مردوں کی ٹھوڑی اور گالوں پر بالغ ہونے پر اگنے والے بال داڑھی کہلاتے ہیں اور وہ بالعموم بلوغت کا نشان کہلاتے ہیں۔

داڑھی

تاریخترميم

قدیم زمانے میں یورپ اور ایشیا میں اس کو تقدیس کا درجہ دیا جاتا تھا۔ داڑھی اہل اسلام کے مذہبی شعار میں داخل ہے اور یہودیوں اور رومن کتھولک مسیحیوں میں بھی اس کو عزت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کو مصر میں غلامی کی زندگی کے دوران داڑھی منڈانے کی اجازت نہ تھی۔ اس لیے وہ اپنی ڈاڑھیوں کو لمبا چھوڑ دیا کرتے تھے اور اسی نشانی سے ان میں اور مصریوں میں تمیز ہوتی تھی کیوں کہ مصری ڈاڑھی منڈایا کرتے تھے۔ صدیوں قدیم اس رواج کے باعث داڑھی عزت کی نشانی بن گئی۔ سکندر اعظم نے اپنی فوج میں داڑھی رکھنا ممنوع قرار دے دیا تھا۔ اسلام میں بھی جہاں ایک طرف داڑھی ایک مذہبی شعار سمجھا جاتا ہے، وہیں جنگ کے زمانے میں اس کا منڈانا جائز سمجھا گیا ہے۔ مسلم دنیا میں صرف طالبان کی حکومت ایسی گزری جس نے افغانستان میں داڑھی منڈوانا ایک جرم قرار دیا اور داڑھی نہ رکھنے والوں کو باقاعدہ سزا دی جاتی تھی۔ روس میں پیٹر اعظم کے وقت اور انگلستان میں اس سے کچھ عرصہ پیشتر داڑھی ولوں پر ایک ٹیکس لگایا جاتا تھا اور داڑھی رکھنا صرف شاہی اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ انگلستان کے تمام بادشاہ داڑھی رکھتے تھے۔ ایڈورڈ ہشتم نے اس رسم کو خیرباد کہہ دیا اور اس کے جانشین بھائی نے بھی اس کی تقلید کی۔

چین، جاپان، کوریا، ملایا، ہند چینی، برما، تبت، نیپال اور وہ تمام علاقہ جس میں منگول نسل کے لوگ بستے ہیں وہ قدرتی طورپر داڑھی سے محروم ہیں، چنانچہ ان ممالک میں داڑھی کی بحث پیدا نہیں ہوتی۔

اسلام میںترميم

مردوں کے لیے داڑھی رکھنا واجب ہے، اس کی شرعی مقدار ایک قبضہ یعنی ایک مشت اور داڑھی رکھنا اسلامی اور مذہبی شعار ‘ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی متفقہ سنت اور شرافت و بزرگی کی علامت ہے اسی سے مردانہ شکل وصورت کی تکمیل ہوتی ہے‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دائمی عمل ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے‘ لہذا اسلام میں داڑھی رکھنا ضروری ہے اور منڈانا یا ایک مٹھی سے پہلے کترانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے جو لوگ ایک مٹھی سے کم داڑھی کو جائز قرار دیتے ہیں… ان کے دلائل نہایتی کمزور اور بودے ہیں۔

داڑھی کی شرعی حدترميم

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ(الاحزاب33/21) ترجمہ: ’’بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے‘‘(کنز الایمان)۔
امام مالک و احمد و بخاری و مسلم و ابو داؤد و ترمذی و نسائی و طحاوی، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ہیں کہ حضور پرنور سید عالم ﷺ فرماتے ہیں:
خالفو المشرکین احفوا الشوارب و اوفروا اللحیۃ یعنی: "مشرکوں سے اختلاف کرو، مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ‘‘[1]۔
داڑھی ایک مشت یعنی چار انگلیوں تک رکھنا "واجب" ہے اور اس سے کم کرنا نا جائز ہے۔ شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی (1052ھ) لکھتے ہیں:
گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است و آنکہ آنرا سنت گیند بمعنی طریقہ مسلو ک دین است یا بجہت آنکہ ثبوت آں بسنت است ، چنانکہ نماز عید را سنت گفتہ اند[2]۔
یعنی: ’’داڑھی بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت ﷺ کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی ﷺ سے ہے، جیسا کہ نماز عید کو سنت کہا جاتا ہے‘‘۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے: ان النبی ﷺ کان یاخذ من لحیتہ من عرضھا و طولھا یعنی: "حضور پرنور ﷺ اپنی ریش مبارک کے بال عرض و طول سے لیتے تھے‘‘[3]۔ اعلیٰحضرت امام اھل سنت مولانا الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی (1340ھ) اس حدیث کے حوالے سے لکھتے ہیں : ’’ یہ اس وقت ہوتا تھا جب ریشِ اقدس ایک مشت سے تجاوز فرماتی تھی'‘[4]۔ نیز امام اھل سنت شاہ احمد رضا خان بریلوی (1340ھ) لکھتے ہیں : ’’داڑھی کا اس سے زائد طول کہ حدِ اعتدال سے خارج ہو جائے اور بے موقع و بد نما ہو، تو بلا شبہہ خلاف سنت و مکروہ ہے۔ کیونکہ صورت بد نما بنانا، اپنے منہ پر دروازہءِ طعن و مسخریہ کھولنا ،مسلمانوں کو استہزاء و غیبت کی آفت میں ڈالنا ، ہرگز شریعتِ مطہره نہیں‘‘[5]۔
ان عبارات سے واضح ہو گیا کہ ایک مشت کی مقدار داڑھی رکھنا واجب ہے ، نیز حضور اکرم نور مجسم ﷺ کی داڑھی مبارک ایک مشت تھی ، جب تجاوز کرجاتی تو آپ ﷺ طول و عرض میں سے کم فرماتے، لیکن ایک مشت ہمیشہ رہی۔ نیز داڑھی اس قدر لمبی رکھنا کہ بد نما صورت ہوجائے، وہ خلاف سنت و مکروہ ہے۔ و اللہ اعلم باالصواب۔

