حصین بن نمیر
حُصَین بن نُمَیر سکونی بنو امیہ کی افواج کا ایک سپاہ سالار جو شمالی یمن کے قبیلے کندہ کے رؤسا میں سے تھا۔ وہ 9 قبل ہجرت یمن میں پیدا ہوا اور 66 ہجری کو جنگ خازر میں قتل ہوا۔ اس نے جنگ قادسیہ، جنگ صفین، معرکہ کربلا، واقعہ حرہ، محاصرہ مکہ، جنگ عین الورد اور جنگ خارز میں اہم کردار ادا کیا۔
حصین بن نمیر | |
---|---|
معلومات شخصیت | |
تاریخ وفات | سنہ 686 |
وجہ وفات | لڑائی میں مارا گیا |
شہریت | ![]() |
عملی زندگی | |
پیشہ | عسکری قائد |
عسکری خدمات | |
لڑائیاں اور جنگیں | جنگ صفین |
درستی - ترمیم ![]() |
خلیفہ اوّل کا دورترميم
خلیفہ اوّل کے عہد میں اسے جنوبی عرب کے قبائل سے زکوٰة کی وصولی کے لیے حکومتی عامل مقرر کیا گیا۔
خلیفہ دوم کا دورترميم
خلیفہ دوم کے عہد میں وہ جنگ قادسیہ اور سلطنت روم کے خلاف ہونے والے معرکوں میں شریک تھا۔ جنگ قادسیہ میں وہ سعد بن ابی وقاص کی سپاہ سالاری میں مسلم افواج کے گھڑ سوار دستے کا کمان دار تھا۔ اس جنگ اور فتح عراق کے بعد خلیفہ کے حکم پر چند دیگر افراد کے ہمراہ اسے شمالی عراق کی ایک چھاؤنی کا منتظم مقرر کیا گیا یہ مقام جنگ کے بعد قصبے سے ایک بڑے شہر کی شکل اختیار کر چکا تھا اور شہر کوفہ کہلاتا تھا اس کی وسعت کی بنا پر یہاں چھاؤنی قائم کی گئی تھی۔ وہ فتح فلسطین اور شام ( جو سلطنت روم کے مقبوضہ تھے ) میں بھی شریک رہا۔ منقول ہے جنوبی شام ( فلسطین ) کی زیادہ تر جنگوں میں شامل رہا اور بہت سے رومیوں کو قتل کیا اور فتح فلسطین کے موثر ترین کمان داروں میں سے تھا۔ معاویہ بن ابی سفیان کے والی شام بننے کے بعد وہیں بس گیا۔
جنگ صفینترميم
جب علی ابن ابی طالب علیہ السلام خلیفہ منتخب ہوئے تو معاویہ نے ان کی بیعت نہ کی چنانچہ سپاہ شام اور سپاہ علی ابن ابی طالب میں جنگ ہوئی جسے جنگ صفین کہا جاتا ہے۔ حُصَین بن نُمَیر جنگ صفین میں سپاہ معاویہ بن ابی سفیان کے بائیں بازو کے دستے کا کمان دار تھا۔ جنگ صفین کے بعد عمرو بن عاص کے ہمراہ مصر پر لشکر کشی کی اور فرمانروائے مصر محمد بن ابو بکر کو قتل کیا۔ معاویہ بن ابی سفیان کے دور اقتدار میں شام کے شہر حمص کا حاکم رہا۔
معرکہ کربلاترميم
یزید بن معاویہ کے اقتدار میں آنے کے بعد امام حسین ابن علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سرکوبی کی نیت سے سپاہ ساتھ لیکر عازم کوفہ ہوا۔ معرکہ کربلا میں وہ سپاہ شام اور عمر بن سعد کے تیر اندازوں کا کمان دار تھا۔ منقول ہے کہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام جب اپنے ہمراہیوں کی نماز میں امامت فرما رہے تھے تو حُصَین بن نُمَیر کے حکم سے ان پر تیروں کی بارش کی گئی۔ اور حبیب بن مظاہر اسدی کو بھی حُصَین بن نُمَیر نے شہید کیا تھا۔
واقعہ حرہترميم
معرکہ کربلا کے بعد دوسرا بڑا شرمناک سانحہ واقعۂ حرہ ہے۔ یزید کے حکم پر مدینہ کے یزید مخالفین کی سرکوبی کے لیے مسلم بن عقبہ کی کمان میں ایک فوج کے ساتھ مدینہ پر حملہ آور ہوا۔ سپاہ شام اور اہل مدینہ کے مابین شہر سے باہر جنگ ہوئی جس میں اہل مدینہ شکست کھا گئے اور مسلم بن عقبہ اور حُصَین بن نُمَیر یزیدی افواج کے ہمراہ شہر میں داخل ہو گئے اور مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
کعبہ پر حملہترميم
واقعہ حرہ کے بعد مسلم بن عقبہ کی موت ہو گئی اور یوں یزیدی افواج کی سربراہی حُصَین بن نُمَیر کو مل گئی۔ وہ ایک لشکر جرار لے کر عبداللہ بن زبیر کو گرفتار کرنے مکہ روانہ ہوا، سپاہ حُصَین بن نُمَیر اور عبداللہ بن زبیر کے حامیوں کے درمیان میں شہر مکہ سے باہر جنگ ہوئی لیکن عبداللہ بن زبیر کے بہت آدمی اس لڑائی میں کام آئے تو عددی کمی کی وجہ سے وہ مکہ میں پناہ گزین ہو گئے اور یوں لشکر حُصَین بن نُمَیر نے مکہ شہر کا محاصرہ کر لیا۔ دو ماہ سے طویل اس محاصرے میں میں حُصَین بن نُمَیر نے خانہ کعبہ پر منجنیقوں سے پتھر برسائے اور آگ کے گولے پھینکے جس سے غلاف کعبہ جل گیا۔ اس محاصرے کا اختتام ماہ ربیعالثانی سال 64 ھ میں اس وقت ہوا جب حُصَین بن نُمَیر اور اس کے ساتھیوں کو یزید کی موت کی خبر ملی۔
موتترميم
بالآخر 66 یا 67 ہجری میں ابنزیاد اور ابراهیم بن اشتر و شریک بن جدیر تغلبی کے مابین ہونے والی جنگ میں اپنے انجام کو پہنچا۔کچھ اقوال کے مطابق اسے مختار ثقفی نے قتل کیا تھا
ماخذاتترميم
1۔ دانشنامہ جهان اسلام، بنیاد دائرة المعارف اسلامی، مقالہ «حصین بن نمیر»، شمارہ 6293
2۔ خبرگزاری فارس۔ «زمانی کہ خدا با صاعقہ مکہ را از حملہ یزید نجات میدهد»۔
3۔ تاريـخ الطـبـري ج3 ص 360