بریٹن وڈز کا معاہدہ جولائی، 1944ء میں بریٹن ووڈز، نیو ہیمپشائر، امریکا میں کچھ ممالک کے درمیان ہونے والا ایسا معاہدہ ہے جس کا مقصد دنیا کو ایک نیا مالیاتی اور زری نظام دینا اور جنگ زدہ ممالک کی تعمیر و ترقی تھا۔ اسی معاہدہ کے تحت عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قیام عمل میں آیا۔

پس منظر

ترمیم

دوسری جنگ عظیم اختتام پزیر ہو رہی تھی کہ اتحادیوں کو یہ نظر آنا شروع ہوا کہ ان کی اپنی میعشت تباہ ہو چکی تھی۔ انھوں نے سوچنا شروع کیا کہ جب بحالی کا عمل شروع ہو گا تو بین الاقوامی تجارت کس کرنسی میں ہو گی۔ اس وقت 44 ممالک کے نمائندے 22 دن کے لیے امریکا میں بریٹن وڈز قصبے کے ماوئنٹ واشنگٹن ہوٹل میں اکھٹے ہوئے۔ یہاں جنگ کے بعد عالمی میعشت اور تجارت کے مستقبل پر مزاکرات ہوئے۔ یورپی ممالک جنگ کے نیتجے میں تباہ حال تھے جب کہ امریکا کے پاس دنیا میں سونے کے سب سے بڑے ذخائر تھے۔ ایڈ کونوے اپنی کتاب ’دی سمٹ‘ میں لکھتے ہیں کہ بائیس دن تک شدید سیاسی لڑائی اور بحث ہوئی۔ اس دوران دو شخصیات میں دو بدو لڑائی بھی ہوئی جس میں برطانوی جان کینز ایک عالمی کرنسی کا تصور لیے ہوئے تھے جبکہ دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ کے ہیری ڈیکسٹر تھے۔ اس کانفرنس کے بعد طے ہوا کہ امریکی ڈالر بین الاقوامی تجارت کے لیے استعمال کیا جائے گا اور اسی ملاقات میں بنائے جانے والے ادارے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، جنگ کے بعد معاشی مشکل کا سامنا کرتے ممالک کو امریکی ڈالر میں ہی قرض دیں گے۔ اس وقت کس نے سوچا ہو گا کہ ان مزاکرات کے نتیجے میں جدید بین الاقوامی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ قائم کیا جا رہا ہے جو آج تک قائم ہے۔[1]

مندوبین

ترمیم
State
Delegation members[2]
  آسٹریلیا Leslie Melville, Frederick Wheeler, Arthur Tange
  بلجئیم Camille Gutt, Georges Theunis, René Boël
  بولیویا René Ballivián Calderón
سانچہ:Country data Vargas Era Artur de Sousa Costa, Francisco Alves dos Santos Filho, Roberto de Oliveira Campos
  کینیڈا James Lorimer Ilsley, Louis St Laurent, Douglas Abbott and Lionel Chevrier
  چلی Luis Álamos Barros
  China, the Republic of H.H. Kung, Tsiang Tingfu, Kuo Ping-Wen,
  کولمبیا Carlos Lleras Restrepo, Miguel López Pumarejo
  کوسٹاریکا Francisco de Paula Gutiérrez Ross
  کیوبا Eduardo I. Montoulieu
  چیکوسلوواکیہ Ladislav Feierabend (cs)
  جمہوریہ ڈومینیکن Anselmo Copello
  ایکواڈور Esteban F. Carbo
  Egypt Sany Lackany Bey
  ایل سیلواڈور Agustín Alfaro Morán
  ایتھوپیا Ephrem Tewelde Medhen
  فرانس Pierre Mendès France
  یونان Kyriakos Varvaressos
  گواتیمالا Manuel Noriega Morales
سانچہ:Country data Republic of Haiti (1859–1957) André Liautaud
  ہونڈوراس Julián R. Cáceres
  آئس لینڈ Magnús Sigurðsson
  برطانوی ہند Jeremy Raisman, Ardeshir Darabshaw Shroff, C. D. Deshmukh, R. K. Shanmukham Chetty
  ایران Abol Hassan Ebtehaj [fa]
  عراق Ibrahim Kamal
  لائبیریا William E. Dennis Sr.
  لکسمبرگ Hugues Le Gallais
  میکسیکو Eduardo Suárez, Víctor Urquidi
  نیدرلینڈز Johan Willem Beyen
  نیوزی لینڈ Walter Nash, Edward Coldham Fussell
  نکاراگوا Guillermo Sevilla Sacasa
  ناروے Wilhelm Keilhau
  پاناما Augusto Guillermo Arango
  پیراگوئے Celso R. Velázquez
  پیرو Pedro Beltrán Espantoso
سانچہ:Country data Commonwealth of the Philippines Philippines Andrés Soriano
  پولینڈ Ludwik Grosfeld
  جنوبی افریقا S. Frank N. Gie
  سوویت یونین Mikhail Stepanovich Stepanov
  مملکت متحدہ John Maynard Keynes
  ریاستہائے متحدہ Henry Morgenthau Jr., Fred Vinson, Dean Acheson, Harry Dexter White
  یوراگوئے Mario La Gamma Acevedo
  وینیزویلا Rodolfo Rojas
  یوگوسلاویہ Vladimir Rybar

