مرکزی مینیو کھولیں

یورپی ادارہ برائے جوہری تحقیق (انگریزی: یورپین آرگنائزیشن فور نیوکلیئر ریسرچ، فرانسیسی: Organisation européenne pour la recherche nucléaire) جس کا مخفف سرن ہے اور اسی نام سے مشہور ہے، یورپ کا ایک تحقیقی ادارہ ہے جس نے 1954ء سے جنیوا میں ذراتی طبیعیات کی سب سے بڑی تجربہ گاہ قائم کی۔ یہ تجربہ گاہ جنیوا کے شمال مغربی مضافاتی علاقے میں فرانس سوئس سرحد پر قائم ہے۔(46°14′3″N 6°3′19″E / 46.23417°N 6.05528°E / 46.23417; 6.05528) اس وقت اس کے 21 رکن ممالک ہیں۔[3] اسرائیل پہلا (اور اب تک کا واحد) غیر یورپی ملک ہے، جسے مکمل رکنیت دی گئی ہے۔[4] جب کہ پاکستان اور ترکی معاون رکن ہیں۔

یورپین آرگنائزیشن
فور نیوکلیئر ریسرچ
Organisation européenne
pour la recherche nucléaire
فائل:CERN official logo.jpg
CERN member states .svg
رکن ممالک
قیام ستمبر 29، 1954؛ 65 سال قبل (1954-09-29)[1]
صدر مقام Meyrin، کینٹن جنیوا، سویٹزرلینڈ
ارکان
دفتری زبانs
انگریزی اور فرانسیسی
صدر کونسل
Sijbrand de Jong[2]
Fabiola Gianotti
ویب سائٹ home.cern

عام طور پر سرن کی اصطلاح اس تجربہ گاہ کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس میں 2013ء تک 608 جامعات و تحقیقی اداروں کا،[5] 2،513 افراد پر مشتمل عملہ، 12,313 معاونین عملہ، شاگرد، مہمان سائنسدان اور انجینئرز شریک ہو چکے تھے۔[6]

شمولیت اور مالی امدادترميم

شریک ممالک اور بجٹترميم

 
Member states of CERN and current enlargement agenda
  CERN full members
  Accession in progress
  Associate members and Candidate for Accession

1954ء میں سرن کے قیام کے وقت صرف 12 ممالک اس کے رکن تھے، سرن باقاعدگی سے نئے اراکین کو قبول کرتا رہا ہے۔ تمام نئے اراکین اپنے الحاق کے بعد مسلسل تنظیم میں رہے ہیں، سوائے ہسپانیا (اسپین) اور یوگوسلاویہ کے۔ ہسپانیا پہلی بار 1961ء میں شامل ہوا، اور 1969ء میں نکل گیا، 1983ء میں دوبارہ شمولیت اختیار کی۔ یوگوسلاویہ 12 بانی اراکین میں سے تھا لیکن 1961ء میں نکل گیا۔اسرائیل 6 جنوری 2014ء سے مکمل رکن ہے۔[7] پہلا (اور اب تک کا واحد) غیر یورپی ملک۔[8]

رکن ممالک حیثیت از شراکت
(ملین سی ایچ ایف از 2014)
شراکت
(کل حصہ کے لیے 2014)
Contribution per capita[note 1]
(CHF/person for 2014)
بانی ارکان[note 2]
  بلجئیم 29 ستمبر 1954 30.5 2.5% 2.7
  ڈنمارک 29 ستمبر 1954 19.3 1.6% 3.4
  فرانس 29 ستمبر 1954 169.2 14.0% 2.6
  جرمنی 29 ستمبر 1954 222.9 18.5% 2.8
  یونان 29 ستمبر 1954 18.0 1.5% 1.6
  اطالیہ 29 ستمبر 1954 126.2 10.5% 2.1
  نیدرلینڈز 29 ستمبر 1954 50.6 4.2% 3.0
  ناروے 29 ستمبر 1954 28.0 2.3% 5.4
  سویڈن 29 ستمبر 1954 28.7 2.4% 3.0
  سوئٹزرلینڈ 29 ستمبر 1954 40.0 3.3% 4.9
  مملکت متحدہ 29 ستمبر 1954 152.6 12.7% 2.4
  یوگوسلاویہ 29 ستمبر 1954[12][13] 0 0% 0
منظور اراکین[note 3]
  آسٹریا 1 جون 1959 24.4 2.0% 2.9
  ہسپانیہ 1 جنوری 1983[13][15] 91.1 7.6% 2.0
  پرتگال 1 جنوری 1986 13.2 1.1% 1.3
  فن لینڈ 1 جنوری 1991 15.3 1.3% 2.8
  پولینڈ 1 جولائی 1991 29.3 2.4% 0.8
  مجارستان 1 جولائی 1992 7.1 0.6% 0.7
  چیک جمہوریہ 1 جولائی 1993 11.3 0.9% 1.1
  سلوواکیہ 1 جولائی 1993 5.5 0.5% 1.0
  بلغاریہ 11 جولائی 1999 3.1 0.3% 0.4
  اسرائیل 6 جنوری 2014[7] 22.1 1.8% 2.7
رکنیت کے لیے پہلے مرحلے میں ایسوسی ایٹ اراکین[note 4]
  سربیا 15 مارچ 2012[16] 1.0 0.1% 0.1
ایسوسی ایٹ ارکان
  ترکی 6 مئی 2015[17] %
  پاکستان 31 جولائی 2015[18] %
شمولیت کے لیے امیدوار
  رومانیہ 11 فروری 2010[19] 7.9 0.7% 0.4
zaاراکین کی تعداد، امیدوار اور ایسوسی ایٹ 1,117.3[20] 92.8%
  1. Based on the population in 2014.[9]
  2. 12 founding members drafted the Convention for the Establishment of a European Organization for Nuclear Research which entered into force on 29 ستمبر 1954.[10][11]
  3. Acceded members become CERN member states by ratifying the CERN convention.[14]
  4. Additional contribution from Candidates for Accession and Associate Member States.[14]

