مرکزی مینیو کھولیں
سردار داؤد خان

پیدائش: 1909ء

وفات: 1978ء

افغان مدبر۔ شاہ افغانستان ظاہر شاہ کے چچا ذاد بھائی۔ فرانس میں تعلیم پائی۔ 31 سال کی عمر میں کابل واپس آئے۔ اور پیادہ فوج کے افسروں کے سکول میں داخل ہو گئے۔ 1935ء میں ظاہر شاہ کی بہن سے شادی کی اور اسی سال انھیں مشرقی صوبے کا گورنر اور ساتھ ہی جنرل آفیسر کمانڈنگ بنا دیا گیا۔ بعد میں وزیر جنگ اور وزیر داخلہ مقرر ہوئے۔ 1953ء میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1962ء میں مستعفی ہو گئے۔ جولائی 1973ء میں فوج نے ظاہر شاہ کا تختہ الٹ دیا اور 19 جولائی کو سردار داؤد جمہوریہ افغانستان کے صدر اور وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ 27 اپریل 1978ء کے انقلاب میں مارے گئے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

سردار محمد داؤد خان افغانستان کے شاہی خاندان محمد زئی سے تعلق رکھتا تھا‘ وہ 18جولائی 1909ء کو پیدا ہوا اس نے ابتدائی تعلیم جلیلی سکول کابل ثانوی تعلیم امینیہ کالج اور اعلیٰ تعلیم فرانس سے حاصل کی وہ سینٹ کرائی ملٹری اکیڈمی کا گریجوایٹ تھا‘اس نے واپسی پرافغان فوج جوائن کی اور 24برس کی عمر میں میجر جنرل بنا دیا گیا۔

فوجی اور سیاسی کیریئرترميم

وہ 1932ء میں محض 25سال کی عمر میں صوبہ ننگر ہار کا جی او سی بن گیا‘ 1935ء میں وہ قندھار کا جی او سی بنا اور اسی سال اسے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر پروموٹ کر دیا گیا‘ وہ دنیا کا کم عمر ترین جنرل تھا۔ 1946ء میں اسے یونیفارم کے ساتھ وزیر دفاع بنا دیا گیا‘ وہ پیرسبرن اور برسلز کے لیے سفیر بھی بنایا گیا اور اسی دوران افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ نے اسے اپنی ہمشیرہ شہزادی زینب کا رشتہ بھی دے دیا۔ وہ 1952ء میں شاہ کے ذاتی ایلچی کی حیثیت سے سوویت یونین کے صدر مارشل سٹالن کی تدفین کے لیے ماسکو گیا اور یہاں سے اس کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوا۔ وہ روسی حکمرانوں اور کے جی بی کا منظور نظربنا اور اس نے اس کی پشت پناہی کا آغاز کر دیا۔ ستمبر 1953ء کو شاہ نے اسے افغانستان کا وزیر اعظم بنادیا‘ وہ دنیا کا یونیفارم میں پہلا وزیر اعظم تھا‘ وہ وزیر اعظم بھی تھا‘ وزیردفاع بھی اور آرمی چیف بھی۔ اس نے وزیر اعظم کا حلف اٹھاتے ہی اپنے بھائی سردار محمد عظیم کو افغانستان کا وزیرخارجہ بنا دیا اور آہستہ آہستہ پورے ملک کے اختیارات اپنے قبضے میں لے لیے‘ وہ سوویت یونین کا فکری حلیف تھا ۔

پشتونستان کا شوشہترميم

اس نے روس کے کہنے پر پاکستان میں پشتونستان کی تحریک شروع کرا دی۔

سیاست پر پابندیترميم

ظاہر شاہ سردار داؤد کے عزائم اور طالع آزما فطرت کوپہچان گیا چنانچہ اس نے 3مارچ 1963ء کو اس سے استعفیٰ لے لیا جس کے بعد سردار داؤد نے شاہ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں‘ شاہ کو اطلاع ملی تو اس نے یکم اکتوبر 1964ء کو افغانستان کا آئین بدل دیا جس کی رو سے اب افغانستان کے شاہی خاندان کا کوئی رکن سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا تھا۔ شاہ نے سردار داؤد کا راستہ روکنے کا بندوبست تو کر دیا لیکن وہ یہ بھول گیا دنیا کا مضبوط سے مضبوط ترین آئین بھی فوج کا راستہ نہیں روک سکتا ۔

حکومت پر قبضہترميم

17جولائی 1973ء کو ظاہر شاہ علاج کے سلسلے میں اٹلی گیا اور پیچھے سے سردار داؤدنے شاہ کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں مارشل لگا دیا‘اس نے 1964ء کا آئین منسوخ کیا‘ افغانستان کو جمہوریہ افغانستان کا نام دیا اوربیک وقت افغانستان کا صدر‘ وزیر اعظم اور سنٹرل کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا‘ اس نے 28جولائی کو پارلیمنٹ بھی توڑ دی اور وہ ملک کا مطلق العنان حکمران بن گیا۔

