سیدہ عابدہ حسین

پاکستانی سیاست دان

سیدہ عابدہ حسین (انگریزی: Abida Hussain) (ولادت: 1948ء)[1][note 1] ایک قدامت پرست پاکستانی سیاست دان، سفارت کار ہیں جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔[2]

سیدہ عابدہ حسین
وزیر برائے خوراک اور زراعت
مدت منصب
21 فروری 1997ء – 12 اکتوبر 1999ء
وزیر اعظم نواز شریف
یوسف تالپور
سکندر حیات بوسن
وزیر منصوبہ بندی و ترقی
مدت منصب
21 جولائی 1997 – 12 اکتوبر 1999ء
نائب احسن اقبال
(چیئرمین پلانکوم)
جولیس سالک
عمر اصغر خان
ریاستہائے متحدہ میں پاکستانی سفیر
مدت منصب
26 نومبر 1991 – 24 اپریل 1993
صدر غلام اسحاق خان
نجم الدین شیخ
ملیحہ لودھی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1948ء (عمر 75–76 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جھنگ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات سید فخر امام  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد صغرہ امام
(بیٹی)
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ بہاؤ الدین زکریا  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان،  سفارت کار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پاکستان میں ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہونے والی سیدہ عابدہ نے 1991ء سے 1993ء تک امریکہ میں پاکستان کی سفیر اور 1997ء میں وزیر اعظم نواز شریف کی دوسری کابینہ میں وزیر برائے خوراک اور زراعت کی حیثیت سے 1999ء میں ہٹائے جانے تک خدمات انجام دیں۔[3][4]

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر ترمیم

عابدہ حسین کی پیدائش 1948ء میں پاکستان کے جھنگ میں، ایک امیر گھرانے میں ہوئی تھی۔ ان کے والد، زمیندار سید عابد حسین شاہ، برطانوی ہند فوج میں اعزازی کرنل اور ایک سیاست دان تھے۔ 1945ء – 1947ء میں برطانوی ہند کی مجلس دستور ساز کے رکن تھے جو آل انڈیا مسلم لیگ کی نشست سے منتخب ہوئے تھے۔[5]

ذاتی زندگی ترمیم

عابدہ حسین کی شادی فخر امام سے ہوئی ہے۔ فخر امام بھی مسلم لیگ (ن) کے سیاست دان ہیں۔[5]

ان کی بیٹی صغرہ امام بھی مسلم لیگ (ن) کی سیاست دان ہیں اور اس وقت پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکن ہیں۔.[6]

خودنوشت ترمیم

  • اور بجلی کٹ گئی (طبع 2016ء)

مزید دیکھیے ترمیم

حوالہ جات ترمیم

  1. Mubashir Hassan (21 February 2014)۔ "Abida to keep 'small political role' sans active politics"۔ The Nation۔ The Nation۔ The Nation۔ 08 جون 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مئی 2018 
  2. A Reporter (13 January 2015)۔ "Pakistan's political history in the words of Abida Hussain"۔ DAWN.COM۔ Dawn Newspapers۔ Dawn Newspapers۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مئی 2018 
  3. "COVER: A gilded life: Power Failure by Syeda Abida Hussain"۔ DAWN.COM۔ 2015-07-13۔ اخذ شدہ بتاریخ 04 دسمبر 2016 
  4. ^ ا ب S. Abida Hussain-Imam۔ "Abida's Story"۔ syedaabidahussain.com۔ Syed Abida Hussain bio (web)۔ 28 مئی 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2018 
  5. "Punjab Assembly"۔ www.pap.gov.pk۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 مئی 2018 
  1. ^ ا ب According to the launching ceremony of Abida Hussain's book in Delhi in 2016, the دی ٹیلی گراف (بھارت) noted and quoted her age 68 in 2016. While, earlier, the political taboloid, روزنامہ دی نیشن (پاکستان) reported her age 66 in 2014.
سفارتی عہدے
ماقبل  ریاستہائے متحدہ میں پاکستانی سفیر
نومبر 1991 – مارچ 1993
مابعد