غفور غلام (ازبک: Gʻafur Gʻulom, Ғафур Ғулом) (پیدائش: 10 مئی 1903ء - وفات: 10 جولائی 1966ء) ازبکستان کے قومی شاعر، ناول نگاراور مترجم تھے۔ انہیں ناول Shum bola کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔

غفور غلام
(ازبک میں: Ғафур Ғулом ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Stamps of Uzbekistan, 2003-24.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 27 اپریل 1903  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاشقند[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 جولا‎ئی 1966 (63 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاشقند[1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the Soviet Union (1922–1923).svg سوویت اتحاد  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت اشتمالی جماعت سوویت اتحاد  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان روسی،  ازبک زبان  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
SU Order of the Red Banner of Labour ribbon.svg آرڈر آف دی ریڈ بینر آف لیبر
SU Order of Lenin ribbon.svg آرڈر آف لینن  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

غفور غلام مترجم کے طور پر مشہور و معروف ہیں۔ انہوں نے ملکی اور غیر ملکی ادیبوں خاص کر الیکزاندرپشکن، شیکسپیئر، سعدی شیرازی، ولادیمیرمایاکوفسکی کی تخلیقات کو ازبک زبان کا جامہ پہنایا۔ اس کے علاوہ آپ حمزہ حکیم زادہ نیازی کے ساتھ جدید ازبک شاعری کے بانی کہلائے جاتے ہیں۔ آپ کو ریاستی اسٹالن انعام اور ازبکستان کے قومی شاعر کے خطاب سے نوازا گیا۔

حالات زندگیترميم

غفور غلام ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں 10 مئی 1903ء کو غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ 9 سال عمر میں والد کا انتقال ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم نام نہاد قدیم اسکول میں حاصل کی۔ بعد ازاں غیر روسیوں کے لیے ترکستان میں قائم روسی اسکول میں داخل ہوئے۔ اساتذہ کا ٹریننگ کورس مکمل کرنے کے بعد استاد مقرر ہوئے۔ 1923ء میں یتیم خانے کے شعبۂ نصاب کے سربراہ مقرر ہوئے[3]۔

غفور غلام کی شاعری نے ازبک ادب کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ ان کی نظمیں "Sen yetim emassan", "Men yahudiy", "Soginish", "Bizning ko'chada ham bayram bo'lajak", "Yigitlarga", "Vaqt", "Suv va nur", "Kani mening yulduzim" ازبک ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ غفور غلام بحیثیت ناول نگار ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کے ناول Tirilgan Murda", "Netay", "Yodgor", "Shum bola" ازبک ادب کے پہچان ہیں۔ خاص کر "Shum bola" کو عالمی شہرت حاصل ہے۔[3] اس کے علاوہ آپ نے الیکزاندرپشکن، شیکسپیئر، سعدی شیرازی اور ولادیمیرمایاکوفسکی کی تخلیقات کو ازبک زبان میں ترجمہ کیا۔

غفور غلام کو 1943ء میں ازبکستان سائنس اکادمی کا رکن اور 1963ء میں ازبکستان کے قومی شاعر کے خطاب سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ آپ کو لینن انعام، آرڈر آف میرٹ اور ریاستی اسٹالن انعام اور بہت سے دوسرے انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔

تخلیقاتترميم

نظمیںترميم

  • Sen yetim emassan
  • Men yahudi
  • Soginish
  • Bizning ko'chada ham bayram bo'lajak
  • Yigitlarga
  • Vaqt
  • Suv va nur
  • Kani mening yulduzim

ناولترميم

  • Tirilgan Murda
  • Netay
  • Yodgor
  • Shum bola

اعزازاتترميم

وفاتترميم

غفور غلام 63 سال کی عمر میں 10 جولائی 1966ء کو تاشقند، ازبکستان، سوویت یونین میں وفات پا گئے۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Гафур Гулям — اشاعت سوم — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  2. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Гафур Гулям — اشاعت سوم — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  3. ^ ا ب Gafur Gulom (1903-1966)