مرکزی مینیو کھولیں

عبد اللہ بن علی عباسی

سپہ سالار انقلاب عباسیہ

عبد اللہ بن علی عباسی (712- 764ء) عباسی خاندان کی ایک ممتاز شخصیت جس نے عباسی انقلاب کے دوران اقتدار پر عباسیوں کیگرفت مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم اور بے رحمانہ کردار ادا کیا. بطورگورنر شام اس نے صوبے میں عباسی قبضے کو مستحکم کیا، اموی بغاوتوں کو فرو کرنے اور اموی خاندان کے بقیہ افراد کو چن چن کر قتل کرنے میں اس کا مرکزی کردار تھا۔ اپنے بھتیجے اور پہلے عباسی خلیفہ السفاح (متوفی 754ء) کی وفات کے بعد اس نے السفاح کے بھائی المنصور کے خلاف اپنی جانشینی کا دعوی کیا لیکن المنصور نے اسے شکست دیکر قید کر دیا اور سنہ 764ء میں اسے قتل کر دیا گیا.

عبدالله بن علی عباسی
پیدائش 712
وفات 764
وفاداری خلافت عباسیہ
درجہ قائد عسکری، والی
مقابلے/جنگیں جنگ زاب
یادگاریں جنگ زاب میں عباسیوں کی فیصلہ کن فتح
تعلقات چچا ابوالعباس السفاح، ابو جعفر المنصور

عباسی انقلاب میں کردارترميم

عبد اللہ بن علی، خاندان عباسیہ کا ایک فرد جس کا شجرہ نسب ہے: عبد الله بن علی بن عبد الله بن عباس، یہ پہلے دو عباسی خلفاء السفاح (749-754ء) اور المنصور (754-775ء) کا حقیقی چچا تھا. [1]

سنہ 749ء کے آغاز میں، اموی مخالف بغاوتیں جسے ابو مسلم خراسانی نے خراسان میں شروع کیا تھا خلافت کے مشرقی علاقوں میں پھیل گئیں اور خراسانی لشکر بڑھتے بڑھتے عراق اور فارس کے مغربی سرحدی علاقوں تک پہنچ گئے۔ اکتوبر 749ء میں، السفاح نے کوفہ میں اپنی خلافت کا اعلان کر دیا اور فوراً ہی ابو مسلم اور اہل کوفہ کی منظوری حاصل کر لی، تاکہ انقلاب علویوں کے اختیار میں جانے سے محفوظ رہے جو پہلے ہی مدعی خلافت تھے. السفاح نے عباسی اقتدار پر اپنی گرفت مظبوط کرنے کے لیے فوج کی کمان پر اپنے خاندان کے افراد کو مقرر کیا ، اپنے بھائی المنصور، کو محاصرہ واسط کی قیادت کرنے کے لیے بھیجا گیا، جبکہ اپنے چچا عبد اللہ بن علی کو آخری اموی خلیفہ مروان الثانی کا مقابلہ کرنے کے لیے جزیرہ بھیجا گیا. [2]

اور پھر عبد اللہ نے بحثیت قائد اعلیٰ عباسی افواج، زاب کی فیصلہ کن جنگ میں آخری اموی خلیفہ مروان الثانی (744-750ء) کو شکست دی اور اس کا تعاقب شروع کیا، سب سے پہلے شام میں جہاں اس نے دار الحکومت دمشق پر قبضہ کیا اس کے بعد فلسطین میں جس کی وجہ سے مروان الثانی کو فلسطین سے مصر کی طرف فرار ہونا پڑا، عبد اللہ نے اپنے بھائی صالح بن علی کو مروان الثانی کا پیچھا کرنے مصر بھیجا جہاں ابوصیر کے مقام پر مروان الثانی اور اس کی مختصر فوج کا صالح کی افواج کے ساتھ مقابلہ ہوا مگر شکست کھائی مروان الثانی اور اس کے فوجی میدان جنگ میں بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے مارے گئے. [1] [3]

شام کی گورنری اور اموی بغاوت کا خطرہترميم

شام کے پہلے عباسی گورنر کے طور پر، عبد اللہ نے خود کو امویوں کا ایک بدترین دشمن ثابت کیا، جس کے نتیجے میں اموی خاندان کے اراکین کو سخت ترین انتقام کا سامنا کرنا پڑا. کے وی زیٹیسٹین کے مطابق، "اس نے امویوں کی نسل کشی اور انہیں ختم کرنے کے لیے کوئی کسرنہیں چھوڑی، فلسطین میں اپنے قیام کے دوران، اس نے ایک ہی وقت میں اسی اشخاص کو قتل کیا تھا." [1] یہ جبر و استبداد اس قدر مؤثر تھا کہ اموی خاندان کے صرف ایک ہی فرد ہشام بن عبد الملک کے پوتے عبدالرحمن بن معاویہ اس جنگ و جدل اور قتل و غارت سے بچ نکلنے اور اندلس کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہو سکے جہاں انہوں نے اموی خاندان کی ایک نئی سلطنت قائم کی. [2]

