حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ (35ق.ھ / 30ھ) غزوہ بدر میں شامل ایک مہاجر صحابی تھے۔غزوہ بدر کے موقع پر آپ نے قریش کو ایک خط اس مضمون کا لکھدیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں، لہٰذا تم لوگ ہوشیار ہو جاؤ۔ اس خط کو انھوں نے ایک عورت کے ذریعہ مکہ بھیجا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کر دیا۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی و حضرت زبیر و حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فوراً ہی روانہ فرمایا کہ تم لوگ ”روضۂ خاخ” میں چلے جاؤ۔ وہاں ایک عورت ہے اور اس کے پاس ایک خط ہے۔ اس سے وہ خط چھین کر میرے پاس لاؤ۔یہ تینوں اصحاب کبار رضی اللہ تعالیٰ عنہم تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہوکر ”روضۂ خاخ” میں پہنچے اور عورت کو پا لیا۔ جب اس سے خط طلب کیا تو اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں کہہ سکتے، نہ ہم لوگ جھوٹے ہیں لہٰذا تو خط نکال کر ہمیں دے دے ورنہ ہم تجھ کو ننگی کرکے تلاشی لیں گے۔ جب عورت مجبور ہو گئی تو اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے وہ خط نکال کر دے دیا۔ جب یہ لوگ خط لے کر بارگاہ رسالت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ اے حاطب!یہ تم نے کیا کیا؟ انھوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں نہ میں نے اپنا دین بدلا ہے نہ مرتد ہوا ہوں میرے اس خط کے لکھنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ مکہ میں میرے بیوی بچے ہیں۔ مگر مکہ میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے جو میرے بیوی بچوں کی خبر گیری و نگہداشت کرے میرے سوا دوسرے تمام مہاجرین کے عزیز و اقارب مکہ میں موجود ہیں جو ان کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں۔اس لیے میں نے یہ خط لکھ کر قریش پر ایک اپنا احسان رکھ دیا ہے تاکہ میں ان کی ہمدردی حاصل کرلوں اور وہ میرے اہل و عیال کے ساتھ کوئی برا سلوک نہ کریں۔یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کافروں کو شکست دے گا اور میرے اس خط سے کفار کو ہرگز ہرگز کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس بیان کو سن کر ان کے عذر کو قبول فرما لیا مگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس خط کو دیکھ کر اس قدر طیش میں آگئے کہ آپے سے باہر ہو گئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی غیظ و غضب میں بھر گئے۔ لیکن رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جبینِ رحمت پر اک ذرا شکن بھی نہیں آئی اور آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ اے عمر ! کیا تمھیں خبر نہیں کہ حاطب اہل بدر میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو مخاطب کرکے فرما دیا ہے کہ ”تم جو چاہو کرو۔ تم سے کوئی مواخذہ نہیں” یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں نم ہوگئیں اور وہ یہ کہہ کر بالکل خاموش ہو گئے کہ” اللہ اور اس کے رسول کو ہم سب سے زیادہ علم ہے” اسی موقع پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَ عَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ اے ایمان والو!میرے اور اپنے دشمن کافروں کو دوست نہ بناؤ۔(ممتحنہ) بہرحال حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معاف فرما دیا۔آپ رضی اللہ عنہ نے 30ھ میں وفات پائی ۔[1]

حاطب بن ابی بلتعہ
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسب ترمیم

حاطب نام، والد کا نام عمرو یا راشد، ابو بلتعہ ان کی کنیت ہے،سلسلہ نسب میں اختلاف ہے، بعض قحطانی النسل قراردیتے ہیں اور بعض بنو نجم بن عدی کا ایک ممبر بتاتے ہیں جو ایامِ جاہلیت میں قبیلہ بنو اسد کے حلیف تھے، تاہم اصحابِ سیر کا عام رجحان یہ ہے کہ ان کا آبائی وطن ملک یمن تھا، مکہ میں غلامی یا حلیفانہ تعلق کے باعث سکونت پزیر تھے۔ قبیلہ بنو اسد بن عبد العزیٰ تھا ،[2]

اسلام ترمیم

قبل از ہجرت ایمان لائے اور جب مدینہ منورہ اسلام کا مرکز قرار پایا تو وہ بھی اپنے غلام سعد کے ساتھ مدینہ آئے،یہاں منذر بن محمد انصاری نے ان کو اپنا مہمان بنالیا اور خالد بن رخبلہ سے مواخات ہوئی۔ ایامِ جاہلیت میں شاعری و شہ سواری کے لحاظ سے مخصوص شہرت کے مالک تھے۔ [3]

