فراق گورکھپوری

اردو کے عظیم جدت پسند شاعر

فراق گورکھپوری (پیدائش: 28 اگست 1896ء– وفات: 3 مارچ 1982ء) مصنف، ادیب، نقاد اور شاعر تھے۔ اُن کا شمار بیسویں صدی کے اردو زبان کے صفِ اول کے شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کا اصل نام رگھو پتی سہائے تھا۔

فراق گورکھپوری
 

معلومات شخصیت
پیدائش 28 اگست 1896ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گورکھپور   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 مارچ 1982ء (86 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نئی دہلی   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)
بھارت (26 جنوری 1950–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی الہ آباد یونیورسٹی   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف ،  شاعر   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک ترقی پسند تحریک   ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
گیان پیٹھ انعام   (1969)[1]
 پدم بھوشن   (1968)[2]
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ   (برائے:گل نغمہ ) (1960)[3]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
 

شاعری

ترمیم

جدید شاعری میں فراق کا مقام بہت بلند ہے۔ آج کی شاعری پر فراق کے اثر کو باآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ حاضر جوابی میں ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ بین الاقوامی ادب سے بھی شغف رہا۔ تنقید میں رومانی تنقید کی ابتدا فراق سے ہوئی۔

ان کے معاصرین میں شاعر مشرق علامہ اقبال، فیض احمد فیض، کیفی اعظمی، یگانہ یاس چنگیزی، جوش ملیح آبادی، جگر مرادآبادی اور ساحر لدھیانوی جیسے شاعر ہیں۔ اتنی عظیم ہستیوں کی موجودگی کے باوجود انھوں نے ابتدائے عمر میں ہی اپنی شاعری کا لوہا منوالیا۔[4] [5][6]

حالات زندگی

ترمیم

فراق پی سی یس اور آئی سی یس (انڈین سول سروس) کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن گاندھی جی کی تحریک عدم تعاون کی مخالفت میں استعفی دے دیا۔ جس کی پاداش میں انھیں جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ جامعہ الٰہ آباد میں انگریزی زبان کے لکچرر مقرر ہوئے۔ یہیں سے وہ دنیائے شعر و ادب کے آسمان پر سورج بن کر چمکے اور ناچاہتے ہوئے بھی معاصرین کو ماننا پڑا کہ بلا شبہ فراق اور دیگر شعرا کی شاعری میں فرق تو ضرور ہے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو بطور شاعر منوا پائے۔ ان کی شہر آفاق کتاب گل نغمہ بھی اسی دوران منظر عام پر آئی۔ جس کو ہندوستان کا اعلیٰ معیار ادب گیان پیٹھ انعام بھی ملا۔ اور وہ آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر بھی رہے۔

بطور ممتاز شاعر انھوں نے اردو شاعری کی اہم اصناف مثلاً غزل، نظم، رباعی اور قطعہ میں کے وہ ایک منفرد شاعر ہیں جنھوں اردو نظم کی ایک درجن سے زائد اور اردو نثر کی نصف درجن سے زائد جلدیں ترتیب دیں اور ہندی ادبی اصناف پر متعدد جلدیں تحریر کیں، ساتھ ہی ساتھ انگریزی ادبی وثقافتی موضوعات پر چار کتابیں بھی لکھیں۔

وفات

ترمیم

فراق کا انتقال طویل علالت کے بعد 3 مارچ 1982ء کو 85 سال کی عمر میں نئی دہلی میں ہوا۔ میت الہ آباد لے جائی گئی جہاں دریائے گنگا اور دریائے جمنا کے سنگم پر نذر آتش کیا گیا۔[7]

تصانیف اور تراجم

ترمیم
  • گل نغمہ[8]
  • گل رعنا
  • مشعل
  • روح کائنات
  • روپ
  • شبستان
  • سر غم
  • بزم زندگی رنگ شاعر
  • ترجمہ: ’ایک سو ایک نظمیں ‘ از رابندر ناتھ ٹیگور، ساہتیہ اکادیمی، نئی دہلی 1962ء
  • ترجمہ: ’ہملیٹ‘ از شیکسپیئر، ساہتیہ اکادیمی، نئی دہلی 1976ء
  • ترجمہ: ’گیتانجلی‘ از رابندر ناتھ ٹیگور، مکتبہ اردو ادب لاہور،س ن
  • ترجمہ:’سادھو کی کٹیا‘ ایک انگریزی ناول کا اردو روپ‘ ساہتیہ کلا بھون، الہ آباد 1966ء

اعزازات

ترمیم
  • 1960: ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ
  • 1968: پدم بھوشن
  • 1968: سویت لینڈ نہرو ایوارڈ
  • 1969: گیان پیٹھ انعام، اردو شاعری میں پہلا گیان پیٹھ انعام[9]
  • 1981: غالب اکیڈمی ایوارڈ

حوالہ جات

ترمیم
  1. http://www.jnanpith.net/page/jnanpith-laureates
  2. https://www.thequint.com/news/india/remembering-firaq-gorakhpuri-through-his-shayari-on-his-birthday — اخذ شدہ بتاریخ: 2 مارچ 2019
  3. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
  4. Lucknow Christian Degree College to celebrate 150 years of glory آرکائیو شدہ 2013-01-26 بذریعہ archive.today. Times of India. 23 November 2012
  5. Peace was his obsession (IK Gujral used to quote Firaq Gorakhpuri) آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ archive.tehelka.com (Error: unknown archive URL). tehelka.com. 5 December 2012
  6. مالک رام: تذکرہ ماہ و سال، صفحہ 294۔ مطبوعہ دہلی، 2011ء۔
  7. "آرکائیو کاپی"۔ 13 اکتوبر 2007 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2014