الملہوف علی قتلی الطفوف (کتاب)

"الملہوف علی قتلی الطفوف" کا موضوع کربلا کے مصائب اور حسین ابن علی کی سانحہ كربلا میں شہادت ہے۔ اہل تشیع کے مطابق واقعہ کربلا پر ایک مشہور اور مستند ترین مقتل کی کتاب ہے۔ اسے معروف اہل تشیع عالم دین، سید رضی الدین علی بن موسیٰ بن جعفر بن طاؤس المعروف بہ سید بن طاووس حلی (متوفی 664ھ) نے تالیف کیا ہے۔ یہ کتاب مسافروں اور حسین ابن علی کے زائرین کے لیے لکھی گئی تھی۔ اسی لیے اختصار کے پیش نظر اس کی روایات کے سلسلہ اسناد کو حذف کر کے صرف آخری راوی یا روایت کے ماخذ کو ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کی غیر معمولی اہمیت اور مؤلف کے مقام و منزلت کی وجہ سے اس کتاب کا مختلف زبانوں میں بارہا ترجمہ کیا جا چکا ہے۔[حوالہ درکار]

الملہوف علی قتلی الطفوف (کتاب)
مصنف سید ابن طاؤوس  ویکی ڈیٹا پر (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ اشاعت 2014  ویکی ڈیٹا پر (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مؤلفترميم

سید بن طاؤس، والد کی طرف سے حسن ابن علی اور والدہ کی طرف سے زین العابدین بن علی کی ذریت سے ہیں۔ آپ 15 محرم 589ھ کو عراق کے شہر حِلّہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد اور جدّ ورام بن ابی فراس سے حاصل کی۔

سید بن طاؤس، حلہ کے اساتذہ سے ضروری تعلیم حاصل کرنے کے بعد دیگر شہروں کے علما سے کسب فیض کرنے کی غرض سے سفر پر نکل پڑے۔

اپنے زمانے کے علما، اکابرین اور بزرگوں سے باقاعدگی کے ساتھ استفادہ کرتے ہوئے آپ علم و ادب اور معنویت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو گئے۔ ایک مسلمہ استاد کے طور پر آپ نے بڑی تعداد میں شاگردوں کی تربیت کی۔

سید ابن طاؤس نے اپنے بعد 50 تالیفات چھوڑیں ہیں کہ جن میں سے زيادہ تر کا تعلق دعا اور زيارت سے ہے۔

سید ابن طاؤس نے 75 سال کی عمر میں سنہ 664 ہجری کو بغداد میں وفات پائی۔ آپ کا جسد خاکی نجف اشرف لے جایا گیا اور مزار علی ابن ابی طالب کے احاطے میں دفن ہوئے۔

تسمیہترميم

اس کتاب کے کئی نام منقول ہیں۔ نام کے اختلاف کا تعلق نسخوں کے اختلاف اور خود مؤلف سے ہے کیونکہ انہوں نے اس کتاب کو مختلف ناموں سے موسوم کیا تھایا ایک ہی نام میں مختلف تبدیلیاں کی ہیں۔ کتاب کے قلمی نسخوں کے حوالے سے اس کے نام حسب ذیل ہیں:

  1. اللہوف علی قتلی الطفوف
  2. الملہوف علی قتلی الطفوف
  3. الملہوف علی قتل الطفوف
  4. اللہوف فی قتلی الطفوف
  5. الملہوف علی أہل الطفوف
  6. المسالک فی مقتل الحسین علیہ السّلام: اس نام کی وجہ، مؤلف کا کتاب کے مقدمے میں یہ جملہ ہے کہ "میں نے اس کو تین مسالک کی بنیاد پر وضع کیا ہے"۔[1]

آقا بزرگ تہرانی نے "الذریعہ"، میں اللہوف علی قتلی الطفوف کو دوسرے ناموں سے مشہور تر گردانا ہے۔[2]

تالیف کا اسلوبترميم

مؤلف نے اختصار کیساتھ سانحہ كربلا کو بیان کرنے کی غرض سے احادیث کو اس طرح مرتّب کیا ہے کہ ایک منظم روداد کی تصویر کشی ہو۔ انہوں نے تکراری روایات اور متفرق روایات سے اجتناب کیا ہے تاکہ قاری ایک تاریخی روداد اور واقعے سے آگاہ ہو نہ کہ منقول روایات سے۔[3]

کتاب کے مندرجاتترميم

مقتل لہوف ذیل کے عناوین پر مشتمل ہے:

