خلافت امویہ

اموی خلافت
(دولت امویہ سے رجوع مکرر)

بنو امیہ قریش کا ایک ممتاز اور دولت مند قبیلہ تھا۔ اسی خاندان نے خلافت راشدہ کے بعد تقریباً ایک صدی تک ملوکیت سنبھالی اور اسلامی فتوحات کو بام عروج پر پہنچایا۔ جس کی سرحدیں ایک طرف چین اور دوسری طرف اسپین تک پھیلی ہوئی تھیں۔ البتہ مرکزی خلافت کے خاتمے کے باوجود اس خاندان کا ایک شہزادہ عبدالرحمن الداخل اسپین میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ جہاں 1492ء تک اموی سلطنت قائم رہی۔

دولت امویہ
خلافت امویہ
661–750
پرچم اموی
خلافت امویہ اپنے عروج پرآ
خلافت امویہ اپنے عروج پرآ
حیثیتسلطنت
دارالحکومتدمشق
(661–744)
حران
(744–750)
Capital-in-exileقرطبہ
(756–1031)
عمومی زبانیںعربی (سرکاری) – قبطی, یونانی، فارسی ( عبدالملک بن مروان کے عہد تک کچھ علاقوں میں سرکاری) – آرامی، آرمینیائی، بربر، افریقی رومانس، جارجیائی، ترکی، کردی، پراکرت
مذہب
اسلام
حکومتخلافت
خلیفہ 
• خلیفہ اول: 661ء تا 680ء
معاویہ بن ابو سفیان
• خلیفہ آخر: 744ء تا 750ء
مروان بن محمد بن مروان
تاریخ 
• 
661
• 
750
رقبہ
750 عیسوی (132 ہجری)15,000,000 کلومیٹر2 (5,800,000 مربع میل)
آبادی
• 750 عیسوی (132 ہجری)
34000000
کرنسیطلائی دینار اور درہم
ماقبل
مابعد
خلافت راشدہ
بازنطینی سلطنت
مملکت مغربی گوتھ
خلافت عباسیہ
امارت قرطبہ
موجودہ حصہ

پس منظر

قریش کے تمام خاندانوں میں سے بنی ہاشم اور بنو امیہ کو عظمت و شہرت اور دنیاوی وجاہت کے اعتبار سے نمایاں مقام حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ قبائلی دور ہونے کی وجہ سے زمانۂ جاہلیت میں کبھی بنو ہاشم سبقت لے جاتے اور کبھی بنو امیہ۔ بنی ہاشم اور بنی امیہ میں مدت تک تولیت کعبہ کی سرداری کے سلسلے میں تنازع رہا۔ آخر بااثر لوگوں کی مداخلت سے ان دونوں میں انتظامی مامور تقسیم کردیے گئے ۔

اس خاندان کے جد اعلیٰ امیہ بن عبد شمس تھے۔ قریش کا سپہ سالاری کا منصب بنی مخزوم سے اس خاندان میں منتقل ہو گیا۔ زمانۂ جاہلیت میں سپہ سالاری کا عہدہ اس خاندان میں سے حرب بن امیہ اور پھر ابو سفیان کے پاس رہا۔ ابو سفیان نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر لیا اور ان کے بیٹے امیر معاویہ کے ذریعے بنو امیہ کی حکومت کی بنیاد پڑی۔

خلفائے راشدین کے زمانے میں بنو امیہ نے بڑے کارنامے سر انجام دیے۔ عمر فاروق کے دور میں امیر معاویہ دمشق کے گورنر بنے اور عثمان غنی کے دور میں وہ پورے صوبہ شام کے گورنر بنادیے گئے۔ عثمان کی شہادت کے بعد 35ھ میں امیر معاویہ نے قصاص عثمان کے لیے آواز اُٹھائی اور مرکزی حکومت سے خود مختار ہو گئے۔ جنگ صفین کے بعد مسلم ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ آدھی خلافت جو علی کے پاس رہی اور آدھی ملوکیت یا بادشاہت جو امیر معاویہ کے ہاتھ میں رہی۔ علی کی شہادت کے بعد حسن خود حکومت سے دست بردار ہوئے اس طرح امیر معاویہ مکمل اسلامی ریاست کے بادشاہ بن گئے۔

خلفاء

 
بنو امیہ کی حکومت عروج کے زمانے میں

معاویہ بن ابو سفیان (661-680)

