حیدرآباد، دکن

حیدرآباد ، دکن
(حیدرآباد دکن سے رجوع مکرر)

حیدرآباد بھارت کی ریاست تلنگانہ کا دارالحکومت اور صوبہ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ جنوبی ہند کے سطح مرتفع دکن علاقہ دریائے موسی کے کنارے واقع اس شہر کا کل رقبہ 650 مربع کلو میٹر (250 مربع میل) ہے۔ سطح سمندر سے 542 میٹر 1778 فٹ) کی اونچائی پر واقع یہ شہر کئی پہاڑوں اور مصنوعی تالابوں سے مالا مال ہے۔ شہر کا مشہور حسین ساگر حیدرآباد کی تاسیس سے بھی پرانا ہے۔ مردم شماری، 2011ء کے مطابق حیدرآباد آبادی کے لحاظ سے چو تھا بڑا شہر ہے۔ اس کی کل آبادی 6.9 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ اگر میٹروپولیٹن علاقہ کی بات کریں تو اس کی کل آبادی 9.7 ملین ہے اور اس لحاظ سے یہ بھارت کا چھٹا بڑا میٹروپولیٹن شہر ہے۔ اس کی معیشت کی کل مالیت 74 بلین امریکی ڈالر ہے اور اس لحاظ سے یہ بھارت کی پانچوں بڑی شہری معیشت ہے۔

میٹروپولس
300px
اوپر سے دائیں جانب: رمضان کی ایک شب چار مینار کا بازار ، گنبدان قطب شاہی، حسین ساگر پر مجسمۂ بدھا ، فلک نما محل، گاچی باولی کا طائرانہ نظارہ، بیرلہ مندر
حیدرآباد
بلدیہ حیدرآباد کا نشان

حیدرآباد کا نقشہ
تلنگانہ،بھارت میں حیدرآباد کی منظر کشی
تلنگانہ،بھارت میں حیدرآباد کی منظر کشی
حیدرآباد
تلنگانہ،بھارت میں حیدرآباد کی منظر کشی
تلنگانہ،بھارت میں حیدرآباد کی منظر کشی
حیدرآباد
تلنگانہ،بھارت میں حیدرآباد کی منظر کشی
تلنگانہ،بھارت میں حیدرآباد کی منظر کشی
حیدرآباد
تلنگانہ،بھارت میں حیدرآباد کی منظر کشی
تلنگانہ،بھارت میں حیدرآباد کی منظر کشی
حیدرآباد
نقشہ ہائے حیدرآباد
متناسقات: 17°21′42″N 78°28′29″E / 17.36167°N 78.47472°E / 17.36167; 78.47472متناسقات: 17°21′42″N 78°28′29″E / 17.36167°N 78.47472°E / 17.36167; 78.47472
ملکFlag of India.svg بھارت
ریاست تلنگانہ
ضلع
قیام1591
قائم ازمحمد قلی قطب شاہ
حکومت
 • قسمبلدیہ
 • مجلسعظیم تر بلدیہ حیدرآباد،
حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی
 • عظیم تر بلدیہ حیدرآبادGadwal Vijayalakshmi (TRS)
 • رکن پارلیماناسد الدین اویسی (کل ہند مجلس اتحاد المسلمین)
رقبہ
 • اصل شہر650 کلومیٹر2 (250 میل مربع)
 • میٹرو7,257 کلومیٹر2 (2,802 میل مربع)
بلندی542 میل (1,778 فٹ)
آبادی (2011)[1]
 • اصل شہر6,809,970 (نفوس)
 • تخمینہ (2018)[2]9,482,000
 • کثافت10,477/کلومیٹر2 (27,140/میل مربع)
 • شہری[3]7,749,334 (شہری آبادی)
 • میٹرو[4]9.7 ملین (آبادی)
نام آبادیحیدرآباد
منطقۂ وقتبھارتی معیاری وقت (UTC+5:30)
ڈاک اشاریہ رمز500xxx, 501xxx, 502xxx
گاڑی کی نمبر پلیٹTS-07 سے TS-15
(سابقہ AP-09 سے AP-14 اور AP-28, AP-29)
Metro GDP (مساوی قوت خرید)امریکی ڈالر40–امریکی ڈالر74 بلین[5]
سرکاری زبانیں
ویب سائٹwww.ghmc.gov.in

1591ء میں محمد قلی قطب شاہ نے اپنے پایہ تخت کو گولکنڈہ کے باہر وسعت دی۔ گولکنڈہ ایک قلعہ بند شہر تھا۔ 1687ء میں مغلیہ سلطنت نے حیدراباد کو سلطنت مغلیہ کا حصہ بنا دیا۔ 1724ء میں مغل وائسرائے نظام الملک آصف جاہ اول نے مغل سلطنت سے بغاوت کی اور اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا اور مملکت اصفیہ کی بنیاد ڈالی۔ مملکت آصفیہ کو نظام حیدرآباد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1769ء تا 1948ء حیدراباد مملکت آصفیہ کا پایہ تخت رہا۔ برطانوی دور میں قانون آزادی ہند 1947ء تک یہ نوابی ریاست برطانوی ریزیڈنسی، حیدرآباد کہلائی۔ 1948ء میں بھارت ڈومینین نے حیدراباد کو بھارت میں شامل کرلیا اور شہر حیدراباد ریاست حیدرآباد کا پایہ تخت بنا رہا۔ 1956ء میں صوبہ تشکیل نو ایکٹ، 1956ء کے تحت ایک نئے صوبہ آندھرا پردیش کا دارالحکومت بنا۔ 2014ء میں آندھرا پردیش کے دو حصے ہوئے اور تشکیل تیلنگانہ عمل میں آیا اور 2024ء تک حیدراباد کو مشترکہ طور پر دونوں صوبوں کا دار الحکومت بنایا گیا۔ 1956ء سے حیدراباد صدر بھارت کا موسم سرما کا دفتر رہا ہے۔ شہر میں قطب شاہی اور نظام شاہی سلطنتوں کے باقیات جا بجا ملتے ہیں۔ چار مینار حیدراباد کی پہچان ہے۔ عہد جدید کے اواخر میں جب مغل سلطنت زوال پزیر ہونے لگی تب نظام حیدراباد نے اپنا دور شباب دیکھا اور حیدراباد کو دنیا بھر میں ایک پہچان مل گئی۔ یہاں کی ثقافت، زیورات، ادب، مصوری، دکنی لہجہ اور ملبوسات اپنی انفرادیت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ حیدرآبادی پکوان کی وجہ سے یہ شہر یونیسکو کے سٹی آف گیسٹرانومی میں شامل ہے۔ شہر میں واقع تیلگو سنیما بھارت کا دوسرا بڑا سنیما ہے۔ 19ویں صدی تک حیدراباد دنیا بھر میں اپنے ہیروں کی وجہ سے مشہور تھا اور اسے “سٹی آف پلرس“ (ہیروں کا شہر) کہا جاتا تھا۔ دنیا بھر میں گولکنڈہ کے ہیروں کی تجارت ہوتی تھی۔ شہر کے کئی روایتی بازار اب بھی موجود ہیں۔ حیدراباد سطح مرتفع دكن اور مغربی گھاٹ کے درمیان میں واقع ہے اور اسی وجہ سے 20ویں صدی میں یہ تحقیق، تعمیر، تعلیم و ادب اور معیشت کا مرکز بن گیا اور یہاں کئی تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔ 1990ء کی دہائی میں یہ شہر ادویات اور بایوٹیکنالوجی میں ترقی کرنے لگا اور یہاں خصوصی معیشتی علاقہ (ہائی ٹیک سٹی) ترقی پزیر ہوا جہاں کئی بین الاقوامی کمپنیاں اور صنعت موجود ہیں۔

