خود کو خدمت خلق کے لیے وقف کر دینے والی مسیحی راہبہ۔ بلقان میں پیدا ہونے والی راہبہ نے اپنی زندگی غریبوں اور بے کسوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی اور وہ کلکتہ میں ساٹھ برس تک غریبوں و نادار بیماروں کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔ مدر ٹریسا مقدونیہ کے شہر سکوپئے میں سن انیس سو دس میں پیدا ہوئیں تھیں۔ تاہم ان پر البانوی اور مقدونیائی باشندوں کا یکساں دعویٰ ہے کیونکہ اس وقت مقدونیہ کے نام سے کسی ملک کا وجود نہیں تھا بلکہ یہ شہر سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔

خیر کی مبلغہ مقدسہ ام ٹریسا کولکتی
MotherTeresa 094.jpg
مقدس ٹریسا کولکاتی کا سینٹ توما ماؤیٹ، ہندوستان میں مجسمہ
مذہبی مقدس، نن
پیدائشAnjezë Gonxhe Bojaxhiu
26 اگست 1910(1910-08-26)
اسکوپیہ، ولایت قوصوہ، سلطنت عثمانیہ
وفات5 ستمبر 1997(1997-90-50) (عمر  87 سال)
کولکاتہ، مغربی بنگال، بھارت
محترم دررومن کیتھولک (بھارت)
سعادت ابدی19 اکتوبر 2003ء, میدان سینٹ پطرس، ویٹیکن سٹی بدست بطریق اعظم یوحنا پولس دوم
قداست4 ستمبر 2016ء, میدان سینٹ پطرس، ویٹیکن سٹی بدست بطریق اعظم یوحنا پولس دوم
مزارمدر ہاؤس آف دی مشنریز آف چیرٹی، کولکتا، مغربی بنگال، ہندوستان
تہوار5 ستمبر
منسوب خصوصیات
سرپرستی
مقدس ٹریسا کولکتی ، ایم ۔سی۔
لقبSuperior General
ذاتی
پیدائش
Anjezë Gonxhe Bojaxhiu

26 اگست 1910(1910-08-26)
وفات5 ستمبر 1997(1997-90-50) (عمر  87 سال)
کولکاتہ، مغربی بنگال، بھارت
مذہبرومن کیتھولک
قومیتعثمانی رعیت (1910–1912)
سربیائی رعیت (1912–1915)
بلغاروی رعیت (1915–1918)
یوگوسلاوی رعیت (1918–1943)
یوگوسلاویہ شہری (1943–1948)
بھارتی رعیت (1948–1950)
بھارتی citizen[1][2] (1948–1997)
نسلیتالبانوی[3][4] Mother Teresa said "By blood, I am Albanian. By citizenship, an Indian."[2]
دستخطSignature of Mother Teresa
ادارہSisters of Loreto
(1928–1948)
Missionaries of Charity
(1950–1997)
مرتبہ
دور1950–1997
جانشینسسٹر نرملا جوشی، ایم۔سی۔

فلاحی کامترميم

انہوں نے اپنے ادارے کی بنیاد انیس سو پچاس میں محض بارہ راہباؤں کے ہمراہ رکھی تھی جن کی تعداد بعد میں بڑھ کر ساڑھے چار سو تک اور دائرہ کار ایک سو تینتیس ممالک تک جاپہنچا ۔

اعزازاتترميم

مدر ٹریسا کو غریبوں اور ناداروں کے لیے کئی دہائیوں پر مشتمل ان کی خدمات کے صلہ میں انیس سو اناسی میں نوبل انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ پاپائے روم نے مدر ٹریسا کو ’ بابرکت‘ شخصیت قرار دیا ہے۔ یہ سعادت ’سینٹ‘ قرار دیے جانے یا مسیحیت کے تحت ’ولایت‘ (ولی بن جانے) کا مرتبہ حاصل کرنے کے مراحل میں سے آخری مرحلہ ہے۔

وفاتترميم

5 ستمبر 1997ء کو بھارتی معیاری وقت کے مطابق رات 9 بجکر 30 منٹ پر مدر ٹریسا کلکتہ میں انتقال کرگئیں۔[5]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Mother Teresa said "By blood, I am Albanian. By citizenship, an Indian."
  2. ^ ا ب Mother Teresa of Calcutta (1910–1997)Vatican news services retrieved 30 اپریل 2012
  3. "Albania calls on India to return Mother Teresa's remains". The Daily Telegraph. London. 14 اکتوبر 2009. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  4. "India rejects Mother Teresa claim". BBC News. 14 اکتوبر 2009. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  5. http://www.washingtonpost.com/wp-srv/inatl/longterm/teresa/stories/teresa0906.htm