سریانی راسخ الاعتقاد کلیسیا

سریانی راسخ الاعتقاد کلیسیا برائے انطاکیہ (سریانی: ܥܺܕܬܳܐ ܣܽܘ̣ܪܝܳܝܬܳܐ ܬܪܺܝܨܰܬ ܫܽܘ̣ܒ̥ܚܳܐ؛ عربی: الكنيسة السريانية الأرثوذكسيةاورینٹل راسخ الاعتقاد کا ایک کلیسیا ہے۔


سریانی راسخ الاعتقاد کلیسیا
سریانی: ܥܺܕܬܳܐ ܣܽܘ̣ܪܝܳܝܬܳܐ ܬܪܺܝܨܰܬ ܫܽܘ̣ܒ̥ܚܳܐ
عربی: الكنيسة السريانية الأرثوذكسية
زمرہ بندیاورینٹل راسخ الاعتقادی
صحیفہپشیطتا
الٰہیاتمیافیزیت
سیاسی نظاماسقفی
اعلیٰ اسقفپیٹری آرک اگناتیوس افرام دوم
جاثلیق برائے بھارتمالنکارا راسخ الاعتقاد یعقوبی سریانی کلیسیا
علاقہسرزمین شام، عراق، ترکی، بھارت
انتشار: مخصوص طور پہ سویڈن، جرمنی، مملکت متحدہ، نیدرلینڈز، آسٹریا، فرانس، ریاستہائے متحدہ امریکا، کینیڈا، گواتیمالا، برازیل، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں
زبانسریانی
صدر دفاترمُقدس جارج کیتھیڈرل، دمشق، سوریہ (1959ء سے)
تاریخی طور پر: انطاکیہ دار الحکومتِ سوریہ کبریٰ۔
بانیاس کلیسیا کی روایات کے مطابق مقدس پطرس اور مقدس پولس
ابتدا37ء
انطاکیہ، بازنطینی سلطنت جس کے متعلق ایمان ہے کہ یسوع مسیح کو یروشلم کے باہر پہلا مسیحی کہا گیا بمطابق اعمال عہد نامہ جدید۔
اراکین5 ملین سے زائد[حوالہ درکار]
باضابطہ ویب سائٹسریانی راسخ الاعتقاد کلیسیا سریانی راسخ الاعتقاد بطریق

اسے یعقوبی فرقہ یا یعقوبی کلیسیا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ فرقہ چھٹی صدی عیسوی میں نمودار ہوا جس کے اثرات اب تک شام اور عراق میں باقی ہیں، ان کا قائد یعقوب برادعی تھا، اس کا نظریہ آریوس اور نسطور دونوں کے بالکل برعکس تھا۔ نسطور نے یسوع مسیح کے وجود میں ”دو حقیقتوں“ کے ساتھ ”دو شخصیتں“ ثابت کی تھیں، یعقوب برادعی کے بقول یسوع نہ صرف ایک شخصیت تھے بلکہ ان میں ”حقیقت“ بھی صرف ایک پائی جاتی تھی، ”اور وہ تھی خدا یعنی وہ صرف خدا تھے۔ گو وہ ہمیں انسان کی شکل میں نظر آتے ہوں۔“[1] یہ پہلے مقدس یعقوب برادعی کے نام پر یعقوبی کلیسیا کے نام سے جانا جاتا تھا مگر بعد میں رسولی مبدا (مقدس پطرس اور مقدس پولس) کی وجہ سے اس کا نام تبدیل کر کے سریانی راسخ الاعتقاد کلیسیا رکھ دیا گیا۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. دی ورلڈ فیملی انسائکلوپیڈیا ص 2638، ج 10، مطبوعہ نیویارک 1957ء