فاتح خراسانی سپاہیوں کی سخت دشمنی اور تباہی و بربادی کے سبب جلد ہی شامی قبائلیوں نے جند قنسرین کے گورنر ابوالورد مجزاہ بن الکوثر بن زفر بن الحارث الکلبی کی قیادت میں بغاوت کردی اور وہ لوگ ابو محمد زیاد بن عبد اللہ بن یزید بن معاویہ السفیانی کے ساتھ شامل ہو گئے جو خلیفہ معاویہ بن ابی سفیان کی نسل سے تھے، جنہوں نے خلافت امویہ کی بحالی کے لیے خود کو ایک امیدوار قرار دیا۔ باغیوں کو پہلے پہل کامیابی حاصل ہوئی اور اس کامیابی کے نتیجے میں عباسی فوجوں کو جس کی کمان عبدالله کے بھائی عبد الصمد کے ہاتھ میں تھی قنسرین کے مقام پر پسپا ہونا پڑا، لیکن عبد اللہ نے بلاخر سنہ 750ء کے اواخر میں مرج الأجم کے مقام پر انھیں بھاری شکست سے دوچار کیا ابو الورد اور ان کے قیسی سپاہی عباسی فوجیوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے جبکہ ابو محمد زیاد جان بچا کر شامی صحرائی علاقے کے طرف نکل گئے. [1] [4] اس کے کچھ ہی عرصے بعد، ابو محمد کے ایک بھتیجے العباس بن محمد نے حلب میں علم بغاوت بلند کیا، لیکن جزیرہ کے گورنر المنصور نے عبد اللہ کے حلب پہنچنے سے پہلے ہی فوج بھیج کر بغاوت کو فرو کر دیا۔ پھر عبد اللہ سمسات کے سرحدی قلعے کی طرف روانہ ہوا جہاں اسحاق بن مسلم العقیلی اپنے بہت سے اموی وفادار ساتھیوں کے جمع ہوئے تھے. [4] اس واقعے میں، اسحاق اور المنصور کے درمیان بات چیت کے بعد ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت عباسیوں نے بنو امیّہ کے حامی بہت سے رہنماؤں کو اپنی صفوں میں قبول کر لیا. [5] ایک اور بغاوت، سنہ 751ء کے موسم گرما میں ہشام بن عبد الملک کے ایک پوتے ابان بن معاویہ کی زیر قیادت سمسات کے قریب ہوئی، جس کی وجہ سے عبد اللہ کو اس بغاوت کو دبانے کے لیے بازنطینی علاقوں میں ایک چهاپہ مارنا پڑا. ایک اور اموی وفادار عبد الصمد بن محمد بن الحجاج بن یوسف فرار ہونے میں کامیاب رہا بلاخر سنہ  755ء میں گرفتار ہوا. [4]

دعوی خلافتترميم

جزیرہ میں پے در پے اموی بغاوتوں کے باوجود، عبد اللہ بظاہر اگلے چند سالوں تک شام میں قبائلی اشرافیہ کی وفاداری حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور صوبہ زیادہ تر پرسکون رہا. جون 754ء میں السفاح کی موت کے وقت، عبد اللہ کا درجہ المنصور اور مشرقی نائب السلطنت ابو مسلم کیساتھ خلافت کے تین سب سے زیادہ طاقتور اشخاص میں سے ایک تھا. [4] [2] السفاح اپنے مکہ کے سفر کے دوران راستے میں انتقال کرگیا اور انتقال سے قبل بستر مرگ پر اسنے المنصور کو اپنے جانشین نامزد کیا. اس وقت عبد اللہ بازنطینی سلطنت کے خلاف ایک بڑی مہم کی تیاری میں مصروف تھا اور اسی مقصد کے لیے ایک بڑی فوج بھی جمع کی تھی. السفاح کی موت کی خبر ملنے کے بعد اس نے اپنے خلیفہ ہونے کا اعلان کر دیا اور دعوی کیا کہ السفاح نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مروان الثانی کے خاتمے میں اس کے کردار کے عوض اسے اپنا جانشین بنائے گا. [1] [2] [4]