داڑھی کترے امام کے پیچھے نمازترميم

جو شخص داڑھی منڈاتا ہو یا کتروا کر ایک مٹھی سے کم کرواتا ہو، اگرچہ حافظ قرآن ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمہ (لہٰذا سخت گناہ) ہے [6] اور امامت کرنے والا بھی گنہگار ہے۔ اس کے پیچھے اگر نماز پڑھ لی تو نہ ہوگی، خود لوٹانا واجب ہے۔ کیونکہ داڑھی شرعی حد سے کم کروانے والا فاسق معلن ہوتا ہے[7]۔ حضور ﷺ نے فرمایا {لا يؤم فاجر مؤمناً الا ان يقهره سلطان يخاف سيفه او سوطه} ترجمہ: ہرگز کوئی فاسق کسی مسلمان کی امامت نہ کرے مگر یہ کہ طاقت سے مجبور کر دیا جائے یا تلوار کا ڈر ہو۔[8]

البتہ اگر بالغ نوجوان حافظ قرآن ہے اور ہنوز داڑھی نہیں آئی تو اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔ [9]

احادیث میںترميم

حدیث شریف میں حضرت عائشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل فرماتی ہیں:

"عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ․․․ الخ"
"دس چیزیں فطرت میں سے ہیں:1:․․․ مونچھوں کا کتروانا۔2:․․․ داڑھی بڑھانا۔ 3:․․․ مسواک کرنا۔ 4:․․․ ناک میں پانی ڈال کرناک صاف کرنا۔ 5․․․ ناخن تراشنا۔ 6:․․․ بدن کے جوڑوں کو دھونا۔ 7:․․․بغل کے بال اکھاڑنا۔ 8:․․․ زیر ناف بال صاف کرنا۔ 9:․․․پانی سے استنجاء کرنا، راوی کو دسویں چیز یاد نہ رہی۔ فرماتے ہیں : ممکن ہے کہ وہ کلی کرنا ہو۔"[10]

اس حدیث میں جو سنداً نہایت قوی حدیث ہے، دس چیزوں کو جن میں سے داڑھی کا بڑھانا اور مونچھوں کا کترانا بھی فطرت بتلایاگیا ہے اور فطرت عرف شرع میں ان امور کو کہا جاتاہے جو تمام انبیا اور رسل کی معمول بہ اور متفق علیہ سنت ہو اور امت کو ان پر عمل کرنے کا حکم ہو۔[11]

دوسری جگہ ارشاد نبوی ہے:

عن ابن عمر قال: قال النبی ا خالفوا المشرکین اوفروا اللحی واحفوا الشوارب‘ وفی روایة: انہکوا الشوارب واعفوا اللحی متفق علیہ“۔

"یعنی مشرکین کی مخالفت کرو مونچھیں پست کرو (چھوٹی کرو) اور داڑھی کو معاف رکھو (یعنی اسے نہ کاٹو)"[12]

امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں: ”قالوا: ومعناہ انہا من سنن الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہم“ ۔[13]

یعنی فطرت کے معنی یہ ہے کہ وہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہے۔

اس حدیث شریف سے صاف ظاہر ہو گیا کہ داڑھی بڑھانے کا حکم تمام شریعتوں میں تھا اور یہ تمام انبیا کرام علیہم السلام کی سنت رہی ہے۔