  • مقدمے یا دیباچے میں واقعۂ عاشورا کی عظمت، حسین ابن علی کی منزلت، آپ پر گریہ و عزاداری کے آثار و برکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
  • مسلک اول: کتاب کے اس حصے میں واقعہ کربلا سے پہلے کے واقعات ولادت امام سے وقائع عاشورا تک بیان کیے گئے ہیں۔
  • مسلک دوم: یہ حصہ روز عاشورا کے وقائع ـ صبح سے امام کی شہادت تک ـ پر مشتمل ہے۔
  • مسلک سوم: اس حصے میں شہادت امام کے بعد کے واقعات موضوع بنائے گئے ہیں جن کا آغاز شہداء کے سروں اور اسیران اہل بیت کی کوفہ روانگی سے اور اختتام ان کی مدینہ واپسی پر ہوتا ہے۔[4]

کتاب کی خصوصیاتترميم

اس کے باوجود کہ کتاب لہوف کو اسناد کے حذف کئے جانے اور داستانی شکل دیئے جانے کی وجہ سے ضعیف کہا گیا ہے[کس کے مطابق؟] لیکن اس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کتاب میں مبالغہ آرائی سے پرہیز کیا گیا ہے۔ جب کہ اس موضوع پر لکھی گئی بعض کتابوں میں مبالغہ آرائیاں کی گئی ہیں۔[حوالہ درکار]

اس کتاب میں بہت اہم اور منفرد مسائل بیان کیے گئے ہیں جو سابقہ مقاتل میں بیان نہیں ہوئے ہیں۔ منجملہ:

بنو ہاشم کے نام حسین ابن علی کے خط میں، حسین کا یہ جملہ کہنا کہ ان اللہ شاء ان یرانی قتیلاً (خدا نے مجھے مقتول دیکھنا چاہا ہے) اور بہت سی دیگر روایات اور علاوہ ازیں شیعہ اعتقادات جیسے "امام کا علم غیب"، اس بات کا سبب بنے ہیں کہ سید نے ان روایات کو تاریخی قرار دیا اور انہیں اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔[5][6]

فارسی اور اردو تراجمترميم

کتاب کی مقبولیت کی بنا پر اس کا کئی بار ترجمہ ہو چکا ہے۔ بعض تراجم کے عناوین و مترجمین کے نام حسب ذیل ہیں:

  • فیض الدموع:، بقلم آقا محمد ابراہیم نواب تہرانی المعروف بہ بدائع نگار (ولادت 1240 وفات 1299 ھ)، سال ترجمہ: سنہ 1286 ھ۔
  • لجہ الألم فی حجہ الأمم: مترجم میرزا رضاقلی شقاقی تبریزی، سال 1311 ہجری۔[7]
  • اللھوف:، مترجم محمد طاہر بن محمد باقر موسوی دزفولی بسال 1321 ہجری۔
  • دمع ذروف:، ترجمہ بقلم سید محمد حسین ہندی (متوفٰی 1355 ھ) بزبان اردو۔
  • زندگانی ابا عبد اللہ:، مترجم سید محمد صحفی، سنہ 1375 ہجری شمسی۔
  • اللھوف:، مترجم: احمد بن سلامہ نجفی۔[8]
  • آہ سوزان بر مزار شہیدان:، مترجم سید احمد فہری۔
  • وجیزۃ المصائب:، مترجم: ضیاء الدین مہدی بن داؤد المتخلص بہ ذوقی۔
  • ترجمہ بقلم سید ابو الحسن میر ابو طالبی۔[9]

اللہوف کے قلمی نسخےترميم

یہ کتاب اہمیت و اعتبار نیز روش تالیف کی لطافت کی وجہ سے نسخہ نگاروں کے نزدیک بہت مقبول ہوئی کیونکہ علما کو اس کی ضرورت تھی چنانچہ اس کے قلمی نسخے بکثرت دنیا بھر میں دیکھے جاسکتے ہیں؛ منجملہ:

  1. قم کے کتب خانہ آیت اللہ مرعشی نجفی میں نمبر 6068، بعنوان رسالۂ سوم کاتب محمّد تقی بن آقا محمّد صالح، تاریخ کتابت 1303 ہجری، (کتاب) فہرست کتب خانہ ج16، ص70۔
  2. وہی کتب خانہ، مجموعہ نمبر 7520، رسالۂ سوم، کتابت بقلم طالب بن محمّد طالب مازندرانی، تاریخ کتابت 1119 ہجری، فہرست کتب خانہ ج19، ص327۔
  3. کتب خانۂ ملک، تہران نمبر 6069 تاریخ کتابت 1052۔
  4. کتب خانۂ مجلس شورائے اسلامی، تہران، مجموعہ نمبر 3815 کے ضمن میں مندرج، تاریخ کتابت 1101 ہجری۔
  5. کتب خانۂ مجلس شورائے اسلامی، تہران، مجموعہ نمبر 4826 تاریخ کتابت گیارہویں صدی ہجری۔
  6. کتب خانۂ امام رضا(ع)، مشہد، نمبر 6712 تاریخ تحریر: 1091 ہجری۔
  7. کتابخانہ رضویّہ ایضا نمبر 13671 تاریخ کتابت 1202 یا یا 1220 ہجری۔
  8. وہی کتب خانہ، مشہد، نمبر 2132 تاریخ کتابت 1233 ہجری۔
  9. وہی کتب خانہ، مشہد، نمبر 8874 تاریخ کے بغیر۔
  10. وہی کتب خانہ، مشہد، نمبر 8124 تاریخ کے بغیر۔
  11. وہی کتب خانہ، مشہد، نمبر 15317 بقلم ابو الحسن اصفہانی تاریخ کتابت 1117 ہجری۔
  12. نیز کتب خانہ برلن نمبر 912 تاریخ کتابت 1020 ہجری۔[10]