حضرت امیر معاویہ ؓ ایک زیرک منتظم اور خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ آپ کو مسند حکومت حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے ذریعے سے منتقل ہوئی ، حضرت سیدنا حسن ؓ کے ساتھ جو معاہدہ ہوا بنیادی طور پر وہ دوشعبوں کی تقسیم کا معاہدہ تھا، جس کے تحت سلطنت اسلامیہ کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بنو ہاشم پاس آئی جس کا مرکز مدینہ تھا اور امور مملکت و سیاست بنو امیہ کے پاس آئی جس کا مرکز دمشق طے ہوا۔ چونکہ اسلام کے دائرے میں بہت ساری غیر عربی اقوام شامل ہو چکی تھیں، لہذا یہ ضروری تھا کہ ان کی ذہنی تعلیم و تربیت کا باقاعدہ سے شعبہ ہو ، اسی طرح سیاسی حوالہ سے ملکی استحکام اور غیر عربی اقوام کو اگلے دور میں قیادت کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے اس امر کی ضرورت بھی تھی کہ خلافت اسلامیہ کے تمام علاقوں پر بہترین سیاسی نظم و ضبط کا نظام قائم ہو اس کے لیے عہد معاویہ ؓ میں خلافت کے انتظام و انصرام کے لیے خلافت راشدہ کی طرز کا مشاورت کا التزام کیا جائے جس کے لیے حضرت معاویہ ؓ نے باقاعدہ سے مشیران مرکزی حکومت کی تعیناتی کی۔ بہترین سیاسی انتظام کے لیے صوبوں کی تقسیم اور اس کا نظام عہد فاروقی کے نظام کو ہی بحال رکھا گیا۔ بری افواج کا نظام بھی خلافت راشدہ کے دور میں بن چکا تھا، مگر بحری افواج کا قیام عہد معاویہ کا کارنامہ ہے جس میں امیر البحر کے عہدہ کا قیام ، جہاز سازی کے کارخانے سرمائی اور گرمائی افواج کی تشکیل کی گئی۔ بہت سے نئے قلعے تعمیر کروائے گئے، منجنیق کا استعمال عہد معاویہ میں پہلی دفعہ کیا گیا۔ اس ددر میں صیغہ پولیس کو بہت ترقی دی گئی، خصوصا عراق میں جہاں ہمیشہ فتنہ و فساد رہتا، پولیس کا بہترین نظام قائم کیا گیا۔ ڈاک کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا، جس کو دیوان البرید کا عنوان دیا گیا۔ دفتری انتظام و انصرام کے لیے جو شعبہ قائم کیا گیا، اس کا نام دیوان خاتم ہے جس کے تحت سرکاری فرامین کی نقلیں، دفتری محرر، تحریری احکامات پر مہر کا آغاز عہد معاویہ کا اہم کارنامہ ہے۔ رفاھی کاموں میں دریاوں سے نہروں کی کھدائی اور زراعت کی ترقی ، شہروں کی آباد کاری ، نوآبادیوں کا قیام، مساجد کی تعمیر، مجاہدین کے بچوں کے وظائف ، ذمیوں کے مال و جائداد کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے گئے ۔ قیام عد ل اور عوام الناس کی داد رسی کے لیے حضرت امیر ،دربار میں آنے سے پہلے مسجد جایا کرتے اور رعایا کی شکایات کو سننے کے بعد احکامات جاری کرتے ، بیت المال کے ترقیات مصارف کا اجرا اور محاصل و مصارف کی نگران کا باقاعدہ نظام مرتب و مدون کیا گیا۔ عہد معاویہ کی فتوحات میں قابل ذکر ترکستان ) وسطی ایشیا اور افغانستان کے علاقے( ، شمالی افریقہ کی فتوحات، قسطنطنیہ کے معرکے ، روڈس )یونان کے خوبصور ت علاقے( کی فتح اور ارواڈ کی فتوحات ہیں۔}} سلطنت بنو امیہ کے بانی امیر معاویہ تھے جو فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد ابو سفیان کے اسلام لانے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ کا شمار ممتاز صحابہ میں ہوتا تھا اور آنصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انھیں کاتب وحی ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔[حوالہ درکار] آپ نے خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلامی سلطنت کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ عمر فاروق کے دور میں دمشق کے گورنر مقرر ہوئے اور عثمان کے دور میں ترقی کرتے ہوئے پورے شام کے گورنر بن گئے۔ اس بڑے عہدے نے ان کی طاقت کو کافی مستحکم کیا اور حضرت علی کے دور میں ان کی خلیفۂ چہارم سے کشمکش شروع ہو گئی اور جنگ صفین کی صورت میں اسلام کا ایک عظیم سانحہ رونما ہوا۔ درحقیقت اس جنگ کے فوراً بعد ہی آپ کی سلطنت کا آغاز ہو گیا تھا جبکہ باقاعدہ آغاز حضرت علی کی شہادت کے بعد امام حسن کی دستبرداری کے ساتھ ہوا۔ انھوں نے جن اصولوں کے تحت خلافت کو چلایا وہ خلافت راشدہ سے بالکل مختلف تھے۔ ایرانی اور رومی طرز کی شخصی حکومت میں انھوں نے ایک بادشاہ کی حیثیت سے حکومت کی۔۔ بلکہ اگر انھیں بادشاہ کی حیثیت سے دیکھا جائے تو ان کے دور میں خامیاں کم اور خوبیاں زیادہ نظر آئیں گی۔ ان کے دور کی خامیاں دراصل ملوکیت کے استبدادی نظام کی فطری خامیاں ہیں ان کی ذات کی خامیاں نہیں۔ تاریخ اسلام میں ان کے مقام کا تعین کرنے میں ہمیں اس لیے مشکل پیش آتی ہے کہ وہ خلافت راشدہ کے مثالی دور کے فوراً بعد آتے ہیں جس کی وجہ سے خلفائے راشدین کے مقابلے میں ان کی شخصیت کئی عظیم الشان کارناموں کے باوجود گہنا گئی۔ انھوں نے شام کے شہر دمشق کو دار الخلافہ قرار دیا جہاں وہ خلافت سے قبل گورنر کی حیثیت سے قیام پزیر تھے۔ ان کے دور کے اہم ترین واقعات میں سندھ، ترکستان اور شمالی افریقہ کی فتوحات اور قسطنطنیہ پر حملہ شامل ہیں۔