بعد ازاں اثرات

ترمیم

جب کوئی ایک ملک کسی دوسرے ملک کی کاغذی کرنسی پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو وہ بڑے پوشیدہ طریقے سے اُس دوسرے ملک کی معیشت، صنعت، تجارت اور دولت پرحاوی ہو جاتا ہے۔ بریٹن اوڈز سسٹم بنانے کا اصل مقصد بھی اسی طرح سے دنیا بھر پر امریکی بینکاروں کی حکمرانی قائم کرنا تھا۔ جس سال بریٹن ووڈز کا معاہدہ طے پایا اسی سال نوبل انعام یافتہ مصنف Friedrich Hayek نے اپنی کتاب "غلام مملیکت کا رستہ" (The Road to Serfdom) میں لکھا "سارے لوگوں پر جو حاکمیت معاشی کنٹرول عطا کرتا ہے اس کی سب سے بہترین مثال فورین ایکسچینج کے شعبہ میں واضح ہے۔ جب (مارکیٹ کی بجائے) ریاست فورین ایکسچینج کنٹرول کرنا شروع کرتی ہے تو شروع میں تو کسی کی ذاتی زندگی پر کوئی اثر پڑتا محسوس نہیں ہوتا اور زیادہ تر لوگ اسے بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن بہت سے یورپی ممالک کے تجربات کے بعد دانشوروں نے اس طرز عمل کو مکمل عالمی حاکمیت (Totalitarianism) کی جانب فیصلہ کن پیشرفت قرار دیا ہے۔ یہ درحقیقت سارے لوگوں کو ریاست کی مطلق العنانی کے حوالے کر دینا ہے۔ یہ فرار ہونے کے سارے راستے بند کر دیتا ہے، نہ صرف امیروں کے بلکہ ہر کسی کے۔ [3]"

 
بریٹن ووڈز کا ماونٹ واشنگٹن ہوٹل جہاں 1944ء میں بریٹن ووڈز کا عالمی معاہدہ طے ہوا۔
 
سنہ 1900ء سے امریکی سونے کے ذخائر اور سونے کی قیمت۔ 1950ء سے امریکی سونے کے ذخائر میں تیزی سے کمی آنے لگی اور 1970ء تک امریکا اپنا 60 فیصد سونا کھو چکا تھا۔ اپنا سونا بچانے کے لیے اس نے بریٹن ووڈ کا معاہدہ توڑ دیا جس کی وجہ سے سونے کی قیمت بڑھنی شروع ہو گئی۔ 1976ء میں آئی ایم ایف نے 777 ٹن سونا بیچا جس سے قیمت تھوڑی سی کم ہوئی۔[4] 1999ء - 2000ء میں آئی ایم ایف نے اسی مقصد سے مزید 435 ٹن سونا بیچا۔[5]

دوسری جنگ عظیم تک دنیا بھر کے عوام میں کاغذی کرنسی کا رواج مستحکم ہو چکا تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ مرکزی بینک آپس میں کس طرح لین دین (بزنس) کریں۔ کوئی بھی مرکزی بینک کسی دوسرے مرکزی بینک کی چھاپی ہوئی کاغذی کرنسی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا اور سونے کا مطالبہ کرتا تھا۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کے دوران جولائی 1944ء میں بریٹن ووڈز، نیو ہیمپشائر، امریکا کے مقام پر ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (المعروف آئی-ایم-ایف) اور ورلڈ بینک وجود میں آئے۔ اس کانفرنس میں 44 اتحادی ممالک کے 730 مندوبین نے شرکت کی تھی جس میں روس بھی شامل تھا مگر جاپان شامل نہیں تھا۔ اس کے ایک سال بعد ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا۔
اس کانفرنس کے انعقاد کے وقت دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے پاس موجود کل سونے کا %75 حصہ امریکا کے پاس تھا۔

