لوا خطا: not enough memory۔ ایلی ویزل (عبرانی زبان אֱלִיעֶזֶר וִיזֶל‎، الیعزر ویزل)[12][13] رومن نژاد ایک یہودی لکھاری، پروفیسر اور سیاسی کارکن تھے ان کی امن کی خدمات کو دیکھ کر 1986ء میں انھیں نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔وہ مرگ انبوہ میں زندہ بچ گئے تھے۔ انہوں نے 57 کتابیں تصنیف کی ہیں، ان میں زیادہ انگریزی اور فرانسیسی میں ہیں۔ [14]

ایک لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بوسٹن یونیورسٹی میں علوم انسانیات کے پروفیسر بھی تھے، جہاں ان کو یہودیت پر مطالعہ کی ترغیب ملی۔ وہ یہودی معاملات میں دلچسپی رکھتے تھے اور انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں یونائٹید اسٹیٹز ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کے قیام میں کافی تعاون دیا ہے۔ اپنے سیاسی اثر و سروخ کی بنیاد پر انہوں نے جنوبی افریقا، نکاراگوا، کوسووہ]] اور سوڈان میں ہو رہے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی اور متاثرین و مظلومین کے مہم چلائی۔ انہوں 1915ء ارمنی قتل عام کی علی الاعلان مذمت کی اور اپنی پوری زندگی میں وہ حقوق انسانی کے دفاع میں کھڑے رہے۔ لاس اینجلس ٹائمز نے ان کو “امریکا میں سب سے اچھا یہودی‘‘ کا خطاب دیا ہے۔ [15]

سنہ 1986ء میں ان کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا، جہاں نارویجن نوبل کمیٹی ان کو “ انسانیت کا پیغامبر ‘‘ کہا۔ وہ نیو یارک حقوق انسانی تنظیم کے بانیاں میں سے ہیں اور تا دم حیات اس کے رکن رہے۔ [16][17]

ابتدائی زندگیترميم

ان کی ولادت رومانیہ کے ماراموریش کاؤنٹی میں ہوئی۔ [18] ان کے والدین کا نام سارہ فیگ اور شلومو ویشل ہے۔ گھر پر ان کے اہل خانہ زیادہ تر یدیش زبان بولتے ہیں مگر جرمن زبان، مجارستانی زبان اور رومانیائی زبان بھی بول لیتے ہیں۔ [19][20] ان کو انسان دوستی کی تعلیم والد سے ملی جنہوں نے ان کو عبرانی زبان سیکھنے کی ترغیب دی اور ادب کا مطالعہ کرنے پر ابھارا۔ ان کی والدہ نے ان کو تورات کے مطالعہ پر ابھارا۔ ان کی والدہ ایک حسیدی یہودی کی بیٹی تھی۔ ویزل کہتے ہیں کہ ان کے والد نے وجوہات کی وکالت کی جب کہ والدہ نے ایمان کی طرف توجہ دلائی۔ [21]

مرگ انبوہ کے دوران یتیمی اور جیلترميم

 
بچینوالڈ کانسینٹریشن کیمپاپریل 16, 1945ء میں یہ تصویر کیمپ سے آزاد ہونے کے پانچ دن قبل لی گئی تھی۔ نیچے سے دوسری صف میں ویزل درمیان میں ہیں۔ بائیں طرف سے ساتویں، بنک پاسٹ کے بعد اگلے وہیں ہیں۔ ۔[22]

سنہ 1944ء میں جرمنی نے ہنگری پر قبضہ کر لیا اور یہیں سے اس ملک میں مرگ انبوہ کا آغاز ہو گیا۔ اس وقت ویزل کی عمر 15 سال تھی اور ان کو دیگر اہل قصبہ سے ساتھ اسی قصبہ کے کی ایکیہودی بستی میں ڈال دیا گیا، یہ وہی جگہ تھی جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اور پلے بڑھے تھے۔ 1944ء میں ان کو آؤشوِٹس حراستی کیمپ میں بھیجا گیا جہاں ان کی والدہ اور چھوٹی بہن کا قتل ہو گیا۔ [23] کیمپ سے آزاد ہونے سے قبل ان کے والد بھی چل بسے۔ [23] اپنی ناول “نائٹ“ میں اپنی شرمندگی کے ایام کو یاد کرتے ہیں جب ان کے والد کو پیٹا جا رہا تھا اور وہ بے بس و ناچار تھے جو اپنے باپ کی مدد بھی نہیں کر سکا۔ [23][24]

