سجدہ تلاوت

قرآن کریم کی وہ آیات جن میں سجدہ کا سجدہ کی صفت آئی ہے، جس کے مطابق تلاوت کرنے والے شخص پر سجدہ کرنا لازم ہوجاتا ہے۔

سجدۂ تلاوت قرآن کریم میں چند مقامات ایسے ہیں جن کی تلاوت کرنے یا کسی تلاوت کرنے والے سے سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے اس سجدۂ تلاوت کہتے ہیں ان سب کو سجود التلاوہ بھی کہا جاتا ہے۔قرآن کی وہ آیات جن کو پڑھتے ہوئے یا سنتے ہوئے سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ ان آیات پر سجدہ کرنا متفق علیہ ہے، مگر اس کے واجب ہونے میں اختلاف ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک سجدہ تلاوت واجب ہے۔

مصاحف معاصرہ میں پائے جانے والا سجدے کی علامت۔

سجدہ تلاو ت کا معنیترميم

سجدہ تلاوت اُس سجدہ منفردہ کو کہتے ہیں جو نیت کرکے دو تکبیروں(یعنی سجدہ میں جانے اور اُٹھنے کی تکبیروں) کے درمیان میں کیا جاتا ہے هِيَ سَجْدَةٌ مُفْرَدَةٌ مَنْوِيَّةٌ مَخْفُوفَةٌ بَيْنَ تَكْبِيرَتَيْنِ۔[1]

سجدہ تلاو ت کا حکمترميم

سجدہ تلاوت کے مشروع ہونے میں سب کا اتفاق ہے ، البتہ اِس کے وجوب میں اختلاف ہے : امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک سنت ہے ۔[2]

سجدہ تلاوت کی فضیلتترميم

ابوہریرہ نبی کریمﷺکا یہ اِرشاد نقل فرماتے ہیں : جب ابن آدم آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہےتو شیطان الگ ہوکر روتا ہے اور حسرت کے ساتھ کہتا ہے: ہائے افسوس!!ابن آدم کو سجدوں کا حکم دیا گیاتو اُس نے سجدہ کرلیا پس اُس کیلئے جنّت ہے،جبکہ مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے اِنکار کردیا پس میرے لئے جہنم ہے۔ [3]

سجدہ تلاوت کس پرترميم

اِس پر سب کا اتفاق ہے کہ قاری یعنی آیتِ سجدہ پڑھنے والے پر سجدہ تلاوت کرنا(علی اختلاف القولین) لازم یا سنّت ہے، البتہ سننے والے پر سجدہ سہو ثابت ہونے کیلئے اُس کا اِرادۃً سننا ضروری ہے یا بلاقصد سننے سے بھی ہوجاتا ہے، اِس میں اختلاف ہے:

  • احناف و شوافع: سامع اور مستمع دونوں پر سجدہ تلاوت ہے، یعنی بالقصد سنے یا بلاقصد۔
  • مالکیہ و حنابلہ: مستمع پر سجدہ تلاوت ہے، سامع پر نہیں، یعنی بالقصد سننے والے پر سجدہ سہو ہوتا ہے، بلاقصد سننے والے پر نہیں۔[4]

شرائط سجدہ تلاوتترميم

اِس سجدہ کے لئے بھی نماز کے سجدہ کی مانند شرائط ہیں کہ:

  • قبلہ رُو ہونا۔
  • با وضو ہونا۔
  • نماز کے سجدہ کی مانند سر زمین پر رکھنا۔

آیتِ سجدہ کو ترک کردیناترميم

تلاوت کے دوران میں آیتِ سجدہ کو ترک کرکے آگے بڑھ جانا درست ہے یا نہیں ، اِس میں اختلاف ہے: امام مالک: اگر کوئی وضو سے ہو اور مکروہ وقت بھی نہ ہو تو آیتِ سجدہ کو ترک کردینا مکروہ ہے،اِس لئے کہ یہ اعراض کرنے کے مُشابہ ہے، جو درست نہیں ۔اور اگر کوئی وضو سے نہ ہو یا مکروہ وقت ہو تو بلاکراہت جائز ہے ، اِس لئے کہ ابھی سجدہ کرنا ممکن نہیں۔ ائمہ ثلاثہ : آیتِ سجدہ کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا مکروہ ہے، اِس لئے کہ اِس میں سجدے سے اعراض کرنا لازم آتا ہے، جو ظاہر ہے کہ درست نہیں۔[5]

مقامات سجدہترميم

احناف کے مطابق قرآن مجید میں کل چودہ سجدے ہیں۔ چار سجدے قرآن مجید کے نصفِ اول میں ہیں ‘ اور دس نصفِ ثانی میں ہیں۔[6]