تاریخترميم

مکان نامیترميم

حیدراباد کے معنی “حیدر کا شہر“ کے آتے ہیں۔ حیدر بمعنی شیراور آباد بمعنی شہر یا آبادی۔ حیدر دراصل خلیفہ راشد رابع علی ابن ابی طالب کا ایک نام ہے اور انہی کے نام پر اس شہر کا نام رکھا گیا ہے۔[6] پہلے اس شہر کا نام “باغ نگر“ (باغوں کا شہر) تھا جسے بعد میں حیدراباد کر دیا گیا۔[7][8] یورپی سیاح وون پوسر اور ثیونوٹ کے مطابق 17ویں صدی میں دونوں نام زیر استعمال تھے۔[9][10] ایک روایت کے مطابق شہر کے بانی محمد قلی قطب شاہ نے اس شہر کا نام بھاگ متی کے نام پر “بھاگیہ نگر“ رکھا۔ وہ ایک مشہور رقاصہ تھی۔ قلی قطب شاہ نے بھاگ متی سے شادی کرلی اور بھاگ متی نے اسلام قبول کر کے اپنا نام حیدر محل رکھ لیا۔ ان کے اعزاز میں یہ شہر حیدراباد کہلانے لگا۔[11]

ابتدائی تاریخ اور عہد وسطیترميم

 
A 17th century Deccani School miniature of قطب شاہی سلطنت ruler ابو الحسن قطب شاہ with Sufi singers in the Mehfil-(“gathering to entertain or praise someone”)۔
 
The گنبدان قطب شاہی at Ibrahim Bagh are the tombs of the seven Qutb Shahi rulers.

1851ء میں عہد نظام شاہی میں مضافات حیدرآباد میں فلپ میڈوز ٹیلر نے ماقبل تاریخ کے کچھ نصب کردہ پتھر دریافت کیے تھے۔ فلپ نظام شاہی سلطنت میں ایک پولیمیتھ تھے۔ فلپ نے ان پتھروں سے نتیجہ نکالا کہ یہ شہر سنگی دور سے آباد ہے۔[12][13] ماہرین آثار قدیمہ کو کھدائی کے دوران میں حیدرآباد کے نزدیک آہنی دور کے کچھ آثار ملے تھے جو تقریباً 500 عام زمانہ کے ہو سکتے ہیں۔[14] یہ پورا علاقہ اور جدید حیدراباد میں شامل ہے اور اور اس کے آس پاس 624ء تا 1075ء چالوکیہ خاندان کی حکومت تھی۔[15] 11ویں صدی میں چالوکیہ سلطنت چار ریاستوں میں منقسم ہو گئی اور گولکنڈہ کی ریاست کیکٹیا خاندان کے حصہ میں آئی۔ انہوں نے 1158ء میں گولکنڈہ کی حکومت سنبھالی اور ان کا پایہ تخت موجودہ حیدراباد سے 148 کلومیٹر (92 میل) شمال مشرق میں آباد وارنگل تھا۔[16] کیکٹیا کے راجا گنپتی دیوا نے پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ تعمیر کیا جسے اب قلعہ گولکنڈہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔[13]

1310ء میں دہلی سلطنت کے خلجی خاندان کے حکمران علا الدین خلجی نے کیکٹیا کو شکست دی اور ان کی حکومت محدود کردی۔ 1321ء میں علاءالدین کے سپہ سالار ملک کافور نے کیکٹیا حکومت کو دہلی سلطنت میں شامل کرلیا۔[17] اسی حملہ کے دوران میں خلجی کو مشہور کوہ نور ہاتھ لگا جسے وہ دہلی لے گیا۔ کوہ نور کو گولکنڈہ کے کلور کی کان سے نکالا گیا تھا۔[18] 1325ء میں دہلی سلطنت خلجییوں کے ہاتھوں سے نکل کر تغلق خاندان کے ہاتھ میں آگئی اور وارنگل کو دہلی سلطنت میں شامل کرلیا گیا۔ ملک مقبول تیلاغانی وارنگل کے جنرل مقرر ہوئے۔ 1333ء میں منصوری نایک نے سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی اور وارنگل کو اپنی ماتحتی میں لے لیا اور اپنی ریاست کی دارالخلافت کو یہاں منتقل کردیا۔[19] اس کے بعد تغلق کے ایک گورنر علا الدین بہمن شاہ نے بھی دہلی سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی اور سطح مرتفع دكن میں اپنی حکومت قائم کی اور موجودہ حیدرآباد سے 200 کلومیٹر (124 میل) مغرب میں واقع گلبرگہ کو دارالحکومت بنایا۔ وارانگل کے منصور اور گلبرگہ کے بہمنیوں کے درمیان میں 1364-65ء تک خوب جنگیں ہوئیں اور بالآخر ایک معاہدہ پر دستخط ہوئے اور منصوری نے گولکنڈہ کو بہمن کے حوالہ کردیا۔ بہمن کے گولکنڈہ پر 1518ء تک حکومت کی اور وہ دکن پر پہلے مسلم آزاد حکمران بن گئے۔[20][21][22] 1496ء میں قلی قطب الملک کو تیلنگانہ علاقہ کا نیا گورنر بنایا گیا۔ انہوں نے پرانے گولکنڈہ کی قلعہ بندی کی۔ شہر کے حصار کو بڑھایا اور نئی دیواریں بھی تعمیر کیں اور نئے شہر کا نام محمد نگر رکھا۔ 1518ء میں قلی قبط الملک بہمنی سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی اور قطب شاہی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔[16][23][24] قطب شاہی سلطنت کے 5ویں حکمران محمد قلی قطب شاہ نے گولکنڈہ میں پانی کی قلت کی وجہ سے[25] 1591ء میں موسی ندی کے کنارے حیدرآباد کو بسایا۔[26][27] قلی قطب شاہ نے اپنے دور حکومت میں چار مینار اور مکہ مسجد کو تعمیر کیا۔[28] 21 ستمبر 1687ء کو ایک سال تک گولکنڈہ کا محاصرہ کرنے کے بعد اسے فتح کرلیا۔[29][30] انہوں نے گولکنڈہ کو مغلیہ سلطنت کا ایک صوبہ قرار دیا اور حیدرآباد کو دارالجہاد کا نام دیا اور یہاں سے 550 کلومیٹر (342 میل) شمال مغرب میں واقع اورنگ آباد، مہاراشٹر کو گولکنڈہ کا دارالحکومت بنایا۔[31][32][33]

