مرکزی مینیو کھولیں

حیات الحیوان

علم حیوانات اور حیوانات پر ایک نادر عربی کتاب

حیات الحیوان علامہ کمال الدین الدمیری (متوفی 808ھ/ 1505ء) کی شاہکار تصنیف ہے۔ علم حیوانات پر دنیائے اسلام میں اِس کتاب کے ابھی تک کوئی دوسری مثال پیش نہیں کی جاسکی۔ حیات الحیوان اپنی تالیف سے آج تک اِس علم میں ایک نادرروزگار شاہکار سمجھی جاتی ہے۔اپنے زمانہ ٔ تصنیف سے اب تک اپنی متنوع اور گوناگوں خصوصیات کی بنا پر یہ کتاب مقبولِ عام رہی ہے اور مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں اِس کے تراجم بھی ہوئے ہیں۔

فہرست

تاریخترميم

یہ کتاب کس سنہ میں لکھنا شروع کی گئی؟ اِس سوال کا جواب ہمیں علامہ کمال الدین الدمیری کی کسی بھی تصنیف سے نہیں ملتا البتہ یہ کتاب ماہِ رجب 773ھ مطابق جنوری 1372ء میں مکمل ہوئی۔

خصوصیاتترميم

حیات الحیوان حیوانات کے مفصل تذکرے پر مبنی ایک شاہکار کتاب ہے کہ جس میں 1069 جانوروں کا ذِکر کیا گیا ہے۔ اِن میں سے جن جانوروں کا حلیہ اور تفصیل کا ذِکر ہوا ہے، اُن کی تعداد 731 ہے۔ لیکن چونکہ بساء اوقات مختلف جانوروں کو ایک ہی نام دِیا گیا ہے اور متعدد مقامات پر اِس کے برعکس ایک ہی جانور مختلف عناوین کے تحت بیان کیا گیا ہے، اِس لیے کتاب میں مذکور حیوانات کی اصل تعداد متعین کرنا خاصا دشوار کام معلوم ہوتا ہے۔ اِس کے علامہ علامہ کمال الدین الدمیری نے خلفاء کی تاریخ ذیل میں 69 خلفاء کا تذکرہ بھی کیا ہے۔[1]

تلخیصاتترميم

کتاب کی ضخامت کے پیش مختلف اَدوار میں اِس کے اِنتخابات (Selections) بھی تیار کیے گئے جبکہ اِس کی ملخصات و تلخیصات بھی کیے گئے۔

حاوی الحسان من حیات الحیوانترميم

  • حاوی الحسان من حیات الحیوان کے نام سے ایک تلخیص حنفی العقیدہ عالم محمد بن عبدالقدیر بن محمد الدمیری نے کی جس میں اُنہوں نے ’’اوز‘‘ کے عنوان کے تحت طویل تاریخی تفصیلات حذف کردی تھیں۔ حاوی الحسان کا عربی مخطوطہ پیرس لائبریری کے شعبہ مخطوطات میں موجود ہے۔

عین الحیواۃترميم

عین الحیواۃ کے نام سے ایک تلخیص محمد بن ابی بکر بن عمر بن ابی بکر بن محمد المخزومی الدمامینی المالکی نے کی تھی جس کی تکمیل 14 شعبان 823ھ مطابق 24 اگست 1420ء کو ہوئی۔ گویا یہ تلخیص علامہ کمال الدین الدمیری کی وفات کے پندرہ سال بعد کی گئی۔ جیسا کہ اِس تلخیص کے دیباچے سے ظاہر ہوتا ہے۔ مؤلف محمد بن ابی بکر بن عمر بن ابی بکر بن محمد المخزومی الدمامینی المالکی علامہ کمال الدین الدمیری کے شاگردوں میں سے تھے اور اُنہیں حیات الحیوان کے مضامین خود علامہ کمال الدین الدمیری سے سننے کا موقع ملا تھا۔ جرمن مستشرق فرڈینینڈ وسٹنفیلڈ (Ferdinand Wüstenfeld) (متوفی 8 فروری 1899ء) کے مطابق اِس تلخیص کے مخطوطات برلن اور پیرس میں موجود ہیں لیکن چونکہ اُس نے اِس تلخیص یا اُس کے مؤلف کا نام نہیں دیا، اِس لیے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ مذکورۂ بالا مخطوطات میں سے کوئی ایک ہی نسخہ ہے یا الگ سے کوئی مخطوطہ نسخے کی صورت میں موجود ہے۔

