مرکزی مینیو کھولیں
عبد الرحمن بن ابو بکر
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 675  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
والد ابو بکر صدیق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ ام رومان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
محمد بن ابی بکر،  عبد اللہ بن ابو بکر،  طفیل بن عبد اللہ الازدی،  عائشہ بنت ابی بکر،  اسماء بنت ابی بکر،  ام کلثوم بنت ابو بکر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عبد الرحمن بن ابو بكر عبد اللہ بن ابو قحافہ کے بیٹے تھے۔

نام، نسبترميم

عبد الرحمن نام، ابو عبد اللہ کنیت، اسلام لانے سے پہلے نام عبد العزیٰ تھا خلیفہ اول ابوبکر صدیق کے بیٹے تھے، والدہ کا نام ام رومان تھا، ام المومنین عائشہ بنت ابی بکر اور یہ دونوں حقیقی بھائی بہن تھے۔

ابتدائی حالاتترميم

ابوبکر کا تمام خاندان ابتداہی میں حلقہ بگوشِ اسلام ہوا، لیکن عبد الرحمن اس سے مستثنیٰ تھے، وہ عرصہ تک اپنے قدیم مذہب کے حامی رہے، غزوۂ بدر میں مشرکین قریش کے ساتھ تھے، اثنائے جنگ میں انہوں نے آگے بڑھ کر"ھل من مبارز" کا نعرہ لگایا، تو ابوبکر صدیق کی آنکھوں میں خون اتر آیا، انہوں نے خود بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا، لیکن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو اجازت نہ دی[1] غزوۂ اُحد میں بھی وہ مشرکین مکہ کے ساتھ تھے۔فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا اورہجرت بھی کی۔

اسلامترميم

عبد الرحمن صلح حدیبیہ کے موقع پر ایمان لائے اور مدینہ پہنچ کر اپنے والد کے ساتھ رہنے لگے، ابوبکر کے گھر کے تمام کام اور ذاتی کاروبار زیادہ تر یہی انجام دیتے تھے۔

غزواتترميم

عبد الرحمن فطرۃ نہایت شجاع و بہادر تھے، خصوصاً تیر اندازی میں کمال رکھتے تھے، واقعہ حدیبیہ کے بعد عہدِ نبوت میں جس قدر معرکے پیش آئے وہ ان میں سے اکثر میں جانبازی و پامردی کے ساتھ سرگرمِ کار زار تھے۔

جنگ یمامہترميم

یمامہ کی خونریز جنگ میں عبد الرحمن نے اپنی تیراندازی کا غیر معمولی کمال دکھایا، انہوں نے اس جنگ میں دشمن کے ساتھ بڑے جانباز افسروں کو نشانہ بنا کر واصلِ جہنم کیا۔ قلعہ یمامہ کی دیوار ایک جگہ سے شق ہو گئی تھی، مسلمان اسی راستہ سے اندر گھسنا چاہتے تھے، لیکن دشمن کا ایک سردار محکم بن طفیل نہایت جانبازی کے ساتھ اس جگہ اڑا ہوا تھا عبد الرحمن نے تاک کر اس کے سینہ پر ایک ایسا تیر مارا کہ وہیں تڑپ کر ڈھیر ہو گیا اور مسلمان اس کے ساتھیوں کو لیتے ہوئے اندر گھس گئے۔[2]

وفاتترميم

53ھ میں ایک روز ناگہانی طور پر گوشہ عزلت میں واصل بحق ہوئے، بیان کیا جاتا ہے کہ پہلے سے ان کو اپنی صحت کے متعلق کسی قسم کی کوئی شکایت نہ تھی، وفات کے دن حسب معمول سوئے مگر ایسی نیند سوئے کہ پھر نہ اُٹھ سکے، عائشہ صدیقہ کے دل میں اس ناگہانی حادثہ کے باعث شبہ ہوا کہ کسی نے زہر وغیرہ دے کر مارڈالا، لیکن کچھ دنوں کے بعد ایک عورت عائشہ کے گھر آئی، بظاہر توانا و تنددرست تھی، ایک مرتبہ سجدہ کیا اورایسا سجدہ کیا پھر اس سے سرنہ اُٹھایا، اس واقعہ کے بعد سے ان کا شک جاتا رہا۔ ام المومنین عائشہ کو ان کے انتقال کی خبر ملی تو وہ حج کی نیت سے مکہ آئیں اور بھائی کی قبر پر کھڑی ہو کر بے اختیار روئیں، اس وقت ان کی زبان پر یہ اشعار تھے:

  • وکنا لندمانی جذیمۃ حقبۃ من الدھر حتی قیل لن یتصدعا
  • فلما تفرقنا کانی ومالکا لطول اجتماع لم بنت لیلۃ معا

پھر مرحوم بھائی کہ روح سے مخاطب ہو کر بولیں، بخدا، اگر میں تمہاری وفات کے وقت موجود ہوتی تو اس قدر نہ روتی اور تم کو اسی جگہ دفن کرتی جہاں تم نے وفات پائی تھی۔[3][4]

حوالہ جاتترميم

  1. ۔(مستدرک حاکم:3/4
  2. اصابہ:1/168
  3. مستدرک حاکم :2/476
  4. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد5صفحہ319نعیمی کتب خانہ گجرات