روشن خیالیترميم

وہ ایک روشن خیال اوراعتدال پسند شخص تھا‘ اس نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں پردے اور داڑھی پر پابندی لگا دی‘ اس نے زنانہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سکرٹ لازمی قرار دے دی‘ مسجدوں پر تالے لگوا دیے اور ملک کے آٹھ بڑے شہروں میں شراب خانے اور ڈسکو کلب بنوائے ‘سردار داؤد کے دور میں کابل دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے عیاشی کا اڈا بن گیا‘ اس دور میں ’’یورپ‘‘ کابل سے شروع ہوتا تھا‘ کابل کے بعد تہران عیاشی کا دوسرا اڈا تھا‘استنبول تیسرا اور اس کے بعد پورا مشرقی یورپ عیاشوں پر کھل جاتا تھا۔ سردار داؤد نے پورے ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں عقوبت خانے بھی بنا رکھے تھے ۔

مظالمترميم

خفیہ اداروں کے اہلکار اس کے مخالفین کو دن دیہاڑے اٹھا لے جاتے تھے اور اس کے بعد کسی کو ان کا نام اورپتہ تک معلوم نہیں ہوتا تھا۔ سردار داؤد کے زمانے میں تیس ہزار کے قریب لوگ ’’مسنگ پیپل‘‘ کہلائے اور ان لوگوں کے لواحقین کو بعد ازاں ان کی قبروں کا نشان تک نہ ملا۔ جنوری 1974ء کو اس کے خلاف ایک چھوٹی سی بغاوت ہوئی لیکن اس نے تمام باغیوں کے سر قلم کرا دیے ۔

مغرب کے ساتھ تعلقاتترميم

ایک طرف اس کے مظالم جاری تھے اور دوسری طرف وہ عالمی میڈیا کو ایک جمہوریت پسند اور روشن خیال لیڈر کا چہرہ پیش کررہا تھا۔ اس نے روس کے ساتھ ساتھ مغرب کے ساتھ بھی تعلقات استوار کیے ۔

نیا آئین اور کابینہترميم

27فروری 1977ء کو اس نے ملک کو نیا آئین دیا‘ ملک میں صدارتی طرز حکومت اور یک جماعتی نظام قائم کر دیا اور یہ وہ وقت تھا جب اس کا اعتماد آسمان کو چھونے لگا‘ اس نے مارچ 1977ء کو نئی کابینہ بنائی اور اس کابینہ کے سارے عہدے اپنے خاندان اور دوستوں میں تقسیم کر دیے ۔

حکومت خلاف مظاہرےترميم

اس وقت تک ملک میں اس کے خلاف لاوا پک چکا تھا چنانچہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں خلق اور پرچم پارٹی اس کی مخالف ہو گئیں‘ ملک میں ہنگامے‘ سیاسی قتل وغارت گری اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ وہ ظالم انسان تھا لہٰذا اس نے اپنی عادت کے مطابق مخالفین کو قتل کرانا شروع کر دیا‘ اس نے 17اپریل 1978ء کو اپنے سب سے بڑے مخالف کیمونسٹ لیڈر میر اکبر خان کو قتل کرا دیا اور یہ وہ قتل تھا جس نے سردار داؤد خان کے خلاف نفرت کو ایک نقطے پر جمع کر دیا ۔

قتلترميم

میر اکبر کے قتل کے محض دس دن بعد 27اپریل کو سردار داؤد کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی اور فوج نے اسے ‘اس کے بھائیوں‘ بیویوں‘ بیٹیوں‘ پوتوں اور پوتیوں کو گولی مار دی‘ اس بغاوت میں اس سمیت اس کے خاندان کے 30افراد ہلاک ہو گئے‘ داؤد کی نعش کو جیب کے ساتھ باندھا گیا اور کابل شہر میں گھسیٹاگیا‘داؤد کی نعش جس جگہ سے گزرتی تھی لوگ اس پر تھوکتے تھے اور اسے ٹھڈے مارتے تھے‘شام کو جب نعش کا سفر مکمل ہوا تو اسے جنارے‘ غسل اور کفن کے بغیر خاندان کی دوسری نعشوں کے ساتھ اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا۔

لاش کی دریافتترميم

سردار محمد داؤد خان کی نعش 30برس تک ایک گمنام قبرمیں پڑی رہی لیکن پھر 26جون 2008ء کو کھدائی کے دوران کابل شہر میں دو اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں‘ دونوں قبروں میں سولہ‘ سولہ نعشیں تھیں‘ ان نعشوں میں سے ایک نعش سردار داؤد کی تھی ۔