بنو امیہ
 
خلفائے بنو امیہ
معاویہ بن ابو سفیان، 661-680
یزید بن معاویہ، 680-683
معاویہ بن یزید، 683-684
مروان بن حکم، 684-685
عبدالملک بن مروان، 685-705
ولید بن عبدالملک، 705-715
سلیمان بن عبدالملک، 715-717
عمر بن عبدالعزیز، 717-720
یزید بن عبدالملک، 720-724
ہشام بن عبدالملک، 724-743
ولید بن یزید، 743-744
یزید بن ولید، 744
ابراہیم بن ولید، 744
مروان بن محمد، 744-750


یزید بن معاویہ (680-683)

امیر معاویہ نے اپنے بعد بیٹے یزید کو جانشیں مقرر کیا۔ خلافت راشدہ کے زمانے میں خلیفہ کا انتخاب مشورے سے کیا جاتا تھا اور کبھی کسی خلیفہ نے اپنے بیٹے کو خلیفہ نہیں بنایا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ امیر معاویہ نے اس مسئلے پر ممتاز لوگوں سے مشورہ کر لیا تھا اور یزید کی بیعت حج کے موقع پر ہزاروں افراد نے کی تھی لیکن یہ بیعت دباؤ کے تحت کی گئی تھی۔ امیر معاویہ ہر حال میں اپنے بیٹے کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ حالانکہ امام حسن علیہ السلام سے معاہدہ ہوا تھا کہ یزید کو خلیفہ نہیں بنایا جائے گا۔ یزید کی جانشینی کی پانچ ممتاز صحابہ نے کھل کر مخالفت کی جن میں حضرتحسین رض، حضرت عبداللہ بن عمر رض، حضرت عبداللہ بن عباس رض، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر الصدیق ۔ لیکن امیر معاویہ نے یزید کو جانشیں مقرر کرکے اسلامی تاریخ میں ایک سیاسی بدعت کی بنیاد ڈالی جس نے ملوکیت کو نظام کو پوری طرح مستحکم کر دیا۔

یزید اخلاق و کردار کے لحاظ سے بھی اس پائے کا نہیں تھا کہ مسلمانوں کا خلیفہ بنتا۔ اس کا دور کا افسوسناک ترین واقعہ سانحۂ کربلا تھا جس میں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم امام حسین اپنے اہل خانہ سمیت شہید کردیے گئے۔ کربلا کا یہ واقعہ تاریخ اسلام کا بڑا افسوسناک حادثہ تھا۔ اس کی ذمہ داری یزید پر عاید ہو یا ابن زیاد پر لیکن مسلمانوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ اپنے رسول کے پیارے نواسے سے ایسا سلوک کریں گے۔ چنانچہ کربلا کے اس واقعے کا حجاز میں سخت رد عمل ہوا اور وہاں کے لوگوں نے یزید سے بیعت توڑ کر مشہور صحابی عبداللہ بن زبیر کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرلی۔ اس کے بعد دوسرا افسوسناک واقعہ "واقعۂ حرہ" پیش آیا جس میں امویوں کی فوج نے مدینے میں قتل عام کیا اور لوٹ مار مچائی۔ اس کے بعد اموی فوج نے مکے کا رخ کیا لیکن یزید کا انتقال ہو گیا اور فوج دمشق واپس آگئی۔

یزید کے انتقال کے بعد امیر معاویہ کے خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور یزید کے لڑکے نے حکومت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس صورت حال میں عوام کی نظریں عبد اللہ بن زبیر (685-695) پر پڑیں اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی گئی اور مصر، شام، عراق بلکہ پوری اسلامی خلافت عبد اللہ بن زبیر کے تحت آگئی لیکن تھوڑے ہی عرصے میں مرج راہط کے مقام پر عبد اللہ بن زبیر اور بنی امیہ کے حامیوں کے درمیان ایک سخت جنگ ہوئی جس میں بنو امیہ کامیاب ہوئے اور شام سے عبد اللہ بن زبیر کا اقتدار ختم ہو گیا تاہم باقی دنیائے اسلام پر ان کا اقتدار اگلے سات سالوں تک قائم رہا۔

اس کشمکش میں اموی حکمران عبد الملک کامیاب ہوئے اور مکہ پر بھی اس کا قبضہ ہو گیا۔ عبد اللہ بن زبیر ایک سپہ سالار حجاج بن یوسف کے مقابلے میں داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کے بعد نظام خلافت کی بحالی کی رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی۔