فقہا کی رائےترميم

فقہ حنفیترميم

امام ابوحنیفہ کی کتاب الآثار میں ہے:

محمد قال اخبرنا ابوحنیفة رحمہ اللہ عن الہیثم عن ابن عمر انہ کان یقبض علی اللحیة ثم یقص ما تحت القبضة قال محمد: وبہ ناخذ وہو قول ابی حنیفة رحمہ اللہ“۔

ترجمہ:․․․”امام محمد ابوحنیفہ سے وہ حضرت ہیثم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کرمٹھی سے زائد حصہ کو کاٹ دیا کرتے تھے۔ امام محمد فرماتے ہیں کہ: ہمارا عمل اسی حدیث پر ہے اور حضرت امام اعظم نے بھی یہی فرمایا ہے“۔

فقہ مالکیترميم

فقہ مالکی کے مشہور فقیہ علامہ محمد بن محمد غیثنی مالکی ”المنح الوفیہ شرح مقدمہ العزیة“ میں فرماتے ہیں:

”ان ترک الاخذ من اللحیة من الفطرة‘ وامر فی الارسال بان تعفی ای تترک ولاحرج علی من طالت لحیتہ بان یأخذ منہا اذا زادت علی القبضة“۔

ترجمہ:․․․”داڑھی رکھنا فطرت میں سے ہے اور چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ بڑھائی جائے، لیکن جس شخص کی داڑھی ایک قبضہ سے لمبی ہو جائے تو ایسے شخص کو قبضہ سے زائد حصہ کو کتروا ڈالنے میں کوئی حرج نہیں“۔

'

فقہ شافعیترميم

مشہور شافعی فقیہ اور محدث امام نووی ”حدیث خصال فطرت“ کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں:

”المختار ترکہا علی حالہا وان لایتعرض لہا بتقصیر ولاغیرہ“

ترجمہ:․․․”مذہب مختاریہ ہے کہ داڑھی کو بالکل چھوڑدیا جائے اور اس کے ساتھ کترنے اور منڈوانے کا تعرض بالکل نہ کیا جائے“۔

فقہ حنبلیترميم

فقہ حنبلی کی مشہور کتاب ”کشاف القناع شرح متن الاقناع“ ج:1‘ ص:60 میں ہے:

”واعفاء اللحیة ) بان لایاخذ منہا شیأ مالم یستہجن طولہا ویحرم حلقہا ولایکرہ اخذ ما زاد علی القبضة“

”اور حضور اکی سنت داڑھی کو چھوڑدیناہے اس طرح کہ اس میں سے کچھ بھی نہ تراشے جب تک کہ وہ لمبی ہوکر بڑی نہ لگنے لگے اور اس کا منڈانا تو بالکل حرام ہے، البتہ قبضہ سے زیادہ حصہ کا تراشنا مکروہ نہیں“۔ [14]

مذکورہ تمام احادیث اور فقہا کرام کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ داڑھی رکھنا واجب ہے اور ایک مشت یعنی قبضہ سے کم کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. (صحیح البخاری ،کتاب اللباس،2/875۔ صحیح مسلم ،کتاب الطہارۃ،باب خصال الفطرۃ،1/129۔ سنن الترمذی،5/95۔ سنن النسائی المجتبی،1/16۔ سنن ابی داؤد،4/84۔ مسند احمد،2/16،شرح معانی الآثار،4/230)
  2. (اشعۃ اللمعات،کتاب الطہارۃ ، باب السواک ،1/212،فتاوی رضویہ،22/581،مطبوعہ جدید)
  3. (جامع الترمذی،ابواب الآداب ، باب ما جاء فی الاخذ من اللحیۃ،2/ 100،امین کمپنی دھلی)
  4. (فتاوی رضویہ، 22/ 590،مطبوعہ جدید)
  5. (فتاوی رضویہ، 22/ 582،مطبوعہ جدید)
  6. (غنیه المستملي شرح منية المصلي، ص 279، مطبوعہ مجتبائی پریس، دہلی)
  7. (فتاويٰ رضویہ، ج 6، ص 544، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
  8. (سنن ابن ماجہ، صفحہ: 77، مطبوعہ آفتاب عالم پریس، لاہور)
  9. (فتاويٰ رضویہ، ج 6، ص 545، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
  10. صحیح مسلم ج:1‘ص:129
  11. فتاویٰ رحیمیہ جدید‘ ج:10‘ ص:106
  12. مشکوٰۃ: ص:380
  13. نووی شرح مسلم‘ ج:1‘ ص:128
  14. بحوالہ داڑھی کا وجوب ص:75تا76 حضرت شیخ محمد زکریا

بیرونی روابطترميم

داڑھی کے بارے میں مزید اقتباسات