جنگ کے بعدترميم

فرانسترميم

دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد ویزل کو آزاد کر دیا گیا اور وہ فرانس آگئے جہاں نے انہوں نے ایک بحالی مرلز کا افتتاح کی۔ بعد ازاں وہ 90 سے 100 راسخ الاعتقاد افراد کے ایک گروپ میں شامل ہو گئے جو کشروت پر عمل کرنے کے خواہاں تھے اور مذہب پر مکمل عمل کی ازادی چاہتے تھے۔ پھت ویزل پیرس گئے اور فرانسیسی زبان سیکھی اور مارٹن بوبر اور ژاں پال سارتر کے لکچر سنے۔ انہوں نے اپنے ایام فیودر دوستوئیفسکی، فرانز کافکا اور تھامس مین کی کتابیں پڑھتے ہوئے بسر کیے۔ [25] 19 سال کی عمر میں صحافی بن گئے اور عبرانی کی تعلیم بھی دینے لگے۔ انہوں نے اسرائیلی اور فرانسیسی اخبارات میں لکھنا شروع کر دیا۔ ۔[25] جنگ کے دس برسوں انہوں نے مرگ انبوہ کے بارے میں بات کرنا یا کچھ لکھنا بند کر دیا۔ 1952ء میں نوبل انعام برائے ادب پانے والے فرانسیوس ماؤریک ویزل کے دوست بن گئے ۔ وہ مسیحی تھے۔ انہوں نے ویزل کو بیت عیناہ کا لعزر سے تشبیہ دی ۔ [26][27] انہوں نے ہی ویزل کو اپنے ڈراونے تجربے کو قلم زد کرنے کی صلاح دی۔ [25] انہوں نے یدیش زبان میں 900 صفحات کی ایک کتاب (اور جب دنیا خاموش رہی) لکھی۔[28] اس کے بعد 1955ء میں فرانسیسی زبان میں (لا نیوٹ) لکھی جس کا انگریزی میں نائٹ کے نام سے ترجمہ ہوا۔ [29]

ریاستہائے متحدہ امریکاترميم

 
Wiesel in 1987.

1955ء میں ویزل نیو یارک چلے گئےجہاں ان کو متعدد ادبی اعزازات سے نوازا گیا اور ان کی کئی کتابوں کا ترجمہ ہوا۔ انہوں نے ماریئر سے شادی کی جس نے ان کی کتابوں کا ترجمہ کیا تھا۔ [30][30] امریکا میں انہوں نے 40 سے زیادہ تصنیف کیں ان میں زیادہ غیر افسانوی ادب تھا اور مرگ انبوہ کے واقعات پر مبنی تھیں۔ اسی وجہ نے کئی مؤرخوں نے ان کو مرگ انبوہ کے واقعات کو تازہ کردینے والا بتایا۔ [31]

سیاسی سرگرمیاںترميم

مزید دیکھیےترميم

لوا خطا: not enough memory۔

حوالہ جاتترميم

  1. ربط : https://d-nb.info/gnd/11880975X  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w62b96wf — بنام: Elie Wiesel — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب انٹرنیٹ بروڈوے ڈیٹا بیس پرسن آئی ڈی: https://www.ibdb.com/broadway-cast-staff/5346 — بنام: Elie Wiesel — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=166354255 — بنام: Elie Wiesel — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب Internet Speculative Fiction Database author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?98597 — بنام: Elie Wiesel — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب بنام: Elie Wiesel — فلم پورٹل آئی ڈی: https://www.filmportal.de/5e1a6b30aea641cb85121ae1d8ef9a62 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ ا ب Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000018013 — بنام: Elie Wiesel — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. http://www.haaretz.com/israel-news/1.575072
  9. بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb11929172k — بنام: Eliezer Wizl — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  10. https://libris.kb.se/katalogisering/jgvxtt7227ljp9l — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 2 دسمبر 2016
  11. https://www.hotnews.ro/stiri-arhiva-1247406-elie-wiesel-trimite-inapoi-lui-iliescu-steaua-romaniei.htm
  12. Recording of Elie Wiesel saying his name at TeachingBooks.net
  13. National Library Service
  14. لوا خطا: not enough memory۔
  15. لوا خطا: not enough memory۔
  16. لوا خطا: not enough memory۔
  17. لوا خطا: not enough memory۔
  18. لوا خطا: not enough memory۔
  19. لوا خطا: not enough memory۔
  20. لوا خطا: not enough memory۔
  21. Fine 1982:4.
  22. لوا خطا: not enough memory۔
  23. ^ ا ب پ "Elie Wiesel, Holocaust Survivor And Nobel Laureate, Dead At 87"، Huffington Post، جولائی 2, 2016
  24. لوا خطا: not enough memory۔
  25. ^ ا ب پ Snodgrass, Mary Ellen. Beating the Odds: A Teen Guide to 75 Superstars Who Overcame Adversity، ABC CLIO (2008) pp. 154–156
  26. Fine, Ellen S. Legacy of Night: The Literary Universe of Elie Wiesel، State Univ. of New York Press (1982) p. 28
  27. Wiesel, Elie. Night، Hill and Wang (2006) p. ix
  28. Naomi Seidman (Fall 1996). "Elie Wiesel and the Scandal of Jewish Rage". Jewish Social Studies 3:1: 5. doi:ڈی او ئي. 
  29. لوا خطا: not enough memory۔
  30. ^ ا ب لوا خطا: not enough memory۔
  31. Wiesel:1999, 18.

لوا خطا: not enough memory۔

لوا خطا: not enough memory۔