عبد الملک بن مروان (685-705)

عبد الملک بن مروان 39 سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے ، آپ نے علمی مہارت و قابلیت مدینہ سے حاصل کی ، اس عہد کے بڑے بڑے ائمہ کرام آپ کے علم و کمال کے معترف تھے۔ بنی امیہ کی تاریخ کا یہ ایک پر آشوب دور تھا، مگر آپ نے اپنے علم و کمال اور مدبرانہ صلاحیتوں سے بڑے بڑے فتنوں کو فرو کر دیا۔ اور آپ کے دور میں افریقہ کے جو علاقے بغاوت کی وجہ سے علاحدہ ہو چکے تھے دوبارہ اسلطنت اسلامیہ کا حصہ بن گئے، نہ صرف یہ کہ بلکہ مسلمانوں کی جنگی مہمات کے نتیجے میں براعظم افریقہ کا بیشتر حصہ اسلامی قلمرو کے زیر نگین آ گیا۔ آپ کے عہد کے کارناموں میں اسلامی سکہ کا باقاعدہ اجرا اور عربی زبان کو دفتری زبان بنانا ہے۔ مذہبی خدمات میں مساجد کی تعمیر، مسجد نبوی ﷺ اور خانہ کعبہ کی توسیع و مرمت ، جامع مسجد دمشق کی تعمیر ، شہروں کی آباد کاری ہیں۔ مکہ میں آپ کے دور میں بہت بڑا سیلاب آیا لہذا آپ نے شہری آبادیوں کی مرمت و تعمیر میں بہت زیادہ زور دیا اور شہر مکہ کی تعمیر نو کی گئی۔ }} سفیانی خاندان کے بعد بنو امیہ کا جو دوسرا خاندان تخت خلافت پر بیٹھا وہ مروان بن حکم (684-685) کی اولاد سے تھا جو عثمان رضی اللہ کا کاتب رہ چکا تھا۔ مروان بن حکم کو حضور (ص) نے مدینہ سے شہر بدر کر دیا تھا کیونکہ وہ حضور (ص) کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ ابوبکر اور عمر نے اسے واپس مدینہ نہ آنے دیا تھا۔ مرج راہط کی جنگ کے بعد صرف 9 ماہ تک خلافت پر فائز رہا اور اس کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا عبد الملک تخت پر بیٹھا۔ وہ عبد اللہ بن زبیر کو شکست دینے کے بعد پوری اسلامی مملکت کا حکمران بن گیا۔ اسے خاندان بنی امیہ کا حقیقی بانی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے عہد کا ایک اور کارنامہ قبۃ الصخرہ کی تعمیر ہے جو فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔

ولید بن عبد الملک (705-715)

