صفیہ بنت حیی بن اخطب (عربی: صفية بنت حيي) (ولادت: 610ء– وفات: 670ء) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔50ھ کو آپ نے انتقال فرمایا۔

صفیہ بنت حیی بن اخطب
(عربی میں: صفية بنت حيي‎ ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 12 سال قبل ہجرت/ 610ء
مدینہ منورہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب
وفات ماہِ رمضان 50ھ/ اکتوبر 670ء
(مدتِ حیات: 62 سال قمری)
مدینہ منورہ، حجاز، خلافت امویہ، موجودہ سعودی عرب
مدفن جنت البقیع   ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات سلام بن مشکم القرظی
کنانہ ابن الربیع ابو الحقیق (627ء)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (نومبر 628ء8 جون 632ء)
والدین والد: حیی بن اخطب (قبیلہ بنو نضیر سے تعلق)
والدہ: برہ بنت سموال (قبیلہ بنو قریظہ سے تعلق)
عملی زندگی
وجہ شہرت امہات المؤمنین

نام ونسب

اصلی نام زینب تھا؛ لیکن چونکہ وہ جنگ خیبر میں خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصہ میں آئی تھیں اور عرب میں غنیمت کے ایسے حصہ کو جو امام یا بادشاہ کے لیے مخصوص ہوتا تھا صفیہ کہتے تھے اس لیے وہ بھی صفیہ کے نام سے مشہور ہوگئیں، یہ زرقانی کی روایت ہے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو باپ اور ماں دونوں کی طرف سے سیادت حاصل ہے، باپ کا نام حیی بن اخطب تھا، جو قبیلہ بنو نضیر کا سردار تھا اور حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں شمار ہوتا تھا، ماں جس کا نام ضرد تھا، سموال رئیس قبیلہ بنو قریظہ کی بیٹی تھی اور یہ دونوں خاندان (قریظہ اور نضیر) بنو اسرائیل کے ان تمام قبائل سے ممتاز سمجھے جاتے تھے، جنھوں نے زمانۂ دراز سے عرب کے شمالی حصوں میں سکونت اختیار کرلی تھی۔

نکاح

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی شادی پہلے سلام بن مشکم القرظی سے ہوئی تھی، سلام نے طلاق دی تو کنانہ بن ابی لحقیق کے نکاح میں آئیں، جو ابورافع تاجر حجاز اور رئیس خیبر کا بھتیجا تھا، کنانہ جنگِ خیبر میں مقتول ہوا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ اور بھائی بھی کام آئے اور خود بھی گرفتار ہوئیں، جب خیبر کے تمام قیدی جمع کیے گئے تو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک لونڈی کی درخواست کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتخاب کرنے کی اجازت دی، انھوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو منتخب کیا؛ لیکن ایک صحابی نے آپ کی خدمت میں آکرعرض کی کہ آپ نے رئیسۂ بنو نضیر و بنو قریظہ کو دحیہ کو دیدیا،وہ توصرف آپ کے لیے سزاوار ہے ،مقصود یہ تھا کہ رئیسہ عرب کے ساتھ عام عورتوں کا سابرتاؤ مناسب نہیں؛چنانچہ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کوآپ نے دوسری لونڈی عنایت فرمائی اور صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے نکاح کر لیا [1]خیبر سے روانہ ہوئے تو مقام صہبا میں رسم عروسی ادا کی [2] اور جو کچھ سامان لوگوں کے پاس تھا اس کوجمع کرکے دعوتِ ولیمہ فرمائی، وہاں سے روانہ ہوئے تو آپ نے ان کوخود اپنے اونٹ پرسوار کر لیا اور اپنی عبا سے ان پر پردہ کیا، یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ وہ ازواجِ مطہرات میں داخل ہوگئیں۔ [3]

عام حالات

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے مشہور واقعات میں حج کا سفر ہے، جو انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایام محاصرہ میں جو سنہ 35ھ میں ہوا تھا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بے حد مدد کی تھی، جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر ضروریاتِ زندگی مسدود کردی گئیں اور ان کے مکان پر پہرہ بٹھادیا گیا تووہ خود خچر پر سوار ہوکر ان کے مکان کی طرف چلیں، غلام ساتھ تھا، اشترکی نظر پڑی تو انھوں نے آکر خچر کو مارنا شروع کیا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھ کو ذلیل ہونے کی ضرورت نہیں، میں واپس جاتی ہوں، تم خچر کو چھوڑدو گھر واپس آئیں تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اس خدمات پرمامور کیا وہ ان کے مکان سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا اور پانی لے جاتے تھے۔ [4]

انتقال

آپ کا انتقال 50ھ ( 670ء ) میں ہوا۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کر دیا گیا۔[5]

مؤمنین کی والدہ
ام المؤمنین
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

اس وقت ان کی عمر 60/سال کی تھی، ایک لاکھ ترکہ چھوڑا اور ایک ثلث کے لیے اپنے یہودی بھانجے کے لیے وصیت کر گئیں۔ [6]

حلیہ

کوتاہ قامت اور حسین تھیں۔ [7]

