا لیکن ایک دوسرا شخص بھی تھا جو فرانس کا بادشاہ بننا چاہتا تھا۔ یہ تھا ڈیوک آف برگنڈی فلپ۔ اسے انگریزوں کی حمایت حاصل تھی۔ فلپ کے فوجی دستوں نے انگریزوں کی مدد کرکے ایسی بے امنی پھیلائی کہ باپ کے مرنے کے بعد پانچ برس گزرنے کے باوجود بھی اسے تاج نہیں پہنایاجا سکا۔ کیونکہ رمس (Reims) وہ اہم ترین جگہ تھی جہاں تاج پوشی کی رسم ادا کی جاتی تھی اور وہ انگریزوں کے قبضے میں تھی۔ جون کا گاؤں ریمز کے علاقے کے قریب تھا۔ اس کے ایک طرف انگریز اور دوسری طرف فرانس کے فوجی تھے۔ جون کے گاؤں کے لوگ انگریزوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر گاؤں چھوڑنے لگے تھے کیونکہ انگریز آئے دن ان کی جھونپڑیاں جلا دیتے، فصلیں تباہ کر دیتے اور مال مویشی لے جاتے۔ ان حالات میں جون کو اپنے مظلوم بادشاہ اور انگریزوں کے ظلم و ستم کا بہت خیال تھا۔ وہ اکثر کہا کرتی کہ اسے خواب آتے ہیں۔ کوئی مقدس روح اسے پکارتی ہے۔ پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس کی وجہ سے جون نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ ضرور فرانس کے لوگوں کی مدد کرے گی۔

ہوا یہ کہ ایک دن انگریزوں نے اس کے گاؤں پر حملہ کیا۔ جان کا ایک بھائی، جو اندھا تھا، وہ ایک مکان میں جل کر ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے سے جون کے دل میں انگریزوں سے نفرت دوچند ہو گئی۔ اس نے اپنے گاؤں کے پادری کو بتایا کہ اسے اس طرح کے خواب آتے ہیں اور غیب سے آوازیں بھی آتی ہیں۔ ظاہر ہے یہ جون کے تحت الشعور کی آوازیں تھی یعنی انگریزوں سے نفرت اور اپنے بادشاہ کی ہمدردی کا احساس تھا جسے وہ غیبی آوازیں سمجھتی۔ جون کو یقین تھا یہ "کشف" ہے اور اس کا یقین مزید پختہ ہو گیا جب پادری نے اس کے کشف کی تصدیق کر دی اور اپنی حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ ایسا ہی کرے جیسے غیبی آوازوں نے اسے کہا ہے۔

جون نے جب لوگوں کو بتایا کہ اس کو فرانس کی مدد کا حکم دیا گیا ہے تو لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا اور کچھ نے بچی سمجھ کر ٹال دیا۔ مگر وہ اپنے ارادے پر قائم رہی اور اس نے اپنے علاقے کے گورنر سر رابرٹس (Sir Robert) سے اس بات کا اظہار کیا۔ شروع میں تو سر رابرٹس نے بھی اس کی باتوں پر کوئی دھیان نہ دیا مگر جب اس نے جون کا جذبہ دیکھا تو اس کو ولی عہد ڈوفن کے پاس بھیج دیا اور ساتھ اپنا رقعہ بھی دیا جس میں لکھا تھا کہ لارنس کی دوشیزہ (Maiden of Lorence) کو آپ کے پاس بھیج رہا ہوں۔