خلافت بنو امیہ میں ولید بن عبد الملک کا دور انتہائی مستحکم دور تھا، اسی وجہ آپ کے عہد میں اسلامی قلمرو میں دنیا کے بہترین علاقے شامل ہوئے اور اسلام کا پیغام ان علاقوں تک پہنچا ، جن میں پچھلے ادوا ر میں ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ ترکستان یعنی وسطی ایشیا کے ایک حصہ پر اگرچہ مسلمانوں کا تسلط قائم ہو چکا تھا ، مگر سمر قند و بخارا کے نواح میں حکمرانوں کا رویہ باغیانہ تھا، 86؁ھ میں حجاج بن یوسف نے قبیبہ بن مسلم کو ایک بڑے لشکر کا سپ سالار بنا کر سمرقند اور بخارا کی طرف بھیجا ،چنانچہ لشکر اسلام سمر قند ، بخارا کو فتح کرتے ہوئے 90؁ھ میں کاشغر یعنی چین تک پہنچ گئے ،اسلام اپنے اعلی درجے کے عقائد اور عدل و انصاف کے سیاسی نظام کی بدولت انسانوں کے دلوں میں گھر کرتا چلا گیا ۔ اگلے دور میں حدیث اور فقہ کے بڑے بڑے امام انہی علاقوں سے پیدا ہوئے ، اس عہد میں حجاج بن یوسف نے دوسرا لشکر محمد بن قاسم کی سربراہی میں ہندوستان بھیجا، جس نے محض ایک مسلمان بیٹی کی داد رسی کی خاطر سندھ کے بحری قزاقوں اور راجا داہر کی ظلم و بربریت کی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجادی، محمد بن قاسم کی فتوحات نے یہاں کی آبادیوں پر نہ صرف غلبہ حاصل کیا بلکہ ایسا عدل و انصاف اور سماجی رواداری کا نظام قائم کیا کہ ہندو خواتین محمد بن قاسم کی مورتیاں بنا کر پوجا کرتی تھیں۔ اس عہد کا ایک اور بڑا کارنامہ اندلس کی فتوحات یعنی اسلام کا یورپ پر غلبہ ہے مشہور سپہ سالار طارق بن زیاد خاندان بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جنھوں نے اندلس جو سلطنت روما کا مرکز سمجھا جاتا تھا اس کو فتح کیا۔ موسی بن نصیر نے اندلس کی فتح کے بعد جبرالٹر(جبل طارق) اور سپین پر حملے کیے۔ سپین کو فتح کرنے کے بعد مسلمانوں نے یونان کے بہت بڑے شہر جن میں قرطبہ ، قرمونہ اور اشبیلہ پر اسلامی غلبہ کا پرچم لہرایا۔ اس کے بعد طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر نے شمالی اندلس میں اجتماعی حملے کیے اور بحر متوسطہ کے ساحل برشلونہ فتح کرتے ہوئے فرانس کی سرحد دریائے روڈنہ اور اربونہ یعنی نیروبی تک پہنچ گئے۔ ان فتوحات کی بدولت سلطنت اسلامیہ کی معاشی حالت انتہائی اعلی درجہ پر پہنچ گئی مورخین لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی قلمرو میں چاندی اور سونے کی گویا نہریں بہتی تھیں۔ یہی وہ خواب تھا، جس کو السابقون الاولون کے دور میں دیکھا گیا اور مسلمانوں کے اولوالعزم اموی حکمرانوں اور سپہ سالاروں نے تاریخ انسانیت میں شرمندہ تعبیر کر دیا۔ ولید بن عبد الملک کے ہی دور میں مسلمہ بن عبد الملک اور عباس بن ولید نے ایشاء کوچک (Asian Mirror) یعنی موجودہ ترکیہ کا وہ حصہ جہاں یورپ اور براعظم ایشیا باہم آپس میں ملتے ہیں اس کو فتح کیا۔ چونکہ ولید بن عبد الملک کا دور معاشی حوالہ سے ایک تاریخ کا خوش حال ترین دور تھا اس دور میں سڑکوں کی تعمیر ، نہروں اور کنووں کی تعمیر، مہمان خانوں کے نظام، شفا خانوں کا قیام، معذوروں کی کفالت کا انتظام، یتیموں کی پرورش و پرداخت ، بازاروں کے نرخوں کی نگرانی کا کڑا نظام، مسجد نبوی ﷺ کی تزئین کارناموں میں شامل ہیں۔ ولید بن عبد الملک کا ہی مشہور مقولہ ہے کہ میرے دور حکومت میں کوئی ایسا بیمار نہیں جس کے علاج کا بندوبست نہ ہو، کوئی ایسا معذور نہیں جس کا کا کوئی خدمتگار نہ ہو، کوئی ایسا بھوکا نہیں جس کی غذا کا اہتمام نہ ہو۔ اسی دور میں حجاج بن یوسف نے عجمی افراد کے لیے قرآن حکیم پر اعراب لگوائے جو تاریخ اسلام کا ایک یادگار کارنامہ ہے۔}} عبد الملک کے بیٹے ولید کا زمانہ فتوحات کی وجہ مسلمانوں کا عظیم الشان زمانہ ہے جس کے دوران قتیبہ بن مسلم نے بخارا، سمرقند، خیوہ اور کاشغر فتح کیے، محمد بن قاسم نے سندھ کو اموی حکومت کا حصہ بنایا، تیسری لشکر کشی موسی بن نصیر اور طارق بن زیاد نے مغرب میں اسپین اور پرتگال پر کر کے اس کو خلافت کا حصہ بنایا۔ اس کے علاوہ مغربی بحیرۂ روم میں جزائر بلیارک پر بھی قبضہ ہوا۔ اس طرح ولید کے دور میں اموی حکومت کاشغر سے بحیرہ اوقیانوس تک پھیل گئی۔ اس کے دور میں دار الحکومت دمشق میں ایک شاندار مسجد تعمیر کی گئی جو جامع اموی کہلاتی ہے۔ اس زمانے میں دنیا کی کوئی طاقت خلافت اسلامی کے سامنے آنے کا سوچ بھی نہہں سکتی تھی۔

سلیمان بن عبد الملک (715-717)

ولید کے بعد اس کا بھائی سلیمان بن عبد الملک خلیفہ ہوا۔ اس نے اگرچہ صرف ڈھائی سال حکومت کی لیکن اس کے دور حکومت میں کئی اہم واقعات پیش آئے جن میں ولید کے دور کے تین مشہور سپہ سالاروں محمد بن قاسم، موسیٰ بن نصیر اور قتیبہ بن مسلم کا افسوسناک انجام بھی شامل ہے۔ اس کے دور کا دوسرا اہم واقعہ قسطنطنیہ کا ناکام محاصرہ ہے۔ اس کے دور خلافت کا تیسرا اور اہم ترین واقعہ عمر بن عبدالعزیز کی جانشینی ہے۔

عمر بن عبد العزیز (717-720)