جدید تاریخترميم

 
تصویر میں ایل مل ہے جس کا نالہ حیسن ساگر تک جاتا ہے۔ 1880ء میں ریلوے آنے کے بعد حسین ساگر کے ارد گرد اس طرح کی صنعتیں قائم کی گئی تھیں۔

1713ء میں مغل شہزادہ فرخ سیر نے مبریز خان کو حیدراباد کا گورنر نامزد کیا تھا۔ انہوں نے شہر کو قلعہ بند کیا اور اندوری معاملات درست کیے اور بیرونی طاقتوں سے بھی نبرد آزما ہو کر انہیں قابو میں کیا۔[31] 1714ء میں فرخ سیر نے نظام الملک آصف جاہ اول کو دکن کا وائسارئے (مغل کے چھ صوبوں کا منتظم اعلیٰ) نامزد کیا۔ انہیں ‘نظام الملک‘ کا خطاب دیا گیا۔ 1721ء میں وہ مغلیہ سلطنت کے وزیر اعظم نامزد ہوئے۔[34] مغلیہ سلطنت سے اختلافات کی بنا پر انہوں نے 1723ء میں تمام عہدوں سے استعفی دے دیا اور دکن واپس آگئے۔[35][36] ادھر مغل بادشاہ محمد شاہ نے مبریز خان کو آصف جاہ کو روکنے کا حکم دیا جس کے نتیجہ میں شکر کھیڑا کی لڑائی ہوئی۔[35]:93–94 آصف جاہ نے مبریز خان کو شکست دی اور سطح مرتفع دكن میں ایک خود مختار ریاست قائم جس کا نام ریاست حیدراباد رکھا گیا۔ بعد میں اس کا نام مملکت آصفیہ رکھ دیا گیا۔ بعد سے حمکرانوں نے نظام الملک کا خطاب برقرار رکھا اور آصف جاہہ نظام یا نظام حیدرآباد کہلائے۔[31][32] 1748ء میں آصف جاہ اول کی وفات کے بعد سلطنت میں سیاسی افراتفری پھیل گئی اور بعد کے حکمرانوں - ناصر جنگ (1748ء - 1750ء)، محی الدین مظفر جنگ ہدایت (1750ء - 1751ء) اور صلابت خان (1751ء - 1762ء) کا عہد حکمرانی پڑوسی ریاستوں سے نبرد آزمائی اور لالچی اور موقع پرستوں کی مدد سے آنے والی کولونیل طاقتوں کو کچلنے میں نکل گیا۔ 1762ء میں آسف جاہ ثانی نے تخت سنبھالا اور انہوں نے ریاست میں سیاسی استحکام قائم کیا۔ وہ 1803ء تک حکمران رہے۔ 1768ء میں انہوں نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ مسولی پٹنم معاہدہ پر دستظط کئے جس کے رو سے ریاست کے تمام ساحلی علاقے کمپنی کو سونپ دیے گئے۔ بدلے میں کمپنی نے ریاست کو ایک مخصوص سالانہ کرایہ دیا۔[37] 1769ء میں حیدراباد آصف جاہی نظام کا باقاعدہ دارالحکومت قرار پایا۔[31][32] چونکہ نظام کو میسور کے دلوائی حیدر علی، مرہٹہ سلطنت کے پیشوا باجی راؤ اول اور فرانسیسی ہندوستانی جنرل مارقویس دی بوسی کے تعاون سے آصف جاہ اول کے بھائی بصالت خان سے برار خطرہ رہتا تھا، لہذا نظام حیدراباد نے 1798ء میں برطانوی ہندی فوج کے ساتھ ایک ماتحت اتحاد قائم کیا اور بدلے میں نظام نے برطانیہ کو سالانہ معاوضہ ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ معاہدہ کی رو سے برطانوی ہندی فوج نے بولارم (موجودہ سکندراباد) میں نظام سلطنت کی حفاظت کے لئے ایک فوجی چھاونی قائم کی۔[37] 1874ء میں حیدراباد میں کوئی صنعت نہیں تھی اور کارخانوے ناپید تھے۔ 1880ء کی دہائی ریل گاڑی کی آمد کے بعد حسین ساگر کے جنوب اور مشرق میں کارخانے قائم کئے گیے۔[38] 20ویں صدی میں جدید مواصلاتی نظام، زیر زمین آبی نکاسی، میٹھے پانی کے نالے، بجلی، ٹیلی مواصلاتی نظام، صنعتیں اور کارخانے اور بیگم پیٹ ہوائی اڈا کے قیام سے حیدراباد کو جدید شہر میں تبدیل کر دیا گیا۔[31][32]