اس کانفرنس کے دوران ہندوستان کے مندوب نے سوال پوچھا کہ gold convertible exchange سے کیا مراد لی جائے گی۔ اس کا گول مول جواب دیا گیا کہ امریکی ڈالر سے جتنا چاہیں سونا خریدا جا سکتا ہے اس لیے اس ایکسچینج سے ڈالر ہی مراد لیا جائے۔[6]

اس معاہدے کے مطابق 35 امریکی ڈالر ایک اونس سونے کے برابر طے پائے تھے اور امریکہ 35 ڈالر کے عوض اتنا سونا دینے کا پابند تھا۔ دنیا کی دیگر کرنسیوں کی قیمت امریکی ڈالر کے حساب سے طے ہوتی تھی۔ اس معاہدے میں بڑی چالاکی سے سونے چاندی کی بجائے ڈالر کو کرنسی کا معیار مقرر کیا گیا یعنی سونے کی بجائے معیار سونا کی آڑ میں "معیار ڈالر" لایا گیا۔ اس کانفرنس کے معاہدے کا مسودہ انگریز ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے بنایا تھا جو بینک آف انگلینڈ کا ڈائریکٹر تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک ہی عالمی کرنسی (بینکور) ہو جو نہ سونے سے منسلک ہو نہ سیاسی دباو کے تحت آئے مگر وہ مندوبین کو اس پر قائل نہ کر سکا۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کینیز اپنے آقا ؤں کے لیے کام کر رہا تھا۔ دو سال بعد اس کا انتقال ہو گیا۔[7]
خود کینیز کے مطابق بریٹن وڈز کا یہ معاہدہ گولڈ اسٹینڈرڈ کا عین اُلٹ تھا۔ فرانسیسی مصنف Jacques Rueff کے مطابق یہ گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ "مغربی ممالک کا مالیاتی گناہ" تھا۔ اُس نے دس سال پہلے یہ پیشنگوئی کر دی تھی کہ یہ سسٹم چل نہیں سکتاَ۔[8]

اس معاہدے کے بعد دوسرے ممالک اپنی کرنسی کو امریکی ڈالر سے ایک مقررہ نسبت پر رکھنے پر مجبور ہو گئے چاہے اس کے لیے انھیں ڈالر خریدنے پڑیں یا بیچنے۔ اس اسکیم کی خاص بات یہ تھی کہ اب دنیا بھر میں کاغذی ڈالر زیر گردش آنے والا تھا۔[9][10] اس معاہدے سے امریکی بینکاروں کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں آ گیا۔ اس معاہدے کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک نے نادانستہ طور پر اپنی اپنی کرنسی کے کنٹرول سے رضا کارانہ دستبرداری منظور کر لی تھی۔ پہلے جو کچھ فوجی طاقت سے چھینا جاتا تھا اب وہ سب کچھ شرح تبادلہ کا کھیل بن گیا کیونکہ سونے کی رکاوٹ درمیان سے ہٹ چکی تھی۔
"یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اس وقت کسی نے نہیں دیکھا کہ ورلڈ بینک کی آڑ میں (سارے ملکوں کی) حاکمیت منتقل ہو رہی ہے۔ "
It is perhaps strange that almost no one at the time saw the transfer of power that was concealed under the grand term “World Bank”[11]
اس معاہدے نے غلامی کی ایک نئی قسم کی بنیاد رکھی جو پہلے ہارڈ کرنسی کے دور میں ممکن نہ تھی۔ اس نئی قسم کی غلامی میں انسان غلام نہیں ہوتے بلکہ ان کی کرنسی غلام ہوتی ہے۔ اور جب کرنسی غلام ہوتی ہے تو معیشت غلام ہوتی ہے۔
"(کاغذی) دولت غلامی کی ایک نئی قسم ہے جوپہلے والی غلامی سے یوں مختلف ہے کہ یہ غیر ذاتیاتی ہے۔ اس نئی قسم میں آقا اور غلام کبھی آمنے سامنے نہیں آتے۔ "
money is a new form of slavery, and distinguishable from the old simply by the fact that it is impersonal – that there is no human relation between master and slave. Leo Tolstoy [12]
آسٹریلیا کے وزیر محنت Eddie Ward نے بریٹن اووڈز کی سازش کے بارے میں جو کچھ کہا تھا وہ سب کچھ آنے والے سالوں میں بالکل سچ ثابت ہوا۔
"مجھے یقین ہے کہ پرائیوٹ عالمی بینکار بریٹن اووڈز معاہدے کے ذریعے پوری دنیا پر اپنی ایسی مکمل اور خوفناک ڈکٹیٹر شپ قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا ہٹلر نے کبھی خواب بھی نہ دیکھا ہو گا۔ یہ وحشیانہ طریقے سے چھوٹے ممالک کو غلام بنا دے گی اور ہر حکومت ان بینکاروں کی دلال بن جائے گی۔ عالمی مالیاتی اداروں کا گٹھ جوڑ بے روزگاری، غلامی، غربت، ذلت اور مالیاتی تباہی میں اضافہ کرے گا۔ اس لیے ہم آزادی پسند آسٹریلویوں کو اس منصوبے کو نا منظور کر دینا چاہیے۔ "