دراصل اس زمانے میں فرانس کے لوگوں میں یہ بات مشہور تھی کہ ایک بزرگ جنہیں وہ لوگ "Prophet of Merlin" کہتے تھے، آئیں گے اور فرانس کے لوگوں کی مدد کریں گے۔ ان حالات میں لوگوں نے جون کو وہی بزرگ سمجھ لیا۔ جون، سر رابرٹس کے آدمیوں کے ساتھ ولی عہد سے ملنے روانہ ہوئی۔ راستے میں ان کا مقابلہ انگریزوں کے ایک دستے سے بھی ہوا، زیادہ تعداد ہونے کے باوجود انگریزوں نے شکست کھائی اور وہ لوگ آگے بڑھتے گئے۔ راستے میں ایک جگہ ان لوگوں کو ایک جلا ہوا گاؤں ملا جہاں پر ایک چرچ سے جون کو ایک تلوار ملی۔ جون جب وہ تلوار لیے باہر نکلی تو وہ یہ دیکھ کر بڑی حیران ہوئی کہ جہاں سے گزرتی لوگ عقیدت سے سر جھکا لیتے اور کہتے کہ"Maiden of Lorence" گئی ہے۔ دراصل اس تلوار کے متعلق لوگوں میں مشہور تھا کہ اس سے لڑنے والا ان کی مدد کرے گا۔ آخر کار وہ لوگ ولی عہد ڈوفن کے دربار تک پہنچ گئے۔

کہا جاتا ہے کہ جب جان ولی عہد کے پاس پہنچی تو ولی عہد نے اس کا امتحان لینے کی خاطر اپنا تاج کسی اور کو پہنا دیا اور خود معمولی سپاہی کے روپ میں ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ دراصل ولی عہد ڈوفن "Dauphin" کے کانوں تک بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی کہ ایک لڑکی جس کو لوگ "Maiden of Lorence" کہتے ہیں، آ رہی ہے اور وہ اس کی سچائی کا امتحان لینا چاہتا تھا۔ جون دربار میں آئی تو پہلے تو وہ تخت کی طرف گئی مگر پھر رک گئی۔ اس نے دربار کے چاروں طرف نظر دوڑائی اور "ڈوفن" کے پاس جا کر رک گئی۔ ڈوفن اس بات پر بڑا حیران ہوا کیونکہ اس سے پہلے جون نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ تاریخی طور پر اگرچہ اس واقعے کو درست نہیں کہا گیا لیکن اس سے ملتے جلتے واقعات اور بھی ملتے ہیں۔

ڈوفن نے جان کے جوش و جذبے کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور یہ سوچا کہ سپاہیوں پر ایک پر جوش لڑکی کی تلقین کا اچھا اثر پڑے گا۔ چنانچہ اس نے جون کو فوج کی کمانڈ دے دی۔

بحیثیت فوجی

ترمیم
 
جون (جینی) آف آرک

جان نے 10 اپریل 1428ء کو فوجی وردی پہنی اور ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں جھنڈا لیا۔ جھنڈا اس نے خود تیار کیا تھا اور اس پر یسوع (Jesus) کا نام لکھا تھا۔ جون نے دس ہزار فرانسیسی فوجیوں کو ساتھ لیا اور اوغلیوں کے شہر پر حملہ کر دیا۔ یہ شہر انگریزوں کے قبضے میں تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ دوسری طرف بھی مسیحی لشکر تھا۔ اس لیے یہ کوئی مذہبی جنگ نہیں بلکہ قومی جنگ تھی۔

اس شہر میں دو قلعے تھے۔ ایک قلعے سے دوسرے قلعے کا فاصلہ بہت کم تھا۔ ایک قلعے پر انگریزوں کا قبضہ تھا اور دوسرے پر فرانسیسی افواج کا۔ جون نے حملے سے پہلے انگریزوں کو ایک خط لکھوایا جس میں ان کو کہا گیا تھا کہ آرام سے اور بغیر لڑائی کیے شہر فرانسیسیوں کے حوالے کر دیں ورنہ ان کا وہ حشر ہو گا کہ وہ یاد رکھیں گے۔ یہ خط اس چرچ کی طرف سے تھا جس میں جون کو خدا کی طرف سے نامزد بتایا گیا تھا۔ انگریز اس کی بات نہ مانے۔ چنانچہ جون نے اپنی فوج کے ساتھ انگریزوں پر حملہ کیا۔ حملے سے پہلے اس نے اپنے سپاہیوں سے تقریر کرتے ہوئے کہا: "ساتھیو! اپنے دل مضبوط رکھنا کیونکہ ہماری حفاظت کائنات کا بادشاہ کر رہا ہے۔ لڑو خدا اور فرانس کے لیے۔" ان الفاظ کے ساتھ اس نے قلعے پر حملہ کر دیا۔

