مرکزی مینیو کھولیں
محمد یونس
(بنگالی میں: মুহাম্মদ ইউনূ ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Muhammad Yunus - World Economic Forum Annual Meeting 2012.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 28 جون 1940 (79 سال)[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
چٹاگانگ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی وینڈربلٹ یونیورسٹی
جامعہ ڈھاکہ
جامعہ کولوراڈو  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد معاشیات میں پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر تعلیمی اسناد (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہر معاشیات، کارجو، استاد جامعہ، بینکار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[5]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل معاشیات، معیشت  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ ڈھاکہ  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
نوبل امن انعام  (2006)[6][7]
اندرا گاندھی انعام (1998)
رامن میگ سیسے انعام  (1984)
Independence Day Award Ribbon.jpg اعزاز یوم آزادی
Spange des König-Abdulaziz-Ordens.png آرڈر آف عبد العزیز السعود 
VEN Order of the Liberator - Knight BAR.png آرڈر آف دی لبرٹور
فوکوکا ایشیائی ثقافت انعام 
فور فریڈم ایوارڈ
بنٹانگا جاسا[8]  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Signature of Professor Muhammad Yunus.svg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس (Professor Dr. Muhammad Yunus) تاریخ پیدائش 28 جون، 1940ء بنگلہ دیش کے مسلمان بنکار ہیں۔ وہ انتہائی غریب لوگوں کو جو عام بنکاری نظام سے قرضہ لینے کے اہل نہیں کو چھوٹے قرضے دینے کے نظام کے بانی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ گرامین بنک (Grameen Bank) کے بانی بھی ہیں۔ 2006ء میں انکو اور ان کے بنک کو مشترکہ طور پر غریب لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرنے پر اور سماجی خدمات کے شعبہ میں نوبل انعام دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر یونس انفرادی طور پر بھی کئی بین الاقوامی اعزازات بشمول بین الاقوامی خوراک کا انعام (ورلڈ فوڈ پرائز World Food Prize) جیت چکے ہیں۔ وہ بینکر ٹو دی پوور (Banker to the Poor) کے مصنف اور گرامین بنک کے بانی بھی ہیں۔

تعلیمترميم

محمد یونس 28 جون، 1940ء کو پیدا ہوئے۔ وہ ایک بینکر اور ماہر معاشیات ہیں وہ اپنے والدین کے نو بچوں میں سے سب سے بڑے ہیں۔ ان کے والد سنار تھے۔ محمد یونس کا بچپن گاؤں ہی میں گزرا۔ 1944ء میں ان کا خاندان چٹاگانگ شہر میں منتقل ہو گیا۔ 1949ء میں ان کی والدہ ایک نفسیاتی عارضہ میں مبتلا ہوگئیں۔ انہوں نے میٹرک کا امتحان چٹاگانگ کالجیٹ اسکول سے پاس کیا۔ مشرقی پاکستان کے مجموعی 39000 ہزار طلبہ و طالبات میں سے ان کی پوزیشن 16 ویں تھی۔ بعد ازاں انہوں نے چٹاگانگ کالج میں داخلہ لیا جہاں وہ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں پیش پیش نظر آتے تھے۔ 1957ء میں وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہو گئے۔ 1960ء میں بی اے اور 1961ء میں ایم اے کر لیا۔

گریجویشن کرنے کے بعد محمد یونس بیورو آف اکنامکس میں ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے لگے۔ ایم اے کے بعد انہیں چٹاگانگ کالج ہی میں معاشیات کے لیچکرر کے طور پر ملازمت مل گئی۔ اسی دوران میں انہوں نے ایک پیکجنگ فیکٹری بھی قائم کر لی جس میں انہوں نے خاصا منافع کمایا۔ 1965ء میں انہیں فل برائٹ سکالر شپ کی پیشکش ہوئی چنانچہ وہ امریکا چلے گئے۔ انہوں نے وینڈر بلٹ یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر لی۔