I am convinced that the Bretton Woods Agreement will enthrone a world dictatorship of private finance more complete and terrible than any Hitlerite dream. It … quite blatantly sets up controls which will reduce the smaller nations to vassal states and make every government the mouthpiece and tool of International Finance …. World collaboration of private financial institutions can only mean more unemployment, slavery, misery, degradation and financial destruction. Therefore, as freedom loving Australians, we should reject this infamous proposal.[11]

مغربی ممالک نے، جو اپنی نوآبادیاں کھو چکے تھے، بریٹن وڈز کانفرنس میں ایسے ادارتی انتظامات کیے کہ نئے ابھرنے والے ممالک پر ان کی حاکمیت اوراستحصال جاری رہے۔ تیسری دنیا کے ممالک نہ اُس مشاورت میں حصہ دار تھے نہ ہی نتائج سے کوئی فائدہ حاصل کر سکے۔ اس کی بجائے انھیں بہت کچھ کھو کر یہ حوصلہ شکن حقیقت پتہ چلی کہ یہ نظام تو اُن کے ہی خلاف بنایا گیا تھا اور یہ بات یقینی بنا دی گئی تھی کہ وہ ہمیشہ صنعتی ممالک کی طاقتوں کے زیر اثر رہیں۔ اگرچہ کہ کچھ معمولی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں مگر آج تک کلیدی اداروں مثلاً آئی ایم ایف میں ووٹ کی طاقت وہی ہے جو 1940 اور 1950 کی دہائی میں تھی۔
At the Bretton Woods conference, the Western nations, having lost their empires, made institutional arrangement for continuing their domination and exploitation of the newly emerging nations. The Third World itself was not a party to the negotiations nor has it benefited from the results. Instead, it has discovered, to its cost and dismay, that the system was designed to discriminate against it and to ensure its dependence on the established power blocs in the industrialized countries. To this day, even though there have been some minor changes, the voting power in key institutions like the IMF reflects the world of the 1940s and 1950s.[13]

اس معاہدے کے بعد اب چونکہ نوآبادیاتی نظام کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی اس لیے دنیا کی ساری کالونیوں کو آزاد کر دیا گیا اورمزاحمتی لیڈروں کو اقتدار سونپ دیا گیا۔ برصغیر کی آزادی گاندھی کا کارنامہ نہیں تھی بلکہ بریٹن ووڈز معاہدے کا خاموش نتیجہ تھی۔