فضل وکمال

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے چند حدیثیں مروی ہیں، جن کو حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ، اسحاق بن عبد اللہ بن حارث، مسلم بن صفوان، کنانہ اور یزید بن معتب وغیرہ نے روایت کیا ہے؛ دیگر ازواج کی طرح حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی اپنی زمانہ میں علم کا مرکز تھیں؛ چنانچہ حضرت صہیرہ رضی اللہ عنہا بنت جیفر حج کرکے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس مدینہ آئیں بہت سی عورتیں مسائل دریافت کرنے کی غرض سے بیٹھی ہوئی تھیں، صہیرہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی مقصد تھا، اس لیے انھوں نے کوفہ کی عورتوں سے سوال کرائے، ایک فتویٰ نبیذ کے متعلق تھا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے سنا تو بولیں اہلِ عراق اس مسئلہ کو اکثر پوچھتے ہیں۔ [8]

اخلاق

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہامیں بہت سے محاسنِ اخلاق جمع تھے، اسدالغابہ میں ہے: كَانَتْ عَاقِلَةٌ مِنْ عقلاء النساء۔ ترجمہ: وہ نہایت عاقلہ تھیں۔ [9] زرقانی میں ہے: كَانَتْ صَفِيَّةٌ عَاقِلَةٌ حَلِيْمَةٌ فَاضِلَةٌ۔ [10] ترجمہ:یعنی صفیہ رضی اللہ عنہا عاقل، فاضل اور حلیم تھیں۔ حلم وتحمل ان کے باب فضائل کا نہایت جلی عنوان ہے، غزوۂ خیبر میں جب وہ اپنی بہن کے ساتھ گرفتار ہوکر آرہی تھیں توان کی بہن یہودیوں کی لاشوں کودیکھ دیکھ کر چیخ اُٹھتی تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے محبوب شوہر کی لاش سے قریب ہوکر گذریں؛ لیکن اب بھی اسی طرح پیکرِ متانت تھیں اور ان کی جبین تحمل پرکسی قسم کی شکن نہیں آئی، ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کویہودیہ کہا، ان کو معلوم ہوا تورونے لگیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک کنیز تھی جوحضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جاکر ان کی شکایت کیا کرتی تھی؛ چنانچہ ایک دن کہا کہ ان میں یہودیت کا اثر آج تک باقی ہے، وہ یوم السبت کواچھا سمجھتی ہیں اور یہودیوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تصدیق کے لیے ایک شخص کو بھیجا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یوم السبت کواچھا سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں، اس کے بدلے خدا نے ہم کو جمعہ کا دن عنایت فرمایا ہے؛ البتہ میں یہود کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہوں، وہ میرے خویش واقارب ہیں اس کے بععد لونڈی کوبلا کرپوچھا کہ تونے میری شکایت کی تھی؟ بولی ہاں! مجھے شیطان نے بہکادیا تھا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں اور اس لونڈی کوآزاد کر دیا۔ [11] حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت محبت تھی، چنانچہ جب آپ علیل ہوئے تونہایت حسرت سے بولیں: کاش! آپ کی بیماری مجھ کو ہو جاتی، ازواج نے ان کی طرف دیکھنا شروع کیا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سچ کہہ رہی ہیں [12] (یعنی اس میں تصنع کا شائبہ نہیں ہے)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی ان کے ساتھ نہایت محبت تھی اور ہرموقع پران کی دلجوائی فرماتے تھے، ایک بار آپ سفر میں تھے، ازواجِ مطہرات بھی تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کااونٹ سوء اتفاق سے بیمار ہو گیا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ضرورت سے زیادہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ایک اونٹ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیدو؛ انھوں نے کہا: کیا میں اس یہودیہ کواپنا اونٹ دے دوں؟ اس پرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اس قدر ناراض ہوئے کہ دو مہینے تک ان کے پاس نہ گئے [13] ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی قدوقامت کی نسبت چند جملے کہے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے یہ ایسی بات کہی ہے کہ اگر سمندر میں چھوڑدی جائے تواس میں مل جائے [14] یعنی سمندر کوبھی گدلا کرسکتی ہے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، دیکھا کہ رورہی ہیں آپ نے رونے کی وجہ پوچھی؛ انھوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم تمام ازواج میں افضل ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہونے کے ساتھ آپ کی چچازاد بہن بھی ہیں، آپ نے فرمایا کہ تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہارون علیہ السلام میرے باپ، موسیٰ علیہ السلام میرے چچا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے شوہر ہیں اس لیے تم لوگ کیونکر مجھ سے افضل ہو سکتی ہو۔ [15] حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سیرچشم اور فیاض واقع ہوئی تھیں؛ چنانچہ جب وہ ام المؤمنین بن کر مدینہ میں آئیں توحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن کواپنی سونے کی بجلیاں تقسیم کیں۔ [16] کھانا نہایت عمدہ پکاتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تحفۃ بھیجا کرتی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انھوں نے پیالہ میں جوکھانا بھیجا تھا اس کا ذکر بخاری اور نسائی وغیرہ میں آیا ہے۔

حوالہ جات

  1. (بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب مایذکر فی الفخذ۔ مسلم:1/546)
  2. (اصابہ:8/126)
  3. (طبقات:8/86، جزء نسا)
  4. (اصابہ:1/127)
  5. Al-Shati', 1971, p. 181
  6. (زرقانی:3/296)
  7. (مسلم:1/548)
  8. (مسند:6/377)
  9. (اسد الغابہ:5/49)
  10. (زرقانی:3/7296)
  11. (اصابہ:8/127۔ زرقانی:3/296)
  12. (زرقانی:3/296، بحوالہ ابن سعد)
  13. (اصابہ:8/126، بحوالہ ابن سعدوزرقانی:3/296)
  14. (ابوداؤد:2/193)
  15. (ترمذی:638، باب فضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
  16. (زرقانی:3/296)