توسیعترميم

ایسوسی ایٹ ارکان، امیدوار:

  •   ترکی نے 12 مئی 2014ء کو ایسوسی ایٹ رکنیت کے معاہدے پر دستخط کیے۔[21]
  •   پاکستان نے 19 دسمبر 2014ء کو ایسوسی ایٹ رکنیت کے معاہدے پر دستخط کیے۔[22][23][24]

بین الاقوامی تعلقاتترميم

  CERN member states: 21 c.
  Accession in progress: 2 c.
  Associate members and Candidates: 4 c.
  Observers: 4 c. + EU + UNESCO + JINR
  Cooperation agreement: 35 c. + Slovenia, Cyprus, Turkey
  Scientific contacts: 19 c.

چار ممالک مبصر کی حیثیت رکھتے ہیں:[25]

2
The unnamed parameter 2= is no longer supported. Please see the documentation for {{columns-list}}.

اس کے علاوہ مندرجہ ذیل مبصرین بین الاقوامی تنظیمیں ہیں:

غیر رکن ممالک (with dates of Co-operation Agreements) currently involved in CERN programmes are:

2
The unnamed parameter 2= is no longer supported. Please see the documentation for {{columns-list}}.

سرن نے مندرجہ ذیل ممالک کے ساتھ سائنسی رابطے قائم کیے ہیں:[31]

2
The unnamed parameter 2= is no longer supported. Please see the documentation for {{columns-list}}.

[32]

حوالہ جاتترميم

  1. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ foundation نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  2. "Professor Sijbrand de Jong elected as next President of CERN Council"۔ CERN press office۔ CERN۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جنوری 2016۔
  3. "Member States"۔ International relations۔ CERN۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015۔
  4. The boycott movement is losing the battle – for now
  5. "A global endeavour"۔ 15 جولائی 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "CERN Annual Report 2013 – CERN in Figures"۔ CERN۔ مورخہ 10 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 ستمبر 2014۔
  7. ^ ا ب "CERN International Relations – Israel"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 جولائی 2014۔
  8. Rahman, Fazlur. (2013-11-11) Israel مئی become first non-European member of nuclear research group CERN – Diplomacy and Defense Israel News۔ Haaretz. Retrieved on 2014-04-28.
  9. فہرست ممالک بلحاظ آبادی
  10. ESA Convention (اشاعت 6th۔)۔ European Space Agency۔ ستمبر 2005۔ آئی ایس بی این 92-9092-397-0۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔
  11. "CONVENTION FOR THE ESTABLISHMENT OF A EUROPEAN ORGANIZATION FOR NUCLEAR RESEARCH"۔ CERN Council website۔ CERN۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولائی 2012۔
  12. "Member States"۔ International relations۔ CERN۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015۔
  13. ^ ا ب "Member States"۔ CERN timelines۔ CERN۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015۔
  14. ^ ا ب "CERN Member States"۔ CERN Council website۔ CERN۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولائی 2012۔
  15. "Member States: Spain"۔ International Relations۔ CERN۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015۔
  16. "CERN Associate Members"۔ CERN۔ 16 مارچ 2012۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 جولائی 2014۔
  17. "Turkey"۔ cern.ch۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اگست 2015۔
  18. http://international-relations.web.cern.ch/International-Relations/nms/pakistan.html
  19. International Relations۔ "Candidate for accession: Romania"۔ CERN website۔ CERN۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اکتوبر 2015۔
  20. "Member States' Contributions – 2014"۔ CERN website۔ CERN۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جولائی 2014۔
  21. "Turkey to become Associate Member State of CERN"۔ CERN press release۔ CERN۔ 12 مئی 2014۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 جولائی 2014۔
  22. "Pakistan Becomes the First Associate CERN Member from Asia"۔ Government of Pakistan press releases۔ Ministry of Foreign Affairs, Government of Pakistan۔ 20 جون 2014۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 جولائی 2014۔
  23. "Pakistan becomes Associate Member State of CERN | CERN"۔ home.web.cern.ch۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-01۔
  24. "Pakistan officially becomes an associate member of CERN – دی ایکسپریس ٹریبیون"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-08-01۔
  25. "Observers"۔ International Relations۔ CERN۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015۔
  26. "CERN International Relations – Jordan"۔ International-relations.web.cern.ch۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جولائی 2012۔
  27. "CERN International Relations – SESAME"۔ International-relations.web.cern.ch۔ 17 اکتوبر 2011۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جولائی 2012۔
  28. "''Macedonia joins CERN (SUP)''"۔ Mia.com.mk۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 نومبر 2010۔
  29. "Prime Minister of Malta visits CERN"۔ CERN Bulletin۔ 10 جنوری 2008۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2014۔
  30. "Malta signs agreement with CERN"۔ Times of Malta۔ 11 جنوری 2008۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2014۔
  31. "Member states"۔ CERN۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2014۔
  32. Quevedo، Fernando (جولائی 2013). "The Importance of International Research Institutions for Science Diplomacy". Science & Diplomacy 2 (3). http://www.sciencediplomacy.org/perspective/2013/importance-international-research-institutions-for-science-diplomacy.