غزوات ترمیم

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوۂ بدر ، غزوہ احد ، غزوہ خندق اور تمام مشہور معرکوں میں رسول اللہ کے ہمرکاب تھے۔[4]

دربارِ مصر میں تبلیغ اسلام ترمیم

غزوۂ حدبیبیہ سے واپس آکر میں رسول اللہ نے ان کو مقوقس والی مصر کے پاس مبلغ اسلام بنا کر بھیجا، رقعۂ دعوت کا مضمون یہ تھا: "أَمّا بَعْدُ فَإِنّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللّهُ أَجْرَكَ مَرّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلّيْت فَإِنّ عَلَيْكَ إثْمَ الْقِبْطِ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلّا نَعْبُدَ إِلّا اللّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللّهِ" [5] میں تم کو دعوتِ اسلام کی طرف بلاتا ہوں اسلام قبول کرو گے تو تم محفوظ رہو گے اور خدا تم کو دونا اجر دے گا اور اگر روگردانی کرو گے تو تمام قبطیوں کا گناہ تم پر عائد ہوگا ،اے اہلِ کتاب! تم ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں اور تم میں باہم مساوی ہے، یعنی ہم لوگ صرف ایک خدا کی پرستش کریں ، کس چیز کو اس کا شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے بعض اپنے بعض کو خدا کے آگے پروردگار نہ بنائے۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ نے مصر پہنچ کر مقوقس کے دربار میں نامۂ مبارک پیش فرمایا اور حسب ذیل مکالمہ سے اس کو اسلام کی ترغیب دی:حضرت حاطب: تم سے پہلے یہاں ایک ایسا فرماں روا گذرا ہے جو بزعمِ خود اپنے آپ کو خدائے برتر سمجھتا تھا، لیکن حق سبحانہ نے اس کو دنیا و آخرت کے عذاب میں گرفتار کرکے عبرتناک انتقام لیا، تم کو غیروں سے عبرت حاصل کرنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ تم خود مرقعِ عبرت بن جاؤ۔ مقوقس: ہم ایک مذہب کے پابند ہیں جس کو اس وقت تک نہیں چھوڑ سکتے جب تک کوئی دوسرا مذہب اس سے بہتر ثابت نہ ہو جائے۔ حضرت حاطبؓ:ہم تم کو دینِ اسلام کی دعوتِ دیتے ہیں جو تمام مذاہب میں سب سے زیادہ مکمل ہے، اس نبی نے جب لوگوں کو اس کی دعوت دی تو قریش نے سخت مخالفت کی،اس طرح یہودیوں نے سب سے زیادہ عداوت ظاہر کی، لیکن نصاریٰ نسبتاً قریب تر تھے ،قسم ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جس طرح عیسی علیہ السلام کی بشارت دی، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے محمد کی بشارت دی ہے اور جس طرح تم یہودیوں کو انجیل کی طرف بلاتے ہو، اسی طرح ہم تم کو قرآن کی دعوت دیتے ہیں۔ انبیا علیہم السلام کے زمانہ بعثت میں جو قوم موجود ہوتی ہے وہ ان کی اُمت ہوتی ہے اور اس پر ان کی اطاعت فرض ہے، چونکہ تم نے ایک نبی کا زمانہ پایا ہے، اس لیے اس پر ایمان لانا ضروری ہے، ہم تم کو دین مسیح سے پھیرتے نہیں، بلکہ اسی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ [6] مقوقس: قریش نے جب ان کو اپنے شہر سے نکال دیا، تو انھوں نے بددعاء کیوں نہ کی؟ حضرت حاطب: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ عیسی علیہ السلام بن مریم رسولِ خدا ہیں؟ اگر ایسا ہے تو انھوں نے صلیب پر کیوں نہیں اپنی قوم کے لیے بددعاء فرمائی، اس دلنشین جواب پر مقوقس نے بے اختیار صدائے تحسین وآفرین بلند کی اوربولا بیشک تم حکیم ہو اورایک حکیم کی طرف سے آئے ہو،(اسد الغابہ تذکرۂ حاطب بن ابی بلتعہ) میں نے جہاں تک غور کیا ہے، یہ نبی کسی لغو کام کا حکم نہیں دیتا اورنہ پسندیدہ امور سے بازرکھتا ہے، میں نہ تو اس کو گمراہ جادوگر کہہ سکتا ہوں اور نہ جھوٹا کاہن، اس میں نبوت کی بہت سی نشانیاں ہیں، میں عنقریب اس پر غور کروں گا، اس کے بعد اس نے آنحضرت کا نامۂ مبارک لے کر ہاتھی دانت کے ایک ڈبہ میں بند کیا اور مہر لگا کر اپنی پیش خدمت کنیز کی حفاظت میں دیا۔ مقوقس نے حضرت حاطبؓ کو نہایت عزت واحترام سے رخصت کیا اور آنحضرت کے لیے گراں قدر تحائف ساتھ کر دیے، جن میں ماریہ و سیرین دو لونڈیاں دلدل نامی ایک خچر اور بہت سے قیمتی کپڑے تھے۔ [7][8]