نشر و اشاعتترميم

یہ کتاب بارہا تہران، لبنان کے شہروں صیدا و بیروت، ہندوستان کے شہر بمبئی، عراق کے شہر نجف اور ایران کے شہروں قم اور تبریز ميں زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے۔[11]

مشاہیر کی آراترميم

  • شیخ جعفر شوشتری:
جان لو کہ مرثیوں کے نقل کے حوالے سے اس سے زیادہ معتبر کوئی کتاب نہیں ہے؛ جلالت قدر کے لحاظ سے اس کے مؤلف سید بن طاؤس جیسی شخصیات کم ہیں۔[12]
سید بن طاووس کی منقولہ روایات بہت زيادہ قابل اعتماد ہیں؛ کتب مقاتل میں کوئی بھی کتاب اعتبار و اطمینان کے لحاظ سے ان کی کتاب اللہوف کے پائے تک نہیں پہنچتی۔[13]
یہ بہت معتبر مقتل ہے، اس کے مؤلف فقیہ، عارف، بزرگ، بہت سچے، موثق اور سب کے نزدیک قابل احترام ہیں … خود ادیب اور شاعر ہیں؛ اللہوف سے پہلے بھی مقاتل تھے؛ ان کے استاد شیخ نجم الدین جعفر بن نما، المعروف بہ ابن نما حلی کا بھی مقتل ہے، شیخ طوسی نے بھی مقتل لکھا ہے دوسروں نے بھی مقتل لکھے ہیں لیکن اللہوف کے آنے کے بعد دوسرے مقاتل متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے؛ یہ بہت اچھا مقتل ہے۔ اس کی عبارات بہت اچھی، دقیق اور مختصر ہیں۔[14]
اللہوف، یا الملہوف فی قتلی الطفوف}} ایک مختصر سی کتاب ہے جس کے مؤلف سید رضی الدین علی بن طاؤس حلی ہیں۔ گویا انہوں نے یہ کتاب ایام شباب میں لکھی ہے؛ اس کے باوجود یہ بہت اہم مآخذ اور معتبر مقاتل میں سے ایک ہے۔[15]

مآخذترميم

  • سید بن طاووس، لہوف، تہران، جہان، 1348 ہجری شمسی۔
  • سید بن طاووس، لہوف، ترجمہ سيد ابوالحسن مير ابوطالبى‏، قم، دلیل ما، 1380 ہجری شمسی۔
  • مرکز تحقیقات علوم اسلامی، نرم افزار سیرہ معصومان۔
  • موسوی دزفولی، محمد طاہر بن محمد باقر، ترجمہ لہوف، نشر مؤمنين، 1379‏ہجری شمسی۔
  • قاضی تبریزی، سيد محمدعلی، تحقیق دربارہ روز اربعین، ، چاپ میہن، تبریز۔
  • خامنہ ای، سید علی، خطبہ ہائے نماز جمعہ، 18/2/1377 ہجری شمسی۔
  • دوانی، علی، نقد و بررسی مقاتل موجود، ، انتشارات دانشگاہ امام حسين علیہ السلام، تہران، 1374‏ہجری شمسی۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ترجمہ لہوف، ص 63.
  2. الذریعہ، ج 22، ص 223.
  3. سافٹ ویئر، سیرت معصومین۔(زبان: فارسی)۔
  4. فہرست کتاب۔
  5. اللطيف في التصنيف في شرح السعادة بشہادة صاحب المقام الشريف[مردہ ربط]
  6. سافٹ ویئر، سیرت معصومین۔
  7. الذریعہ، ج 18، ص 296.
  8. الذریعہ، ج 26، 201.
  9. ترجمہ لہوف، ص 65.
  10. ترجمہ لہوف، ص 63 و 64.
  11. ترجمہ لہوف، ص 64 و 65.
  12. دزفولي، مقدمہ بحوالہ مواعظ شيخ جعفر شوشتري، ص‏8۔
  13. سید محمد علی قاضی تبریزی، تحقيق دربارہ روز اربعين، ص8۔
  14. خامنہ ای، سید علی، خطبہ ہائے نماز جمعہ، 18/2/1377 ہجری شمسی۔
  15. رجوع کریں: نقد و بررسی مقاتل موجود، علي دوانی۔

بیرونی روابطترميم