عمر بن عبدالعزیز کا دور سلطنت بنو امیہ کا سب سے نرالا اور شاندار دور تھا جس نے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کردی۔ حالانکہ آپ کا دور خلافت محض دو سال پانچ ماہ کا رہا لیکن اس مختصر مدت میں انھوں نے وہ کارنامے انجام دیے کہ مسلمان انھیں پانچواں خلیفۂ راشد قرار دیتے ہیں۔ عمر بن عبد العزیز کا سب سے بڑا کارنامہ ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہے۔ انھوں نے ظالم اور جابر عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹایا، بیت المال کو رعایا کی ملکیت بنایا۔ اخلاق و کردار کی بلندی کے لحاظ سے وہ تابعین کے اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے عمل میں صحابہ کرام سے مشابہ تھا۔ خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت کے دور میں ان کا عہد پہلی اور آخری مثال ہے کہ جب خلافت کے اسلامی تصور کی بالادستی قائم کرے کی کوشش کی گئی۔ آپ نے علی پر سب و شتم کی قبیح رسم کو بند کرایا اور نو مسلموں سے جزیہ وصول کرنے کی بھی بندش کرائی۔ عمر بن عبد العزیز کی ان انقلابی اصلاحات نے ملوکیت کے اس استبدادی نظام اور اس کے تحت پرورش پانے والے مفاد پرست طبقے پر کاری ضرب لگائی تھی۔ اس طبقے کی رہنمائی شاہی خاندان کے افراد کر رہے تھے۔ عمر کی ان تیز رفتار اصلاحات سے ان کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ وہ خاندانی بادشاہت بھی ختم کر دیں گے اور خلافت کو عام مسلمانوں کے حوالے کر جائیں گے۔ چنانچہ انھوں نے عمر بن عبد العزیز کو زہر دے کر شہید کر دیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر محض 39 سال تھی۔

یزید بن عبد الملک (720-724)

عمر بن عبدالعزیز کے بعد سلیمان بن عبد الملک کی وصیت کے مطابق یزید بن عبد الملک خلیفہ بنا۔ وہ محض چالیس روز تک سلطنت کو عمر ثانی کے اصولوں پر چلاتا رہا پھر یہ بھاری پتھر اس سے نہ اٹھ سکا اور تمام اصلاحات منسوخ کرکے وہی پرانا استبدادی نظام دوبارہ قائم کر دیا۔ 4 سال 4 ماہ حکومت کرنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا اور اس کا بھائی ہشام بن عبد الملک خلیفہ ہو گیا۔

ہشام بن عبد الملک (724-743)

ہشام نے 20 سال حکومت کی اور وہ خاندان بنی امیہ کا آخری بڑا حکمران تھا۔ وہ بڑا پاکباز، منتظم، کفایت شعار اور بیدار مغز حکمران تھا بلکہ مورخین کہتے ہیں کہ اس میں امیر معاویہ کا علم و تدبر اور عبد الملک کی اولوالعزمی ایک ساتھ جمع ہو گئی تھی۔ اس کے زمانے میں سلطنت کی حدود داغستان، ایشیائے کوچک اور موجودہ سینیگال اور مالی تک پہنچ گئیں جبکہ مراکش کا انتہائی جنوبی حصہ بھی اسی کے دور میں سلطنت کا حصہ بنا۔ اس کے زمانے میں سندھ کے گورنر جنید کشمیر تک وہ تمام علاقہ فتح کر لیا جو اب پاکستان کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ہندوستان میں مارواڑ، اجین، گجرات اور بھڑوج تک بھی علاوہ بھی فتح کیا۔ اس کے دور کا سب سے اہم واقعہ مسلمانوں کا فرانس پر ناکام حملہ تھا۔ جہاں مسلمان عبدالرحمان الغافقی کی قیادت میں کوہ پائرینیس عبور کرکے جنوبی اور مغربی فرانس فتح کرتے ہوئے ٹورس کے مقام تک پہنچے جو پیرس سے صرف ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر ہے۔ یہاں مسلمانوں کا یورپ کی متحدہ افواج سے مقابلہ ہوا جس میں امیر عبد الرحمان شہید ہو گیا اور مسلمانوں کو شکست ہو گئی۔

مروان ثانی (744-750)

ہشام کے بعد بنی امیہ کا زوال شروع ہو گیا اور بالآخر مروان ثانی کے عہد میں معرکۂ زاب میں شکست کے ساتھ ہی سلطنت امویہ کا خاتمہ ہو گیا ۔ مروان شکست کھا کر مصر کی طرف بھاگا۔ عباسی فوجوں نے اس کا تعاقب کیا اور حیرہ کے مقام پر اس کو قتل کر دیا گیا۔

ہشام بن عبدالمالک کے خاص خادم خسرو شیراں کا چھوٹا پوتا آفتاب بن حیدر اس وقت مروان ثانی کی فوج کا ایک بہترین سالار تہا، جب امویوں کی شکست یقینی دکھائی دینے لگی تو وہ جنگ کے دوران اپنے کچھ جانثار ساتھیوں کے ساتھ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا،اس نے اپنی فوج کے ساتھ مشرق کا رخ کیا اور بھوٹان کے ناہموار پہاڑی علاقوں پر قبضہ کر کے حیدری سلطان کا آغاز کیا۔

