عبد الخالق مدراسی

ہندوستانی مسلمان عالم

عبد الخالق مدراسی (پیدائش: 10 مارچ 1953ء) ایک ہندوستانی دیوبندی عالم دین اور قاری قرآن ہیں۔ دار العلوم دیوبند کے استاذ حدیث اور نائب مہتمم ہیں۔ وہ وہاں تقریباً پچاس سال سے مدرس ہیں، سالہا سال سے وہاں انتظامی و تعمیراتی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں۔


عبد الخالق مدراسی
نائب مہتمم، دار العلوم دیوبند
برسر منصب
1997ء تاحال
پیشروحبیب الرحمن خیرآبادی
ناظم شعبۂ تعمیرات، دار العلوم دیوبند
برسر منصب
1987ء تاحال
پیشرووحید الزماں کیرانوی
ذاتی
پیدائش10 مارچ 1953ء (عمر 70 سال)
مذہباسلام
قومیتہندوستانی
والدین
  • عبد القدوس (والد)
مدرسہمدرسہ باقیات صالحات
دار العلوم سبیل الرشاد بنگلور
دار العلوم دیوبند
بنیادی دلچسپیعربی ادب
قابل ذکر کامدار العلوم دیوبند کی جامع رشید، شیخ الہند لائبریری، دار جدید، شیخ الہند منزل، شیخ الاسلام منزل، حکیم الامت منزل وغیرہ
اساتذہسید فخر الدین احمد
نصیر احمد خان بلند شہری
وحید الزماں کیرانوی

سوانح ترمیم

مدراسی (دار العلوم دیوبند کی ریکارڈ کے مطابق) 10 مارچ 1953ء کو جدوال، آرکاٹ، مدراس، بھارت (جو پہلے صوبہ تمل ناڈو کے ضلع ویلور اور اب ضلع رانی پیٹ میں آتا ہے) میں پیدا ہوئے۔[1][2]

قرآن کریم، اردو، حساب اور دینیات کی ابتدائی تعلیم مدرسہ امداد المسلمین، جدوال میں اور انگریزی، حساب، جغرافیہ اور دیگر علوم عصریہ للّٰہ مدرسہ، بلنج پور، تمل ناڈو میں حاصل کی۔[3]

اس کے بعد فارسی کی تعلیم 1961ء کو مدرسہ باقیات صالحات میں حاصل کی،[2] 1963ء کو عربی تعلیم کا آغاز دار العلوم سبیل الرشاد بنگلور سے ہوا، نیز عربی تعلیم کی تحصیل میں مدرسہ داؤدیہ، تمل ناڈو بھی قابل ذکر ہے۔[4][2]

دار العلوم سبیل الرشاد کے زمانۂ طالب علمی میں قاری اظہر حسن امروہوی سے قراءت سبعہ و عشرہ بھی پڑھی۔[5]

1969ء میں دار العلوم دیوبند میں داخلہ ہوا اور 1970ء میں وہاں سے فارغ ہوئے۔[6][1] انھوں نے صحیح البخاری؛ سید فخر الدین احمد مرادآبادی سے پڑھی۔[7] ان کے اساتذۂ دار العلوم دیوبند میں نصیر احمد خان بلند شہری کا نام بھی مذکور ہے۔[8]

دورۂ حدیث سے فراغت کے بعد انھوں نے دار العلوم دیوبند ہی سے 1970ء میں صف نہائی عربی (تکمیلِ ادب)، 1971ء میں تکمیلِ معقولات اور 1972-73ء میں تکمیلِ افتا کا نصاب مکمل کیا۔[2] 1970ء کے بعد 1974ء تک عربی ادب میں وحید الزماں کیرانوی سے خوب محنت و مشق کی۔[9]

رجب 1393ھ بہ مطابق اگست 1973ء میں دار العلوم دیوبند میں بحیثیت استاذ ان کا تقرر عمل میں آیا۔[1] القراءۃ الواضحۃ مکمل، دیوان متنبی، تاریخ الادب العربی، تفسیر جلالین، مشکاۃ المصابیح اور شمائل ترمذی جیسی کتابیں ان کے زیر درس رہی ہیں (اور اب بھی یعنی 2022ء میں دیوان متنبی و شمائل ترمذی ان سے متعلق ہیں)۔[10][4] 1408ھ بہ مطابق 1987ء سے دار العلوم دیوبند کے شعبۂ تعمیرات کے ناظم ہیں۔[1]

دار العلوم کی پرشکوہ مسجد جامع رشید اور فلک بوس زیر تعمیر شیخ الہند لائبریری اور دیگر عمارتیں ان کے تخلیقی ذوق اور فنی مہارت کا شاہکار ہیں۔[1][11][4]

1418ھ بہ مطابق 1997ء سے وہ دار العلوم دیوبند کی نیابت اہتمام کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔[1]

حوالہ جات ترمیم

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث محمد اللّٰہ خلیلی قاسمی۔ ""حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی"، "نائب مہتمم حضرات"، "موجودہ اساتذۂ عربی"، "نظماء و ذمہ داران شعبۂ تعمیرات""۔ دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (اکتوبر 2020ء ایڈیشن)۔ دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی۔ صفحہ: 684، 751، 767، 784 
  2. ^ ا ب پ ت خلیل الرحمن قاسمی برنی۔ "حضرت مولانا عبد الخالق صاحب مدراسی مد ظلہ العالی"۔ قافلۂ علم و کمال (1438ھ ایڈیشن)۔ بنگلور: ادارۂ علمی مرکز۔ صفحہ: 404 - 407 
  3. ابوالحسن اعظمی (شوال 1425ھ)۔ "یہ شان احترام آدمیت کم نظر آئی"۔ حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی ایک دلآویز شخصیت۔ دیوبند: مکتبہ صوت القرآن۔ صفحہ: 7-10 
  4. ^ ا ب پ محمد عارف جمیل مبارکپوری (1442ھ م 2021ء)۔ "٤٠٤-المدراسي"۔ موسوعة علماء ديوبند (بزبان عربی) (پہلا ایڈیشن)۔ دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی۔ صفحہ: 183-184 
  5. اعظمی 2004, p. 8.
  6. اعظمی 2004, p. 10.
  7. محمد طیب قاسمی ہردوئی۔ دار العلوم ڈائری: تلامذۂ فخر المحدثین نمبر (2017 ایڈیشن)۔ دیوبند: ادارہ پیغامِ محمود۔ صفحہ: 57 
  8. خلیل الرحمن قاسمی برنی۔ "آپ یعنی نصیر احمد خان بلند شہری کے چند مشہور اور نامور تلامذہ"۔ نقوش حیات (2012ء ایڈیشن)۔ یوپی: دیوبند۔ صفحہ: 168–226 
  9. اعظمی 2004, p. 11.
  10. اعظمی 2004, p. 12-13.
  11. اعظمی 2004, p. 22-28.

کتابیات ترمیم

  • ابو الحسن اعظمی (شوال 1425ھ [نومبر 2004ء])۔ حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی مد ظلہ ایک دلآویز شخصیت (پہلا ایڈیشن)۔ دیوبند: مکتبہ صوت القرآن