کنانہ بنو اسماعیل میں وہ برگزیدہ شخصیت ہیں جو رسول اللہ کے چودھویں پشت پر جد امجد ہیں۔


کنانہ بن خزیمہ
معلومات شخصیت
پیدائشی نام کنانہ
اولاد النضر بن کنانہ  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد خزیمہ بن مدرکہ
والدہ عوانہ بنت سعد

تعارفترميم

آپ کا نام کنانہ اور کنیت ابو نضر تھی۔ آپ کے والد کا نام خزیمہ اور والدہ کا نام عوانہ بنت سعد تھا۔ [1]

آپ کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان

کنانہ رسول اللہ کے چودہویں پشت پر جد امجد ہیں۔ آپ تک رسول اللہ کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے۔ محمد ﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فھر بن مالک بن نضر بن کنانہ[2]


قریش کی عظمتترميم

ایک روز کنانہ حطیم میں سو رہے تھے۔ آپ نے خواب دیکھا کہ اے ابا نضر ان چاروں چیزوں گھوڑے ، اونٹ ، تعمیرات اور دائمی عزت میں سے ایک چن لو۔ آپ نے عرض کیا اے میرے رب! مجھے یہ ساری نعمتیں عطا فرما۔ ا للہ تعالی نے آپ کی دعا سے یہ ساری نعمتیں قریش کو عطا فرما دیں۔


حدیث میں ذکرترميم

  1. حضرت واثلہ بن اثقہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی نے اولاد اسماعیل سے کنانہ کو اور کنانہ سے قریش کو منتخب فرما لیا۔
  2. ایک دفعہ اشعث بن قیس کندی یمن سے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ہم گمان کرتے ہیں کہ آپ ہم میں سے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہم بنو نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں۔ [3]

سیرتترميم

کنانہ بہت زیادہ صاحب علم تھے اس وجہ سے آپ کی منزلت عرب قبائل میں بہت زیادہ تھی۔ آپ بہت مہمان نواز تھے۔ آپ کبھی اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ ہر غذا کے وقت کوئی نا کوئی مہمان ضرور ہوتا۔ [4]

اولادترميم

کنانہ بن خزیمہ کی اولاد میں چھے بیٹے تھے جن کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. نضر
  2. مالک
  3. عبد مناة
  4. عمر
  5. عامر
  6. احابیش [5]


حوالہ جاتترميم

  1. سیرت انسائیکلو پیڈیا تصنیف و تالیف حافظ محمد ابراہیم طاہر گیلانی، حافظ عبد اللہ ناصر مدنی اور حافظ محمد عثمان یوسف جلد دوم صفحہ 45
  2. ضیاء النبی مولف پیر محمد کرم شاہ جلد اول صفحہ 399
  3. حضور کے آباؤاجداد مولف علامہ یونس مبین صفحہ 138 اور 139
  4. مدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب الموسوم بہ معارف الانساب تالیف قمر عباس الاعرجی صفحہ 20
  5. وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين تالیف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری حصہ دوم صفحہ 326


مآخذترميم