اس کے بعد ابوالعباس السفاح پہلے عباسی خلیفہ کی حیثیت سے تخت پر بیٹھا۔

مروان کے قتل کے بعد بنو عباس نے چن چن کر امویوں کو قتل کیا اور مردوں کی قبروں کو اکھاڑ کر لاشوں کی بے حرمتی کی۔ صرف ایک اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل بچ کر اندلس جاپہنچا اوروہاں اس نے اموی حکومت کی بنیاد رکھی۔ سپین میں امویوں کی حکومت 138ھ سے 428ھ تک قائم رہی ۔ ان میں جوبیس سلاطین گذرے جن میں بعض بڑے جلیل القدر حکمران تھے۔ اور ان کے عہد حکومت میں ہسپانیہ تہذیب و تمدن کی انتہائی بلندیوں پر جا پہنچا۔ قرطبہ اور دمشق کی رفیع الشان مساجد اور عمارات آج بھی امویوں کے شاہانہ عروج و کمال کی یاد دلاتی ہیں۔

خصوصیات

سلطنت بنو امیہ کا آغاز عثمان غنی کی شہادت کے بعد ہی سے ہو گیا تھا ۔ گویا عثمان غنی کی شہادت کا ایک نتیجہ بنو امیہ کی سلطنت کا آغاز بھی تھا۔ امیر معاویہ علی کے آخری دور میں خلیفہ تسلیم کرلیے گئے اور سلطنت بنو امیہ کی بنیاد رکھی گئی۔ امیر معاویہ کی حکومت خالص شخصی تھی۔ انھوں نے اس کے استحکام و بقاء کے لیے ہر ممکن تدبیر و طریقہ اختیار کیا لیکن کسی حالت میں ان کا قدم دنیاوی حکمرانی کے نقطۂ نظر سے جائز حدود سے باہر نہیں نکلا لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ امیر معاویہ نے کن حالات میں حکومت حاصل کی تو اس سلسلے میں ان سے جو غلطیاں یا سختیاں سر زد ہوئیں وہ جائز نہ تھیں۔ علی کے مقابلے میں ان کی صف آرائی اجتہادی غلطی کا نتیجہ تھی۔، آپ کے دور میں قاتلان عثمان پر سب و شتم کی رسم جاری ہوئی جس کو خلافت کے دشمنوں نے علی کی طرف منسوب کر کے فساد کا ایک نیا دروازہ کھولا۔ سب سے بڑی غلطی یزید بن معاویہ کو ولی عہد مقرر کرکے خلافت کو مکمل موروثیت کا درجہ دینا تھا۔ اس غلطی نے خلافت کی اصل روح اور جمہوریت کی آزادی جو خلفائے راشدین کے دور میں برقرار تھی، کا خاتمہ کر دیا۔ اور نہ صرف بنو امیہ بلکہ ان کے بعد آنے والی دیگر خلافتیں بھی اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چلیں۔

خاندان بنو امیہ میں امیر معاویہ، عبدالملک بن مروان، ولید بن عبدالملک اپنی فتوحات، انتظامی صلاحیتوں اور تمدنی ترقیوں کے اعتبار سے ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے بعد عمر بن عبدالعزیز اس خاندان میں بالکل مختلف قسم کے خلیفہ تھے اور ان کا دور خلافت راشدہ کا نمونہ تھا۔ ان کا ہر قدم اصلاحی تھا۔ وہ کسی پہلو دیگر اموی خلفاء کے مشابہ نہ تھے۔ ان کو پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز کی قابل فخر خلافت کے بعد یزیز ثانی کی خلافت کا آغاز ہوا لیکن یزید اپنے پیشرو عمر بن عبد العزیز کے نقش قدم پر زیادہ نہ چل سکا اور پھر وہی بنو امیہ کا استبدادی نظام شروع ہو گیا۔ ہشام بن عبدالملک کا دور انتظامی لحاظ سے بنو امیہ کا کامیاب دور تھا۔ ہشام کے بعد یکے بعد دیگرے جو تین خلفاء مسند اقتدار پر پہنچے ان کا دور تاریخ میں کسی اہمیت کا حامل نہیں البتہ انھیں بنو امیہ کے زوال کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ یہ تینوں خلفاء ولید ثانی، یزید ثالث اور ابراہیم انتہائی عیش پرست مگر عقل و بصیرت سے نا آشنا تھے۔ آخری خلیفہ مروان ثانی گو کہ انتظامی صلاحیتوں کا مالک تھا لیکن وہ بھی بنو امیہ کی گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا نہ دے سکا۔ مروان عباسی تحریک کے سامنے کمزور ثابت ہوا اور آخری فرمانروا ثابت ہوا۔

سلطنت بنو امیہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام نے خاندانوں اور قبائل کی جس تفریق اور امتیاز کو مٹا دیا تھا بنو امیہ نے اس کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ انھوں نے عربوں کے بھولے ہوئے سبق کو پھر یاد دلایا اور یہی سبق ان کی بربادی کا باعث بھی ثابت ہوا یعنی علویوں اور عباسیوں نے اسی خاندانی امتیاز کو آلۂ کار بنا کر بنو امیہ کی بربادی کے سامان فراہم کیے۔