غزوۂ فتح مکہ ترمیم

میں فتح مکہ کی تیاریاں ہوئیں اور غنیم کو بے خبر رکھنے کے لیے تمام احتیاطی تدبیریں عمل میں لائی گئیں، حضرت حاطب ؓ گو مکہ کے رہنے والے نہ تھے، تاہم ایام جاہلیت میں قریش سے جو تعلقات پیدا ہو گئے تھے اس نے ان کو احبابِ قدیم کی مواسات پر برانگیختہ کیا، انھوں نے ان تیاریوں کے متعلق خط لکھ کر ایک عورت کی معرفت مکہ کی طرف روانہ فرمایا، لیکن کشافِ غیب نے قبل از وقت اس راز کو طشتِ از بام کر دیا،آنحضرت نے حضرت علی ؓ ، حضرت زبیرؓ اور حضرت مقدادؓ بن عمرو کو حکم دیا کہ روضہ خاخ کے پاس جاکر اس عورت سے خط چھین لائیں۔ غرض خط گرفتار ہوکر آیا اورپڑھا گیا تو آپ نے تعجب سے فرمایا، حاطبؓ ! یہ کیا ہے؟ عرض کیا: "یا رسول اللہ میرے معاملہ میں عجلت نہ فرمائیے،، میں قریشی نہیں ہوں تاہم ایامِ جاہلیت میں ان سے تعلقات پیدا ہو گئے تھے، چونکہ تمام مہاجرین اپنے مکی، اعزہ واقارب کی حمایت و مساعدت کرتے رہتے ہیں، اس لیے میں نے بھی چاہا کہ اگر نسبی تعلق نہیں ہے تو کم سے کم اس احسان کا معاوضہ ادا کردوں جو قریش میرے رشتہ داروں کے ساتھ مرعی رکھتے ہیں ، میں نے یہ کام مذہب سے مرتد ہوکر یا کفر کو اسلام پر ترجیح دے کر نہیں کیا ہے۔ [9]رسول اللہ نے حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ جو کچھ سچی بات تھی، اس نے ظاہر کردی، اس لیے اس کو کوئی برانہ کہے، حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ خدا اور رسول اور مسلمانوں کی خیانت کا مرتکب ہوا ہے، اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں،ارشاد ہوا، کیا وہ معرکۂ بدر میں شریک نہ تھا؟ خدا نے تمام اہل بدر کو اجازت دے دی ہے کہ تم جو چاہو کرو، تمھارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے، رحمۃ للعالمین کی اس شانِ درگزر پر حضرت عمرؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ [10] اسی واقعہ کے بعد اعدائے اسلام سے الفت ومودت کی ممانعت کی گئی اورقرآن پاک میں یہ آیت نازل ہوئی: [11] "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ" [12] اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ، تم ان کی طرف محبت سے پیش آتے ہو حالانکہ تمھارے پاس جو (مذہب) حق آیا ہے اس کا انھوں نے انکار کیا۔ [13]

مصر کی سفارت ترمیم

آنحضرت کے بعد خلیفہ اول نے ان کو دوبارہ مقوقس کے دربار میں بھیج کر ان کی وساطت سے ایک معاہدہ ترتیب دیا جو حضرت عمرو بن العاص ؓ کے حملہ مصر تک طرفین کا معمول بہ تھا۔ [14][15]

وفات ترمیم

پینسٹھ سال عمر پائی،30ھ میں مدینہ منورہ میں وفات ہوئی۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور مسلمانوں کے ایک بڑے مجمع نے سپردِ خاک کیا۔[16][17]

