مرکزی مینیو کھولیں

“ مُغل “اور “ مغُول “لفظ منگول کی بگڑی ہوئی شکل ہے منگولوں کے عرب مملک پر حملوں اور قبضہ کے بعد لفظ “منگول” جب عربی سے متارف ھوا تو یہ لفظ “مغُول ” کی صورت میں تبدیل ھوگیا کیونکہ عربی زبان کے حروف تہجی میں “گ” نہیں ہے اس طرح “گ”کی جگہ”غ ” نے لے لی مغولان جمع کا لفظ ہے اس کا واحد مُغل یا مغول ہے۔ یورپین مورخین اور محقیقین انہیں تاتاری بھی لکھتے اور کہتے ہیں اس وجہ سے عرب ریاستوں میں اور ساتھ ساتھ ایران ،عراق، افغانستان کی ریاستوں میں مغول بولا جانے لگا اور وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ لب و لہجہ کی تبدیلی کی وجہ سے ہندوستان میں مختصر ھوکر مُغل رہ گیا اور یہ ایک ہی قوم کے مختلف نام ہیں۔ھندوستان پاکستان افغانستان اور بنگلہ دیش میں لفظ مغل سترہویں صدی سے رائج ہے اور باقی دُنیا میں ان کو منگول کہا جاتا ہے۔

موجودہ منگولیا، روس اور چین اور خصوصاً وسط ایشیائی سطح مرتفع صحرائے گوبی کے شمال اور سائبیریا کے جنوب سے تعلق رکھنے والی ایک قوم ہے۔اس وقت” منگولوں“ یا مغلوں کی کافی ساری تعداد دنیا میں پھیلی ھوئی ہے۔

تاریخ عالم میں مغلوں کی اولین مشہور شخصیت جوتومنہ خان کی پانچویں پُشت میں سے تھا چنگیز خان (پیدائش 1160ء، وفات: 1227ء) جس نے چین کے مشرقی ساحلوں سے لے کر یورپ کے وسط تک ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ یہ تاریخ عالم کی سب سے بڑی سلطنتوں میں سے ایک تھی جو مغرب میں ہنگری، شمال میں روس، جنوب میں انڈونیشیا اور وسط کے بیشتر علاقوں مثلا افغانستان، ترکی، ازبکستان، گرجستان، آرمینیا، روس، ایران، پاکستان، چین اور بیشتر مشرق وسطی پر مشتمل تھی۔

تاریخ عالم کی دوسری بڑی مُغل یا منگول سلطنت کی بنیاد تومنہ خان کی دسویں پُشت میں امیر تیمور گورگانی(پیدائش،1336ء وفات،1405ء) نے رکھی جسے تیموری سلطنت بھی کہتے ہیں۔

تیسری مُغل یا منگول سلطنت کی بُنیاد تومنہ خان کی پندرہویں اور امیر تیمور گورگانی کی چھٹی پُشت میں مرزا ظہیرالدین بابر (پیدائش، 1483ء وفات، 1530ء) نے ہندوستان میں ابراہیم لودھی کوپانی پت کے میدان میں شکست دے کر 1526میں رکھی جو تقریباً 331 سال قائم رہی۔

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

نگار خانہترميم