خدماتترميم

1971ء میں جب سقوط مشرقی پاکستان ہوا تو وہ ابھی امریکا ہی میں تھے۔ انہوں نے وہاں دیگر بنگالیوں کے ساتھ مل کر سٹیزن کمیٹی اور بنگلہ دیش انفارمیشن سنٹر قائم کیا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد محمد یونس وطن واپس آ گئے اور چٹاگانگ یونیورسٹی کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بن گئے۔ ان کے ساتھ انہوں نے اپنے معاشرے سے غربت کے خاتمے کی کوششیں شروع کر دیں۔

انہوں نے ’’رورل اکنامک پروگرام‘ُ‘ شروع کیا۔ یہ ایک ریسرچ پراجیکٹ تھا۔ اس کے نتیجے میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کا ایک ہی راستہ ہے کہ پورے ملک میں دیہاتی حکومتیں قائم کر دی جائیں۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک زوردار مہم چلائی۔ جنرل ضیاء الرحمن بر سر اقتدار آئے تو انہوں نے ملک کے 40 ہزار 3 سو 92 دیہاتوں میں حکومتیں قائم کر دیں۔

1976ء میں انہیں خیال آیا کے چھوٹے چھوٹے قرضے دے کر غریب لوگوں کو مشکلات سے نکالا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سب سے پہلا قرضہ اپنی جیب سے دیا جس کی مالیت 27 ڈالر بنتی تھی۔ اس رقم سے گائوں کی 42 خواتین نے مختلف چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کیے۔ بعد ازاں یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ اس سلسلے نے ملکی برآمدات درآمدات پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔

غربت کے خاتمے کے لیے چھوٹے قرضے دینے کا آئیڈیا نیا نہیں تھا۔ اس کے سب سے پہلے خالق پاکستان اکیڈمی فار رورل ڈیویلپمنٹ کے بانی ڈاکٹر اختر حمید خان تھے۔ روایتی بینک اس آئیڈیا پر کام کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ان کے اپنے تحفظات تھے تاہم محمد یونس کا کہنا تھا کہ غریبوں کو آسان اور چھوٹے قرضے دیے جائیں تو نہ صرف وہ بروقت واپس کریں گے بلکہ اس سے ان کی اور ملک کی معاشی حالت بھی بہتر ہوگی۔

گرامین بنکترميم

اسی اثنا میں محمد یونس حکومت کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ دسمبر 1976ء میں انہیں اس حوالے سے ایک غیر معمولی کامیابی نصیب ہوئی جب سرکاری جنتا بنک نے انہیں قرض دینے کی ہامی بھرلی۔ اس طرح انہوں نے ایک ادارہ قائم کر لیا جسے دوسرے بنکوں نے بھی قرضے فراہم کرنے شروع کر دیے۔ 1982ء میں اس دارے کے ممبرز کی تعداد 28 ہزار تھے۔ یکم اکتوبر، 1983ء کو یہ ادارہ باقاعدہ ایک بنک کی صورت اختیار کر گیا۔ اس کا نام ’’گرامین بنک‘‘ (دیہاتی بنک) رکھ دیا گیا۔ اس دوران محمد یونس کا سامنا بائیں بازو کے کٹر لوگوں سے بھی ہوا اور تنگ نظر مولویوں سے بھی مڈبھیڑ ہوئی جو کہتے تھے کہ وہ کسی ایسے فرد کا جنازہ نہیں پڑھائیں گے جو گرامین بنک سے قرضہ لے گا۔ ان مخالفتوں کے باوجود گرامین بنک کے حجم میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ جولائی 2007ء کی رپورٹ کے مطابق یہ بنک 74 لاکھ لوگوں کو 6 اعشاریہ 38 ارب ڈالر کا قرضہ جاری کرچکا تھا۔

80 کی دہائی کے اواخر میں بنک نے کچھ نئے پراجیکٹ شروع کیے یعنی مچھلیوں کے تالاب اور ٹیوب ویل لگانا شروع کیے۔ بعد ازاں ایگریکلچر فاؤنڈیشن کی صورت میں باقاعدہ مکمل ادارے بن گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دیگر کئی ادارے بھی قائم کر دیے گئے جن میں گرامین سافٹ وئیر لمیٹٹڈ گرامین سائبر لمیٹڈ، گرامین نیٹ وئیر، گرامین فون بنگلہ دیش کی سب سے بڑی نجی کمپنی ہے۔ گرامین بنک سے قرضہ حاصل کرنے والوں میں خواتین کی شرح 94 فی صد ہے۔ خواتین کو قرضے دینے میں اس لیے خوشی محسوس کی جاتی ہے کہ خواتین خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے زیادہ مخلص ہوتی ہیں۔

