عبد الرحمٰن الداخل

عبد الرحمن اول (عربی: عبد الرحمن الداخل) اندلس میں امارت امویہ کے بانی تھے اور وہ 756ء سے 788ء تک اندلس میں حکمران رہے۔ عبد الرحمن اول 731ء میں پیدا ہوئے۔ 756ء میں عبد الرحمٰن الداخل خلافت عباسیہ کو نظر انداز کر کے امارت قرطبہ کا ایک خود مختار ریاست کا اعلان کر دیا۔

عبد الرحمٰن الداخل
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 731[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
محافظہ ریف دمشق،  دمشق  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 ستمبر 788 (56–57 سال)[1][3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قرطبہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ
Umayyad Flag.svg امارت قرطبہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ہشام بن عبد الرحمٰن الداخل  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان بنو امیہ (قرطبہ)  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
امیر قرطبہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
756  – 788 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
ہشام بن عبد الرحمٰن الداخل  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان،  حاکم،  عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایشیاء سے فرارترميم

عبد الرحمن خلافت بنو امیہ کے 10ویں خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے پوتے تھے۔ جب عباسیوں نے دمشق پر قبضہ کرکے خلافت امویہ کا خاتمہ کیا تو اس وقت عبد الرحمن اول کی عمر 20 سال تھی۔ وہ عباسیوں کے ہاتھوں خاندان امویہ کے قتل عام میں بچ جانے والے واحد فرد تھے۔

وہ اپنے بھائی یحییٰ کے ساتھ محل سے فرار ہو کر صحرا میں ایک بدوی قبیلے کے پاس پناہ گزین تھا۔ اس دوران میں عباسی اپنے حریفوں کو بے رحمی سے قتل کرتے رہے اور ان دونوں بھائیوں کی تلاش شروع کر دی گئی۔ اس دوران میں انہوں نے عبد الرحمن اور یحییٰ کا بھی پتہ لگا لیا۔ جس پر دونوں بھائی وہاں سے بھی فرار ہو گئے اور دریائے دجلہ میں کود گئے۔ عباسی سپاہیوں نے واپس آنے پر امان دینے کا وعدہ کیا، جس پر عبدالرحمن کا بھائی یحییٰ ان کے کہنے پر یقین کرکے دریا سے نکل پڑا تو عباسی سپاہیوں نے اسے فوراً ہی قتل کر دیا، جبکہ عبد الرحمن تیر کر دریائے دجلہ عبور کر گیا اور بعد ازاں شام اور فلسطین سے ہوتا ہوا شمالی افریقہ پہنچ کر عباسیوں کی دسترس سے باہر ہو گیا۔

افریقہ میں قیامترميم

خلافت بنو امیہ کے خاتمے کے بعد افریقہ کے مختلف صوبوں میں مقامی سرداروں نے حکومتیں قائم کرلی تھیں۔ سلطنت امویہ کے یہ سابق امیر امویوں اور عباسیوں دونوں سے آزادی چاہتے تھے، اس لیے عبد الرحمٰن کو ان کی جانب سے زندگی کا خطرہ لاحق تھا اور اس نے مزید مغرب کی جانب فرار ہوکر ماریطانیہ میں بربر قبیلوں کے پاس پناہ لے لی۔

یورپ آمدترميم

755ء میں وہ موجودہ مراکش کے شمال مشرقی ساحلی شہر سبتہ (Ceuta) کے قریب پہنچا، جہاں سے اس نے اپنا ایک سفیر ہسپانیہ بھیجا تاکہ وہ خاندان امویہ کے وفادار سابق رہنماؤں کی حمایت حاصل کر سکے۔ ان رہنماؤں کی بڑی تعداد صوبہ الویرا، موجودہ غرناطہ میں مقیم تھی، جہاں امیر یوسف کی کمزور حکومت موجود تھی، جو ایک قبائلی گروہ کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا ہوا تھا۔ یہ افراد عربوں اور بربروں کے درمیان میں نسلی اختلافات کے علاوہ عربوں کے آپس میں قبائلی اختلافات کے باعث بھی پریشان تھے۔ عبد الرحمن نے اسے بھرپور موقع سمجھا اور سابق وفادار پیروکاروں کی دعوت پر ستمبر 755ء میں مالقہ (Málaga) کے مشرق میں المنقب کے ساحل پر اترا۔

ہسپانیہ کی فتحترميم

ابتدا میں عبد الرحمن نے اپنے حمایت یافتہ افراد سے مشاورت کی، جو خطرات کے باعث محتاط تھے۔ امیر یوسف نے مذاکرات کے آغاز میں عبد الرحمن کو زمین اور اپنی ایک بیٹی نکاح میں دینے کی پیشکش کی۔ عبد الرحمن زیادہ کی امید لگائے بیٹھا تھا، تاہم وہ دباؤ کے باعث یہ پیشکش قبول کرنے کے قریب تھا کہ امیر یوسف کے ایک اندلسی پیغام رساں کی عبد الرحمن کے ایک حامی عبید اللہ کے ساتھ جھڑپ ہو گئی۔ اپنی بہترین عربی لکھنے کی صلاحیت پر ٹوکنے پر عبید اللہ نے اس پیغام رساں پر حملہ کر دیا، جس کے بعد باعث عبد الرحمن کا یوسف کے ساتھ تصادم ناگزیر ہو گیا۔

756ء میں دونوں گروہوں کے درمیان وادی الکبیر میں ایک جنگ ہوئی، جو 16 مئی کو قرطبہ کے قریب یوسف کی شکست کے ساتھ ختم ہوئی۔ عبد الرحمن کی فوج نے بہترین اسلحے سے لیس نہ ہونے کے باوجود ایک تاریخی فتح حاصل کی۔ ان کے پاس صرف چند گھوڑے تھے، حتیٰ کہ ان کے پاس عَلَم بھی نہ تھا۔ ایک سپاہی نے اپنے نیزے پر اپنا سبز عمامہ لپیٹ دیا اور بعد میں یہی اندلس میں امویوں کا علم اور نشان قرار پایا۔

حکومتترميم

عبد الرحمن کا طویل دور حکومت عرب اور بربر باشندوں کی بغاوتوں کے خلاف جدوجہد کرتے گزرا، جن کی اکثریت آزادی چاہتی تھی۔ 763ء میں عبد الرحمن نے اپنے دار الحکومت کے قریب بھی ان باغیوں سے جنگ لڑی جو عباسیوں کی حمایت کر رہے تھی۔ اس نے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ آخری سالوں میں عبد الرحمن نے کئی محلاتی سازشوں کو بھی کچلا۔ اس نے فن تعمیر کے نادر شاہکار مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی، جس کی تعمیر اس کے بیٹے اور جانشیں ہشام اول کے دور میں بھی جاری رہی۔ اس نے جس حکومت کو قائم کیا وہ 1031ء تک ہسپانیہ پر حکومت کرتی رہی۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/121026019 — اخذ شدہ بتاریخ: 18 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/121026019 — عنوان : Абдеррахманъ I
  3. بنام: Abd ar-Raḥman I — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/259999 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017