سکےدار

برطانوی راج کے بارے میں پاکستانی ماہر کہانی مصنف

مصنف، مکالمہ نگار، اسکرین پلے رائٹر، ہدایتکار، فلمساز، اداکار، گیت نگار اور پنجابی شاعر

سکےدار

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Raheem Bakhsh Khokhar ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش سنہ 1927ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ٹھوکر نیاز بیگ ،  لاہور ،  برطانوی ہند   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 جولا‎ئی 2006ء (78–79 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور ،  پنجاب ،  پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ اداکار ،  شاعر ،  مصنف ،  بیانیہ ،  مکالمہ ،  منظرنامہ   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی ،  پنجابی ،  اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں جبرو ،  ملنگی ،  امام دین گوہاوہا   ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


سکے دار (انگریزی: Sikkedar) کا اصلی نام رحیم بخش کھوکھر تھا وہ 1927ء میں لاہور کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں نیاز بیگ میں پیدا ہوئے۔ سکیدار نے اپنی پہلی فلم جبرو (1956ء) میں کہانیاں اور مکالمہ لکھے تھیں، جو ایک رجحان بنانے والے فلم تھا اور شاید برطانوی راج دور پر پہلی فلم تھی۔ ملنگی (1965ء)، نظام لوہار (1966ء)، امام دین گوہاوہا (1967ء)، نظام (1971ء)، غلام (1973ء)، باغی تے فرنگی (1976ء)، چن وریام (1981ء) وغیرہ اس موضوع پر کچھ بڑی فلمیں تھیں۔ 3 جولائی 2006ء کو لاہور میں انتقال کرگے۔

سکیدار نے دیگر بڑی تجارتی فلموں کے ساتھ کہانیوں کو بھی لکھا۔ ان کی میگا ہٹ فلم میں سے ایک فلم کا نام انورا (1970ء) تھا، جس نے کراچی میں پلاٹینم جوبلی کا جشن منایا۔ سکیدار بھی اعلی کارکردگی والا تھا۔ وہ ہندو بنیے کے طور پر کردار میں ایک ماہر اداکار تھے۔ ان کی بات چیت کی ترسیل منفرد تھے۔ انھوں نے چند فلموں میں کچھ گانے لکھے۔ وہ افسانوی فلم شاعر تنویر نقوی پر ایک کتاب کے بھی مصنف تھے۔ مجھے بہت افسوس لکھنا پڑ رہا ہیں کہ ہمارے پاکستان کی فلموں کو تربیت دینے والے کا نام نہ تو تمغائے حسن کارکردگی پر نہ نگار ایوارڈز میں ریکارڈ ہے۔

تصانیف

ترمیم
  • الاپ‘ یہ ان کی پنجابی شاعری کا مجموعہ ہے،
  • ’ہوک‘ جو ان کی کی خود نوشت سوانح عمری ہے
  • ’دل کا دیا جلایا‘ جو ان کی تنویرؔ نقوی صاحب کے ساتھ رفاقت کی عکاسی کرتی ہے۔

حوالہ جات

ترمیم

بیرونی روابطہ

ترمیم