اس خاندان نے اپنی حکومت اور سلطنت کے استحکام کے لیے ظلم و تشدد اور لوگوں کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ خلفاء بنو امیہ میں زیادہ نامور و قابل حکمران ہی اس غلطی کے مرتکب ہوئے۔ اس جبر و ظلم کا نتیجہ بھی ان کے حق میں بہتر ثابت نہ ہوا حالانکہ اس وقت ان کا نظریہ اپنے دشمنوں کو راستے سے ہٹادا تھا جس کا اثر الٹا ہوا۔

لیکن یہ درست نہیں کہ ان کی خلافت میں صرف خامیاں پائی جاتی ہیں۔ بہت سی ایسی خوبیاں بھی اس حکومت میں موجود تھیں جو ان کے بعد بھی بہت کم نظر آئیں۔ بنو امیہ قبائل قریش اور ملک عرب کا ایک نامور قبیلہ تھا۔ اس قبیلے کے اکثر لوگ اپنے تدبر میں اپنے ہم عصروں پر فوقیت رکھتے تھے بلکہ عہد جاہلیت سے انھیں یہ خوبیاں میسر تھیں۔ اگر بنو امیہ میں جمہوریت کی روح ختم نہ کی جاتی یا بنو امیہ کے قابل لوگوں میں ہی اقتدار تقسیم ہوتا رہتا تو یقیناً اس دور کی حکومت میں اضافہ ہوتا اور عالم اسلام کو بھی اتنا نقصان نہ پہنچتا۔

بنو امیہ کی یہ خوبی انتہائی قابل تحسین ہے کہ اس نے خلافت راشدہ کی فتوحات کو وسعت دے کر مشرق و مغرب میں پھیلا دیا۔ مشرق میں چین اور مغرب میں بحر ظلمات تک انھوں نے اپنے زمانے کی متمدن دنیا کو فتح کرکے فخر حاصل کیا۔ براعظم افریقہ کے ریگستانوں اور ہندوستان کے میدانوں تک اسلام بنو امیہ کی خلافت میں ہی پھیلا۔ اس خلافت کے بعد مسلمانوں کو جدید فتوحات کا بہت کم موقع ملا اور سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ بنو امیہ کے بعد اسلامی حکومت ایک مرکز پر قائم نہیں رہی بلکہ الگ الگ متوازی حکومتیں قائم ہونے لگیں۔

اسلام کا ابتدائی زمانہ اور خلافت راشدہ کا دور مسلمانوں کی سادگی کا دور تھا کیونکہ ان کی ضروریات زندگی بھی محدود تھیں لیکن عہد بنو امیہ میں آہستہ آہستہ ضروریات زندگی وسیع ہونے لگیں اور عیش و عشرت بڑھنے لگا۔ بنو امیہ کی حکومت میں خلافت کو موروثیت میں تبدیل کرنے کے بعد جو سب سے بڑی تبدیلی نظر آئی وہ یہی عیش پرستی اور شہنشاہیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخری دور میں اس کا اثر اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آخر کار یہی تبدیل ان کے زوال کی وجہ بن گئی۔

سلطنت بنو امیہ کا ایک قابل تحسین پہلو یہ نظر آتا ہے کہ اس دور میں عربوں کی اپنی ایک الگ حیثیت رہی۔ عرب فاتح قوم تھی، اخلاق، زبان، تمدن اور مراسم ہر چیز پر عرب غالب تھے لیکن بنو امیہ کے بعد ان کی یہ فوقیت جاتی رہی۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. The Peoples, Sekene Mody Cissoko, History of Humanity:From the Seventh to the Sixteenth Century, Vol. IV, ed. M.A. Al-Bakhit, L. Bazin and S.M. Cissoko, (UNESCO, 2008), 1190.[1]
  2. Jonathan Miran, Red Sea Citizens: Cosmopolitan Society and Cultural Change in Massawa, (Indiana University Press, 2009), 100.[2]
  3. Khalid Yahya Blankinship, The End of the Jihad State: The Reign of Hisham Ibn 'Abd al-Malik and the Collapse of the Umayyads, (SUNY Press, 1994), 286.[3]
  4. Khalid Yahya Blankinship, The End of the Jihad State: The Reign of Hisham Ibn 'Abd al-Malik and the Collapse of the Umayyads, 147.[4]
  5. Stefan Goodwin, Africas Legacies Of Urbanization: Unfolding Saga of a Continent, (Rowman & Littlefield, 2006), 85.[5]
  6. Islam in Somali History:Fact and Fiction, Mohamed Haji Muktar, The Invention of Somalia, ed. Ali Jimale Ahmed, (The Red Sea Press, Inc., 1995), 3.[6]
  7. "The Umayyads ruled for ninety years, taking white as their symbolic color as a reminder of the Prophet's first battle at Badr, and to distinguish themselves from the Abbasids, by using white, rather than black, as their color of mourning." Abdul Hadi, Evolution of the Arab Flag, 1986. "With its white flag, the Chinese تانگ خاندان referred to it [the Umayyad Dynasty] in historical literature as ' Baiyi Dashi,' the 'White Garment Calips.'" Li Qingxin, Maritime Silk Road, trans. W. W. Wang (2006), p. 47.

بیرونی روابط