2006ء میں محمد یونس کو نوبل انعام دیا گیا۔ محمد یونس پہلے بنگلہ دیشی اور تیسرے بنگالی ہیں جنہوں نے یہ نوبل ایوارڈ حاصل کیا۔ جب اس ایوارڈ کی خبر نشر ہوئی تو محمد یونس نے اس ایوارڈ سے ملنے والی رقم 14 لاکھ ڈاکٹر میں سے ایک حصے سے ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا جو غریبوں کے لیے انتہائی سستی اور اعلٰی معیار کی خوراک تیار کرے۔

محمد یونس کو نوبل ایوارڈ دلانے کے لیے سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اہم کردار ادا کیا ۔کیلیفورنیا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے بل کلنٹن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یونس ایسے شخص ہیں جنہیں بہت پہلے نوبل انعام مل جانا چاہیے تھا۔ معروف مغربی جریدے اکانومسٹ نے محمد یونس کو ایوارڈ دینے کی مخالفت کی۔ اس کا لکھنا تھا کہ زیادہ بہتر ہوتا اگر نوبل ایوارڈ دینے والی کمیٹی یہ اعلان کر دیتی کہ اس انعام کا کوئی حقدار نہیں۔

2006ء کے اوائل میں محمد یونس اور سول سوسائٹی کے دیگر لوگوں نے ایک مہم چلائی جس میں کہا گیا کہ آئندہ انتخابات میں صرف دیانت دار اور صاف ستھرے لوگوں کو ہی امیدوار ہونا چاہیے۔ اس سال کے اواخر میں انہوں نے سیاست میں آنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ 11 فروری، 2007ء کو محمد یونس نے عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا جس میں کہا گیا کہ انہیں رائے دی جائے کہ وہ سیاست میں حصہ لے کر کیسے اچھی حکومت اور موزوں قیادت تیار کرنے کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 18 فروری، 2007ء کو انہوں نے ’’ناگرگ شکتی ‘‘ کے نام سے پارٹی قائم کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پارٹی فوج کی حمایت یافتہ ہے۔ تاہم 3 مئی کو محمد یونس نے ملک کے نگران سربراہ فخر الدین احمد سے ملاقات کرکے اپنی سیاسی منصوبے ختم کرنے کا اعلان کیا۔

1967ء میں جب محمد یونس وینڈربلٹ یونیورسٹی میں تھے کہ ان کی روسی طالبہ ویرافوروسٹینکو سے ملاقات ہوئی۔ وہ روسی ادب کی طالبہ تھی۔ 1970ء میں نیو جرسی میں ان کی شادی ہو گئی۔ 1979ء میں ان کی بیٹی مونیکا یونس پیدا ہوئی تو کچھ ہی عرصے بعد ان کی طلاق ہو گئی۔ دراصل ویرا کو بنگلہ دیش کا ماحول پسند نہیں آیا تھا اور وہ واپس جانا چاہتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ بیٹی کی پرورش افروز سے ہوئی جو مانچسٹر یونیورسٹی میں طبیعیات کے شعبے میں ریسرچر تھیں۔ محمد یونس کی اب تک پانچ تصانیف شائع ہوچکی ہیں۔ جس میں زیادہ تر دنیا میں غربت کے خاتمہ کے موضوع پر ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm1944474 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Muhammad-Yunus — بنام: Muhammad Yunus — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000025873 — بنام: Muhammad Yunus — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/yunus-muhammad — بنام: Muhammad Yunus — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13332172b — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. http://www.nobelprize.org/nobel_prizes/peace/laureates/2006/
  7. https://www.nobelprize.org/nobel_prizes/about/amounts/
  8. http://www.thehindu.com/todays-paper/tp-national/tp-newdelhi/an-indian-journalists-indonesian-adventure/article4704555.ece — اخذ شدہ بتاریخ: 10 مئی 2017