حملے کے دوران میں وہ زخمی بھی ہوئی۔ اس کے بائیں بازو پر تیر لگا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور پے در پے حملے کرکے شہر کو انگریزوں سے چھڑا لیا۔ اس کے بعد جون ولی عہد "ڈوفن" کو "ریمز" لے گئی۔ جہاں اسے شارل ہفتم (Charles VII) کے نام سے تاج شاہی پہنایا گیا۔

1428ء میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے جن کے باعث فرانس کا بشپ جین لمٹائر (Jean Lemaire) جون کا دشمن ہو گیا۔ وہ جون سے حسد کرتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ بادشاہ (ڈوفن) اب جان پر زیادہ اعتبار کرنے لگا تھا اور ہر معاملے میں جون سے مشورہ لیتا۔ چنانچہ جب بشپ سے تحقیقاتی شعبے کے انچارج کا عہدہ لے کر جون کو دے دیا گیا تو وہ جون کا دشمن ہو گیا۔ اس نے درپردہ فرانس کے دشمنوں یعنی انگریزوں سے رابطہ کیا اور انگریزوں اور ڈیوک آف برگنڈی یعنی فلپ کے ساتھ مل کر جون کو مارنے کے منصوبے بنانے لگا۔ جون کی سب سے بڑی خواہش پیرس (Paris) کو انگریز غاصبوں کے چنگل سے آزاد کرانا تھا۔ اسی لیے اس نے 1429ء میں ستمبر کے مہینے میں پیرس کو چھڑانے کے لیے بار بار حملے کیے مگر اسے ناکامی ہوئی۔

وفات

ترمیم
 
جینی ڈی آرک کی موت

مئی 1430ء میں جون نے کومپیئنئے (Compiègne) کے محصور شہر پر حملہ کیا۔ اس نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا چنانچہ وہ شکست کھا گئی اور انگریزوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئی۔ اب تو اس کے دشمنوں کو اس سے بدلہ لینے کا موقع مل گیا تھا۔ ڈیوک آف برگینڈی نے کلیسیا سے کہا کہ وہ جون پر مقدمہ چلائے بغیر ہی اسے ختم کر دیں۔ مگر کلیسیا کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ جون کو اگر بغیر مقدمہ چلائے انکوزیشن کے حوالے کر دیا گیا تو لوگ بھڑک اٹھیں گے۔ انکوزیشن کلیسا کا ایک بدنام ترین ذیلی ادارہ تھا جس میں کلیسیا کے باغیوں کو اذیت دے کر مارا جاتا اور کہا جاتا تھا کہ ایسا کرنے سے ان لوگوں کی روح عذاب سے بچ جاتی ہے۔ شروع میں یہودی اس کا نشانہ تھے۔ جب اندلس پر مسیحیوں نے قبضہ کیا تو مسلمانوں پر اس ادارے نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے اور سچے مسیحی بھی اپنے اس ادارے کے ظلم و ستم کا شکار بنے۔ بعد میں سائنس دانوں پر بھی اسی ادارے نے ظلم و ستم کیے۔ چنانچہ ایک طویل اور شرم ناک مقدمہ جون پر چلایا گیا۔ جان پر الزام لگائے گئے کہ اس نے عورت ہونے کے باوجود مردانہ جنگی کپڑے پہنے۔ اس الزام کے جواب میں جان نے کہا کہ زنانہ کپڑے پہن کر جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ ایک اور الزام جو جان پر لگایا گیا وہ یہ تھا کہ جون نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ مقدس روحوں سے ہم کلام ہوئی ہے۔ انھوں نے جب جان سے مقدس روحوں کا حلیہ پوچھا تو جان نے جو حلیہ ججوں کو بتایا وہ درست تھا اور وہ حلیہ ان کتابوں میں لکھا ہوا تھا جو آج تک عام عوام کے سامنے نہ لائی گئیں تھیں اور نہ کسی عام آدمی کو یہ بات پتا چل سکتی تھی۔ جان کے جج دو تھے۔ ایک کا نام کاشین (Cauchon) تھا جو بووے کا پادری تھا اور دوسرا بشپ وہ جین لیمٹائر تھا جو پہلے ہی جان کا دشمن تھا۔ انھوں نے 21 فروری سے 24 مارچ تک جون پر بے انتہا تشدد کیا اور اسے کہا کہ وہ اس بات سے دستبردار ہو جائے کہ اس نے خدا اور مقدس روحوں سے بات کی ہے مگر جون نہ مانی۔ چنانچہ بووے کے پادری نے جون کو جادوگرنی قرار دیا اور 30 مئی 1431ء کو "رواں" کے بازار عام میں اس کو ٹکٹکی سے باندھ کر جلا دیا گیا۔ جان ان سے اپنا قصور پوچھتی رہی۔

