رام پور، بھارت کی ریاست اتر پردیش کے رام پور ضلع کا ایک شہر ہے۔ 2001ء کی مردم شماری کے مطابق رام پور شہر کی آبادی 281,549 نفوس پر مشتمل تھی جس میں سے 52 فیصد افراد مرد جبکہ 48 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل تھی۔ رام پور کی شرح خواندگی 68 فیصد ہے۔


रामपुर
شہر
عرفیت: مصطفی آباد
ملکFlag of India.svg بھارت
ریاستاتر پردیش
ضلعرام پور ضلع
علاقہروہیل کھنڈ
ڈویژنمرادآباد
وجہ تسمیہراجا رام سنگھ
حکومت
 • مجلسرام پور نگر پالیکا پریشد
 • رکن پارلیماننیپال سنگھ (بی جے پی)
 • ایم ایل اےاعظم خان (سماجوادی پارٹی)
 • چیئرمیناظہر خان[1] (سماجوادی پارٹی)
رقبہ
 • کل84 کلومیٹر2 (32 میل مربع)
رقبہ درجہ43
بلندی288 میل (945 فٹ)
آبادی (2011)
 • کل325,248
 • کثافت3,900/کلومیٹر2 (10,000/میل مربع)
زبانیں
 • سرکاریہندی زبان اردو
منطقۂ وقتبھارتی معیاری وقت (UTC+5:30)
ڈاک اشاریہ رمز244901
ٹیلی فون کوڈ0595
گاڑی کی نمبر پلیٹUP 22
انسانی جنسی تناسب1000/927 مذکر/مؤنث
خواندگی55.08 %
سوک ایجنسیرام پور نگر پالیکا پریشد
دہلی سے فاصلہ186 کلومیٹر (116 میل) NW (land)
لکھنؤ سے فاصلہ314 کلومیٹر (195 میل) SE (land)
گورننگ باڈیحکومت اترپردیش
حکومت ہند
ویب سائٹrampur.nic.in

تاریخترميم

قرون وسطی کی تاریخ کے مطابق رام پور دہلی کے علاقے کا حصہ تھا اور بدایوں اور سنبھل اضلاع کے درمیان منقسم تھا۔ روہیل کھنڈ کے بالائی حصے پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ کیتھر کے نام سے جانا جاتا تھا اور اس پر کتھیریا راجپوتوں کی حکومت تھی۔ کتھیریا راجپوتوں نے تقریباً 400 سال تک اسلامی حکومت کے خلاف مزاحمت کی۔ انہوں نے دہلی کے سلطانوں اور بعد میں مغلوں کے ساتھ جنگ کی۔ وہ 1253 میں ناصر الدین محمود، 1256 میں غیاث الدین بلبن، 1290 میں جلال الدین خلجی، 1379 میں فیروز شاہ تغلق اور 1494 میں سکندر لودی کے ساتھ متعدد بار سیاسی جدو جہد کی۔

تہذیب و ثقافت اور اردو شاعریترميم

رام پور کو دہلی اور لکھنؤ کے بعد تیسرا دبستان شاعری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ داغ دہلوی، مرزا غالب اور امیر مینائی جیسے عظیم شعرا رام پور ریاست کی سرپرستی کے مرہون منت ہوئے۔ نوابان رام پور شاعری اور دوسرے فنون لطیفہ کے حامی رہے تھے۔ انہوں نے دربار سے وابستہ اہل ادب کی کفالت کی۔ رام پور کے دوسرے شعرا میں نظام رامپوری اور شاد آفریدی کے نام لیے جاسکتے ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. Azhar khan wins, Retrieved July 2012