تقسیم کے بعد بھارت ڈومینین یا نومولود پاکستان ڈومنین کے ساتھ جانے کے بجائے خود مختار رہنے کا فیصلہ کیا۔[37] مگر 1948ء میں انڈین نیشنل کانگریس اور بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کی مدد سے حیدراباد اسٹیٹ کانگریس نے نظام سابع میر عثمان علی خان کے خلاف محاذ کھول دیا۔ اسی سال 17 ستمبر کو بھارتی فوج نے ریاست حیدراباد پر قبضہ کر لیا اور اس عمل کو ‘آپریشن پولو‘ (سقوط حیدرآباد) کا نام دیا گیا۔ نظام کو بھارتی فوج نے حراست میں لے لیا اور ریاست حکومت کو ہند کو سونپنی پڑی۔ حکومت نے انہیں راج پرمکھ بنایا مگر 31 اکتوبر 1956ء کو ان سے یہ عہدہ چھین لیا گیا۔[32][39]

ما بعد آزادیترميم

1946ء اور 1951ء کے دوران میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے تلنگانہ میں علاقہ کے جاگیرداروں کے خلاف عوام کو بھڑکایا اور تیلانگانہ بغاوت کو ہوا دی۔[40] 26 جنوری 1950ء آئین ہند نافذ ہوا جس کی رو سے حیدڑاباد اسٹیٹ کو بھارت کا ایک صوبہ تسلیم کیا گیا اور حیدرآباد شہر بدستور دارالحکومت برقررار رہا۔[41] اس وقت کے آین ہند کے ڈرافٹ کمیٹی کے صدر نشین بھیم راؤ رام جی امبیڈکر نے اپنی 1955ء کی رپورٹ تھاٹس اون لنگوسٹک اسٹیٹس میں حیدرآباد کو اس کی سہولیات اور جغرافیائی اہمیت کی بنا پر بھارت کی کدوسری راجدھانی بنانے کی وکالت کی۔[42] 1 نومبر 1956ء کو بھارت کی ریاستوں کو بلحاظ زبان تقسیم کیا گیا۔ ریاست حیدرآباد کو پڑوسی مہاراشٹرا، کرناٹک اور آندھرا پردیش میں تقسیم کر دیا گیا۔ حیدرآباد کے تیلگو زبان اور اردو بولنے والے 9 ضلعوں کو ریاست آندھرا میں شامل کر کے آندھرا پردیش بنایا گیا اور حیدرآباد کو اس کا دارالخلافت بنایا۔[43][44][45] اس کے خلاف کئی مظاہرے ہوئے اور تلنگانہ تحریک کی ابتدا ہوئی۔ اس تحریک کے ذریعے تیلگو ضلعوں کو آندھرا پردیش میں ضم کے خلاف مظاہرے ہوئے اور ایک نئی ریاست بنام تیلنگانہ بنائے جانے کی مانگ اٹھنے لگی۔ 1969ء اور 1972ء میں کئی بڑے واقعات رونما ہوئے اور پھر 2010ء میں بھی اس مظاہرہ نے زور پکڑ لیا۔[46] شہر میں کئی دھماکے بھی ہوئے جن میں 2002ء میں دل سکھ نگر میں ایک بڑا دھاکہ ہوا جس میں 2 لوگوں کی جان بھی گئی۔[47] 2007ء میں بھارت میں مذہبی تشدد نے زور پکڑا اور مئی اور اگست میں کئی بم دھماکے ہوئے۔[48] اس کے بعد 2013ء حیدرآباد بم دھماکے ہوئے۔[49] 30 جولائی 2013ء کو حکومت ہند نے اعلان کیا کہ آندھرا پردیش کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور دوسری ریاست تیلنگانہ کہلائے گی۔ حیدرآدباد تیلنگانہ کا حصہ رہے گا اور دس برسوں کو یہ دونوں ریاستوں کا دارالحکومت بنا رہے گا۔ 13 اکتوبر 2013ء کو حکومت نے یہ پیشکش منظور کرلی۔[50] اور فروری 2014ء میں بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے آندھرا پردیش تنظیم نو ایکٹ، 2014ء کو منظور کرلیا۔ 2 جون 2014ء کو تیلنگانہ ایک مستقل ریاست بن گیا۔[51]

جغرافیہترميم

 
حسین ساگر کی تعمیر قطب شاہی سلطنت کے زمانے میں ہوئی۔ اس زمانہ میں یہ شہر کی آبی کمی کو پورا کرتا تھا۔

حیدرآدباد دہلی سے 1,566 کلومیٹر (5,138,000 فٹ) جنوب، ممبئی سے 699 کلومیٹر (2,293,000 فٹ) جنوب مشرق اور بنگلور سے 570 کلومیٹر (1,870,000 فٹ) شمال میں واقع ہے۔[52] حیدرآباد جنوبی ہند کے سطح مرتفع دكن میں دریائے کرشنا کی ذیلی ندی دریائے موسی کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ تیلنگانہ کے جنوبہ حصہ میں ہے۔ یہ پورا علاقہ جنوبی ہند کا حصہ ہے۔[53][54][55][56] عظیم تر حیدرآباد کا کل رقبہ 650 کلومیٹر2 (250 مربع میل) ہے اور یہ بھارت کے سب سے بڑے بلدیہ میں سے ایک ہے۔[57] اس کی اوسط اونچائی 650 کلومیٹر2 (250 مربع میل)۔ حیدرآباد سرمئی اور گلابی گرینائٹ کے دھلوانی زمین پر بسا ہوا ہے جہاں جا بجا چھوٹی پہاڑیاں ہیں۔ سب سے اونچی پہاڑی بنجارا ہلز ہے جس کی اونچائی 672 میٹر (2,205 فٹ) ہے۔[56][58] حیدرآباد میں کئی تالاب ہیں جنہیں یہاں ساگر کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ موسی ندی پر باندھ بناکر بنایا گیا ہے جیسے شہر کے مرکز 1562ء میں تعمیر شدہ حسین ساگر، عثمان ساگر اور حمایت ساگر وغیرہ۔[56][59] بمطابق 1996ء، حیدرآباد میں 140 بڑی جھیلیں اور 834 چھوٹے تالاب ہیں۔[60]

