پطرس (انگریزی: Peter) یونانی نام "پتروس" جس کا معنی ہے "پتھر"۔۔[3] اس کا اصل نام "شمعون" تھا۔[4] کاتھولک کلیسیا اس کو اپنا بانی سمجھتا ہے اس سے کچھ کتب بھی منسوب ہیں۔ یہی پہلا پوپ مانا جاتا ہے۔ رومی بادشاہ نیرو کے عہد میں اس کو اس x طرح کی صلیب پر پھانسی دی گئی تھی۔[5]

بطریق اعظم مقدس
پطرس
رسول، پوپ، بطریق اور شہید
کلیسیاابتدائی مسیحی عظیم کلیسیا
کَليسیائی دائرَہ اختِيار
پاپائی آغاز30ء[1]
پاپائی اختتام64ء اور 68ء کے درمیان [2]
جانشین
رتبہ
نفاذ فرمان33ء
 مسیح عیسیٰ
ذاتی تفصیلات
پیدائشی نامشمعون (شمی عون، شمن)
پیدائش
بیت صیدا، سطح مرتفع گولان، سوریہ، رومی سلطنت
وفات64ء/68ء (62-67 سال)
کلیمنٹائن چیپل، ویٹیکن مرتفع، روم، اطالیہ، رومی سلطنت
والدینجان (یا یونس؛ یوحنا)
پیشہماہی گیر، پادری
بزرگی
تہواراہم ضیافت 29 جون (ہمراہ سینٹ پولس، کاتھولک کلیسیا، راسخُ الاعتقاد کلیسا، اورینٹل الاعتقادی، انگلیکانیت، لوتھریت)
18 جنوری سینٹ پطرس چیئر روم (قبل 1960 رومن کیلنڈر)
18 جنوری کنفیشن آف سینٹ پطرس(انگلیکانیت)
22 فروری سینٹ پطرس چیئر(کاتھولک کلیسا)
1 اگست سینٹ پطرس ونکولی (قبل 1960 رومن کیلنڈر)
احترام درتمام مسیحیت کے فرقے
قداستقبل کانگریگیشن
منسوب خصوصیاتجنت کی چابیاں، پیلیم, پوپ کا لباس، مرغا، آدمی الٹا مصلوب ، ایک رسول کے لباس میں ، ایک کتاب یا صحیفہ تھامے ہوئے، سینٹ پطرس کی صلیب. تصویر کشی سے، ان کو جنگلی کی طرح سفید داڑھی اور سفید بالوں کے ساتھ دیکھا گیا۔
سرپرستیسرپرستی کی فہرست
مزارپطرس باسلیکا

ابتدائی زندگی

ترمیم

پطرس بیت صیدا کا باشندہ تھا۔[6] اس کے باپ کا نام "یوحنا" تھا۔ وہ ان پڑھ آدمی تھا۔[7]آرامی اور یونانی زبانیں بول سکتا تھا۔ اس نے جوانی میں ماہی گیری کا پیشہ اپنایا۔اناجیل ہمنوا کے مطابق پطرس کی ساس کو یسوع مسیح نے اس کے کفر ناحوم نامی گھر میں شفا دی تھی۔[8][9][10] یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پطرس ایک شادی شدہ شخص تھا۔

پطرس اور مسیح

ترمیم

اناجیل ہمنوا کے مطابق پطرس کی ساس کو یسوع مسیح نے ان کے کفر ناحوم نامی گھر میں شفا دی۔[8][9][10] انجیلی روایت کے مطابق پطرس کے بھائی اندریاس نے پطرس کا تعارف مسیح سے کروایا اور اس طرح پطرس ایمان لایا، جس پر مسیح نے اس سے کہا

تو یوحنا کا بیٹا شمعون ہے، تو کیفا یعنی پطرس کہلائے گا۔[11]

عہد نامہ جدید میں پطرس نام اس کے علاوہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔ جب گلیل میں تبلیغ کا عمل شروع کیا جانے لگا تو تب پہلی بار 12 افراد چنے گئے جن کو میں مسہمان حواری اور مسیحی شاگرد اور رسول کہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پطرس بھی تھا۔[12] پطرس کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ جلد باز تھا اور رہنما بننے کی کوشش کرتا تھا جس بنا پر باقی افراد اس سے اختلاف کرتے تھے۔[13][14][15] انجیل کے بیان کے مطابق پطرس نے آخری دنوں میں کچھ باتوں میں مسیح پر شک کیا۔ اور آخری دن تین بار مسیح کا انکار کیا۔[16] اور اس کے بعد وہ غائب ہو جاتا ہے اور واقعہ صلیب کے بعد نظر آتا ہے۔ اس کے بعد یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ بعد وصال جب مسیح جی اٹھا تو اس نے پطرس کو بحال کر دیا۔[17]

پطرس مسیح کے بعد

ترمیم

مسیح کو تین بار رد کرنے کے بعد پطرس غائب ہو گیا، جب واقعہ صلیب ہوا تو تب وہ وہاں نہیں تھا، لیکن اگلے دن وہ صبح مسیح کو زندہ دیکھتا ہے۔ اس کے بعد پطرس انطاکیہ چلا گیا جہاں پہلی مسیحی کلیسا قائم کی،اور اس طرح پطرس پہلا پوپ بنا، اس کے بعد روم چلا گيا اور 25 برس تک تبلیغ میں مشغول رہا، آخری عمر میں نیرو نے پطرس کو بد مذہبی پھیلانے کے الزام میں x طرح کی صلیب پر پھانسی دی، کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی صلیب پر پھانسی کی خواہش خود پطرس نے کی تھی۔ اس طرح کی صلیب کو آج بھی پطرس کی صلیب کہا جاتا ہے۔[18]

پطرس سے منسوب تصانیف

ترمیم

پطرس کی دو کتابیں وہ ہیں جن کو مسیحی الہامی مانتے ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ کتب بعض غناسطی اور مسیحی فرقے پطرس سے منسوب کرتے ہیں۔

  • پطرس کی انجیل
  • پطرس کے اعمال یا اعمال پطرس۔
  • مشاہدات پطرس
  • مشاہدات پطرس دوم
  • مباحثہ پطرس و ای پین۔
  • تعلیم پطرس
  • وعظ پطرس
  • آداب دعا پطرس
  • کتاب مسافرت پطرس
  • کتاب قیاس پطرس
  • کلیمنس کی جانب ایک[20]

اثرات

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. O'Connor, Daniel William (2013)۔ "Saint Peter the Apostle"۔ دائرۃ المعارف بریطانیکا۔ Encyclopædia Britannica Online۔ صفحہ: 5۔ 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2017 
  2. "CATHOLIC ENCYCLOPEDIA: St. Peter, Prince of the Apostles"۔ 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2017 
  3. قاموس الکتاب، صفحہ 190
  4. متی، 2:10
  5. قاموس الکتاب، 190
  6. یوحنا، 44:1
  7. رسولوں کے اعمال، 13:4
  8. ^ ا ب متی:8:14-17
  9. ^ ا ب مرقس: 1:29-31
  10. ^ ا ب لوقا: 4:38
  11. یوحنا، 42:1
  12. مرقس،19:3
  13. متی، باب20
  14. مرقس، 33:9
  15. لوقا،27:22
  16. متی، باب26؛ مرقس ،باب 14؛ لوقا، باب 22 ؛ یوحنا، باب 18
  17. یوحنا، باب 20، باب21
  18. قاموس الکتاب، 192
  19. عہد نامہ جدید
  20. اکسی ہومو، مطبوعہ 1813، لندن