جون نے اپنے مرنے سے پہلے یہ کہا تھا کہ اس کی موت کا انگریزوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ اب فرانسیسی انگریز کے غلام بن کر نہیں رہیں گے۔ چنانچہ اس کے مرنے کے سات سال بعد پیرس پر فرانس کا قبضہ ہو گیا۔ 1437ء میں فرانس کی فوجوں نے پیرس پر قبضہ کر لیا اور کچھ عرصے بعد تمام فرانس انگریزوں کے قبضے سے چھڑا لیا گیا۔ جان نے لوگوں کے اندر آزادی کی ایسی شمع جلا دی تھی کہ انھوں نے اپنے ملک کو آزاد کرا لیا۔

وفات کے بعد

ترمیم

جون آف آرک کی موت کے بعد 1456ء میں حکومت نے اس کے مقدمے پر نظر ثانی کی اور اس کو بے قصور ٹھہرایا۔ 1920ء میں بینیڈکٹ پانزدہم نے اس کو باقاعدہ کاتھولک (Catholic) رسومات کے ساتھ مقدسہ قرار دیا۔ آج بھی فرانس میں 30 مئی کا دن قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لوگ جون آف آرک کے مشکور ہیں کہ اس نے ان کو آزادی جیسی نعمت سے روشناس کرایا۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. Centre Historique des Archives Nationales، en:Paris، AE II 2490, dated to the second half of the 15th century. "The later, fifteenth-century manuscript of en:Charles, Duke of Orléans contains a miniature of Joan in armour; the face has certain characteristic features known from her contemporaries' descriptions, and the artist may have worked from indications by someone who had known her." Joan M. Edmunds, The Mission of Joan of Arc (2008)، p. 40۔
  2. An exact date of birth (6 جنوری 1412) is uniquely indicated by Perceval de Boulainvilliers, councillor of king Charles VII, in a letter to the duke of Milan. Régine Pernoud's Joan of Arc By Herself and Her Witnesses، p. 98: "Boulainvilliers tells of her birth in Domrémy, and it is he who gives us an exact date, which may be the true one, saying that she was born on the night of Epiphany, 6 جنوری"۔ However, Marius Sepet has alleged that Boulainvilliers' letter is mythographic and therefore unreliable in his opinion (Marius Sepet, "Observations critiques sur l'histoire de Jeanne d'Arc. La lettre de Perceval de Boulainvilliers"، in Bibliothèque de l'école des chartes، n°77, 1916, pp. 439–447, http://gallica.bnf.fr/ark:/12148/bpt6k12454p/f439.image ; Gerd Krumeich, "La date de la naissance de Jeanne d'Arc"، in De Domremy ۔۔۔ à Tokyo: Jeanne d'Arc et la Lorraine، 2013, pp. 21–31.)
  3. "Chemainus Theatre Festival – The 2008 Season – Saint Joan – Joan of Arc Historical Timeline"۔ Chemainustheatrefestival.ca۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مئی 2017