آب و ہواترميم

حیدرآباد کی آب ہوا کوپن موسمی زمرہ بندی کے تحت آتی ہے۔[61] سالانی اوسب درجہ حرارت 26.6 °C (79.9 °F) ہے اور ماہانہ اوسط درجہ حرارت; 21–33 °C (70–91 °F) ہے۔[62] موسم گرما (مارچ تا جون) گرم اور نم رہتا ہے۔ درجہ حرارت اوسطا 30 ڈگری سیلسیس کے قریب رہتا ہے۔[63] اپریل اور جون کے درمیان میں درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔<[62] سرد مہینے دسمبر اور جنوری ہیں، اس دوران میں درجہ حرارت 10 °C (50 °F) تک گر جاتا ہے۔ مئی کا مہینہ سب سے گرم رہتا ہے، اس دوران میں اوسط درجہ حرارت 26–39 °C (79–102 °F) تک رہتا ہے۔[63] جون اور اکتوبر کے درمیان میں مانسون رہتا ہے اور اس دوران موسلادھار بارش ہوتی ہے۔ اسی دوران میں سال بھر کی زیادہ تر بارش ہو جاتی ہے۔[63] 1891ء سے بارش کا ریکارڈ رکھنا شروع ہوا ہے اور تب سے 24 اگست 2000ء کو 24 گھنٹے میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس دن کل 241.5 mm بارش ہوئی تھی۔ جو اب تک سب سے زیادہ ہے۔ 2 جون 1966ء کو اب تک کا سب زیادہ گرم دن آنکا گیا ہے۔ اس دن کا درجہ حرارت 45.5 °C (114 °F) اور سب سے کم درجہ حرارت 6.1 °C (43 °F) 8 جنوری 1946ء کو تھا۔[64] شہر پورے سال تقریباً 2,731 گھنٹے تک سورج کی روشنی حاصل کرتا ہے۔ سب سے زیادہ فروری کا مہینہ سورج کی تپش میں رہتا ہے۔[65]

کے موسمی تغیرات حیدرآباد، دکن (بیگم پیٹ ہوائی اڈا) 1981–2010، extremes 1951–2012)
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
بلند ترین °س (°ف) 35.9
(96.6)
39.1
(102.4)
42.2
(108)
43.3
(109.9)
44.5
(112.1)
45.5
(113.9)
37.4
(99.3)
36.2
(97.2)
36.1
(97)
36.7
(98.1)
34.0
(93.2)
34.2
(93.6)
45.5
(113.9)
اوسط بلند °س (°ف) 29.3
(84.7)
32.4
(90.3)
35.9
(96.6)
38.1
(100.6)
39.4
(102.9)
34.9
(94.8)
31.3
(88.3)
30.1
(86.2)
31.1
(88)
31.0
(87.8)
29.6
(85.3)
28.7
(83.7)
32.7
(90.9)
یومیہ اوسط °س (°ف) 22.7
(72.9)
25.3
(77.5)
28.6
(83.5)
31.3
(88.3)
33.0
(91.4)
29.7
(85.5)
27.0
(80.6)
26.2
(79.2)
26.7
(80.1)
25.8
(78.4)
23.7
(74.7)
21.9
(71.4)
26.8
(80.2)
اوسط کم °س (°ف) 15.9
(60.6)
18.3
(64.9)
21.5
(70.7)
24.4
(75.9)
26.3
(79.3)
24.2
(75.6)
22.8
(73)
22.2
(72)
22.3
(72.1)
20.6
(69.1)
17.4
(63.3)
15.1
(59.2)
20.9
(69.6)
ریکارڈ کم °س (°ف) 6.1
(43)
8.9
(48)
13.2
(55.8)
16.0
(60.8)
16.7
(62.1)
17.8
(64)
18.6
(65.5)
18.7
(65.7)
17.8
(64)
11.7
(53.1)
7.4
(45.3)
7.1
(44.8)
6.1
(43)
اوسط بارش مم (انچ) 9.3
(0.366)
9.2
(0.362)
17.8
(0.701)
21.7
(0.854)
31.7
(1.248)
111.2
(4.378)
179.2
(7.055)
207.0
(8.15)
132.9
(5.232)
103.6
(4.079)
26.1
(1.028)
4.9
(0.193)
854.6
(33.646)
اوسط بارش ایام 0.6 0.5 1.1 1.8 2.4 6.9 10.0 11.5 7.6 5.5 1.6 0.4 49.9
اوسط اضافی رطوبت (%) (at 17:30 بھارتی معیاری وقت) 40 32 28 28 30 51 64 69 65 56 48 43 46
ماہانہ اوسط دھوپ ساعات 272.8 265.6 272.8 276.0 279.0 180.0 136.4 133.3 162.0 226.3 243.0 251.1 2,698.3
اوسط روزانہ دھوپ ساعات 8.8 9.4 8.8 9.2 9.0 6.0 4.4 4.3 5.4 7.3 8.1 8.1 7.4
ماخذ#1: India Meteorological Department (sun 1971–2000)[66][67][68]
ماخذ #2: Tokyo Climate Center (mean temperatures 1981–2010)[69]


تحفظترميم

حیدرآدباد میں تالابوں اور جھیلوں کی بہتات ہے اور یہاں کی پہاڑی اور ڈھلوانی زمین کی وجہ سے حیوانات اور نباتات کے پھلنے پھولنے کا اچھا موقع ملتا ہے۔ 1996ء میں حیدرآباد کی زمین کا کل 2.7% حصہ درختوں پر مشتمل تھا مگر بمطابق 2016 یہ تناسب گھٹ کر 1.7% رہ گیا ہے۔[70] شہر کے مضافات کے جنگلات خاصے اہمیت کے حامل ہیں اور حکومت نے انہیں مختلف شکلوں میں محفوظ کر رکھا ہے مثلاً قومی باغستان، چڑیا گھر، چھوٹے چڑیا گھر، جنگلی حیات کی پناہ گاہ وغیرہ۔ نہرو چڑیا گھر (شہر کا سب سے بڑا چڑیا گھر) ملک کا پہلا چڑیا گھر تھا جس میں شیر اور ببر شیر کا سفاری پارک تھا۔ حیدرآباد میں 3 نیشنل پارک ہیں؛ موروگوانی نیشنل پارک، مہاویر ہرینا ونستھلی نیشنل پارک اور کاسو برہانندا ریڈی نیشنل پارک۔ ان کے علاوہ منجیرا وائلڈ لائف سینکچری شہر کے تقریباً 50 کلومیٹر (31 میل) کی مسافت پر واقع ہے۔ حیدرآباد میں کوٹلہ وجے بھاسکر ویڈی بوٹانیکل گارڈن، امین پور لیک، شامیرپیٹ لیک، حیسن ساگر، فوکس ساگر لیک، میر عالم ٹینک اور پتنچیرو لیک موجود ہیں جو شہر کی آب ہوا کو متناسب رکھنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے اہم سیاحتی مقامات میں شامل ہیں۔ بالصوص شامیرپیٹ لیک اور پتنچیرو لیک مختلف ملکوں سے آئے مہاجری پرندوں کی آماجگاہ ہیں۔[71] ریاست کی کئی تنظیمیں شہر کی حیواناتی اور نباتاتی تناسب کو برقرار رکھنے اور انہیں منظم کرنے کے لئے وقف ہیں مثلاً تیلنگانا محمکہ جنگلات[72]، انڈین کونسل آف فاریسٹری ریسرچ اینڈ ایجوکیشن، دی انٹرنیشنل کروپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار دی سیمی ایریڈ ٹراپکس، دی انیمل ویل فیئر بورڈ آف انڈیا، دی بلیو کراس آف حیدرآباد اور دی یونیرسٹی آف حیدرآباد[71]

