قمر ہاشمی

اردو زبان کے لینن انعام یافتہ شاعر، صحافی

سید محمد اسماعیل ہاشمی المعروف قمر ہاشمی (پیدائش: 2 فروری، 1922ء - 16 جون 1993ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور شاعر اور صحافی تھے۔ وہ شاعری میں اختر شیرانی کے شاگرد تھے۔ ادب کی ترقی پسند تحریک وابستہ تھے۔ انہیں سوویت یونین کی جانب سے ادب کے لینن پرائز اور حکومت پاکستان کی جانب سے ان کے نعتیہ مجموعے مرسلِ آخر پر قومی سیرت ایوارڈ سے نوازا گیا۔

قمر ہاشمی
Qamar-Hashmi.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 2 فروری 1922  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ریاست ٹونک  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 16 جون 1993 (71 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن میوہ شاہ قبرستان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ اختر شیرانی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  صحافی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
لینن پرائز  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

حالات زندگیترميم

قمر ہاشمی 2 فروری 1922ء کو ریاست ٹونک، راجستھان، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1] ان کا اصل سید محمد اسماعیل شہید، تخلص قمر اور قلمی نام قمر ہاشمی تھا۔ ان کے والد مولوی حکیم سید احمد ہاشمی برق اپنے دور کے جید عالم اور نباض تھے، مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کا تبادلہ اٹاوہ اور پھر گوالیار کی دیوانی عدالت میں ہوا، قمر ہاشمی بھی والد کے ساتھ اٹاوہ گئے جہاں انہوں نے انگریزی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ میٹرک علی گڑھ سے پاس کیا۔ انٹرمیڈیٹ اور منشی فاضل کے امتحانات جامعہ پنجاب سے پاس کیے۔ اسکول میں اسکاؤٹ لیڈر رہے۔ پہلی ہند اسکائوٹ جموری منعقدہ مقبرہ ہمایوں دہلی 1937ء میں شرکت کی اور اسکاؤٹ تحریک کے بانی لارڈ بیڈن پاول سے انعام اور ٹائٹل حاصل کیا۔ قمر ہاشمی نے ملازمت کا آغاز کانپور میں سینٹرل آرڈینس ڈپو (سی او ڈی) سے کیا۔ تقسیم ہند اپنے بڑے بھائی سید عبد اللہ ہاشمی کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے اور ٹنڈو آدم میں قیام پذیر ہو گئے۔ قمر نے یہاں سر سید ہائی اسکول میں بطور استاد ملازمت حاصل کر لی۔ پھر کراچی آ گئے اور یہاں ڈان اردو میں سب ایڈیٹر مقرر ہو گئے۔ 1952ء میں حکیم محمد سعید کے ادارے ہمدرد وقف پاکستان کے شعبہ معلومات سے وابستہ ہو گئے۔ اشتہارات کا اسکرپٹ، ماہنامہ ہمدرد نونہال کے مضامین خصوصاً نظموں کی جانچ پرکھ اور ماہنامہ ہمدرد صحت کے لیے تراجم وغیرہ کی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔[2] آرام باغ میں واقع ہمدرد کتابستان کے منیجر اور خبرنامہ ہمدرد کے مدیر بھی رہے۔ 1949ء کے آخر میں انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کی پہلی کانفرنس منعقدہ لاہور میں کراچی کے وفد کے ساتھ شرکت کی۔ ان دنوں وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے ترجمان مضراب کے مدیر تھے۔ 1953ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کی کراچی میں منعقدہ دوسری کانفرنس میں شرکت کی۔ ان کی تصانیف میں مرسلِ آخر (نعتیہ نظم)، ہمہ رنگ و ہمہ نظم انسان، دانائی کا آفتاب لینن، نروان ساگر طویل نظمیں اور نوحوں پر مشتمل مجموعہ تماشا طلب آزار شامل ہیں۔[3]

وفاتترميم

قمر ہاشمی 16 جون 1993ء کو کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے۔ وہ کراچی کے میوہ شاہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات نعت گویان پاکستان، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2015ء، ص 90
  2. منظر عارفی، کراچی کا دبستان نعت، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2016ء، ص 433
  3. کراچی کا دبستان نعت، ص 434