تراجمترميم

حیات الحیوان کے تراجم ہنوز متعدد زبانوں میں کس قدر ہوئے؟ اِن کا انداز مشکل ہے، علاوہ اَزیں جن تراجم کا تذکرہ تاریخ کی کتب سے دستیاب ہوتا ہے، وہ یہ ہیں:[2]

  • علامہ ابو الفضل فیضی (متوفی 5 اکتوبر 1595ء) نے حیات الحیوان کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا تھا اور یہ ترجمہ مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے لیے تھا جسے وہ اکثر دِلچسپی سے دیکھتا یا سنتا تھا۔
  • فارسی زبان میں مزید اِضافے کے ساتھ ترجمہ حکیم شاہ محمد القزوینی نے عثمانی سلطان سلیم اول (متوفی 22 ستمبر 1520ء) کے لیے لکھا تھا۔
  • حیات الحیوان کا ایک ترجمہ شیخ الہند مولانا محمودالحسن دیوبندی (متوفی 30 نومبر 1920ء) نے بھی کیا تھا۔ غالباً یہی ترجمہ مطبع منشی نول کشور، لکھنؤ سے شائع ہوا تھا۔ یہ ترجمہ اب ناپید ہے اور باوجود جستجو کے دستیاب نہیں ہوسکتا۔
  • عبدالخبیر بجنوری نے بھی حیات الحیوان کا اردو زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ یہ باقاعدہ فاضل تو نہیں تھے لیکن عربی زبان سے خاصی دِلچسپی رکھتے تھے۔ یہ ترجمہ مکمل دستیاب نہیں ہو سکا اور مخطوطہ کی شکل میں ہی ضائع ہوچکا ہے۔ عبدالخبیر بجنوری مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب قاسمی (رکن شوریٰ دار العلوم دیوبند) کے قریبی رشتہ دار تھے۔
  • معلوف یسوعی نے لکھا ہے کہ حیات الحیوان الکبریٰ بارہا فارس (ایران) میں باتصویر دیدۂ زیب 1168ھ مطابق 1755ء میں شائع ہوچکی ہے۔[3]

طباعتترميم

حیات الحیوان پہلی بار عربی زبان میں زیرسرپرستی خدیو سعید پاشا، بولاق پریس، قاہرہ (مصر) سے 1275ھ مطابق 1858ء میں شائع ہوئی۔ دوسری بار پھر بولاق پریس، قاہرہ (مصر) سے 1284ھ مطابق 1867ء میں شائع ہوئی۔ 1305ھ مطابق 1887ء میں یہ مہیمونیہ پریس، قاہرہ سے شائع کی گئی۔ اِسی ایڈیشن کے حواشی پر زکریا بن محمد بن محمود القزوینی (متوفی 682ھ) کی تصنیف عجائب المخلوقات والحیوانات و غرائب الموجودات بھی شامل کی گئی تھی۔ بعد ازاں ایران سے حیات الحیوان کا ایک مصور ایڈیشن اور اُس کا فارسی زبان میں مصور ایڈیشن بھی شائع کیا گیا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. علامہ کمال الدین الدمیری: حیات الحیوان، صفحہ 21۔ مطبوعہ لاہور، 1992ء
  2. علامہ کمال الدین الدمیری: حیات الحیوان، صفحہ 35۔ مطبوعہ لاہور، 1992ء
  3. المنجد:  جلد 2،  صفحہ 171۔