اخلاق ترمیم

وفاشعاری، احسان پذیری اورصاف گوئی ان کے مخصوص اوصاف ہیں، احباب اوررشتہ داروں کا بے حد خیال رکھتے تھے، فتح مکہ کے موقع میں انھوں نے مشرکین کو جو خط لکھا وہ درحقیقت ان ہی جذبات پر مبنی تھا،چنانچہ رسول اللہ نے بھی اسی نیت خیروصاف گوئی کو ملحوظ رکھ کر ان سے درگزر فرمایا۔ مزاج میں ذرا سختی تھی، چنانچہ وہ اپنے غلاموں کے ساتھ نہایت سختی سے پیش آتے تھے، آنحضرت اور خلفائے وقت ان کی اصلاح کرکے دباتے تھے، ایک دفعہ ان کے ایک غلام نے دربارِ نبوت میں تشدد کی شکایت پیش کرکے کہا یا رسول اللہ حاطبؓ یقیناً جہنم میں جائے گا، ارشاد ہوا، تو جھوٹ کہتا ہے، جو شخص بدر و حدیبیہ میں شریک ہوا ہے، وہ جہنم میں نہیں جا سکتا ۔ [18] حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں بھی بارہا غلاموں کے ساتھ ان کے تشدد کی شکایتیں سنی گئیں، ایک دفعہ ان کے غلام نے قبیلہ مزنیہ کے ایک شخص کا اونٹ ذبح کر دیا تو انھوں نے اس کی پاداش میں نہایت سخت سزا مقرر کی یہاں تک کہ خود خلیفہ وقت نے ان کو بلا کر کہا: "معلوم ہوا ہے کہ تم اپنے غلاموں کو بھوکا رکھتے ہو۔" اور تنبیہ و تادیب کے خیال سے ان کے معاوضہ میں دو چند قیمت پیش کی۔ [19][2][20]

ذریعہ ٔمعاش ترمیم

تجارت اصلی ذریعہ ٔمعاش تھی، انھوں نے کھانے کی ایک دکان (ہوٹل، رسٹورنٹ) سے نہایت کثیر نفع حاصل کیا، چنانچہ وفات کے وقت چار ہزار دینار نقد اور بہت سے مکانات چھوڑے۔ [21]

حلیہ ترمیم

موزوں اندام، چہرہ خوبصورت، انگلیاں موٹی اور قد کسی قدر چھوٹا۔ [22]

حوالہ جات ترمیم

  1. (صحیح بخاری ج 2 ص 612غزوۂ الفتح)
  2. ^ ا ب سير أعلام النبلاء» الصحابة رضوان الله عليهم» حاطب بن أبي بلتعة آرکائیو شدہ 2016-12-28 بذریعہ وے بیک مشین
  3. أسد الغابة في معرفة الصحابة - حاطب بن أبي بلتعة آرکائیو شدہ 2016-12-28 بذریعہ وے بیک مشین
  4. طبقات ابن سعد قسم 1جز3: 80
  5. (زاد المعاد،باب الکتاب الی ہرقل،جز3:603)
  6. (زاد المعاد:57/2)
  7. (زاد المعاد:2/57)
  8. الطبقات الكبرى لابن سعد - حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ (1) آرکائیو شدہ 2016-12-29 بذریعہ وے بیک مشین
  9. (بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ فتح)
  10. ( بخاری باب فضل من شہد بدرا)
  11. ( بخاری کتاب التفسیر باب تفسیر سورۃ المتحنہ)
  12. (الممتحنہ:1)
  13. الإصابة في تمييز الصحابة - حاطب بن أبي بلتعة (1) آرکائیو شدہ 2016-12-28 بذریعہ وے بیک مشین
  14. (استیعاب :1/135)
  15. الإصابة في تمييز الصحابة - حاطب بن أبي بلتعة (2) آرکائیو شدہ 2016-12-28 بذریعہ وے بیک مشین
  16. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد8صفحہ 550نعیمی کتب خانہ گجرات
  17. اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 496حصہ دوم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور
  18. ( استیعاب جلد 1:135)
  19. (استیعاب :1/135)
  20. الطبقات الكبرى لابن سعد - حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ (2) آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  21. (طبقات ابن سعد قسم 1جز 3:80)
  22. (طبقات ابن سعد قسم 1جز 3:80)