اس معاہدے کی کامیابی کا میڈیا میں بڑے زور و شور سے چرچا کیا گیالیکن تصویر کا صحیح رُخ آج تک چھپایا جاتا ہے۔ اور جس بات کا چرچا نہیں کیا گیا وہ یہ تھی کہ 35 ڈالر میں ایک اونس سونا خریدنے کا حق عوام کو نہیں دیا گیا تھا بلکہ یہ حق امریکا کی طرف سے صرف اور صرف دوسرے ممالک کے سینٹرل بینکوں کو دیا گیا تھا۔ گویا عوام کے لیے صرف کاغذی کرنسی اور امیروں کے لیے سونے کی کرنسی طے پائی۔ اُس وقت امریکی عوام کو سونا رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ چین میں بھی 1950ء سے 2003 ء تک عوام پر خام سونا رکھنے کی پابندی تھی۔ [14] ہندوستان کی برطانوی حکومت اور آزادی کے بعد مورار جی دیسائی نے ہندوستان میں سونے کی درآمد کو روکے رکھا۔ اور اسی وجہ سے بریٹن اوڈز کا معاہدہ لگ بھگ دو دہائیوں تک چل سکا۔

1971ء میں ویتنام کی جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت سخت دباو کا شکار تھی اور افراط زر تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اپریل 1971 میں جرمنی نے امریکی دباؤ میں آ کر پانچ ارب ڈالر خریدے تا کہ امریکی ڈالر کو سہارا مل سکے۔ مئی 1971 میں جرمنی نے بریٹن ووڈ معاہدے سے ناتا توڑ لیا کیونکہ وہ گرتے ہوئے امریکی ڈالر کی وجہ سے اپنے جرمن مارک کی قیمت مزید نہیں گرانا چاہتا تھا۔ اس کے صرف تین مہینوں بعد جرمنی کی معیشت میں بہتری آ گئی اور ڈالر کے مقابلے میں مارک کی قیمت %7.5 بڑھ گئی۔ امریکی ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت دیکھتے ہوئے دوسرے ممالک نے امریکہ سے سونے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ سویزر لینڈ نے جولائی 1971 میں پانچ کروڑ ڈالر کا 44 ٹن سونا امریکا سے وصول کیا۔ امریکا نے سفارتی دباو ڈال کر دوسرے ممالک کو سونا طلب کرنے سے روکنا چاہا مگر Jacques Rueff کے مشورے پر فرانس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 19.1 کروڑ ڈالر امریکا سے 170ٹن سونے میں تبدیل کروائے۔ اس طرح امریکا اور فرانس کے تعلقات خراب ہو گئے جو آج تک بہتر نہ ہو سکے۔ 12 اگست 1971 کو برطانیہ نے بھی 75 کروڑ ڈالر کے سونے کا مطالبہ کر دیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکا اپنے پاس موجود سونے سے تین گنا زیادہ ڈالر چھاپ چکا تھا۔ حقیقی اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ رہے ہوں گے۔[7]
1971ء تک امریکا کے پاس موجود سونے کی مالیت صرف 15 ارب ڈالر تھی جبکہ دوسرے ممالک کے پاس 50 ارب امریکی ڈالر کے ذخائر جمع ہو چکے تھے۔[15] اگر سارے قرضے شامل کر کے حساب لگایا جائے تو اس وقت امریکا ہر ایک ڈالر کے سونے کے عوض 44 ڈالر کا مقروض ہو چکا تھا۔[16]
15 اگست 1971 کو امریکہ اپنے بریٹن ووڈز کے وعدے سے یک طرفہ مکر گیا جسے نکسن دھچکا کہتے ہیں۔ امریکی صدر نکسن نے اعلان کیا کہ اب امریکا ڈالر کے بدلے سونا نہیں دے گا۔[17] اس وقت تک امریکا کاغذی ڈالر چھاپ چھاپ کر اس کے بدلے عربوں سے اتنا تیل خرید چکا تھا کہ عرب اگر ڈالر کے بدلے سونے کا مطالبہ کر دیتے تو امریکہ اپنا پورا سونا دے کر بھی یہ قرض نہ چکا سکتا تھا۔ 1971 کے اس امریکی اعلان سے عربوں کے اربوں ڈالر کاغذی ردّی میں تبدیل ہو گئے۔ قانون قدرت یہ ہے کہ ایک کا نقصان کسی دوسرے کا فائدہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والے اس نقصان کا سارہ فائدہ امریکا کو ہوا۔
بریٹن ووڈز کے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نکسن نے اگرچہ اپنی تقریر میں کہا تھا کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے اور یہ کہ آپ کے ڈالروں کی قوت خرید کل بھی اُتنی ہی ہو گی جتنی آج ہے لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ صرف ایک اور سفید جھوٹ تھا۔ [18][19] ڈالر سے سونے کا تعلق ٹوٹنے کے بعد 1972ء میں جب ایران اور سعودی عرب نے اپنے ڈالروں سے امریکی کمپنیاں خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا تو امریکی حکام نے دھمکی دی متنبہ کیا کہ امریکا اسے اقدام جنگ سمجھے گا۔ [20] حالانکہ پہلی جنگ عظیم کے بعد خود امریکا نے بڑے پیمانے پر جرمن کمپنیاں خریدی تھیں۔