  • امام احمد : 15 ہیں۔ سورۃ الحج کے دونوں اور سورۂ ص کا بھی ہے۔
  • امام مالک : 11 ہیں۔ سورۂ صٓ اور مفصلات (نجم، انشقاق اور علق) کے تینوں نہیں ہیں
  • احناف و شوافع: 14 سجدے ہیں — پھر — ان کے درمیان میں تعیین میں اختلاف ہے:
  • احناف : سورۃ الحج کا پہلا ہے، دوسرا نہیں۔ اور سورۂ صٓ کا سجدہ ہے۔
  • شوافع: سورۃ الحج کے دونوں ہیں اور سورۂ ص کا سجدہ نہیں ہے۔[7]
شمار سورۃ سورۃ آیت نمبر آیت کا متن اُردو ترجمہ فقہ حنفی فقہ مالکی فقہ شافعی فقہ حنبلی
1 پہلی آیت سجدہ تلاوت الاعراف 206   إِنَّ الَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ     یقیناً جو تیرے رب کے نزدیک ہیں، وہ اُس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اُس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اُس کو سجدہ کرتے ہیں O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
2 دوسری آیت سجدہ تلاوت سورہ الرعد 15   وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ     اللہ ہی کے لیے زمین اور آسمان کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے سجدہ کرتی ہے اور اُن کے سائے بھی صبح و شام O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
3 تیسری آیت سجدہ تلاوت النحل 49   وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مِن دَآبَّةٍ وَالْمَلآئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ     یقیناً آسمان و زمین کے کل جانداز اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
4 چوتھی آیت سجدہ تلاوت الاسراء 109   وَيَخِرُّونَ لِلأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا     وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور یہ قرآن اُن کی عاجزی اور خشوع اور خضوع بڑھا دیتا ہے O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
5 پانچویں آیت سجدہ تلاوت مریم 58   أُوْلَئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَن خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا     یہی وہ انبیا ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم کیا جو اولاد آدم میں سے ہیں اور اُن لوگوں کی نسل سے ہیں جنہیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں چڑھا لیا تھا اور اولادِ ابراہیم و یعقوب سے اور ہماری طرف سے راہ یافتہ اور ہمارے پسندیدہ لوگوں میں سے۔ اُن کے سامنے جب اللہ رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی، یہ سجدہ کرتے اور روتے گڑگڑاتے گر پڑتے تھے O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
6 چھٹی آیت سجدہ تلاوت الحج 18   أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ     کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجدے میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانوراور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہوچکا ہے، جسے رب ذلیل کر دے اُسے کوئی عزت دینے والا نہیں، اللہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
7 ساتویں آیت سجدہ تلاوت الفرقان 60   وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًا     اُن سے جب بھی کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو جواب دیتے ہیں رحمٰن ہے کیا؟ کیا ہم اُسے سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اِس (تبلیغ) نے اُن کی نفرت میں مزید اِضافہ کر دیا O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
8 آٹھویں آیت سجدہ تلاوت النمل 26   اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ     اُس کے سواء کوئی معبودِ برحق نہیں، وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
9 نویں آیت سجدہ تلاوت سجدہ 15   إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ     ہماری آیتوں پر وہی اِیمان لاتے ہیں جنہیں جب کبھی اُن سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ہیں O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
10 دسویں آیت سجدہ تلاوت ص 24   قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنْ الْخُلَطَاء لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ     آپ نے فرمایا: اُس کا اپنی دُنبیوں کے ساتھ تیری ایک دُنبی ملا لینے کا سوال بے شک تیرے اوپر ایک ظلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں،   سوائے اُن کے جو اِیمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے اُنہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور  (پوری طرح)  رجوع کیا O سجدہ سجدہ نہیں ہے سجدہ نہیں ہے سجدہ
11 گیارہویں آیت سجدہ تلاوت حم السجدہ 37   وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ     اور دن رات اور سورج چاند بھی (اُسی کی) نشانیوں میں سے ہیں،  تم سورج کو سجدہ نہ کرو، نہ چاند کو بلکہ سجدہ اُس اللہ کے لیے کرو جس نے اِن سب کو پیدا کیا ہے،  اگر تمہیں اُسی کی عبادت کرنی ہے تو  O سجدہ سجدہ سجدہ سجدہ
12 بارہویں آیت سجدہ تلاوت النجم 62   فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا     اب اللہ کے سامنے سجدے کرو اور (اُسی کی) عبادت کرو O سجدہ سجدہ نہیں ہے سجدہ
13 تیرہویں آیت سجدہ تلاوت الانشقاق 21   وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ     اور جب اُن کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے O سجدہ سجدہ نہیں ہے سجدہ سجدہ
14 چودہویں آیت سجدہ تلاوت العلق 19   كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ     خبردار!   اُس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجدہ کر اور قریب ہوجا O سجدہ سجدہ نہیں ہے سجدہ سجدہ
15 سجدہ تلاوت مطابق امام شافعی الحج 77   يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ     اے اِیمان والو !  رکوع سجدہ کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ O سجدہ نہیں ہے سجدہ سجدہ

سجدہ

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. مرقاۃالمفاتیح:2/809،دار الفكر، بيروت - لبنان
  2. البنایۃ شرح ھدایہ:2660۔دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان
  3. مسلم:81
  4. الفقہ الاِسلامی:2/1127۔الفقہ علی المذاہب:1/421
  5. الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:24/229
  6. در مختار : جلد 1، ص 577، مطبوعہ ملتان۔
  7. مرقاۃالمفاتیح:2/813،دار الفكر، بيروت - لبنان

[[زمرہ:مذہب کے سورة حم السجدہ میں پایا جانے والا سجدہ احناف کے نزدیک واجب کیوں نہیں