عبد اللہ کے دعوی کی سچائی اور اس کی سطحی مشروعیت جس نے اسے المنصور کے مدمقابل لاکھڑا کیا، اگرچہ اس کی شکست کے بعد ان معاندانہ روایات کی جانچ کرنا مشکل ہے، لیکن جیسا کہ پی کے کوبب کے کی رائے ہے، "جیسا کہ تاریخ میں اس بابت اتفاق ہے کہ السفاح کی جانشینی اس کی موت سے قبل پوری طرح سے محفوظ نہ تھی" اور اس بات کی نشان دہی کہ عبد اللہ نے السفاح کی وفات سے چند سالوں پہلے خود کو ایک واضح جانشین قرار دیا تھا." [4] تاہم، اسے شام میں وسیع پیمانے پر حمایت حاصل رہی، چاہے وہ مقامی شامی-جزیری افواج ہوں یا شام کی اشرافیہ جو وہی امتیازی حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کے خواہش مند تھے جو انہیں عہد بنو امیّہ میں حاصل تھی اس کے ساتھ وہ خراسانی سپاہی جنہیں انقلاب کے دوران اسنے قیادت کی. [2] [4]

جب عبد اللہ کی فوج نے عراق پر اپنی چڑھائی شروع کی تو المنصور نے ابو مسلم سے مدد مانگی. اگرچہ خلیفہ کو ابو مسلم کی طاقت پر شبہ تھا، حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمہ گیر طور پر انقلاب کے خراسانی سپاہیوں کے ساتھ مقبول تھا، جس نے اسے عبد اللہ کا سامنا کرنے اور خراسانی سپاہیوں کو یکجان کرنےکیوجہ سے ایک مثالی امیدوار بنادیا جو خلیفہ کے لیے حکومت کا بنیادی ستون بنا. [2] نومبر 754 میں دونوں فوجیںنصيبين کے مقام پر ملیں. عبد اللہ کی فوج میں شکست اور بے یقینی کے آثار نمایاں تھے، جبکہ خراسانی فوجی لڑنے کے لیے ابو مسلم کیساتھ مضبوطی سے کھڑے تھے، کے وی زٹسٹینن کے مطابق، "عبد اللہ نے اپنی فوج میں شامل 17،000 خراسانیوں کو ہلاک کر دیا، کیونکہ اسے ڈر تھا کہ وہ ابو مسلم کیخلاف کبھی نہیں لڑیں گے" [1] اور شامی بھی ابتک عبد اللہ کے ہاتھوں زاب میں اپنی شکست کیوجہ سے اس سے ناراض تھے۔ ہگ این. کینیڈی کے الفاظ میں "جنگ کے پوری طرح شروع ہونے سے قبل ہی عبد اللہ کو اپنے اطراف غداری کی بھنک پڑ گئی  اور وہ وہاں سے بھاگ نکلا"، بصرہ میں پناہ گزین ہوا، جہاں اس کا بھائی سلیمان گورنر تھا. [1] [2] اس جنگ میں فتح کے باوجود المنصور فوراً ہی ابو مسلم کی طرف متوجہ ہوا جو اب اس کا مرکزی حریف رہ گیا تھا۔ کچھ مہینے بعد، ابو مسلم خلیفہ کے دربار آنے پر راضی ہوا، جہاں اسے قتل کر دیا گیا. [2]

عبد اللہ بصرہ میں اپنے بھائی کی حفاظت میں رہ رہے تھے یہاں تک کہ دو سال بعد المنصور نے سلیمان کو بصرہ کی گورنری سے برطرف کر دیا۔ اب عبد اللہ کو المنصور کے احکامات پر قید کر دیا گیا، "یہاں تک کہ سنہ 764 میں، اسے ایک ایسے مکان میں لے جایا گیا جس کی بنیادیں انتہائی کمزور رکھی گئیں تھیں، نتیجتاً اس مکان کا ملبہ عبد اللہ پرگر گیا اور وہ اس نیچے ہی دفن ہو گیا". (کی وی زیٹیسٹین). موت کے وقت اس کی عمر 52 سال تھی. [1]

عبد اللہ کی بغاوت کے باوجود، اس کے خاندان اور بھائی صالح کو شام کے صوبے میں حکمرانی دی گئی، جو اگلی نصف صدی تک کے لیے صوبے میں قابل قدر اور طاقتور عباسی حکمران رہے. [3] [4]

حوالہ جاتترميم

ماخذترميم