کرشنا کوہلی

رکن ایوانِ بالا پاکستان‬‎
کرشنا کوہلی
رکن ایوان بالا پاکستان
آغاز منصب
12 مارچ 2018ء
معلومات شخصیت
پیدائش 1 فروری 1979 (41 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع تھرپارکر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ سندھ  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل انسانی حقوق  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
100 خواتین (بی بی سی)  (2018)[1]  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کرشنا کماری کوہلی (سندھی: ڪرشنا ڪماري ڪوهلي، انگریزی: Krishna Kumari Kohli، مختصر نام کشو بائی) ایک پاکستانی سیاست دان جو ایوان بالا پاکستان کی مارچ 2018ء سے منتخب رکن ہے۔ وہ پہلی ہندو دلت خاتون اور یہ منصب پانے والی دوسری ہندو خاتون (پہلی رتنا بھگوان داس چاولا) ہے۔ اس نے حقوق نسواں کے لیے اور بندھوا مزدوری کے خلاف مہم چلائی تھی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

کرشنا کوہلی 1 فروری 1979ء[2] کو نگر پارکر کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے غریب خاندان میں پیدا ہوئی۔[3] جب وہ بچی تھی اور تیسری جماعت کی طالبہ تھی، تو اس کو اور اس کے خاندان کو بندھوا مزدور بنا کر تین سال کے لیے ضلع عمرکوٹ کے نجی قید خانے میں (جس کا مالک ایک وڈیرا تھا) قید کر لیا گیا۔[4][3] انہیں تب ہی رہائی ملی جب پولیس نے اس نجی قید خانے میں چھاپہ مارا۔ اس نے ابتدائی تعلیم ضلع عمرکوٹ سے حاصل کی اور پھر ضلع میرپور خاص سے حاصل کی۔

اس نے 1994ء میں 16 برس کی عمر میں شادی کی تب وہ نویں جماعت کی طالبہ تھی۔[2] اس نے شادی کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھی اور 2013ء میں جامعہ سندھ سے عمرانیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔[3]

وہ سنہ 2007ء میں اسلام آباد میں تیسرے مہر گڑھ ہیومن رائٹس یوتھ لیڈرشپ ٹرینگ کیمپ میں آئی جس میں اس نے حکومت پاکستان، بین الاقوامی ہجرت، تزویراتی منصوبہ بندی کے متعلق مطالعہ کیا اور معاشرہ کو تبدیل کرنے والے آلات کے متعلق سیکھا۔[2]

سیاسی کیریئرترميم

کرشنا کوہلی نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں ایک سماجی فعالیت پسند کے طور پر شمولیت اختیار کی تاکہ وہ تھر کے علاقے کی اچھوت برادریوں کے حقوق کے لیے مہم چلا سکے۔ اس نے حقوق نسواں کے لیے، پندھوا مزدوری کے خلاف اور جنسی حراساں کرنے کے خلاف بھی مہم چلائی۔[4] 2018ء کے پاکستانی ایوان بالا انتخابات میں وہ پیپلز پارٹی کی سندھ سے امیدوار تھی اور وہ ان انتخابات میں کامیابی سے منتخب ہوئی۔[5][6] وہ پہلی ہندو دلت خاتون رکن ہے اور رتنا بھگوان داس چاولا کے بعد دوسری منتخب شدہ ہندو خاتون رکنِ ایوان بالا ہے۔[4]

اعزازترميم

2018ء کو بی بی سی نے کرشنا کو 100 با اثر خواتیں کی فہرست میں شامل کیا۔[7]

حوالہ جاتترميم

  1. https://www.bbc.com/news/world-46225037
  2. ^ ا ب پ "In historic first, a Thari Hindu woman has been elected to the Senate"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مارچ 2018۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. ^ ا ب پ سمون، حنیف۔ "PPP nominates Thari woman to contest Senate polls on general seat"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مارچ 2018۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. ^ ا ب پ داؤد رحمان۔ "Krishna Kumari becomes first Hindu Dalit woman senator of Pakistan"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  5. "LIVE: PML-N-backed independent candidates lead in Punjab, PPP in Sindh – The Express Tribune"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مارچ 2018۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  6. خان، اے۔۔ "PML-N gains Senate control amid surprise PPP showing"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 مارچ 2018۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  7. "BBC 100 Women 2018: Who is on the list?"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 November 2018۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)