نظم و نسقترميم

مشترکہ دارالحکومتترميم

آندھرا پردیش تنظیم نو ایکٹ، 2014ء کے حصہ 2 سیکشن 5[73] میں درج ہے: “(1) - تنظیم نو کے بعد کے دن سے حیدرآباد موجودہ آندھرا پردیش اور تیلنگانہ کا آئیندہ دس برسوں تک مشترکہ دارالحکومت ہوگا۔ (2) - سیکشن (1) کے مطابق دس سال کی مدت ختم ہونے کے بعد حیدرآباد تیلنگانہ کا دارالحکومت برقرار رہے گا اور آندھرا پردیش کا نیا دارالحکومت ہوگا۔“ اسی سیکشن میں یہ بھی درج ہے کہ حیدرآباد میونسپل ایکٹ 1955ء کے تحت قائم کردہ موجودہ دارالحکومت میں عظیم تر بلدیہ حیدرآباد بھی مشترکہ دارالحکومت میں شامل ہے۔

علاقائی حکومتترميم

 
The GHMC is divided into six municipal zones

عظیم تر بلدیہ حیدرآباد (جی ایچ ایک سی) شہر کے بنیادی ڈھانچے کا ذمہ دار ہے۔ جی ایچ ایم سی کو کل 6 خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

ان 6 خطوں میں کل 30 ذیلی خطے ہیں اور کل 150 میونسپل وارڈ ہیں۔ ہر وارڈ کا ایک کارپوریٹر ہوتا ہے جسے انتخابات میں ووٹ کے ذریعہ منتخب کیا جاتا ہے۔ 2020ء میں کل 7,400,000 ووٹر ہیں جن میں 3,850,000 مرد اور 3,500,000 خواتین ہیں۔[74] سارے کارپوریٹر مل کر ناظم شہر کو منتخب کرتے ہیں کو جی ایچ ایم سی کا سربراہ اعلیٰ بھی ہوتا ہے۔ حالانکہ عاملہ کا اختیار میونسپل کمشنر کے پاس ہوتا ہے جسے ریاستی حکومت نامزد کرتی ہے۔ جی ایچ ایم سی شہر کے بنیادی ڈھانچوں کی دیکھ ریکھ اور مرمت کرتی ہے مثلاً سڑکوں کی تعمیر اور مرمت، آبی نکاسی کی مرمت اور تعمیر، شہری منصوبہ بندی، جیسے تعمیری منصوبہ بندی، میونسپل کے بازار اور باغات کی دیکھ ریکھ، کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانا، پیدائش اور وفات کی سند جاری کرنا، تجارتی اجازت نامہ جاری کرنا، املاک کا ٹیکس جمع کرنا اور سماجی فلاح و بہبود کے کام کرنا جیسے زچہ بچہ فلاح و بہبود اور ماقبل اسکول تعلیم وغیرہ۔[75] اپریل 2007ء میں عظیم تر بلدیہ حیدرآباد اور دیگر 12 میونسپلٹیوں کو ملا کر جی ایچ ایم سی کو قائم کیا گیا تھا۔ ان میں: حیدرآباد ضلع، بھارت، رنگا ریڈی ضلع اور میدک ضلع شامل ہیں جن کا رقبہ 650 کلومیٹر2 (250 مربع میل) ہے۔[57]:3

صاف صفائی اور دیگر سہولیاتترميم

 
جی ایچ ایم سی کی ایک ملازمہ ٹینک بنڈ روڈ کی صفائی کرتی ہوئی

حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیویج بورڈ (ایچ ایم ڈبلیو ایس ایس بی) بارش کے پانی کی نکاسی، گندے پانی کی نکاسی اور پانی کی فراہمی کا ذمہ دار پے۔ شہر میں پانی کی کی بڑھتی کمی کو دیکھتے ہوئے 2005ء میں ایچ ایم ڈبلیو ایس ایس بی نے ناگارجن ساگر ڈیم سے حیدرآباد تک کے لئے 116 کلومیٹر-long (72 میل) طویل پائپ لائن کا آغاز کیا۔[76][77] تیلانگانا سدرن پاور ڈسٹریبیوشن لیمیٹیڈ بجلی کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔[78] بمطابق 2014 شہر میں کل 15 آگ بجھانے کے اسٹیشن ہیں۔[79] شہر میں حکومت کے پانچ بھارتی ڈاک کے مرکزی دفاتر ہیں اور متعدد ذیلی ڈاکخانے ہیں جہاں کورئر کی سہولت موجود ہے۔[56]

