مرکزی مینیو کھولیں

قومی سطح پر پاکستان میں مجلس شوریٰ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی پارلیمان عام انتخاب کے ذریعہ قائم شدہ ایوان زیریں جبکہ صوبائی ایوانوں کے ارکان کے ذریعہ ایوان بالا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم ایوان زیریں میں منتخب کیا جاتا ہے جبکہ صدر کا انتخاب الیکٹورل کالج کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ صوبائی و قومی ایوانوں کے علاوہ پاکستان میں پانچ ہزار سے زائد منتخب شدہ بلدیاتی حکومتیں بھی کام کر رہی ہیں۔
پاکستان میں کئی سیاسی جماعتیں ہیں۔ عام طور پر کوئی بھی ایک جماعت اکثریت حاصل نہیں کرتی اور عام انتخابات کے بعد حکمران اتحاد کا قیام ضروری ہوتا ہے۔

حالیہ انتخاباتترميم

ماضی کے انتخاباتترميم

صدارتی انتخابات 2008ءترميم

عام انتخابات 2008ءترميم

ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور قومی حکومت قائم کی۔

سیاسی جماعتیں ووٹ % فیصد نشستیں مخصوص نشستیں (خواتین) مخصوص نشستیں (اقلیت) کل
پاکستان پیپلز پارٹی 10,606,486 30.6% 97 23 4 124
پاکستان مسلم لیگ (ن) 6,781,445 19.6% 71 17 3 91
پاکستان مسلم لیگ (ق) 7,989,817 23.0% 42 10 2 54
متحدہ قومی موومنٹ 2,507,813 7.4% 19 5 1 25
عوامی نیشنل پارٹی 700,479 2.0% 10 3 0 13
متحدہ مجلس عمل

یاد رہے کہ جماعت اسلامی پاکستان, جمیعت علمائے پاکستان, تحریک جعفریہ پاکستان اور جمیعت اہل حدیث نے ان انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

772,798 2.2% 6 1 0 7
پاکستان مسلم لیگ (ف) 4 1 0 5
پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) 140,707 0.4% 1 0 0 1
نیشنل پیپلز پارٹی 1 0 0 1
بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) 1 0 0 1
آزاد 18 0 0 18
کل 34,665,978 100% 270 60 10 340
ذریعہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان, آدم کار کا انتخابی آرکائیو

صدارتی انتخابات 2007ءترميم

1947ء - 1958ءترميم

1947ء اور 1958ء کے دوران پاکستان میں قومی سطح پر کوئی بھی عام انتخابات منعقدنہ ہو سکے۔ صوبائی انتخابات بہرحال منعقد ہوتے رہے۔ مغربی پاکستان میں منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔[1]
پاکستان میں پہلے عام انتخابات صوبہ پنجاب میں مارچ 1951ء میں منعقد ہوئے۔ یہ انتخابات 197 نشستوں کے لیے منعقد ہوئے۔ کل 939 امیدواروں نے 189 نشستوں کے لیے مقابلہ کیا جبکہ باقی کی نشستوں پر بلامقابلہ ارکان منتخب ہوئے۔ ان انتخابات میں کل سات سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ کل رجسٹرڈ شدہ ووٹروں کی تعداد تقریباً نو ملین تھی۔ ان انتخابات میں ٹرن آؤن بہت کم رہا، لاہور جو صدر مقام ہے میں بھی صرف %30 ٹرن آؤٹ رہا۔
دسمبر 1951ء میں صوبہ سرحد میں صوبائی انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ پاکستان کی انتخابی تاریخ کے عین مطابق ہارنے والے امیدواروں نے انتخابات کے نتائج ماننے سے انکار کر دیا اور مبینہ بدعنوانی اور دھاندلی کے الزامات لگائے۔ اسی طرح مئی 1953ء میں صوبہ سندھ کے صوبائی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ کو شکست ہوئی اور بنگالی قوم پرست جماعت نے جیت حاصل کی۔ ان انتخابات میں بھی بدعنوانی اور دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. پاکستان کی انتخابی اصلاحات کی رپورٹ, حکومت پاکستان، 1956ء
  2. پاکستانی انتخابات بارے انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم