ابو یوسف (پیدائش: 113ھ/ 731ء – وفات: 5 ربیع الاول 182ھ/ 26 اپریل 798ء) امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور حنفی مذہب کے ایک امام، یعقوب نام، ابویوسف کنیت، آپ امام ابوحنیفہ کے بعد خلیفہ ہادی، مہدی اور ہارون الرشید کے عہد میں قضا کے محکمے پر فائز رہے اور تاریخ اسلام میں پہلے شخص ہیں جو کو قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) کے خطاب سے نوازا گیا‘ لیکن بادشاہ کی ہاں میں ہاں ملاکر نہیں رہے، بلکہ ہرمعاملہ میں شریعت کا اتباع کرتے، یہاں تک کہ بادشاہ کا مزاج درست کر دیا۔ آپ کی مشہور تصنیف کتاب الخراج فقہ حنفی کی مستند کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

امام ابو یوسف
(عربی میں: أبو يوسفخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 731  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 26 اپریل 798 (66–67 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Umayyad Flag.svg خلافت امویہ
Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
استاد ابو حنیفہ،شعبہ بن حجاج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
قابل ذکر طلبا محمد بن حسن شیبانی،احمد بن حنبل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ قاضی،فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت کوفہ،بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر ابو حنیفہ
P islam.svg باب اسلام

نسبترميم

ابو یوسف یعقوب بن ابراہم بن حبیب بن سعد بن بحیر بن معاویہ بن قحافہ بن نفیل بن سدوس بن عبد عناف بن اسامہ بن سحمہ بن سعد بن عبد اللہ بن قدار بن معاویہ بن ثعلبہ بن معاویہ بن زید بن العوذ بن بجیلہ انصاری البجلی۔[2] سعد وہی صحابی ہیں جو غزوہ احد میں رافع بن خدیج اور ابن عمر کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے پیش کیے گئے مکر کم عمر ہونے کی وجہ سے جنگ میں شرکت کی اجازت نہیں ملی۔ بعد میں خندق و دیگر غزوات میں شرکت کا موقع ملا، عمر بن خطاب کے دور میں کوفہ مین وفات پائی۔ ابن عبد البر نے استیعاب میں نقل کیا ہے کہ

غزوہ خندق کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سعدکو دیکھا کہ کم عمر ہونے کے باوجود بڑی بہادری سے لڑ رہا ہے ت وپوچھا نوجوان تمہارا نام کیا ہے؟ جواب دیا سعد بن حبتہ' نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہارے دادا کو نیک بخت بنائے ذرا میرے قریب آؤ، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے سر پر اپنا دست شفقت پھیرا۔[3]

تالیفاتترميم

  • 1- كتاب الْآثَار "مُسْند الإِمَام أبي حنيفَة"۔
  • 2- كتاب النَّوَادِر۔
  • 3- اخْتِلَاف الْأَمْصَار۔
  • 4- أدب القَاضِي۔
  • 5- المالي فِي الْفِقْه۔
  • 6- الرَّد على مَالك بن أنس۔
  • 7- الْفَرَائِض۔
  • 8- الْوَصَايَا۔
  • 9- الْوكَالَة۔
  • 10- الْبيُوع۔
  • 11- الصَّيْد والذبائح۔
  • 12- الْغَصْب والاستبراء۔
  • 13- كتاب الْجَوَامِع [4]

حوالہ جاتترميم

  1. As-Sunnah Foundation of America
  2. علامہ زید الکوثری (2012ء)۔ قاضی ابو یوسف حیات اور علمی کارنامے۔ کراچی: دار النعمان۔ صفحہ 15 Extra |pages= or |at= (معاونت)۔ 
  3. ابن عبد البر، الاستیعاب، جلد 2، صفحہ 884، تذکرہ 923
  4. الخراج مؤلف : ابو يوسف يعقوب بن ابراہيم بن حبيب بن سعد بن حبتۃ الانصاری ناشر : المكتبۃ الازہریۃ للتراث القاہرہ