حوالہ جاتترميم

  1. "The World's Cities in 2018" (PDF). United Nations Department of Economic and Social Affairs. 2018. 15 مارچ 2021 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 جولائی 2020. 
  2. "Time to put metropolitan planning committee in place". دی ٹائمز آف انڈیا. Hyderabad. 28 جولائی 2014. 14 مارچ 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 مارچ 2016. 
  3. Everett-Heath، John (2005). Concise dictionary of world place names. اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس. صفحہ 223. ISBN 978-0-19-860537-9. 
  4. Petersen، Andrew (1996). Dictionary of Islamic architecture. روٹلیج. صفحہ 112. ISBN 978-0-415-06084-4. اخذ شدہ بتاریخ 28 جون 2021. 
  5. Holister، John Norman (1953). The Shia of India (PDF). Luzac and company limited. صفحات 120–125. 10 اکتوبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2020. 
  6. Lach، Donald F؛ Kley، Edwin J. Van (1993). Asia in the Making of Europe. 3. University Of Chicago Press. صفحہ ?. ISBN 978-0-226-46768-9. 3 مارچ 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  7. Nanisetti، Serish (7 اکتوبر 2016). "The city of love: Hyderabad". دی ہندو. 7 دسمبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 اکتوبر 2016. 
  8. McCann، Michael W. (1994). Rights at work: pay equity reform and the politics of legal mobilization. University of Chicago Press. صفحہ 6. ISBN 978-0-226-55571-3. 
  9. "Prehistoric and megalithic cairns vanish from capital's landscape". The Times of India. 21 جولائی 2017. اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2021. 
  10. ^ ا ب Yimene، Ababu Minda (2004). An African Indian community in Hyderabad. Cuvillier Verlag. صفحہ 2. ISBN 978-3-86537-206-2. اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2021. 
  11. Venkateshwarlu، K. (10 ستمبر 2008). "Iron Age burial site discovered". دی ہندو. 10 نومبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2013. 
  12. Kolluru، Suryanarayana (1993). Inscriptions of the minor Chalukya dynasties of Andhra Pradesh. Mittal Publications. صفحہ 1. ISBN 978-81-7099-216-5. 
  13. ^ ا ب Sardar, Golconda through Time (2007:19–41)
  14. Khan، Iqtidar Alam (2008). Historical dictionary of medieval India. The Scarecrow Press. صفحات 85 and 141. ISBN 978-0-8108-5503-8. 
  15. Ghose، Archana Khare (29 فروری 2012). "Heritage Golconda diamond up for auction at Sotheby's". دی ٹائمز آف انڈیا. 10 مئی 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 1 مارچ 2012. 
  16. Majumdar، R. C. (1967). "Muhammad Bin Tughluq". The Delhi Sultanate. Bharatiya Vidya Bhavan. صفحات 61–89. اخذ شدہ بتاریخ 5 مارچ 2020. 
  17. Prasad, History of the Andhras 1988, p. 172.
  18. Sardar, Golconda through Time 2007, p. 20.
  19. Ghosh، Mainak (2020). Perception, Design and Ecology of the Built Environment: A Focus on the Global South. Springer Nature. صفحہ 504. ISBN 978-3-030-25879-5. اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2021. 
  20. Nayeem، M.A (28 مئی 2002). "Hyderabad through the ages". The Hindu. 4 جون 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2013. 
  21. Matsuo، Ara (22 نومبر 2005). "Golconda". جامعہ ٹوکیو. 13 جون 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2013. 
  22. Aleem، Shamim؛ Aleem، M. Aabdul، ویکی نویس (1984). Developments in administration under H.E.H. the Nizam VII. Osmania University Press. صفحہ 243. 16 دسمبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 جون 2012. 
  23. Olson، James Stuart؛ Shadle، Robert (1996). Historical dictionary of the British empire. Greenwood Press. صفحہ 544. ISBN 978-0-313-27917-1. 
  24. "Opinion A Hyderabadi conundrum". 15 نومبر 2018. 15 نومبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2018. 
  25. Bansal، Sunita Pant (2005). Encyclopedia of India. Smriti Books. صفحہ 61. ISBN 978-81-87967-71-2. 
  26. Richards، J. F. (1975). "The Hyderabad Karnatik, 1687–1707". Modern Asian Studies. 9 (2): 241–260. doi:10.1017/S0026749X00004996. 
  27. Hansen، Waldemar (1972). The Peacock throne: the drama of Mogul India. Motilal Banarsidass. صفحات 168 and 471. ISBN 978-81-208-0225-4. 
  28. ^ ا ب پ ت ٹ Richards، John.F. (1993). The Mughal Empire, Part 1. 5. کیمبرج یونیورسٹی پریس. صفحات 279–281. ISBN 978-0-521-56603-2. 29 مئی 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 29 جون 2021. 
  29. ^ ا ب پ ت ٹ Ikram، S. M. (1964). "A century of political decline: 1707–1803". In Embree، Ainslie T. Muslim civilization in India. کولمبیا یونیورسٹی. ISBN 978-0-231-02580-5. 6 مارچ 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 8 اکتوبر 2011. 
  30. Nanisetti، Serish (13 دسمبر 2017). "Living Hyderabad: drum house on the hillock". The Hindu. 26 فروری 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2017. 
  31. Mehta، Jaswant Lal (2005). Advanced Study in the History of Modern India: 1707–1813. Sterling Publishing. صفحہ 143. ISBN 978-1-932705-54-6. 
  32. ^ ا ب Mehta، Jaswant Lal (2005). Advanced Study in the History of Modern India: 1707–1813. Sterling Publishing. صفحہ 143. ISBN 978-1-932705-54-6. 
  33. Roy، Olivier (2011). Holy Ignorance: When Religion and Culture Part Ways. Columbia University Press. صفحہ 95. ISBN 978-0-231-80042-6. 
  34. ^ ا ب پ Regani، Sarojini (1988). Nizam-British relations, 1724–1857. Concept Publishing. صفحات 130–150. ISBN 978-81-7022-195-1. 
    • Farooqui، Salma Ahmed (2011). A comprehensive history of medieval India. Dorling Kindersley. صفحہ 346. ISBN 978-81-317-3202-1. 
    • Malleson، George Bruce (2005). An historical sketch of the native states of India in subsidiary alliance with the British government. Asian Education Services. صفحات 280–292. ISBN 978-81-206-1971-5. 
    • Townsend، Meredith (2010). The annals of Indian administration, Volume 14. BiblioBazaar. صفحہ 467. ISBN 978-1-145-42314-5. 
  35. Dayal، Deen (2013). "The mills, Hyderabad.". Europeana. 1 جنوری 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2015. 
  36. Venkateshwarlu، K (17 ستمبر 2004). "Momentous day for lovers of freedom, democracy". دی ہندو. 17 اگست 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2012. 
  37. Sathees، P.V.؛ Pimbert، Michel؛ The DDS Community Media Trust (2008). Affirming life and diversity. Pragati Offset. صفحات 1–10. ISBN 978-1-84369-674-2. 
  38. "Demand for states along linguistic lines gained momentum in the '50s". The Times of India. 10 جنوری 2011. 10 ستمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 جولائی 2013. 
  39. Ambedkar، Mahesh (2005). The Architect of Modern India Dr Bhimrao Ambedkar. Diamond Pocket Books. صفحات 132–133. ISBN 978-81-288-0954-5. 