بریٹن ووڈز کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ہر ملک کو اپنی مرضی کے مطابق کاغذی کرنسی چھاپنے کا اختیار مل گیا۔ اس طرح 1971ء کے بعد ہارڈ کرنسی یا زر کثیف کا دور ختم ہو گیا اور زر فرمان (Fiat currency) نے مستقل جگہ بنا لی۔ لیکن ان 27 سالوں میں امریکا کا کاغذی ڈالر بین الاقوامی کرنسی بن چکا تھا۔ امریکی بینکار 1944ء میں بریٹن ووڈز کے معاہدے میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب بڑی حد تک انھیں حاصل ہو گیا۔ سوئزر لینڈ وہ آخری ملک تھا جس نے سنہ 2000ء میں اپنی کاغذی کرنسی کا سونے سے ناتا توڑا۔
جب تک کرنسی کا سونے سے تعلق برقرار تھا اس وقت تک حکومتی قرضوں (ٹریژری بونڈز) پر سٹے بازی (speculation) بالکل نہیں ہوا کرتی تھی۔ کرنسی کا سونے سے تعلق ٹوٹنے کے بعد بونڈز میں سٹے بازی بے انتہا بڑھ گئی جس کا خمیازہ محنت کشوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ [21] ڈیری ویٹو مارکیٹ بونڈز پر سٹے بازی کی بنیادپر قائم ہے۔ 2003ء میں وارن بوفے نے ڈیری ویٹو کو "financial weapons of mass destruction" قرار دیا تھا۔

بریٹن ووڈز پر مزید دیکھیے :

حوالے

ترمیم
  1. سسیلیا بارریا (13 جنوری 2023)۔ "پیسہ کب ایجاد ہوا اور امریکی ڈالر دنیا کی سب سے اہم کرنسی کیسے بنا؟"۔ بی بی سی اردو۔ BBC بی بی سی منڈو 
  2. A full list of conference attendees is in Kurt Schuler and Mark Bernkopf, "Who Was at Bretton Woods?," Center for Financial Stability Paper in Financial History, July 1, 2014, http://www.centerforfinancialstability.org/bw/Who_Was_at_Bretton_Woods.pdf.
  3. Nobel Prize winning economist Friedrich Hayek’s 1944 classic, The Road to Serfdom: غلامی کا رستہ
  4. سونا اور بیسویں صدی
  5. آئی ایم ایف کی ویب سائیٹ
  6. بریٹن ووڈز کا ایک جائیزہ
  7. ^ ا ب "Time:A brief history of Bretton Woods System"۔ ٹائم۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 مئی 2013 
  8. THE MONETARY SIN OF THE WEST
  9. The Battle of Bretton Woods
  10. the hidden agenda of Bretton Woods[مردہ ربط]
  11. ^ ا ب "Banks and the New Slavery"۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  12. "Global Financial System"۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  13. Social Change: An Anthology By Roxanne Friedenfels
  14. "ETF Daily News"۔ 05 مارچ 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اگست 2016 
  15. "بریٹن ووڈ کی موت کی وجہ"۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  16. gold versus fractional reserve-Mises Org.
  17. "the-nixon-shock"۔ بزنس ویک میگزین۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  18. "امریکی صدر نکسن کی تقریر"۔ 21 جون 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اگست 2016 
  19. ویکیپیڈیا پر صدر نکسن کی اصل ویڈیو کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ https:// کے بعد you کا اضافہ کریں اور دیکھیں۔[مردہ ربط]
  20. Michael Hudson (2003)۔ "Super Imperialism" (PDF)۔ 14 مئی 2013 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ 
  21. Prof. Antal E. Fekete (February 1, 2004)۔ "THE PENTAGONAL MODEL OF CAPITAL MARKETS" (PDF)۔ GOLD STANDARD UNIVERSITY۔ 04 مارچ 2016 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ 

مزید دیکھیے

ترمیم