چاول اوریزا سٹایوا نامی پودے کا ایک دالیہ بیج ہے جو گھاس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ توانائی کا بڑا ذریعہ ہے اور عالم انسانی میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی غذا ہے، خاص طور پر مشرقی، جنوبی، جنوب مغربی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مکئی کے بعد دنیا میں دوسری عظیم پیداواری فصل کی حیثیت رکھتا ہے۔

چاول کے بیج

چونکہ مکئی کی پیداوار انسانی استعمال کی بجائے کئی دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے اس لیے ایک اندازے کے مطابق چاول انسانی خوراکی ضروریات اور توانائی کے حصول میں سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انسان اپنی تمام تر توانائی کی ضروریات کا پانچواں حصہ چاول سے پورا کرتے ہیں۔

افریقا میں یہ روایتی خوراکی پودے کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی بنیاد پر خوراکی کمی، خوراکی ضرورت اور دیہی علاقوں کی ترقی میں چاول کو کلیدی کردار عطا ہوا ہے۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر چند سال سے افریقہ میں بڑے پیمانے پر چاول کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

چاول عام طور پر سال میں ایک بار کاشت کیا جاتا ہے۔ چاول کا پودا اپنی قسم اور مٹی کی خاصیت کی بنیاد پر 1 سے 1 اعشاریہ 8 میٹر بلند ہو سکتا ہے۔

چاول کی پیداوار ان ممالک میں زیادہ منافع بخش ثابت ہوتی ہے جہاں افرادی قوت سستی اور سالانہ بارشوں کا تناسب زیادہ ہو۔ افرادی قوت اور پانی اس کی دو بنیادی ضروریات ہیں جو انتہائی لاگت کی حامل ہیں۔ گو چاول جنوبی ایشیاء اور افریقا کی مقامی پیداوار ہے لیکن یہ کہیں بھی اگایا جا سکتا ہے۔ صدیوں سے جاری اس پر تحقیق اور تجارت نے اسے عالمی اہمیت دلائی ہے اور یہ تقریباً دنیا میں پہچانا اور استعمال کیا جاتا ہے۔

روایتی طریقہ کاشت میں چاول کے کھیتوں میں بڑے پیمانے پر آبپاشی کی جاتی ہے جس کے بعد اس کی پنیری کاشت ہوتی ہے۔ سادہ ترین طریقوں میں اس کی کاشت کے دوران پانی کی فراہمی اور طریقہ کاشت نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جنگلی بوٹیوں اور کیڑوں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے بھی بعض اقدامات نہایت اہم ہیں۔

پیداوار اور تجارت

ترمیم
چوٹی کے بیس چاول کی پیداوار والے ممالک—2012
(ملین میٹرک ٹن)[1]
  چین 204.3
  بھارت 152.6
  انڈونیشیا 69.0
  ویت نام 43.7
  تھائی لینڈ 37.8
  بنگلادیش 33.9
  میانمار 33.0
  فلپائن 18.0
  برازیل 11.5
  جاپان 10.7
  پاکستان 9.4
  کمبوڈیا 9.3
  ریاستہائے متحدہ 9.0
  جنوبی کوریا 6.4
  مصر 5.9
  نیپال 5.1
  نائجیریا 4.8
  مڈغاسکر 4.0
  سری لنکا 3.8
  لاؤس 3.5
ماخذ: ادارہ برائے خوراک و زراعت

مزید دیکھیے

ترمیم

بیرونی ربط

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. fao.org (FAOSTAT)۔ "Countries by commodity (Rice, paddy)"۔ 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 11، 2014