  40. Falzon، Mark-Anthony (2009). Multi-sited ethnography: theory, praxis and locality in contemporary research. Ashgate Publishing. صفحات 165–166. ISBN 978-0-7546-9144-0. 
  41. Chande، M.B (1997). The Police in India. Atlantic Publishers. صفحہ 142. ISBN 978-81-7156-628-0. 
  42. Guha، Ramachandra (30 جنوری 2013). "Living together, separately". The Hindu. 21 ستمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 5 اگست 2013. 
  43. "How Telangana movement has sparked political turf war in Andhra". Rediff.com. 5 اکتوبر 2011. 23 جنوری 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2012. 
  44. "Timeline:history of blasts in Hyderabad". فرسٹ پوسٹ. 22 فروری 2013. 25 فروری 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 فروری 2013. 
  45. "At least 13 killed in bombing, riots at mosque in India". CBC News. 18 مئی 2007. 23 ستمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 ستمبر 2012. 
  46. "At least 13 killed in bombing, riots at mosque in India". CBC News. 18 مئی 2007. 23 ستمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 ستمبر 2012. 
  47. Naqshbandi، Aurangzeb (31 جولائی 2013). "Telangana at last: India gets a new state, demand for other states gets a boost". ہندوستان ٹائمز. 25 جنوری 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 جولائی 2013. 
  48. "what you need to know about India's newest state-Telangana". Daily News and Analysis. 2 جون 2014. 5 دسمبر 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 29 نومبر 2014. 
  49. گوگل (6 جنوری 2013). "حیدرآباد، دکن" (Map). گوگل نقشہ جات. گوگل. اخذ شدہ بتاریخ 6 جنوری 2013.  Check date values in: |access-date=, |date= (معاونت)
  50. Momin، Umar farooque؛ Kulkarni، Prasad.S؛ Horaginamani، Sirajuddin M؛ M، Ravichandran؛ Patel، Adamsab M؛ Kousar، Hina (2011). "Consecutive days maximum rainfall analysis by gumbel's extreme value distributions for southern Telangana" (PDF). Indian Journal of Natural Sciences. 2 (7): 411. ISSN 0976-0997. 8 جون 2015 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 فروری 2015. 
  51. "New geographical map of Hyderabad released". 17 دسمبر 2014. 3 مارچ 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 12 اپریل 2020. 
  52. "Greater Hyderabad Municipal Corporation". www.ghmc.gov.in. 1 جنوری 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 دسمبر 2015. 
  53. ^ ا ب پ ت "Physical Feature" (PDF). AP Government. 2002. 16 اپریل 2012 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 اپریل 2012. 
  54. ^ ا ب Ramachandraia، C (2009). "Drinking water: issues in access and equity" (PDF). jointactionforwater.org. 10 نومبر 2013 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 نومبر 2012. 
  55. "Hyderabad geography". JNTU. 11 نومبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 4 مئی 2012. 
  56. "Water sources and water supply" (PDF). rainwaterharvesting.org. 2005. صفحہ 2. 11 جنوری 2012 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 جنوری 2012. 
  57. Singh، Sreoshi (2010). "Water security in peri-urban south Asia" (PDF). South Asia Consortium for Interdisciplinary Water Resources Studies. 16 جنوری 2012 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 مئی 2012. 
  58. Climate and food security. International Rice Research Institute. 1987. صفحہ 348. ISBN 978-971-10-4210-3. 
    • Norman، Michael John Thornley؛ Pearson، C.J؛ Searle، P.G.E (1995). The ecology of tropical food crops. Cambridge University Press. صفحات 249–251. ISBN 978-0-521-41062-5. 
  59. ^ ا ب "Weatherbase entry for Hyderabad". Canty and Associates LLC. 30 اکتوبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2012. 
  60. ^ ا ب پ "Hyderabad". India Meteorological Department. 10 نومبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2012. 
  61. "Extreme weather events Overall". Meteorological Centre, Hyderabad. دسمبر 2013. 2 اپریل 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2015. 
  62. "Historical weather for Hyderabad, India". Weatherbase. 4 دسمبر 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 3 اکتوبر 2008. 
  63. "Station: Hyderabad (A) Climatological Table 1981–2010" (PDF). Climatological Normals 1981–2010. India Meteorological Department. جنوری 2015. صفحات 331–332. 5 فروری 2020 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 فروری 2020. 
  64. "Extremes of Temperature & Rainfall for Indian Stations (Up to 2012)" (PDF). India Meteorological Department. دسمبر 2016. صفحہ M9. 5 فروری 2020 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 فروری 2020. 
  65. "Table 3 Monthly mean duration of Sun Shine (hours) at different locations in India" (PDF). Daily Normals of Global & Diffuse Radiation (1971–2000). India Meteorological Department. دسمبر 2016. صفحہ M-3. 5 فروری 2020 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 فروری 2020. 
  66. "Normals Data: Hyderabad Airport – India Latitude: 17.45°N Longitude: 78.47°E Height: 530 (m)". Japan Meteorological Agency. اخذ شدہ بتاریخ 29 فروری 2020. 
  67. Tadepalli، Siddharth (17 اگست 2016). "Bats seen in the day? Experts blame habitat loss". Times of India. 17 اگست 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 اگست 2016. 
  68. ^ ا ب "Annual administration report 2011–2012" (PDF). Andhra Pradesh Forest Department. صفحہ 78. 1 جنوری 2016 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2015. 
  69. "T'gana forest dept to develop 10 nature parks around Hy'bad". Business Standard. 8 اکتوبر 2014. 19 فروری 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2015. 
  70. "AP Reorganisation Bill, 2014" (PDF). prsindia.org. 2014. 27 مارچ 2014 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 29 جولائی 2014. 
  71. "Live Results: Greater Hyderabad Municipal Elections 2020". Network18 Group. 2020. اخذ شدہ بتاریخ 13 ستمبر 2021. 
  72. "Citizen's charter" (PDF). GHMC. 17 جولائی 2013 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 جولائی 2013. 
  73. "Profile". Hyderabad Metropolitan Water Supply and Sewerage Board. 1 جنوری 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2015. 
  74. Anon (2011). "Hyderabad" (PDF). Excreta Matters. Centre for Science and Environment: 331–341. 4 مارچ 2016 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 فروری 2015. 
  75. "About TSSPDCL". Telangana Southern Power Distribution Company Limited. 20 فروری 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 فروری 2015. 
  76. Lasania، Yunus Y (20 اکتوبر 2014). "Telangana has fewer fire stations than A.P.". The Hindu. 1 جنوری 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2015. 

بیرونی روابطترميم